کیا آن لائن سیکس حقیقی تعلقات کی کمی کو پورا کر سکتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیکس
BBC
برطانیہ میں کورونا وائرس کی وجہ سے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کے تین ماہ بعد 26 برس کی طالبعلم ایما نے کچھ لوگوں کے ایک گروپ کے ساتھ زوم میٹنگ میں شریک ہوئیں جن سے ان کی صرف آن لائن ہی ملاقات ہوئی تھی۔

کلنگ کٹنز نامی کمپنی نے اس میٹنگ کا اہتمام کیا تھا جو کورونا وائرس سے قبل بالمشافہ سیکس پارٹی کا انعقاد کراتی تھی جس کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا تھا۔ اب کورونا وائرس کے دنوں میں کمپنی نے جو آن لائن ہاؤس پارٹی منعقد کی اس کا آغاز ڈرنکنگ گیمز سے ہوا۔ یہ ایک ایسی پارٹی تھی جس میں ایما پہلے کبھی شریک نہیں ہوئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جو گیم کھیلی اس کا نام تھا ’یہ میرے پاس پہلے کبھی نہیں تھا۔‘ اور اس پارٹی کے منتظمین نے ہم سے ایسے سوالات پوچھے کہ آپ کمپنی کی طرف سے منعقد کی گئی پارٹی میں کس سیلیبریٹی سے ملنا پسند کریں گی۔

یہ بھی پڑھیے

محبت، سیکس اور آن لائن بدسلوکی کی ایک داستان

کورونا:سیکس ورکر بازاروں سے غائب، آن لائن تک محدود

آن لائن ڈیٹنگ اور چھت پر ڈِنر، لاک ڈاؤن میں ڈیٹنگ کی کہانیاں

ایما کا کہنا ہے کہ اس پارٹی میں شریک لوگ اپنی پسند اور ترجیحات سے متعلق بات کر رہے تھے۔

ایک کے بعد دوسرا گانا اور میوزک اس شام کی ایک غیر رسمی قسم کی پارٹی کا خاصا تھا، جس میں کچھ شرکا نے اپنے کپڑے بھی اتار دیے۔ ان کے مطابق یہ ایک بہت اچھی اور کسی حد تک دوسرے شرکا سے جنسی لذت دینے والی گپ شپ بھی ہوئی۔

یہ اس قسم کا ملاپ تھا جو ایما کو پسند تھا۔ مارچ میں اپنی ملازمت سے ہاتھ کھو دینے کے بعد وہ اپنے گھر کے ایک فرد کے ساتھ، اور زیادہ وقت تنہائی میں گزار رہی تھیں۔ ان کے مطابق ایسے مواقع آئے جن میں وہ بالکل ہی تنہا محسوس کرتی تھیں۔

اگرچہ ایما نے ماضی میں بھی سیکس پارٹیوں میں شرکت کی مگر وہ کلنگ کٹن کمپنی کا نومبر 2019 کو حصہ بنیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسی پارٹی میں بھرپور طریقے سے شرکت سے کچھ گھبرا رہی تھیں مگر جب کورونا وائرس کی وبا پھیلی تو انھیں ایسا لگے جیسے وہ اپنا ایک موقع ضائع کر گئیں۔ اس کے بعد ایما نے کلنگ کٹنز کمپنی کے سنگل چیٹ گروپس کا حصہ بن کر دوست بنانے شروع کر دیے۔ اب اس قسم کی پارٹیوں سے وہ کافی اطمینان محسوس کر رہی ہیں۔

جسنی لذت کی امید رکھنے والے جوڑوں اور افراد کے لیے کورونا وائرس کی وبا کے دنوں میں تنہائی سے مراد جنسی تنہائی بھی تھی۔ اس طرح ڈرٹی زوم ورکشاپس سے لے کر اسی سیکس پارٹیاں جس میں ایما نے شرکت کی۔۔

اس حد تک ایسے افراد جو جسمانی سیکس کی کمی محسوس کر رہے ہیں کے لیے ایک حد تک مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔

اگرچہ اس طرح آن لائن سیکس سے نفسیاتی ریلیف ضرور مل جاتا ہے مگر یہ جسمانی تعلقات کا نعم البدل نہیں ہے۔

تنہائی کے دوران ایسے تجربات ہمیں جسمانی تعلقات کی اہمیت کا بھی احساس دلاتے ہیں کہ جب ہم دوبارہ ملیں تو پھر اس کی قدر کر سکیں۔

ڈیجٹیل مباشرت کی دریافت

وبا کے ایک سال میں اب کئی لوگ آن لائن تعلقات قائم کرنے کے طریقے تلاش کر لیے ہیں۔ بمبل جسیی ڈیٹنگ ایپس اب صارفین کو یہ بتاتی ہیں کہ صرف آن لائن یا ڈیٹنگ کے لیے سماجی فاصلے کو ترجیح دیں۔

بمبل کے ایک ترجمان کے مطابق مارچ 2020 میں لاک ڈاؤن سے قبل کے مقابلے میں اب وڈیو کال میں 42 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

جسمانی ڈیٹ سے پہلے آن لائن ڈیٹ پر جانا اور ویب پر سیکس کے تجربات خاصے مختلف ثابت ہوتے ہیں۔ آن لائن سیکس جسم کو چھونے جیسے عناصر کا متبادل نہیں ہو سکتی ہیں۔

ابھی بھی لوگ آن لائن مباشرت کر لیتے ہیں۔ اکتوبر میں ہارڈ سیلٹزر کمپنی ’بیسک‘ نے امریکہ میں 35 سال سے کم عمر 2000 افراد کا سروے کیا جس میں پتا چلایا کہ 58 فیصد ایسے لوگ وبا کے دوران ورچوئل جنسی تعلقات قائم کر چکے ہیں۔

ان میں سے 77 فیصد ایسے افراد ہیں جنھوں نے پہلے جسمانی سیکس نہیں کیا۔ بمبل سروے کے مطابق برطانیہ میں 5،000 افراد میں سے 32 فیصد ایسے لوگ ہیں جن کا کہنا ہے کہ ’لاک ڈاؤن کے دوران اور لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد بھی ایسے ڈیجیٹل تعلقات کی بہت اہمیت ہے۔

ایما اور دیگر افراد کے لیے جنھوں نے گذشتہ سال آن لائن جنسی تعلقات کا تجربہ کیا ان کے لیے ورچوئل سیکس پارٹیاں، تعلیمی مقاصد کے لیے منعقد کی جانے والی زوم ورکشاپس، جنسی کھلونے اور جنسی تعلقات میں مشغول ہونے سے پتا چلتا ہے کہ اس سے ان کی جنسی تسکین پوری ہوتی ہے۔ ایما کے مطابق ’دیکھنے اور دیکھے جانے کے عمل میں بہت بڑی جنسی تسکین ملتی ہے۔‘

ایک حقیقی جوڑے کو سیکس کرتے دیکھنا پورنو گرافی دیکھنے سے مختلف تجربہ ہے۔ ایما کو اس طرح کے سیکس میں ایک اپنائیت سی محسوس ہوتی ہے۔

ایما اور دوسرے شریک نے ایک دوسرے سے گہرے تعلقات استوار کر لیے ہیں۔ ان کے مطابق ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ بالکل برابری کی سطح پر اپنے تجربات شیئر کیے۔

لندن میں ڈیوڈ بالغان کے لیے ایک لائف سٹائل کلب چلاتے ہیں۔ لندن میں ’پرپل ممبا‘ جیسے دوسرے کلبوں کے ساتھ مل کر اکتوبر میں اس نے ورچوئل سیکس پارٹیوں کی میزبانی شروع کی۔

ان کے مطابق شروع میں شرکا ایسا رویہ رکھتے تھے جیسے وہ کسی کلب کے اندر ہیں وار وہاں سیکس کر رہے ہیں۔ شروع میں وہ دوسروں کے ساتھ بات چیت کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے مگر ڈیوڈ کے مطابق پوری پارٹی میں آپ خوب ہلا گلا کرتے دیکھ سکتے ہیں۔

کلنگ کٹنز کی طرز پر یہ ایونٹ شراب پینے اور ڈانس سے شروع ہوتے ہیں جس سے لوگوں کا موڈ بنتا ہے۔ پھر جیسے یہ پارٹیاں آگے بڑھتی ہیں تو ایسے لگتا ہے کہ جیسے یہ سب حقیقت میں ہو رہا ہے۔ ’یہ ٹیکنالوجی کی دنیا کی حقیقی زندگی ہے۔‘

حفاظتی انتظامات

اس طرح کی آن لائن پارٹیوں میں مختلف عمر اور دنیا کے مختلف حصوں کے شرکا ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ مختلف تجربات شیئر کرتے ہیں۔

ان کلبوں کے ایونٹس میں اسرائیل، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور امریکہ سے بھی لوگ شریک ہوتے ہیں اور ایک پارٹی جو برطانیہ میں سنیچر کی شام کو شروع ہوتی ہے وہ امریکہ کی شام تک بھی چل سکتی ہے۔

سائیلی کے خیال میں اس طرح کی پارٹیوں میں کم عمر کے شرکا زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔۔ نہ صرف اس وجہ سے کہ وہ زیادہ تر آن لائن رہتے ہیں بلکہ اس بات پر بھی اس کا انحصار ہے کہ وہ کیسے گفتگو کرتے ہیں۔ اسی طرح اس طرح کی ورچوئل پارٹیوں میں مالی رکاوٹ بھی آڑے نہیں آتی جن کا فزیکل پارٹیوں میں سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کلنگ کٹنز کی پارٹیوں میں 27 ڈالر تک خرچ ہوتے ہیں جبکہ کلب کے اندر ہونے والی فزیکل پارٹیوں میں لاگت 480 ڈالر تک چلی جاتی ہے۔

ایما کسی بڑے شہر میں نہیں رہتی ہیں۔ جیسے اسے لندن میں کسی پروگرام میں شرکت کے لیے سفری اخراجات برداشت نہیں کرنے پڑتے۔ پھر ایسے پروگراموں کی صورت میں پیسے نئے کپڑوں، کھانوں اور ہوٹل کے بلز پر بھی خرچ آتا ہے۔ ان کے مطابق طالبعلم کے طور پر یہ بچت بہت اچھی بات ہے۔

سنیچر کو ہونے والی بودوئر اور پرپل ممبا کلب کی ورچوئل پارٹیوں میں 150 تک لوگ شریک ہوتے ہیں۔ جن میں سے آدھے پہلی بار شریک ہو رہے ہوتے ہیں۔ سائیلی کو کلنگ کٹنز کے پروگراموں میں بھی یہی تفریق نظر آتی ہے۔

ان کے مطابق ایسی پارٹیوں میں شریک نئے لوگ پہلے ایسی سیکس پارٹیوں میں شرکت کے بارے میں سوچا تک نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق ان پارٹیوں میں حفاظت کا بھی خیال رکھا جاتا ہے، جب ویڈیو سے ایک دوسرے کو جسم دکھایا جاتا ہے۔ اس دوران آپ سکرین کو کسی بھی وقت بند کر سکتے ہیں۔

یہی وجہ تھی جس نے ایک برطانوی جوڑے میٹ جس کی عمر 31 سال ہے اور ایملی جو 29 برس کی ہیں کو آن لائن سیکس پارٹی میں شرکت کرنے پر اطمینان دلایا۔

میٹ کا کہنا ہے کہ اس میں حفاظت یہی ہے کہ آپ اپنے گھر پر ہوتے ہیں۔ ایملی کا کہنا ہے کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ پھر آن لائن سیکس کے بعد آپس میں فزیکل ملاقات کے لیے بھی وہ باہر نکل آئیں تاہم اس پر زیادہ وقت لگے گا۔

ابھی تک آن لائن ایونٹس نے انھیں اپنے سیکس اور تعلقات کو سمجھنے میں مدد دی ہے۔

میٹ کا کہنا ہے کہ اس میں ایسے سٹائل اور تجربات بھی سامنے آتے ہیں جن کے بارے میں وبا سے قبل کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ اس کے بعد سے ان دونوں نے اپنی ذہنیت بدل لی۔ اب ورچوئل ایونٹس بھی میٹ اور ایملی کو ایک دوسرے کی خواہشات کو تسکین پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔ اس دوران وہ کھل کر ایک دوسرے کو اپنی ترجیحات کے بارے میں بتاتے ہیں۔

یہ مشی گن کی ماہر جنسی امور میگن سٹبس کے مشاہدے میں آنے والے رحجان پر پورا اترتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سے مجھے بات چیت کے کئی اور راہیں کھلتی نظر آ رہی ہیں۔ اب لوگ زیادہ سے زیادہ بات کرتے ہیں اور وہ اپنی ضروریات کو واضح انداز میں پیش کرتے ہیں۔ فاصلہ یہ سب ممکن بناتا ہے۔

جب آپ اپنے سیکس پارٹنر کے کمرے میں نہیں ہوتے ہیں تو پھر آپ باڈی لینگویج اور محض اشاروں پر تکیہ نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ جو آپ کر رہے ہیں وہ کسی بھی طور اس سے کم ہے جو آپ ایک ساتھ کسی جگہ حقیقی دنیا میں کرتے ہیں۔

’نہ چھو سکنے کا احساس‘

ماہرین اور ورچوئل جنسی تعلقات رکھنے والے افراد اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی بھی چیز جسمانی رابطے کا مکمل طور پر متبادل نہیں بن سکتی ہے۔ جیسا کہ سائل نے بتایا ہے ’آپ آن لائن کیا جانے والا عمل دوبارہ تخلیق نہیں کرسکتے ہیں۔‘

یہ جزوی طور پر سیلولر عمل کی وجہ سے ہے جو اس وقت ہوتا ہے جب کسی شخص کو چھوا جاتا ہے۔ ٹیفنی فیلڈ جو یونیورسٹی آف میامی کے ملر سکول آف میڈیسن میں ٹچ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ ہیں، نے وضاحت کی ہے کہ ’اعتدال پسند پریشر ٹچ‘ جلد کے نیچے دباؤ وصول کرنے والوں کو متحرک کرتا ہے۔

وہ کہتی ہیں ’اس سے ایسا ردِعمل بنتا ہے جس سے اعصابی نظام سست پڑتا ہے۔ دل کی دھڑکن سست ہوجاتی ہے، بلڈ پریشر سست ہوجاتا ہے، اور تھیٹا کی سمت میں برین ویو تبدیل ہوتا ہے، جو آرام کی حالت ہے۔‘

کورٹیسول کی سطح، تناؤ کا ہارمون جو مدافعتی خلیوں کو مار ڈالتا ہے، جب ہمیں چھوا جاتا ہے تو یہ کم ہوجاتا ہے، جب کہ فیلڈ کی تحقیق کے مطابق قدرتی قاتل خلیات (جو بیکٹیریا ، وائرل اور کینسر کے خلیوں کو مارتے ہیں) بڑھ جاتے ہیں، جو خاص طور پر مساج تھراپی کا معائنہ کرتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ ستم ظریفی ہے، اس وقت کے دوران جب رابطے سے بہت محرومیاں چل رہی ہیں، ہمارے پاس وائرل سیلوں کو مارنے والے قدرتی قاتل خلیوں کا تحفظ نہیں ہے۔‘

’اعتدال پسند پریشر ٹچ‘ کی تحقیق پر مبنی، فیلڈ کا کہنا ہے کہ تنہا رہنے والے لوگ ’خود رابطے‘ کے ذریعے بھی رابطے سے محرومی کو روکنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ اس میں ورزش اور چلنے جیسی سرگرمیاں بھی شامل ہیں جو ہمارے پیروں کے نیچے والے حصوں پر دباؤ وصول کرنے والوں کو تحریک دیتی ہیں۔ اگر شرکا فعال ہونے پر راضی ہوں تو ورچوئل سیکس میں شامل ہونا یقینا اسی زمرے میں آتا ہے۔

ایک گہرا تعلق

آن لائن جنسی تجربے کے منتظمین اور شریک افراد میں سے سب کہتے ہیں کہ وہ ممکنہ طور پر ورچوئل تجربات کے ساتھ جاری رکھیں گے یہاں تک کہ اگر یہ اجنبیوں کے ساتھ گھل مل جانا محفوظ ہو۔

ڈیجیٹل مباشرت کچھ انوکھی چیز پیش کرتی ہے، گھر پر رہنے کی صلاحیت لیکن پھر بھی ایک کم سرگرمی میں مشغول رہنا، جغرافیائی طور پر وسیع تر لوگوں کے ساتھ۔

اگرچہ ذاتی طور پر ہونے والے واقعات عروج پر ہوں گے۔ سائل کہتے ہیں ’ہزاروں سال کی تاریخ جو وبائی امراض اور جنگ کے بعد کے واقعات سے جڑی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ ملنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ ہو کر رہتا ہے۔‘

وبائی مرض کا ایک اور اثر بھی پڑ سکتا ہے۔ اس سے ہم سب کو یہ احساس ہوسکتا ہے کہ ہم کس طرح رابطے سے محروم ہیں۔ کووڈ ۔19 سے پہلے ٹچ ماہر فیلڈ اور ساتھی ایک مطالعہ کر رہے تھے جس میں انھوں نے دیکھا کہ ہوائی اڈے کے روانگی دروازوں پر لوگ کتنا ایک دوسرے کو چھو رہے ہیں۔

فیلڈ کا کہنا ہے کہ یہ لوگوں کا وقت صرف چار فیصد تھا۔ 68 فیصد وقت وہ اپنے فون پر تھے۔ آن لائن پلیٹ فارم اور سوشل میڈیا ہمیں وبائی بیماری سے پہلے جسمانی طور پر چلا رہے تھے۔ اب وہ لوگوں کو ایک ساتھ ہونے کی سہولت فراہم کررہے ہیں۔

فیلڈ کا کہنا ہے کہ ’مجھے لگتا ہے کہ کووڈ نے جو کیا اس سے (رابطے کی محرومی) بڑھ گئی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ (لوگ) اس بات کی تعریف کرنے لگیں کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے رابطے سے محروم ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17782 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp