ایک پاکستانی نے بنگلہ دیش میں کیا دیکھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم پاکستانیوں کی انتہائی بدقسمتی ہے کہ ہم اپنی ہی تاریخ سے اتنے ناواقف ہیں کہ مجھے یقین محکم ہے کہ شاید ہی دنیا کی کوئی اور قوم ایسے اندھیرے میں ہو، لیاقت علی خان کے قتل کے بعد سے ایوب کے مارشل لاء تک ملک میں کیا ہو رہا تھا؟ کون کون حکومت کا حصہ تھا؟ کیسے اور کیا فیصلے کیے جا رہے تھے؟ اس سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔

بنگال میں کیا ہو رہا تھا؟ ان کے کیا گلے شکوے تھے؟ وہ دن بدن کیوں ناراض ہوتے جا رہے تھے؟ یہ سب ایسے سوال ہیں جن کا جواب ڈھونڈنے کے لیے یا تو بنگلہ دیش کا سفر کرنا پڑے گا یا پھر محنت کر کے غیر جانب دار تحریروں کا مطالعہ۔

ہماری اپنی درسی کتابوں میں آدھے پاکستان کا ذکر ایسے غائب کر دیا گیا ہے کہ جیسے آنکھیں بند کر کے پہاڑ کو غائب سمجھا جاتا ہے، سال میں ایک بار 16 دسمبر کو تمام اخبار ایک دردناک سی شہ سرخی اور چند آرٹیکل کچھ اس انداز میں چھاپتے ہیں کہ تأثر یہ ملے کہ بیرونی سازشیں نہ ہوتیں تو مسئلہ تھا ہی نہیں۔

کچھ بہادر صحافی حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہیں اور حقیقت بیان کرتے ہوئے اتنے استعارے استعمال کرتے ہیں کہ پڑھنے والے کو تارے نظر آ جاتے ہیں، لیکن اگر محسوس کیا جائے تو 1971 سے پہلے بنگال (مشرقی پاکستان) ایسے ہی تھا جیسے آج پاکستان کے ساتھ بلوچستان یا سندھ ۔ لیکن ہماری خوفناک غلطیوں یا ریاستی بلنڈرز نے اس کی بنیاد رکھی اور اب اس سے بھی بڑی غلطی بھونڈے انداز سے اس کی پردہ پوشی ہے، شاید کسی ایسے مقدس ادارے کے ناموس کی حفاظت درکار ہے جس نے آج تک کوئی غلطی نہیں کی، جس کا ہر سربراہ کسی آسمانی تحفے سے کم نہیں۔

اس کے گواہ بہت سے صحافی اور لکھاری ہیں جو مکہ اور مدینہ میں ان سربراہان کے بارے میں اپنے دیکھے گئے خواب بیان کرتے ہوئے رو پڑتے ہیں ( اور یہ خواب صرف موجودہ حاضر سربراہان کے بارے میں ہی ہوتے ہیں ”یہ بھی معجزہ ہے“ ) اس ادارے کا ہر ذیلی ادارہ دنیا کا نمبر ون ہی رہتا ہے (کم ازکم پاکستانی میڈیا کے مطابق) جس کے بغیر دنیا کا نظام رک جاتا ہے، دنیا کی کوئی جنگ اس ادارے کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں۔ ”شدید عقل اور ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے“ کیوں کہ آج بھی وہی غلطیاں دہرائی جا رہی ہیں۔

ستمبر 2006 میں ڈھاکہ بنگلہ دیش میں ہونے والی ابسن کانفرنس اینڈ تھیٹر فیسٹول میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔ جب بھی کسی نئے ملک یا شہر جانا ہوتا ہے تو اسے محسوس کرنے اور کلچر کو سمجھنے کے لئے سیاحتی مشہور مقامات کے ساتھ عام گلی محلوں اور بازاروں میں گھومنے کو بھی ترجیح دیتا ہوں، چھوٹے ڈھابوں پر کھانا کھانے کے ساتھ عام لوگوں کے ساتھ انٹریکشن سے بہت سے تصورات کلیئر ہوتے ہیں۔

پاکستان کے بارے میں ملے جلے رویے دیکھنے کو ملے، کچھ پاکستان کو آج بھی پسند کرتے ہیں اور اتنی ہی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو پاکستان کو ناپسند کرتے ہیں ، لیکن ایک بات پر سب متفق تھے کہ پاکستانی ریاستی اداروں نے مشرقی پاکستان سے انتہائی امتیازی سلوک کیا اور انیس سو اکہتر کے فوجی آپریشن نے ایسی کاری ضرب لگائی کہ جس کے زخم بھرنا ممکن نہ تھا، کچھ کے خیال میں تو یہ ”جینو سائیڈ“ تھا۔

( یہاں میں قاری حضرات کو حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کے مطالعے کی درخواست کروں گا ، جس میں 1971 کے تمام حقائق بیان کر دیے گئے ہیں اور بحث کی گنجائش تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے )

صبح اٹھ کر میں پیدل یا سائیکل رکشہ پر ناریل مارکیٹ جاتا ، وہاں سے ایک ٹکے کا ناریل خریدتا ، اس کے پانی اور ملائی سے ناشتہ کرتا ، منڈی میں کام کرنے والے مزدوروں سے بات کرنے کی کوشش کرتا جو اردو سے صرف سمجھنے کی حد تک واقف تھے ، انتہائی صبح اٹھ کر ان کا ناشتہ بھی ناریل کا پانی اور ملائی ہوتا ، جو ناریل کے پانی ہی سے منہ ہاتھ دھو کر کلیاں کر کے ایک لمبے مشکل دن کی تیاری کر رہے ہوتے تھے۔

بہت سے معاملات میں بنگلہ دیش کو اس زمانے کے لحاظ سے پاکستان کے مقابلے میں بہت پروگریسیو اور ترقی کی راہ پر گامزن پایا، عورتیں ہر میدان میں نمایاں کردار میں نظر آئیں، محسوس ہوا کہ تعلیم اور دیگر میدانوں میں بنگلہ دیش مستقبل قریب میں برصغیر کا ایک نمایاں ملک ہو گا، گلی محلوں میں گارمنٹس سے متعلق چھوٹی صنعتیں (جو زیادہ تر عورتیں چلا رہی تھیں ) اس بات کی گواہی تھیں کہ ملک معاشی میدان میں ٹیک آف پوزیشن میں آ چکا ہے۔ نظریاتی اعتبار سے بھی بنگلہ دیش کو جدید دنیا کے تقاضے پورے کرتے محسوس کیا اور آج یہ سب کچھ ثابت ہو رہا ہے۔

وفد میں شریک اکثر حضرات فارغ وقت میں ہوٹل ہی رہنا چاہ رہے تھے جب کہ میں زیادہ سے زیادہ اہم جگہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ اس لیے کانفرنس انتظامیہ نے ڈھاکہ یونیورسٹی کی انٹرنیشنل افیئرز کی ایک طالبہ کو بطور گائیڈ میرے ساتھ لگا دیا، جتنا اس کا نام مشکل تھا اتنا ہی اس کا ”نک نیم“ مختلف۔ جی ہاں اس کا نک نیم ”فینسی“ تھا، شروع شروع میں اس کا نام پکارتے مشکل ہوئی، فینسی ایک اچھی گائیڈ ثابت ہوئی، اسے معلوم تھا کہ بطور پاکستانی میں یہاں کیا دیکھنا چاہوں گا، کم وقت میں اس نے مجھے بہت سے اہم مقامات دکھائے، کبھی ٹیکسی، بس کبھی آٹو رکشا اور کبھی سائیکل رکشہ پر ہم نے ڈھاکہ گھوما۔

ڈھاکہ کے میوزیم میں ”پاکستانی فوج کے مظالم“ کے نام سے تصویروں پر مشتمل گیلری موجود ہے، ڈھاکہ یونیورسٹی کا چکر لگا تو جگہ جگہ یادگاری چبوترے دیکھنے کو ملے جن میں اکثر پر لکھا پایا کہ اس مقام پر پاکستانی فوج کے ہاتھوں فلاں شہید ہوا وغیرہ یونیورسٹی میں اس مقام پر ایک بڑی یادگار موجود ہے جہاں سے اردو بطور قومی زبان کے خلاف 1952 میں تحریک کا آغاز کیا گیا تھا۔

یہ سب باتیں میرے لئے نئی تھیں کیونکہ آج بھی پاکستان میں رہتے ہوئے بنگلہ دیش اور بنگالیوں کے بارے میں مختلف تصویر کھینچی جاتی ہے ، شاید کہ ہم جب ان کے گلے شکوں کی بات کریں گے تو ہمیں وہاں اپنی غلطیوں کا بھی ذکر کرنا پڑے گا

”اور غلطی تو ہم کرتے ہی نہیں“

جس ہال میں کانفرنس ہو رہی تھی ، میں اپنی گائیڈ کے ساتھ جب وہاں پہنچا تو اس کے سامنے کانفرنس میں پاکستانی وفد کی شرکت کے خلاف احتجاج دیکھا ، ایسا منظر تو میں نے اس سے پہلے بھارت میں بھی نہیں دیکھا تھا (ہاں مودی کا بھارت مختلف ہے اور آج حسینہ کا بنگلہ دیش اس سے بھی مختلف) ۔

پاکستان ٹیلی ویژن کا ایک نائب قاصد اس دورے میں ہمارے ساتھ تھا ، اس کو اپنے باپ کی تلاش تھی جو 1971 میں پی ٹی وی ڈھاکہ میں تعینات تھا، جنگ شروع ہونے کے بعد اس کی کوئی خبر نہ آئی، زندہ ہے یا مر گیا 2006 تک کسی کو کچھ معلوم نہ تھا، اس کے پاس صرف اس محلے کا ایڈریس تھا جہاں سے اس کا آخری خط آیا تھا۔ اس محلے میں پہنچے، بہت سے لوگوں سے پوچھ گچھ کرنے کے بعد آخر ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی جو اس کے باپ کو جانتا تھا ، وہ ہمیں گلی کے اس موڑ پر لے گیا جہاں اس کی لاش پائی گئی تھی، لوگوں نے اس کے باپ کو قتل کر دیا تھا ، اس شخص اور محلے کے کچھ اور نرم دل لوگوں نے اسے دفنا دیا تھا ۔ اس کی قبر کا تو پتہ نہ چل سکا لیکن وہ مطمئن تھا کہ کم از کم حقیقت کا پتہ تو چلا۔

وہ یقیناً ایک پاگل پن کا دور تھا ، فوجی آپریشن کے بعد جب بغاوت ہوئی تو پاکستانیوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارا گیا۔ فیضؔ اور اس زمانے کے لوگوں نے بنگلہ دیش کو ایسے دیکھا تھا جیسے آج ہم بلوچستان، سندھ، کے پی کے یا پنجاب کو دیکھتے ہیں، یقیناً ان کا دل خون کے آنسو رو رہا ہو گا۔

میری حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی کیونکہ ہمیں جس پروپیگنڈا کا شکار بنایا جاتا ہے ، اس کے بعد جب ہم اپنی آنکھوں سے حقیقت دیکھتے ہیں تو یہ سب مصنوعی نعرے اور نظریے لا یعنی اور بے معنی محسوس ہوتے ہیں، زمینی حقائق اکثر تلخ ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply