ہمیں سیاست میں نہ گھسیٹا جائے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک اہم پریس کانفرنس کے ذریعے سیاست دانوں سے درخواست کی گئی ہے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ کچھ سیاسی نابالغ الٹا جلسے جلوسوں میں غیر سنجیدہ تبصرے کر رہے ہیں۔

وطن عزیز میں سول ملٹری تعلقات میں عدم توازن اور اس کے نتیجے میں آنکھ مچولی روز اول سے جاری ہے۔ اس الزام میں وزن ہونے کے باوجود کہ کئی مواقع پر فوجی سربراہوں نے اس عدم توازن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی حدود سے تجاوز کیا، وہیں اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اکثر فوجی سربراہوں نے اپنی تعیناتی کے فوراً بعد سویلین حکومتوں سے ’نومسلموں والے والہانہ جذبے‘ کے ساتھ تعاون کی کوشش کی۔ تاہم وہ کیا محرکات تھے، کیا اسباب تھے، دونوں اطراف کیا کمزوریاں تھیں کہ جن کی بنا پر چند ایک استثنائی مثالوں کو چھوڑ کر، لگ بھگ تمام ’جمہوری‘ ادوار کے دوران فوج کو سیاسی معاملات میں ملوث، جبکہ چار مواقع پر براہ راست اقتدار سنبھالنا پڑا۔ محض بچگانہ رومان پرستی کے زیر اثر یا قبائلی نفرت سے لبریز ہو کر نہیں، علمی بنیادوں پر ٹھنڈے پیٹوں جواب ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔

قیام پاکستان کے ساتھ ہی برٹش انڈین آرمی تقسیم ہوئی تو ایک ساتھ نمو پانے والی دو آزاد ملکوں کی پیشہ ورافواج کچھ ہی عرصے بعد کشمیر کے پہاڑوں پر ایک دوسرے کے سامنے آن کھڑی ہوئیں۔ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر منڈلاتے خطرات نے نوزائیدہ مملکت کو مجبور کیا کہ وہ اپنے بے حد محدود وسائل کو پہلی ترجیح میں مسلح افواج کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کو استعمال میں لائے۔ بوجوہ ملک کی خارجہ پالیسی میں بھی مسلح افواج کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کرتا چلا گیا۔

انڈین نیشنل کانگرس کی صورت میں جہاں بھارت کو زیرک و جہاندیدہ رہنماؤں پر مشتمل ایک قدیم سیاسی جماعت دستیاب تھی، تو وہیں لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد امور مملکت ان ٹوڈی سیاست دانوں کے ہاتھوں میں آ گئے کہ جن میں سے بیشتر تحریک پاکستان کے آخری مہینوں میں مسلم لیگ کا حصہ بنے تھے۔ متروکہ املاک کی تقسیم اور مہاجرین کی آباد کاری میں بدعنوانیاں، خوراک میں ملاوٹ اورذخیرہ اندوزی کے علاوہ امپورٹ لائیسنسوں اور پرمٹوں کی سیاست نے بدعنوانی اور لوٹ مارکے ایک ایسے کلچر کی بنیاد رکھی جس کے ثمرات اب بھی ہماری رگوں میں دوڑتے ہیں کہ مالی بدعنوانی کو اب ہمارے معاشرے میں برائی نہیں سمجھا جاتا۔

1958 ء میں قومی رہنماؤں کی باہم ریشہ دوانیوں اور اس کے نتیجے میں عوام کے اندر پیدا ہونے والی بے چینی سے موقع شناس سول اور ملٹری بیورکریسی کے گٹھ جوڑ نے بھر پور فائدہ اٹھایا۔ تاہم اس امر کے شواہد موجود ہیں کہ جنرل ایوب کے دل میں بھی سیاسی عزائم روز اول سے موجزن تھے۔ جنرل یحییٰ خان کا جنرل ایوب خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد آئین سے روگردانی کرتے ہوئے اقتدارسنبھالنا اور بعد ازاں اس سے چپکے رہنے کا بھی کوئی جواز تراشنا ممکن نہیں۔

سقوط ڈھاکہ کے بعد بھٹو صاحب نے اقتدار سنبھالا تو نئے آرمی چیف نے فوج کو سیاسی معاملات سے الگ کرتے ہوئے خالصتاً عسکری امور پر توجہ مرکوز کرنے کی پہلی بار شعوری کوشش کی۔ جنرل گل حسن ایک پیشہ ور سپاہی تھے۔ برسوں راولپنڈی میں ایک فوجی میس کے ایک کمرے میں بسر کی اور وہیں وفات پائی۔ انہیں کن حالات میں عہدے سے الگ کیا گیا، اس کی مہذب دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کی جانب سے سویلین حکومتوں کو بر طرف کیے جانے کو ناجائز قرار دیے جانے کے باوجود ہر دو کے پس پشت محرکات پر متضاد آراء موجود ہیں۔ تاہم مارشل لاء ادوارسے قطع نظر ہم یہ بات یقین سے دہرا سکتے ہیں کہ سویلین دور حکومت میں تعینات ہونے والے لگ بھگ ہر عسکری سربراہ نے اپنا عہدہ جمہوری حکومت کا ساتھ دینے اور سیاسی معاملات سے دوری اختیار کرنے کے عزم کے ساتھ سنبھالا۔

کئی سال پہلے جنرل آصف نواز نے بھی فوج کی کمان سنبھالتے ہی ادارے کو سیاسی معاملات سے الگ کرنے کا واضح اعلان کیا تھا۔ پہلے ہی روز انہوں نے پاک فوج کے نام اپنا روایتی فرمان امروز (Order of the Day) جاری کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں زیرکمان افسروں اور جوانوں کو بتایاکہ فوج کو سیاسی معاملات میں ہرگز ملوث نہیں ہونا چاہیے۔ یہ سویلین قیادت کے لئے بھی ایک متعین پیغام تھا۔ ایک طرف حکومت کی کشمیر پالیسی کی مکمل حمایت کی گئی تو دوسری طرف پاک بھارت افواج کے مابین روابط بحال کرتے ہوئے اس اعتراض کا مداوا کیا گیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی میں عسکری اسٹیبلشمنٹ رکاوٹ ہے۔ پاک امریکہ تعلقات کے اس پر آشوب دور میں امریکی فوج سے براہ راست ادارہ جاتی مراسم بحال کیے گئے۔ اسلامی عسکریت پسندوں کی حمایت سے برآ ت کی پالیسی اختیار کی گئی کہ پاکستان پردہشت گرد ریاست قرار دیے جانے کے خطرات منڈلا رہے تھے۔

عسکری قیادت کی سیاسی معاملات سے دور ہٹنے اورعالمی معاملات میں سول حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے کی شعوری کوشش کے برعکس، وزیراعظم نواز شریف اس وقت صدرمملکت کے پر کاٹنے کی پس پردہ کوششوں میں مصروف تھے۔ مخصوص خاندانی پس منظر کی بناء پر نواز شریف سیاست میں بھی ’لین دین‘ سے معاملات طے کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے ’ٹرائیکا‘ میں شامل آرمی چیف کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے ’کام‘ کا آغاز کیا۔ لاہور میں ذاتی رہائش گاہ پروزیر اعظم کے والد نے آرمی چیف کو کھانے پر مدعو کیا تو اس موقع پر میاں شریف نے پنجابی میں اپنے دونوں بیٹوں کو جنرل آصف نواز کا ’چھوٹا بھائی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں دونوں بھائیوں سے کبھی کوئی شکایت ہو تو فوراً انہیں آگاہ کریں۔ (لگ بھگ یہی الفاظ ’اباجی‘ نے جنرل مشرف کو اسی کھانے کی میز پر کہے جب کارگل کے بعد سول اور عسکری قیات میں تناؤ عروج پر تھا) ۔ سینڈ ہرسٹ کے تربیت یافتہ اور خالص فوجی ماحول میں پروان چڑھے، جنرل آصف نواز کے لئے یہ بے تکلفی حیران کر دینے والی تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ آنے والے دنوں میں وزیراعظم نے آرمی چیف کو ناشتے کی غیر رسمی ملاقاتوں پر مدعو کرنے کو معمول بنالیا۔ تاہم آرمی چیف سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوتے نظر نہ آئے تو وزیراعظم نے آرمی چیف سے بالا بالا دیگر جرنیلوں پر کام شروع کر دیا۔ ایک موقع پر وزیراعظم نے آرمی چیف سے فوجی افسروں کی ترقی کے معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ان کے بھی ’بندوں‘ کا خیال رکھیں۔ تاہم اس دوران وزیر اعظم کی طرف سے کچھ فوجی افسروں کوبراہ راست مراعات دینے کی اطلاعات آرمی چیف کو ملیں تو وہ الٹا برہم ہوئے۔ خود آرمی چیف کو مری میں وزیراعظم کی طرف سے بیش قیمت کار کی چابی پیش کیے جانے کا واقعہ سب کے علم میں ہے۔

سیاست سے لاتعلق رہنے پر مصر آرمی چیف نے ’ٹرائیکا‘ میں سویلین طاقت کے دوستونوں میں سے کسی ایک کی طرف جھکنے سے انکار کیا تو وزیر اعظم نے انہیں عہدے سے ہٹانے کے طریقے سوچنا شروع کر دیے۔ اس کی وجہ کئی سالوں بعد انہوں نے ایک انٹرویو میں یہ بتائی کہ آرمی چیف انہیں ’عزت‘ نہیں دیتے تھے۔ شریف خاندان کے خلاف بڑھتی ہوئی بدعنوانی اور اقربا پروری کی شکایات میں برابر شدت اور اپوزیشن کی طرف سے آرمی چیف پر مداخلت کے لئے دباؤ بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ جنوری 1993 میں جنرل آصف نواز اچانک انتقال نہ کر جاتے تو وہ کب تک سیاسی معاملات سے خود کو دور رکھنے میں کامیاب رہتے۔ جنرل وحید کاکڑنے فوج کی کمان سنبھالی تو سیاسی عدم مداخلت کا عزم دہرایا۔ تاہم اس بعد کے واقعات اب تاریخ کا حصہ ہیں۔

تاریخ مگر بار بار دہرایا جانے والا ایک ا لمیہ کھیل ہے جس میں پرانے کرداروں کے صرف چہرے بدلتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply