بت (افسانہ)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس قبرستان کی قبروں کا خیال رکھنا میرا حسبی نسبی پیشہ تھا۔ بابا کے مرنے کے بعد اس کا نظم و نسق میرے ہاتھ آ گیا۔

کافور، اگربتیوں اور خود رو پودوں کی مہک میرے بچپن کی سہیلیاں تھیں۔ ہم ان درختوں کے نیچے بے فکر گڈی گڈے کے بیاہ کی تیاریاں کرتے اور کھیلا کرتے تھے۔ سارا دن قبروں کی کھدائی کے عمل کو دیکھنا میرا معمول تھا۔

طرح طرح کے لوگ یہاں آتے ، اپنے پیاروں کو دفناتے۔ کچھ باقاعدہ کچھ کبھی کبھار چکر لگاتے۔ مٹی سے اٹے ناموں کی پلیٹوں کو پڑھتے، مٹی کو حسرت سے دیکھتے۔ نم آنکھیں پونچھتے، پانی کی بوتلوں کو بھرتے، خشک قبروں پر آنسوؤں کے ساتھ ساتھ پانی کا چھڑکاؤ کرتے۔ کچھ مخصوص دنوں میں اپنے پیاروں کی ڈھیریوں سے ملنے آتے۔

کبھی گلابوں کی پتیوں سے محبت کا اظہار کرتے۔ کبھی حسرت سے ڈھیری کے سرہانے کو ہاتھ لگاتے کبھی پائینی کی خاک کو انگلیوں سے مس کرتے اور اس لمحے میں اپنے محبت کرنے والوں کے ساتھ زندگی جیتے۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے اور مرے قدموں سے لوٹ جاتے۔

میں تو ان ہی قبروں کے بیچ پلا بڑھا تھا۔ میرے لیے تو یہ معمول کی ڈھیریاں تھیں اور بس ان کی صفائی ستھرائی کا خیال میرے ذمے تھا باقی کا کام ابا کیا کرتے تھے۔

ایک بی بی جی اکثر ہی شام کا سورج ڈھلنے سے تھوڑا پہلے آیا کرتی تھیں۔ سنا تھا ان کے دو بچے ایک حادثے میں ان سے بچھڑ کر یہاں آ سوئے تھے۔ کیسی اذیت تھی۔

وہ ایک بار رو رہی تھیں۔ میں نے انہیں پانی کی بوتل پیش کی اور کہا ”بیگم صاحبہ پانی پی لیں“
انہوں نے مجھے غور سے دیکھا آنسو پونچھے اور مسکرانے لگیں۔

وہ خاتون بڑی حسین پوشاک پہنے آیا کرتی تھیں۔ مجھے ان کی پوشاک اور اس سے اٹھنے والی مہک بہت بھاتی تھی۔

میں نے دیکھا کچھ دنوں میں ”جھلی“ سے ان کی دوستی ہو گئی تھی۔ وہ جھلی سے پیار سے پیش آتی تھیں۔ کبھی جھلی کے لیے زردہ لاتیں ، کبھی چنے والے چاول اور کبھی نان چنے۔ ایک دن میرا جی چاہا ان کی تعریف کروں، میں نے ڈرتے ڈرتے کہا:
”بی بی جی“
جی ”
”آپ بہت خوبصورت ہیں“
کھلکھلا کے ہنس دیں اور بولیں ”تمہیں اچھا لگتا ہے“
جی ”
”تم لے لو میرا بت“
جی ”
میری آنکھیں پھٹ گئیں،
”کیسی باتیں کرتی ہیں آپ بی بی جی
توبہ توبہ ”
”جب کوئی میری تعریف کرے تو میرا جی چاہتا ہے ، یہ بت اسے دے دوں“
”ہیں جی“
وہ ہنسیں! ”ہاں جی“
اور میں وہاں سے جانے لگا تو مجھے بلا کے بولیں
بھاگ کہاں رہے ہو ”
بہت اچنبھا ہوا تمہیں میری بات سن کر ، اس میں ایسا کیا ہے؟
”اگر مجھے اختیار ہوتا تو پہلی فرصت میں اپنے کلبوت کو کسی کے نام لگا دیتی“
اسے کسی دیوی کے بلیدان پر بلی چڑھا کے فارغ ہو چکی ہوتی!
ہیں جی سچی
میں نے حیرت سے انہیں دیکھا اور دل میں چپکے سے سوچا
عجیب بی بی جی ہیں۔
’’تمہیں کیا علم کہ اس بت کو اٹھائے پھرنا کتنا مشکل ہے۔ اسے گرمی بھی لگتی ہے سردی بھی، اسے بھوک بھی لگتی ہے، پیاس بھی، اسے لمس بھی چاہیے، اپنائیت بھی اور جانے کیا کیا تقاضے ہیں۔ اس پر سوا یہ کہ اس کی عزت بھی سنبھالنی پڑتی ہے ، ایک اور اضافی بوجھ ”
”ہائے ہائے بی بی جی“
جانے مجھے بات سمجھ آئی یا نہیں پر ان کے لہجے میں درد تھا۔
مجھے لگتا تھا کہ کوئی درد والی بات کہی انہوں نے۔

’’کتنا اچھا ہوتا نئے چاند چڑھے پہلی کو یا پورے چاند کی رات اس کا چڑھاوا چڑھا کے فارغ ہو چکی ہوتی۔ سچ اس بت نے بہت ستایا۔‘‘

بی بی جی ایک روز تو بت ساتھ چھوڑ ہی دے گا ناں
میں نے دلاسا دیا
’’ہاں اسی یقین اور خوشی سے تو یہاں آتی ہوں‘‘۔ انہوں نے ریشمی لباس کی شکنیں درست کیں۔

قبرستان کی خاموشی، پرندوں کی چہک، خاتون کا ملبوس، درختوں میں راز و نیاز ہونے لگے ، اتنے میں ”جھلی“ بال بکھرائے جگہ جگہ سے پھٹے کپڑوں میں سے جھانکتے بدن کو لیے ننگے پاؤں بھاگتی بی بی جی کے پاس آن پہنچی۔

قبرستان میں برگد کے درخت کے سائے میں وہ کچھ دیر بیٹھی رہی۔ جھلی نان چنے چسکے لے لے کر کھاتی رہی اور بی بی جی محبت بھری نظروں سے اسے دیکھتی رہیں۔ میں پانی کا چھڑکاؤ کرتا کرتا ان کو دیکھتے دیکھتے بے اختیار ان کے پاس، آ بیٹھا

” تم بھی کھا لو“

وہ اپنے پن سے بولیں اور میں نے ہاتھ بڑھا کے نان چنے پکڑ لیے ، کاغذ کی پلیٹ میں چنوں کی رنگت اور لذت اففف۔۔۔

میں نے کہا:
”بی بی جی آپ بہت خوبصورت ہیں۔“
وہ مجھے اپنے پن سے دیکھنے لگیں اور کہنے لگیں
”تم خوش نصیب ہو تمہیں خوبصورت بت دیکھنے کو ملے“
”ایک میں ہوں خوبصورتی کی تلاش میں قریوں سے قبرستانوں تک آ پہنچی“

”بتوں کے اس جنگل میں انسانوں کی بہت تلاش کی مگر ہر سو جسم ہی جسم تھے ، کہیں کسی جسم کے جنگل میں انسان کی کٹیا نہیں ملی ، کہیں کٹیا کے جسم میں چراغ نہیں ملا ، کہیں چراغ کے بدن میں لو نہیں ملی“

”آپ نے اس لو کا کیا کرنا تھا“
میں نے ادب سے پوچھا
”کچھ گیت تھے جو پڑھ کے سنانے تھے
کچھ لفظوں کے مطلب تھے جو جاننے تھے۔
کچھ راز کی باتیں تھیں جو کہنی تھیں
مگر دل کے طنبورے نے سانس نہیں لینے دیا،  کبھی گا ماپا سا رے نیسا پہ تان ٹوٹی
کبھی سر بہکے ، کبھی تال نہ ملا۔ جسموں کی مہک بہت تیز تھی
دل متلا جاتا تھا۔
کسی نے کہا قبرستان کا رخ کرو
سو قبرستان کا رخ کیا۔
کافور کافور کافور ملے بدن
جن کے چراغ بجھ چکے
بس یہاں ڈر نہیں لگتا۔
یہاں کیوں ڈر نہیں لگتا۔
”اسے“ بھی تو ڈر نہیں لگتا
ہماری جھلی بھی تو بے ڈر یہیں ٹھوکریں کھاتی پھرتی ہے۔
جوان جسم اوڑھے
لشکارے مارتی
وہ اکثر درختوں سے نکل آتی۔
جھلی میری سکھی ، وہ اسے پیار سے پاس بٹھاتیں اس سے باتیں کرتیں
”آ جا مل بیٹھیں“

کبھی کبھار اس کے لئے چنے بنا کے لاتی تھیں۔ کالی مرچوں میں دیسی گھی کی تری والے چنے اور نان جھلی کو بہت اچھے لگتے۔

جانے کتنے پتھر کھاتی رہی، وہ اکثر سوچتے سوچتے ڈھلتے سورج کو دیکھنے لگتیں۔
بڑی مشکل ہے
بی بی جی بڑی مشکل ہے
وہ آرام سے بیٹھی نان چنے کھاتی اور کپڑے جھاڑ اٹھ کر چلی جاتی۔
ایک صبح بی بی جی آ گئیں
مگر ان کے تن پہ خوشبو دار پوشاک نہیں تھی
کافور ملا سفید کفن تھا۔
بی بی جی کے چہرے پہ مسکان تھی ، اطمینان تھا جیسے وہ بت کا بلیدان چڑھا کے بہت خوش ہوں۔

جھلی اب بھی آتی ہے ، ان کی قبر پر بیٹھی نان چنے کھاتی ہے ، ویسی ہی کاغذ کی پلیٹ کالی مرچ میں بنے چنے اور نان مزے سے کھاتی ہے اور کپڑے جھاڑ کر اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔
میں قبر کے پاس کھڑا بت بنا اسے دیکھے جاتا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply