ضمنی انتخابات، سینٹ الیکشن اور مہنگائی مارچ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان ایک جوش اور ولولے کے ساتھ جب برسراقتدار آئے توعوامی امنگیں انتہاوں کو چھو رہی تھیں۔ عوامی مقبولیت اور پسندیدگی کے ہمالیہ کی سب سے بلند چوٹی پر براجمان کپتان کو اتنی بلندی سے ہر چیز محض چھوٹی ہی نہیں بہت پست بھی نظر آ رہی تھی۔ اپوزیشن کے سلیکٹڈ کے بیانیے کو ایک لمحے کو مسترد کرتے ہوئے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ سات دہائیوں سے روایتی سیاست سے تنگ عوام نے تبدیلی کے لیے دل کھول کر کپتان کا ساتھ دیا تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی خلاف عقل بات ہے۔

مان لیتے ہیں کہ ٹکٹوں کی واپسی سے لے کر حلقہ جاتی سیاست میں طاقتور امیدواروں پر تحریک انصاف میں شمولیت کے لیے دباؤ کی حقیقت محض اپوزیشن کی طرف سے گھڑی جانے والی الف لیلیٰ کی داستان سے زیادہ کچھ نہیں ہے تو بھی پریشانی والی کوئی بات نہیں ہے۔ عوام حکومتوں سے خائف بھی ہوتے ہیں اور اپنی پسند اور نا پسندیدگی کا اظہار انتخابات میں ووٹ کے ذریعے کرتے ہیں اور یہی جمہوریت ہے۔

یہ جمہوریت کا حسن ہے کہ اس میں عوامی رائے کو مقدم رکھا جاتا ہے کیونکہ جمہوری طرز حکومت میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں اور عوامی فیصلوں کو خندہ پیشانی سے قبول کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ کسی بھی حکومت کے عہد میں ضمنی انتخابات بنیادی طور پر حکومتی کارکردگی کو چیک کرنے کا پیمانہ ہوتے ہیں۔ اگر عوام حکومتی کارکردگی سے مطمئن ہوتے ہیں تو حکومتی امیدواروں کی کامیابی یقینی ہوتی ہے اور اگر عوام نالاں ہو تو نتائج مختلف ہوتے ہیں۔

یہی کچھ موجودہ حکومت کے دو سالہ اقتدار کے بعد ہونے والے ضمنی انتخابات میں ہو رہا ہے۔ عوامی رائے کو اگر معیار اور کارکردگی جانچنے کا پیمانہ مقرر کیا جائے تو پھر حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج حکومت کے لیے کوئی اچھا شگون ثابت نہیں ہوئے۔

رواں سال کا پہلا ضمنی الیکشن 18 جنوری کو سندھ کے صوبائی حلقہ پی ایس 52 عمر کوٹ میں ہوا۔ جہاں وفاقی حکومت کے تشکیل کردہ جی ڈی اے کی طرف سے سندھ کے سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم پیپلز پارٹی کے امیر علی شاہ سے 25 ہزار ووٹوں سے شکست کھا گئے۔ ارباب غلام رحیم جیسے سیاست دان کے لیے یہ ایک بڑی اور بہت بری شکست تھی۔

ارباب غلام رحیم کو جن وعدوں اور تسلیوں کے ساتھ انتخابی میدان میں اتارا گیا نہ تو وہ وعدے پورے ہو سکے اور نہ ہی تسلیاں عوامی رائے پر اثر انداز ہو سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس الیکشن میں شکست کے بعد ارباب غلام رحیم پریس کانفرنس میں کپتان کی بے اعتنائی کا شکوہ کرتے نظر آئے۔ تاہم اس میڈیا ٹاک کے بعد وہ منظر سے غائب ہیں ، اب معلوم نہیں کہ ان کی اشک شوئی ہوئی یا نہیں۔ ویسے بھی یہ شطرنج کا اصول ہے کہ شاہ کو مات سے بچانے کے لیے قربانی دینے والے پیادوں سے شاطر کو کوئی ہمدردی نہیں ہوتی۔ ان پیادوں سے توقع ہی یہی کی جاتی ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ بلاجھجھک قربانی دیں گے۔یہی وجہ ہے کہ پیادوں کی قربانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سیاسی بساط پر شاطر کی ہر چال الٹ ہو رہی ہے ہر پیادہ پٹ رہا ہے بلکہ بری طرح پٹ رہا ہے۔

گزشتہ روز 16 فروری کو سندھ کے دو صوبائی حلقوں پی ایس 43 سانگھڑ 3 اور پی ایس 88 ملیر 2 کی دونوں صوبائی نشستیں پیپلز پارٹی نے جیت لیں۔ وفاقی حکومت کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے توقع کی جا رہی تھی کہ صوبائی حکومت کے امیدوار یہ نشستیں جیت جائیں گے اور توقع کے مطابق نتیجہ آیا مگر جتنے ووٹوں سے فتح ہوئی وہ فرق خلاف توقع تھا۔ پی ایس 88 ملیر میں تو تحریک انصاف کا امیدوار تیسرے نمبر آیا۔

سندھ کی طرح بلوچستان کے حلقہ بی پی 20 ، پشین 3 میں جے یو آئی ف کے سید عزیز اللہ 13 ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار عصمت اللہ ترین 6 ہزار 109 ووٹ لے سکے۔ بلوچستان میں مولانا شیرانی اور حافظ حسین احمد کے پارٹی چھوڑنے کے بعد اندازہ کیا جا رہا تھا کہ شاید جے یو آئی ف بلوچستان میں کمزور ہوئی ہے تاہم حالیہ انتخابی نتیجے سے مولانا فضل الرحمن کا مولانا شیرانی اور حافظ حسین احمد کے پارٹٰی چھوڑنے پر تبصرہ کہ ’موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں‘ سچ ثابت ہو گیا ہے۔ بلاشبہ اس نتیجے سے جے یو آئی ف کو بلوچستان میں کافی تقویت ملے گی۔

19 فروری کو قومی اسمبلی کے دوحلقوں این اے 75 سیالکوٹ اور این اے 45 کرم اور پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 51 گوجرانوالہ اور کے پی کے کے حلقہ پی کے 63 نوشہرہ میں پولنگ 19 فروری ہوگی۔ پنجاب کے دو حلقوں پر نون لیگ کے امیدوار حکومتی امیدواروں کا مقابلہ کریں گے اور ان کو پی ڈی ایم کی حمایت حاصل ہے۔ تحریک انصاف حکومت کی کوشش ہو گی کہ کسی طرح پنجاب کے حلقوں میں وہ کامیابی حاصل کرے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق وہ جیت بھی جائیں گے کیونکہ موجودہ سیاسی حالات میں نون لیگ کا ضمنی الیکشن جیتنا شاید کسی طاقتور حلقے کو قبول نہ ہو۔ اور یہ بات برسراقتدار حکمران جماعت کے لیے اطمینان کا باعث ہے۔

قبول تو شاید سینٹ الیکشن کے نتائج بھی نہیں ہوں گے اور اسی لیے سینٹ الیکشن کی ووٹنگ کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے پر بحث چل رہی ہے۔ سینٹ الیکشن میں ووٹنگ بیلٹ سے ہو یا شو آف ہینڈ سے ہو ، حکومت کو امیدواروں کے انتخاب پر اپنی ہی پارٹی میں شدید دباؤ اور تنقید کا سامنا ہے۔ کچھ امیدواروں سے ٹکٹ بھی واپس لیے گئے ہیں۔ لگتا ہے حکومت نے سینٹ الیکشن کے لیے ہوم ورک نہیں کیا ہوا تھا۔ ایسے میں اگر پی ڈی ایم اچھا پرفارم کر کے کچھ سیٹیں اضافی جیت جاتی ہے تو یقینی طور پر یہ حکومت کے لیے ایک دھچکا ہو گا۔

اور اگر حکومت کسی غیبی مدد سے اس دھچکے سے بچ بھی گئی تو 26 مارچ کو پی ڈی ایم اسلام آباد کی طرف جو مہنگائی مارچ کر رہی ہے اس میں مزید شدت آ جائے گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مہنگائی مارچ کی شدت کو کم رکھنے کے لیے اس بار تھوڑی بہت قربانی دے دی جائے۔ ہر دو صورت میں اپوزیشن نے بال مخالف کورٹ میں پھینک دی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply