سریندر ورما کا ناول: ’دو مردوں کے لیے گلدستہ‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’لالچ ایک مقدس جذبہ ہے۔‘ جینت کا یہ جملہ شہر کی زندگی کا معیار ہے۔ اخلاقی طور پر یہ بات تھوڑی عجیب معلوم ہو سکتی ہے مگر سچ یہی ہے کہ کچھ اور پانے کی جستجو کا ہی دوسرا نام شہری زندگی ہے۔ سریندر ورما کا پورا ناول اسی حقیقت کے آس پاس گھومتا ہے۔ سب سے پہلے آپ کو کہانی سے متعارف کروا دیتا ہوں۔

رامجس کالج میں صدر شعبہ ڈاکٹر شرما کا چہیتا طالب علم نیل، ایم اے کے بعد عارضی طور پر اسی کالج میں پڑھا بھی رہا ہے، ساتھ ساتھ اس کی پی ایچ ڈی کا کام بھی ڈاکٹر شرما کی ہی نگرانی میں چل رہا ہے۔ یہاں تک سب ٹھیک ہے مگر نیل کو ڈاکٹر شرما کی بیٹی پسند کرتی ہے اور ایک دن موقع پاکر اس کے ساتھ محبت کے جنونی جذبے کی بھینٹ خود بھی چڑھتی ہے اور نیل کو بھی چڑھا دیتی ہے۔ لڑکی کا نام ہے کرن۔ بات تب پھیلتی ہے جب کرن کے حاملہ ہونے کی خبر اس کے ماں باپ کو لگتی ہے، ایک منٹ میں نیل کی دنیا بدل جاتی ہے، کہاں کچھ عرصے میں اسے ڈاکٹر شرما کی بدولت ایک مستقل نوکری ملنی تھی، تابناک مستقبل ملنا تھا۔ کہاں وہ ان کے عتاب کا شکار ہوجاتا ہے۔ کالج سے نکالا جاتا ہے سو الگ، کہیں نوکری ملنے کے بھی لالے پڑجاتے ہیں۔ چنانچہ تھک ہار کر وہ دلی شہر چھوڑنے کا فیصلہ کرتا ہے۔

آپ سوچیں گے کہ اگر کرن حاملہ ہو گئی تھی تو ایسا بھی کیا مسئلہ تھا، نیل تو ڈاکٹر شرما کا چہیتا طالب علم تھا، اس کی شادی تو بہ آسانی کرن سے ہو سکتی تھی، جس کے لیے نیل خود بھی راضی تھا۔ مگر ہندوستان میں شادی دو لوگ کہاں کرتے ہیں، وہ تو دو گھروں میں ہوتی ہے۔ اب نیل صاحب ٹھہرے چھوٹی ذات کے کائستھ اور کرن برہمن گھرانے کی چشم و چراغ۔ چنانچہ شادی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا چاہے لڑکے میں ہیرے جواہرات ہی کیوں نہ ٹکے ہوں۔

اب دلی شہر چھوڑ کر نیل روانہ ہوتا ہے بمبئی۔ ٹرین میں اس کی ملاقات ہوتی ہے بھولا سے۔ جو ایک اونچی جاتی کا ہندو ہے۔ مگر وہ بھید بھاؤ پر یقین نہیں رکھتا۔ بہرحال یہی بھولا ناول کا دوسرا مرکزی کردار ہے۔ اگر آپ کو ابھی تک یہ مضمون سرے سے ایک پلاٹ نگاری جیسی کوئی چیز معلوم ہو رہی ہے تو میری غلطی نہیں ہے۔ کہانی کا اتنا انش سمجھانا تو میری ذمہ داری بھی تھی، ورنہ میں کچھ اول فول بکنے لگتا تو آپ کہتے، کچھ پتہ ہی نہیں کہ آپ کہاں کی ہانک رہے ہیں جبکہ مضمون کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک ناول پر لکھا گیا ہے۔

اسی یا نوے کی دہائی کے زمانے پر مشتمل اس کہانی میں نیل ایک جگولو ہے۔ جگولو، میل پروسٹیٹیوٹ یا پھر بمبیا زبان میں رنڈا۔ وہ اس فیلڈ میں کیسے آتا ہے، کیوں آتا ہے یہ سمجھنے کے لیے ناول پڑھنے کی تکلیف اٹھائیے گا۔ اسی طرح بھولا بمبئی پہنچ کر انڈر ورڈ کی دنیا سے جڑ جاتا ہے۔ کہانی کچھ اس طرح لکھی گئی ہے کہ آپ پڑھیں گے تو ایک واقعہ سے دوسرا واقعہ بڑی تیزی سے جڑتا چلا جائے گا۔ فلسفہ نگاری دور دور تک نہیں ہے، زندگی کی بہتی ہوئی دھارا ہے۔

کرداروں کے بڑے مضبوط اور حقیقی سانچے ہیں، جنہیں آپ دیکھ کر کہیں گھن کھائیں گے تو کہیں ان کی تنہائی اور خود اذیتی پر رحم بھی آ جائے گا۔ سریندر ورما کی فکشن نگار ی پر دسترس اسی بات سے ظاہر ہے کہ وہ سیدھا قاری کو واقعے سے روبرو کراتے ہیں۔ ان کے یہاں بیانیہ جٹل نہیں ہے۔ اس بات کا بھی خاص خیال رکھا گیا ہے کہ بمبئی کا وہی لہجہ خاص کر بھولا کے آس پاس اجاگر کیا جائے، جو بمبئی کی اصلی شناخت ہے۔ جسے سٹیشنوں، گلیوں، چوراہوں اور محلوں میں سنا جا سکتا ہے، جس کی انفرادیت کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔

سمگلنگ کی دنیا سے وابستہ بھولا کے کردار میں ایک مذہبی یورش ہے جو کہ ہر مجرم کے یہاں ہوتی ہے۔ خاص طور پر ایسے مجرم جو حالات کے مارے ہوئے ہوں۔ جن کو پتہ ہو کہ وہ بانس کی ایک ایسی کشتی پر چپو سنبھالے کھڑے ہیں، جو زیادہ دیر تک لہروں کے حملے برداشت نہیں کرسکے گی۔ اس کے برعکس نیل کے بھولے پن پر غصہ آتا ہے، کیسا اجڈ اور غیر دنیا دار کردار تراشا ہے سریندر ورما نے۔ ذرا بھی سمجھ نہیں۔ کرن کے معاملے میں تو خیر اس کا دوست ہی اسے جھاڑ پلاتا ہے کہ ابے کنڈوم ہی استعمال کرلیتے، بہتر گھنٹوں کے بھیتر گولی کھلا دیتے، نہیں تھی تو مجھ سے ہی مانگ لیتے۔

مگر بعد میں بھی آپ اس کے یہاں کی ایک فنکارانہ ناسمجھی کو اتنی شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ جی کھول اٹھتا ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ آپ کے سامنے ایک کردار کنویں میں گرنے جا رہا ہے۔ اچھا، ایسا بھی نہیں ہے کہ اسے خود اس بات کا اندازہ نہ ہو، بلکہ وہ تو ان میں سے ہے جو بڑے چاؤ سے اپنی قبر کھودتے ہیں۔ ایسے کردار کو اگر آپ ایک میٹھی خودکشی کا عادی کہیں تو غلط نہیں ہوگا۔ بہرحال میں سریندر ورما سے اس بات پر تو ہمیشہ ناراض رہوں گا کہ مجھ سے انہوں نے ایک ایسے کردار کو پڑھوا لیا جس پر عملی زندگی میں لعنت بھیج کر آگے بڑھ جاؤں۔ مگر کون جانے؟ کیا میں خود کچھ ایسا نہیں ہوں؟

جنس ایک جذبہ ہے مگر جب وہ آپ کا کام بن جائے تو کیسے آپ ایک بھید بھرے اس جذبے کی گرم دنیا سے الٹیاں کرتے ہوئے باہر بھاگتے ہیں، یہ جاننے کے لیے آپ کو اس ناول کو پڑھنا چاہیے۔ پھر مرد اور عورت کی جنسی دنیا میں ایک خاص فرق ہے۔ اس ناول نے یہ سوال بھی قائم کیا ہے کہ آیا مرد کبھی ویسا ہی کامیاب طوائف بن سکتا ہے، جیسی کہ ایک عورت؟ جب نیل کا ایک ڈاکٹر دوست اسے سمجھاتا ہے کہ بھیا! عورت یہ کام کر سکتی ہے کیونکہ اسے Active نہیں ہونا پڑتا۔ بدن کے ساتھ ہونے والے حساب میں اس کی انرجی، مرد کے مقابلے میں کم لگتی ہے۔ اس کے برعکس ایک مرد طوائف سے عورتوں کی توقعات دوسری ہوتی ہیں۔ وہ اپنے ٹھنڈے پڑے ہوئے رشتوں کو طاق پر رکھ کر گرم اور جنگلی دنیاؤں کی تلاش میں اس ہوس کار گلی کا چکر لگاتی ہیں۔ اس لیے صرف خوبصورت چہرے سے بات نہیں بنتی۔ یہ عورتیں اپنے ساتھ مختلف فینٹسیز لے کر ایک جگولو کے پاس آتی ہیں۔ اس لیے ہر عورت کو ایک ہی شخص کی مختلف فینٹسیز کا شکار بننے سے اپنے ہی اعتماد پر خوف کی پرت چڑھتی محسوس ہوتی ہے۔

ڈاکٹر کتنا صحیح ہے، کتنا غلط میں نہیں جانتا۔ یہ تو کوئی ایسا مرد بتا سکتا ہے، جس نے عورتوں کے ساتھ بستر شیئر کرنے کے بدلے میں پیسے کمائے ہوں۔ اس کے لیے ہنر کتنا چاہیے، مجھے اس کا علم نہیں، مگر ہمت واقعی بہت چاہیے۔ عورت کے تعلق سے جو کہانیاں لکھی جاتی ہیں، خاص طور پر ہمارے یہاں ان میں تو عورتوں کے جنسی سپنے بھی ایسے ہی ہوتے ہیں کہ مرد ان کے ساتھ فلاں فلاں حرکت کر رہے ہیں؟ وہ خود اس جنسی عمل میں کتنی اور کہاں ہوتی ہیں، یہ سوال اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے میں ڈاکٹر کی بات کو نظر انداز کرنا آسان نہیں۔

دو مردوں کے لئے گلدستہ – ڈرامائی تشکیل

مجھے سریندر ورما کی انفرادیت اس انداز سے بھی دکھائی پڑتی ہے کہ انہوں نے اپنے لیے فکشن کا وہ میدان چنا۔ جسے عام طور پر ہندی والے نظر انداز کرتے ہیں اور اردو والے لکھیں تو اس ادب کو بہت حد تک بلیو فلم بنا ڈالتے ہیں (مجھ سمیت) ۔ ہندی ناول میرے خیال میں جن چیزوں سے کنی کاٹتا ہے وہ جنسی جذبہ ہے۔ نرمل ورما کا ’وہ دن‘ جوانی کے لیے اچھی چیز ہے کہ ایک عورت چیکوسلواکیہ گھومنے آئی، آپ اس کے گائیڈ بنے، آپ نے اسے مختلف جگہیں گھمائیں، ایک دن اپنے ہاسٹل لے گئے، سیکس کیا اور پھر وہ واپس چلی گئی۔

اتنی سی بات کے لیے جو کردار آس پاس بنائے گئے تھے، ان کا کوئی ریلونس تھا بھی یا نہیں، یہ قاری پر چھوڑ دیا گیا۔ مگر سریندر ورما قاری کے کندھوں کی ہڈیوں کو اتنا مضبوط نہیں سمجھتے۔ ضرورت بھی نہیں ہے۔ قاری ہے کوئی حمال نہیں ہے۔ اسے دکھائیے، بتائیے کہ فلاں واقعہ کیسے ظہور پذیر ہوا۔ فکشن کی ساری خوبی ہی واقعہ طرازی پر ہے۔ یہ نہیں کہ اٹھے اور اپنی فکشن نگاری کی اشتہا بجھانے کے لیے کوئی کہانی بن دی۔ اسی لیے مردلا گرگ کا ناول ’چتکوبرا‘ ایک بالکل اچھوتے موضوع پر ہوتے ہوئے بھی ڈھنگ کا ناول نہیں بن پایا ہے۔

سارا دھیان اپنا نکتہ سمجھانے پر لگا تھا، عورت یہ کر سکتی ہے، عورت ویسا بھی محسوس کر سکتی ہے تو محترمہ اس کے لیے تو کالم نویسی زیادہ بہتر میدان ہے۔ سریندر ورما کے یہاں کردار ذلیل ہوتا ہے، اس کی ذلت اور ذلت کے بعد اس کی اپنی ذات کو دی ہوئی جسٹفکیشن اتنی حقیقی ہوتی ہے کہ قاری بلک کر اپنی بغلیں جھانکنے لگتا ہے کہ اس کے ساتھ بھی ایسا ہو تو وہ کیا کرے گا۔

میں بھی سوچ رہا تھا کہ کسی جگولو کو اگر محبت ہو جائے گی تو وہ شخص کیا کرے گا۔ میرا ذاتی تجربہ یہی کہتا ہے کہ محبت میں آدمی اول درجے کا بے وقوف ہوجاتا ہے۔ یہ جو سب حساب کتاب ہے کہ ذرا سا جھوٹ بول لیں تو کام نکالا جاسکتا ہے، یہ محبت میں نہیں چلتا۔ نیل اسی چکر کا مارا ہوا فرد ہے۔ اس کے اندر میں نے جتنی تنہائی دیکھی، نین نام کی ایک لڑکی آئی اور اس نے تنہائی پر ہاتھ رکھ کر اسے چھو منتر کر دیا۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ کاروبار بھی چلایا جائے، کسی عورت کے ہونٹ چومو تو نین دکھائی دے، کسی کے تھل تھل سینے کو تھامو تو نین کی یاد ابھر آئے، کسی کی لجلجی زبان بدن پر رقص کررہی ہو تو نین تصور میں ابھر آئے۔ تب تو یہ ممکن ہی نہیں کہ کاروبار چل سکے گا، پھر تو بھاگنا ہی پڑتا ہے۔ ویسے ہی جیسے نیل بھاگا، اوندھے منہ گرا اور گھانس کی طرح کچلا گیا۔

ناول پڑھ کر میری پہلی سانس جو چھوٹی تو منہ سے یہی نکلا کہ آدمی سپنا دیکھنا نہیں چھوڑتا۔ آدمی کے دماغ میں وہ بھس ہمیشہ بھرا رہتا ہے، جس کو سب سے اچھی طرح محمد حسن عسکری نے غلام عباس کے افسانوں پر لکھتے ہوئے بیان کیا تھا کہ آدمی کے دماغ میں ایک عجیب صلاحیت ہے، دھوکا کھانے کی۔ یہ دھوکا کھانا اور بار بار کھانا، اسی سے لکھنے والا اگر فائدہ اٹھالے تو کامیاب فکشن لکھ سکتا ہے۔ بھولا کے بارے میں زیادہ نہیں لکھ رہا ہوں، اس کی کہانی اتنی ہے کہ جس بھولپن سے ہنومان چالیسا کا جاپ کرتا ہوا وہ بمبئی کی چوکھٹ پر آیا تھا، وہاں خون اور آتش کی دنیا نے اس کی روح کو کب اپنا نشانہ بنا لیا، پتہ ہی نہیں چلا۔ ناول پڑھیے گا تو اس میں کردار دکھائی دے گا، امتیاز۔ مرا ہوا کردار۔ انت میں بھولا اسی میں بدل جاتا ہے۔

اور کیا کہوں، سریندر ورما کو ابھی اور پڑھوں گا، انہوں نے چار ناول لکھے ہیں۔ جب بھی پڑھوں گا کچھ نہ کچھ لکھ کر آپ کو بھی اپنے مطالعے کی تکلیف یا راحت میں شامل کروں گا۔ فی الحال چلتا ہوں اور آخر میں وکاس شرما راز کا شکریہ بھی ادا کردوں کہ انہوں نے ہی مجھے سریندر ورما کے نام سے واقف کرایا۔ اور ہاں، ایک بات اور۔ کبھی ناول پڑھیے گا تو اس میں ایک عورت کا کردار ہے کمد نام کا۔ اس نے نیل کو سیکس اور عورت کے تعلق سے جو کچھ بتایا ہے، اسے ضرور پڑھیے گا۔ آپ کو کچھ دیر کو ضرور لگے گا کہ آپ جنسی جذبے کے بارے میں اس سے پہلے کچھ خاص نہیں جانتے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply