والدین اور بچے کا تعلق کیسا ہونا چاہیے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

والدین رحمت ہوتے ہیں۔ سر کا سایہ ہوتے ہیں اور ایسے ہی چند دوسرے جملے والدین کی عظمت، بڑائی اور شان کے طور پر بچپن سے ہی ذہن پر نقش کر دیے جاتے ہیں اور پھر تمام عمر بچے سے والدین کی اس کبریائی کا تاوان مختلف حیلوں سے وصول کیا جاتا ہے۔

بچوں کی پرورش میں والدین کے کردار سے انکار تو نہیں اور نہ ہی ان کی شان میں میں گستاخی کے متحمل ہیں۔ اب جب بات والدین کے کردار پر پہنچی ہے تو اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ یہاں کردار کو نیک یا بد کے معانی نہیں لیا جا رہا۔ ہمارے ہاں ایک چلن نمو پا چکا ہے کہ کردار کا تعلق صرف جنت اور جہنم کے حصول کی کوشش سے جڑا ہے بلکہ کردار سے مراد والدین کا بچوں کی تربیت میں کردار سے ہے اور اس بات سے ہے کہ ان کی اپنی شخصیت کیسی ہے اور اس شخصیت کے زیراثر رہ کر اک نومولود شخصیت کس طور پر پروان چڑھے گی۔

کردار کوئی بھی ہو ، اس کا تعلق اداکار کی فنکارانہ صلاحیت، شخصی پختگی اور اس کردار کو نبھانے کے حوالے سے ضروری محنت اور سنجیدگی سے ہوتا ہے اور یہی عناصر کردار کی کامیابی اور کامرانی کے ضامن ہوتے ہیں۔ اگر کردار کو نبھاتے ہوئے اداکار کسی بھی قسم کی رعایت لے یا تجاہل عارفانہ سے کام لے تو وہ کردار کے ساتھ ایسا کھلواڑ کرے گا کہ سٹیج کے باقی کرداروں کو بھی متأثر کرے گا اور ڈرامے کو بھی فلاپ کر دے گا۔

نفسیات کے ماہرین کی خیر ہو کہ انہوں نے تحقیقات کر کے بہت آسان لفظوں میں یہ بتا دیا کہ بچہ دیکھ کر سیکھتا ہے نہ کہ کسی بڑے اور دانا کے سمجھانے اور نصیحت کرنے سے سمجھتا ہے۔

بچے ضدی ہوتے ہیں، ہٹ دھرم ہوتے ہیں، کہا نہیں مانتے، بات نہیں سنتے ہیں، تمیز سے عاری ہوتے ہیں، ہر وقت موبائل سے چپکے ہوتے ہیں،  ایسی بہت سی باتوں کی شکایت والدین کرتے رہتے ہیں اور پھر ان سب علتوں کا علاج کروانے کی سوچ میں ہلکان ہو رہے ہوتے ہیں اور اس بات پر خود بچہ بن رہے ہوتے ہیں کہ بچوں کے مسائل کے ذمہ دار صرف بچے ہی ہیں۔

اب ایسا بھی نہیں کہ تمام والدین ہی غیر ذمہ دار ہیں یا تمام بچے ہی نکمے ہوتے ہیں مگر پھر بھی بچوں کے نکمے پن کے تانے بانے والدین کی اپنی ہی شخصیت کی ناتمامی، غیر سنجیدگی اور نابالیدگی سے جا ملتے ہیں اور یہ بات حیران کن نہیں کہ ہمارے ہاں اکثر والدین صرف بچوں کی پیدائش کے نتیجے میں ہی اس رتبے پر فائز ہیں، وگرنہ ان کی اپنی بطور والدین فنکارانہ یا ذمہ دارانہ کارکردگی اوسط سے کم کی ہے جس کی وجہ سے بچے کی شخصیت بھی غیر متوازن اور ادھوری رہ جاتی ہے۔

موجودہ دور کی ضروریات نے والدین کی ذمہ داری کو اور بھی بڑھا دیا ہے اور انہیں ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں بچے کی تربیت سے پہلے والدین کی تربیت اشد ضروری ہو گئی ہے ، ترقی اور ٹیکنالوجی کی اس دوڑ میں اگر والدین روایتی طور طریقوں کے ساتھ ساتھ خود کی بطور والدین قابلیت کا جائزہ نہیں لیں گے تو وقت کے ساتھ ساتھ بچے بھی ہاتھ سے نکل جائیں گے۔ بچے کی پیدائش سے پہلے والدین کا اپنی صلاحیتیوں کا جائزہ لے لینا اہم ہے اور ان کی اصلاح حقیقت پسند شعور کی عکاسی ہو گی ، نہیں تو زندگی تو گزر ہی جاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
تنویر اسلم سجیل کی دیگر تحریریں

Leave a Reply