دو بیانیوں میں ٹکرائو کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلا اور رائج بیانیہ وہ ہے جو سابق ڈکٹیٹر اور غداری کے مجرم پرویز مشرف کو سزا سنانے والی عدالت تک کو بھی اڑا دیتا ہے لیکن منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو کسی ناکردہ جرم پر بھی پھانسی دینے سے گریز نہیں کرتا۔ یہی بیانیہ ایک اور منتخب وزیراعظم نواز شریف کے گھر کے سامنے کند ذہن اور جذباتی لونڈوں کو دھرنے کے نام پر اکٹھا کر کے ایک دھما چوکڑی مچا دیتے ہیں اور اسی بہانے اسے اقامہ پر نہ صرف نااہل کر دیتے ہیں بلکہ اپنے خاندان اور سیاسی رفیقوں سمیت جیلوں میں ڈال دیتے ہیں۔ (بعد میں ملک کا بیڑہ غرق ہوا تو کیا؟)

یہی بیانیہ جسٹس منیر سے جسٹس مولوی انوارالحق اور جسٹس ارشاد حسن خان سے جسٹس ثاقب نثار تک جیسے لوگوں کو ایوان عدل کی مقدس اور قابل تعظیم رہداریوں میں چھوڑ آتا ہے جو اس کے در و دیوار پر اپنے ناقابل رشک نشان چھوڑ کر غائب ہو جاتے ہیں۔

یہی بیانیہ آمریتوں کو کنونشن مسلم لیگ سے ق لیگ (بلکہ تحریک انصاف) تک کے بانجھ لیکن خوشنما ”برقعے“ فراہم کر کے آمریتوں کے بد نما چہروں کو ڈھانپنے کی کوشش کرتا ہے۔

یہی بیانیہ تین دریا ہندوستان کو دینے سے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی اور کارگل سے کشمیر تک پسپائی اور ایبڈو سے نیب تک سیاست اور جمہوریت کی بیخ کنی میں بھی ہمیشہ مصروف نظر آیا۔

اسی بیانیے نے انیس سو ستر کے الیکشن کے فاتح شیخ مجیب الرحمان کو وزیراعظم بنانے کی بجائے غداری اور علیحدگی کی طرف دھکیل کر بالآخر ملک کو دولخت کر کے اپنی ”بصیرت“ کا ثبوت فراہم کیا۔

ایک اور وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو سیکیورٹی رسک اور نواز شریف کو مودی کا یار کے خطابات بھی اسی بیانیے کی ذہن رسا کے کارنامے ٹھہرے۔

اسی بیانیے کی بطن سے زیڈ اے سلہری سے چودھری غلام حسین اور جنرل مجیب الرحمان سے شہباز گل تک جیسے میڈیائی نابغے بھی پھوٹے۔

شیخ رشید، فیصل واوڈا، عامر لیاقت، فردوس عاشق اعوان اور فیاض چوہان جیسے لب و لہجے کی کاشت اور آبیاری بھی اسی بیانیے کی مرہون منت ہیں۔

یہی بیانیہ مقبول سیاسی قیادتوں کو غداری اور کرپشن کی جانی پہچانی زنجیروں سے باندھ کر انہیں کسی جسٹس منیر، کسی ثاقب نثار بلکہ کسی جاوید اقبال کے سامنے ڈال کر کمنٹری مائیک کسی شہباز گل کو سونپ دیتے ہیں اور خود کونوں کھدروں میں اقتدار کو ترستے کسی کاغذی شیر کی جھاڑ پونچھ میں لگ جاتے ہیں تاکہ ”خانہ پری“ کے لئے اسے کسی طاق پر سجا دیا جائے۔

اسی بیانیے کا ”معجزہ“ دیکھیں کہ وہ بہترین کارکردگی پر دنیا سے خراج لینے والا شہباز شریف ہو، ڈوبی ہوئی ریلوے کو ٹریک پر چڑھانے اور منافع بخش ادارہ بنانے والا سعد رفیق ہو، بارہ ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل کرنے والا خواجہ آصف ہو یا شرح نمو اور سٹاک ایکسچینج کو بلندیوں پر لے جانے والا معاشی جادوگر اسحاق ڈار ہو، ان سب کا آخری پڑاؤ کوئی شاباش یا خراج تحسین نہیں بلکہ کوئی تاریک قید خانہ ہی ہوا کرتا ہے کیونکہ وہ جہانگیر ترین، خسرو بختیار، بابر اعوان، فیصل واوڈا اور شہزاد اکبر کی مانند بیانیے کو ”وارا نہیں کھاتے“ ۔

یہ بیانیہ ہمیشہ ایک ایسی فضا اور ماحول کی تلاش اور تخلیق میں لگا رہتا ہے جس میں عوام کی بے خبری اور کرپٹ اشرافیہ نمو پائے کیونکہ یہی عناصر اسی بیانیے کو پروان چڑھاتے اور بقا فراہم کرتے ہیں۔ اسی لئے تو سیاست پر کرپشن کی چھاپ لگی اور میڈیائی ٹائوٹوں کے فارم ہاؤسز اور لگژری لائف سٹائل پھلے پھولے۔

لیکن اس بے ثمر اور فرسودہ بیانیے کے مقابل پہلی بار عوامی قوت و مقبولیت سے لیس ایک تازہ دم لیکن متضاد بیانیہ پورے ملک میں گونجنے لگا جو عوام کی بے خبری کی بجائے شعور اور کرپٹ اشرافیہ کی بجائے ریاست کے تمام معاملات آئین اور قانون کی دائرہ کار میں لانے کے عزم پر استوار ہے۔

اس بیانیے کا علم بردار بظاہر تو سابق وزیراعظم میاں نواز شریف ہیں لیکن درحقیقت یہ بدلتے ہوئے زمانے کی تقاضوں اور شعور کی فراوانی سے پھوٹا۔ اس بیانیے نے اس فرسودہ ریاستی نظام کو رد کر دیا ہے جو ماضی میں رائے عامہ کی مرضی اور خواہشات کی بجائے طاقتور منطقوں اور مقتدر قوتوں کی مرضی اور مفادات سے ترتیب پاتا رہا۔ اس نئے بیانیے نے جرات کے ساتھ کارکردگی کا سوال بھی اٹھایا اور جواب بھی طلب کیا۔

ووٹ کی عزت گو کہ نئے بیانیے کا دیباچہ ٹھہرا لیکن درحقیقت اسی میں آئین و قانون کی سربلندی اور پارلیمان کی بالادستی کا وہ منظر نامہ پنہاں ہے جو بدلتی ہوئی دنیا میں فی زمانہ مہذب اقوام اور ترقی یافتہ معاشروں نے ریاستی نظام کے طور پر اپنا لیا ہے۔

پاکستان اس وقت اپنی سیاسی تاریخ کے اہم ترین اور فیصلہ کن موڑ کی طرف بڑھ رہا ہے کیونکہ دونوں بیانیے اپنی اپنی طاقت اور شدت کے ساتھ ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے ہیں۔ اول الذکر یعنی پرانے بیانیے کو اگر ایک طرف ریاستی طاقت اور عوام کے ایک دھڑے کی قدرے جذباتی بے خبری کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا تعاون بھی حاصل ہے (لیکن یاد رہے کہ اسی بیانیے کے ڈھانچے سے آئے روز پاپا جونز اور براڈ شیٹ جیسے زخم بھی رسنے لگے ہیں) جبکہ دوسری طرف موخر الذکر یعنی نئے بیانیے کو مقبول سیاسی جماعتوں اور طاقتور عوامی تائید کے ساتھ ساتھ دانشوروں، سول سوسائٹی اور باشعور طبقات کی مضبوط حمایت حاصل ہے۔

اس بیانیے سے جڑے سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو اگرچہ ریاستی جبر اور مشکل صورتحال کا سامنا ہے لیکن ماننا پڑے گا کہ سیاسی رہنما بھی ڈٹے نظر آ رہے ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کی سوجھ بوجھ اور باخبری میں بھی سرعت کے ساتھ روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ نئے بیانیے کے پاس پسپائی کا کوئی راستہ بھی نہیں۔ بڑھنا آگے ہی ہے خواہ کوئی بھی سیاسی لیڈر اسے لیڈ کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply