فتح سندھ کے وقت محمد بن قاسم کی عمر اور حجاج سے اس کی رشتہ داری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری تاریخ ایسے لوگوں کے واقعات سے بھری پڑی ہے جن کو اپنے نظریات کے پر چار کے لیے تو خوب استعمال کیا جاتا ہے لیکن ان کے متعلق کسی قسم کی تحقیق کی کوئی آرزو نہیں ہوتی۔ محمد بن قاسم اور راجہ داہر اس کی بہترین مثال ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے مدمقابل تھے لیکن آج دنوں کے متعلق دو انتہا درجے کی آرا ملتی ہیں۔ عربوں کے حملوں کو ”اسلامی حملے“ قرار دینے والے محمد بن قاسم کو لے کر ایک حد پر ہیں جبکہ سندھی قوم پرستوں کو راجہ داہر کی ضرورت پڑتی ہے۔

لیکن ایک چیز دونوں میں مشترک ہے وہ یہ کہ نا تو محمد بن قاسم کے حامیوں کو اور نہ ہی راجہ داہر کے متوالوں کو اس سے دلچسپی ہے کہ دونوں بحیثیت انسان کیسے تھے؟ دونوں کی طرف جو باتیں منسوب کی جا رہی وہ سچ بھی ہیں یا نہیں۔ کبھی موقع ملا تو راجہ داہر کے تعلق سے جو باتیں مشہور ہیں ان کا انشاءاللہ پوسٹ مارٹم کروں گا فی الحال میرا موضوع محمد بن قاسم ہے تو میں اپنی تحریر اسی تک رکھوں گا۔

محمد بن قاسم جتنا مشہور ہے اتنا ہی لوگ اس کو لے کر غلط فہمی کا شکار ہیں۔ جہاں پر ایک طرف لوگ اس کی عمر کو لے کر متفق نہیں وہی دوسری طرف اس کی سندھ آمد کا مقصد بھی لوگوں پر ٹھیک سے عیاں نہیں۔ اپنے اپنے نظریات کے پرچار میں محمد بن قاسم کی اصل شخصیت چھپ گئی ہے۔ یہ اپنے اپ میں ایک پورا موضوع ہے کہ وہ بحیثیت انسان کیسا تھا؟ وہ سندھ آیا کیوں؟ پھر یہاں آ کر اس نے کیا کیا؟ یہ پھر کسی وقت کے لیے رکھ لیتے اس وقت میں صرف دو چیزوں پر بحث کروں گا۔ کیونکہ سب سے پہلے ان کی وضاحت ضروری ہے :

1۔ محمد بن قاسم کی حجاج سے رشتہ داری کی نوعیت کیا تھی؟ وہ اس کا بھتیجا تھا، چچازاد بھائی یا پھر داماد؟

2۔ فتح سندھ کے وقت اس کی اصل عمر کیا تھا؟ 17 سال یا 27 سال؟

اب آتے پہلے مسئلہ پر۔ محمد بن قاسم کی حجاج سے رشتہ داری ایک مسلمہ حقیقت ہے دونوں قبیلہ بنو ثقیف سے تھے اور دونوں کے جد امجد کا نام ”حکم“ تھا۔ لیکن اصل بحث یہ ہے کہ اس رشتہ داری کی نوعیت کیا تھی۔ تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم دونوں کے شجرے پر ایک نظر ڈالیں

1۔ محمد بن قاسم کا شجرہ اس طرح ہے : محمد بن قاسم بن محمد بن حکم
2۔ حجاج بن یوسف کا یہ ہے : حجاج بن یوسف بن حکم

اوپر کے شجرے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حجاج اور محمد بن قاسم کے والد ”قاسم“ آپس میں چچا زاد بھائی تھے لہذا جو لوگ محمد بن قاسم کو حجاج کا چچا زاد بھائی کہتے ان کا موقف درست نہیں اسی طرح جو محمد بن قاسم کو حجاج کا بھتیجا کہتے تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ شجروں سے واضح ہوتا ہے کہ محمد بن قاسم حجاج کا سگا بھتیجا نہیں تھا بلکہ ایک قسم کا رشتہ داری میں بھتیجا تھا۔ اب رہ جاتا ہے دامادی کا مسئلہ تو اسے عمر والے مسئلہ کے ساتھ حل کیا جائے گا کیونکہ دونوں ا یک دوسرے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

اب آتے ہیں دوسرے مسئلہ پر کہ فتح سندھ کے وقت محمد بن قاسم کی اصل عمر کیا تھی؟ اس حوالے سے دو نظریات ہیں۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ عمر ”17“ سال تھی جب کہ دوسرا نظریہ ہے کہ عمر ”27“ سال تھی۔ جو لوگ کہتے کہ اس کی عمر 17 سال تھی ان کی دلیل وہ شعر ہے جس میں محمد بن قاسم کی تعریف کرتے ہوئے ایک شاعر نے کہا کہ ”اس ( محمد بن قاسم ) نے 17 برس کی عمر میں لشکر کی قیادت کی“ ۔ یعقوبی (وفات 284 ہجری) نے 15 سال لکھا ہے۔

جن کا موقف 27 سال کا ہے وہ یہ کہتے کہ تاریخ کی کتابوں میں یہ صراحت ہے کہ محمد بن قاسم سن 83 ہجری میں فارس کا والی بنایا گیا تھا اور سندھ کی فتح کا واقعہ 10 سال بعد یعنی 93 ہجری کو ہوا۔ اب اگر سندھ کی فتح کے وقت اس کی عمر 17 مان لیں تو یہ بات ماننا پڑھے گی کہ فارس کی ولایت کے وقت اس کی عمر 7 سال تھی جو کہ ناممکن ہے۔ اس لیے صحیح یہ ہے کہ فارس کی ولایت کے وقت وہ 17 کا تھا جو سندھ کی فتح کے وقت اسے 27 سال کا بنا دیتا ہے۔

اصل میں ”قاد الجیوش لسبع عشرۃ“ یعنی ”17 برس کی عمر میں لشکر کی قیادت“ ۔ اس جملے نے ہمارے قدیم و جدید مورخین کو تھوڑا پریشان کر دیا۔ کچھ مورخین کے نزدیک یہ فتح سندھ کے موقع پر کہا گیا اور کچھ کے نزدیک محمد بن قاسم کے مرنے پر کہا گیا۔ کیونکہ یہ ایک حقیقی امر ہے کہ 83 ہجری میں وہ فارس کا والی تھا تو یہ بات ناممکن ہے کہ وہ سندھ کی فتح کے وقت 17 سال کا ہو۔ کیونکہ وہ شیراز ( فارس کا شہر جہاں کی ولایت محمد بن قاسم کو ملی تھی) کا برائے نام والی نہیں تھا بلکہ اس نے شیراز کو نہایت خوبصورت بھی بنایا تھا اور اس ضمن میں جو تفصیلات ملتی ہیں اسے دیکھنے کے بعد یہ بات اور بھی بعید ہو جاتی کہ وہ 17 برس کی عمر میں سندھ گیا ہو گا۔ کیونکہ یہ سینہ بہ سینہ چلنے والا شعر تھا تو اس میں غلطی کا امکان موجود ہے جیسا کہ یعقوبی نے 17 کی بجائے 15 لکھا۔ لہذا 17 سال والا موقف تو تسلیم ہی نہیں کیا جا سکتا۔ پھر سوال یہ ہے کہ آخر اس کی عمر تھی کیا؟

اس کا پتہ ہم ایک روایت سے لگا سکتے جو کہ عمر کے معاملے کو بالکل واضح کردیتا ہے۔ ”کتاب الاغانی“ میں ابو الفرج اصفہانی ( وفات 356 ہجری) امام المدائنی (وفات 225 ہجری ؛ افسوس ان کی کتب محفوظ نہ رہ سکیں) کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ حجاج نے اپنی بہن ”زینب“ کو کہا کہ وہ نکاح کے لیے دو لوگوں میں سے ایک کا انتخاب کرے :

1۔ محمد بن قاسم جو کہ 17 برس کا ہے اور بنو ثقیف میں اچھی شہرت رکھتا ہے۔
2۔ الحکم بن ایوب بن الحکم جو کہ حجاج کا چچا زاد بھائی تھا۔

حجاج کی بہن نے حکم کا انتخاب کیا۔ یہاں سے دامادی کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے کہ محمد بن قاسم حجاج کا داماد نہیں تھا بلکہ اگر حجاج کی بہن محمد بن قاسم کو چنتی تو بھی محمد بن قاسم سالابنتا نا کہ داماد۔ آگے بیان ہوا ہے کہ اس نکاح کے بعد حکم کو حجاج نے بصرہ کا والی لگا دیا۔ ( الاغانی، جلد 6 صفحہ 424 ) ۔ اس روایت سے ہمیں دو باتیں پتہ چلتی ہیں :

1۔ حجاج نے خود اپنی بہن کو محمد بن قاسم کی عمر 17 سال بتائی۔
2۔ حجاج کی بہن سے شادی کر کے حکم بصرہ کا والی بن گیا۔

اب اگر ہم یہ معلوم کر لیں کہ حکم کو بصرہ کی ولایت کب ملی؟ تو محمد بن قاسم کی عمر کا مسئلہ خود بہ خود حل ہو جاتا ہے۔ اس حوالے سے ہماری مشکل کو اہلسنت کے نہایت بلند محدث امام بخاری (وفات 256 ہجری) کے استاد امام خلیفہ بن خیاط ( وفات 240 ہجری) نے آسان کر دیا۔ امام خلیفہ بن خیاط اپنی تاریخ کے صفحہ 293 میں لکھتے ہیں کہ ”حکم بن ایوب کو بصرہ کی ولایت“ 75 ہجری ”میں ملی تھی“ ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ محمد بن قاسم کی عمر کے متعلق جو دعوی کیا جا تا رہا ہے کہ وہ 17 یا 27 سال کا تھا فتح سندھ کے وقت یہ دونوں دعوے حقیقت پر مبنی نہیں۔ فتح سندھ کے وقت محمد بن قاسم کی اصل عمر ”34 سال“ تھی۔ کچھ لوگوں کوشاید حیرانی ہو اس پر کہ اب تک تو جھگڑا ”17 یا 27“ کا چل رہا تھا اچانک سے ”34“ کا دعوی لیکن اگر کالم کی تنگ دامنی آڑے نہ آتی تو مزید دلائل سے ثابت کرتا کہ 34 سال کی عمر ہی فٹ بیٹھتی ہے ناکہ 17 یا 27۔

لہذا تمام بحث کا حاصل الکلام یہ ہے کہ فتح سندھ کے وقت محمد بن قاسم کی عمر ”34 سال“ تھی اور وہ حجاج کا رشتہ داری میں بھتیجا تھا نہ کہ سگا۔ داماد یا چچا زاد بھائی بھی نہیں تھا۔

نوٹ: اوپر کی بحث میں محمد بن قاسم کی شخصیت کو زیر بحث نہیں لایا گیا۔ کیونکہ محمد بن قاسم اور اس کا حریف راجہ داہر دونوں کی شخصیت پر انشاءاللہ علیحدہ بحث ہو گی لیکن صحیح وقت پر۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply