آہ! مشاہد اللہ خان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اعلیٰ نثر نگاری کا کبھی دعویٰ نہیں رہا الفاظ ہمیشہ ٹوٹے پھوٹے ہی محسوس ہوئے مگر آج اگر آپ کو الفاظ کی شکستگی اور محسوس ہو تو خیال کیجیے کہ اس لمحے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں ، دل کی دھڑکنیں بے ربط محسوس ہو رہی ہیں،  آنکھیں آنسوؤں سے بوجھل ہیں۔ فون اٹھایا ، میسج پڑھا اور فون ہاتھوں سے چھوٹ گیا۔ مشاہد اللہ خان چل بسے ، وہاں جا کر بس گئے ہیں جہاں سے ہم بے خبر ہیں۔ یہ مشرف دور کے بالکل ابتدائی دنوں کی بات ہے ، مشاہد اللہ خان کے نام سے شناسا تھا مگر ان سے ملاقات نہیں تھی۔

جاوید ہاشمی کی مشاہد اللہ خان سے بہت قربت تھی اور میری بھی ان سے نیاز مندی تھی ۔ انہی کی بدولت مشاہد اللہ خان سے پہلا تعارف ہوا جو پھر ان کی زندگی کے آخری لمحے تک قائم رہا۔ مشاہد اللہ خان مشرف دور کے اولین اسیروں میں سے تھے اور میں بھی مشرف کی آمریت کے خلاف جوش سے بھرپور تھا ، یوں دوستی خوب پروان چڑھی۔ ان سے پہلی ملاقات کے بعد آخری دم تک وہ جب کبھی بھی لاہور تشریف لائے ، ان سے ضرور ملاقات ہوئی جبکہ میں جب کبھی بھی اسلام آباد گیا تو ضرور ان کی زیارت کی۔

وہ آمریت کے خلاف سینہ سپر رہے، جب میں نے راجہ ظفر الحق اور صدیق الفاروق کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر کے مسلم لیگ نون میں شمولیت کا اعلان کیا تو اس کے فوری بعد جن کا فون آیا، وہ مشاہداللہ خان ہی تھے۔ زبان و بیان کے جادوگر نے ایسے پرلطف انداز میں آنے والے خطرات کا تذکرہ کیا کہ ہنسی تھم ہی نہیں رہی تھی جیسے اب اشک رواں ہیں کہ تھم ہی نہیں رہے۔ پھر جب مشرف دور میں گرفتار ہوا تو بعد میں ملتے ہی بولے میری پیش گوئی پوری ہو گئی اور قہقہہ بلند ہو گیا۔

2002 کے انتخابات میں کراچی سے انہوں نے جب حصہ لیا تو ایک دن ان کی کال آئی ، انداز بالکل تحکمانہ تھا کہ بس میری انتخابی مہم کے لیے کراچی پہنچ جاؤ۔ میں نے پوچھا کہ میں لاہور کا رہنے والا ہوں، بھلا کراچی آ کر کیا کروں گا۔ بولے بس کہا ہے نہ کہ آ جاؤ ، میں پہنچ گیا۔

کراچی کے اس وقت کے حالات اور عہد آمریت کے باوجود وہ ایسی آواز تھے جو غلط کو غلط کہہ رہی تھی ۔ نتائج چاہے جو مرضی نکل آئیں اس سے وہ بے پروا تھے۔ یہ واقعہ تو ایسے ذہن پر نقش ہے کہ جیسے ابھی کی بات ہو کہ جب 2004 میں شہباز شریف نے جبری جلاوطنی کو ختم کرنے کی غرض سے وطن عزیز کے لیے رخت سفر باندھا اور لاہور پہنچنا چاہا تو اس سے پہلے مشاہد اللہ خان کا فون آیا کہ مہدی صاحب لاہور میں پولیس اور انٹیلی جنس کی نظروں سے محفوظ رہتے ہوئے شہباز شریف کی وطن واپسی والے دن ایک میڈیا سیل تشکیل دینا ہے ، اس کے لیے انتظامات کر دیں۔

ہم نے لاہور میں ایک چھوٹے سے ہوٹل کو منتخب کیا اور اس دن وہاں سے میڈیا کو خبریں مہیا کرتے رہے جب کہ پولیس ہمیں مسلم لیگ کے دفاتر یا گھروں میں تلاش کرنے کی غرض سے چھاپے مارتی رہی۔ جاوید ہاشمی کی کتاب کی برمنگھم میں تقریب رونمائی تھی ، میں شہباز شریف کے ہمراہ برمنگھم پہنچا۔ مشاہد اللہ خان وہاں پہلے سے موجود تھے ، میرا واپسی کا ارادہ تھا مگر اصرار کرنے لگے کہ رک جاؤ ، ہم وہاں آزاد کشمیر کے ایم ایل اے راجہ جاوید کے گھر ٹھہرے ۔ کچھ دن کے بعد اکٹھے لندن پہنچے اور پیپلز پارٹی کے ریاض خان ہمارے میزبان تھے۔

ان کا یہ خاصہ تھا کہ جب کسی سے ان کی دوستی ہو جائے تو سیاسی وابستگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف محبت ہی بکھیرتے تھے۔ انہی دنوں میں میرے بھائی علی مہدی کے پاس سوئٹزر لینڈ اپنی فیملی کے ساتھ ٹھہرے۔ فون پر علی بھی رو رہا تھا جو ان سے ملتا تھا ، اپنے آپ پر اب قابو نہیں رکھ پا رہا تھا۔

یادوں کا ایک سمندر ہے۔ ہر بات نظر کے سامنے پھر رہی ہے۔ 2013 کے انتخابات کی بات ہے ، لاہور ماڈل ٹاؤن آفس میں انہوں نے میاں نواز شریف سے میرے انتخابات میں حصہ لینے کی بات کی ۔ میاں نواز شریف نے فوری اپنے حلقۂ انتخاب میں صوبائی نشست پی پی ایک سو چالیس میں میرے لیے حامی بھر لی۔

اتنی دیر میں میاں شہباز شریف تشریف لے آئے اور انہوں نے میاں نواز شریف کو کہا کہ مہدی صاحب کا اسٹیٹس اس سے اوپر ہے کہ ہم ان کو صوبائی نشست پر سامنے لے کر آئیں ۔ یہ بہتر ہو گا کہ انتخابات کے بعد ان کو اس سے بہتر پوزیشن پر سامنے لایا جائے۔

وہ پارٹی کارکنوں سے بہت محبت کرتے تھے۔ خود بھی کارکن رہے تھے ، ان کو کارکنوں کے جذبات کا احساس تھا۔ چند برس قبل لاہور میں تھے ، رات دو بجے ایک اخباری ایڈیٹر سے ہم مشترکہ طور پر ملاقات کرنے کے بعد فارغ ہوئے ، وہ ہوٹل کی طرف واپس جانے لگے اور میں گھر واپس جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ مجھے علم ہوا کہ کرشن نگر میں مسلم لیگی کارکن ندیم کلیم کے بھائی کو گولیاں مار دی گئی ہیں۔

وہ نیند سے بوجھل ہو رہے تھے مگر میرے ساتھ فوری طور پر ہسپتال پہنچ گئے ، ہسپتال میں موجود افراد کا حوصلہ بہت بڑھ گیا۔ بعد میں میرے علم میں آیا تو ان کو ڈاکٹروں نے ہسپتال جا کر کسی کی عیادت کرنے سے منع کر رکھا تھا مگر وہ مسلم لیگی کارکن کا سن کر اپنے آپ کو روک نہ سکے۔ وطن عزیز میں گزشتہ طویل عرصے سے ایک منظم مہم کے ذریعے سیاست دانوں کی کردارکشی کی جا رہی ہے ، ان پر مال بنانے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

مشاہد اللہ خان پی آئی اے کی ایئر لیگ کے کرتے دھرتے رہے ، نواز شریف کی دوسری حکومت کا حصہ بنے ، وفاقی وزیر تک رہے۔ انتقال کے وقت تک سینیٹر تھے مگر مجھے اپنی آخری ملاقات میں کہہ رہے تھے کہ اگر میں سینیٹر کی تنخواہ نہ لے سکوں تو گھر کا کرایہ بھی ادا نہیں کر سکوں گا۔ وفاقی وزارت تک پہنچنے والے شخص نے منصب کے ساتھ صرف اور صرف عزت کمائی کہ آج بھی کرائے کے گھر میں مقیم تھا۔ غلام عباس کا افسانہ ’کتبہ‘  یاد آ رہا ہے کہ جب اپنے نام کی تختی قبر پر لگ جاتی ہے ، ان کی زندگی کے بعد ہی ان کے نام کی تختی کہیں مستقل لگ سکی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply