دوسری شادی اور ہمارا معاشرہ(قسط اول)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک شہر میں ہسپتال تھے اور ان میں ڈاکٹر تھے، دوائیاں تھیں، علاج تھے آلات تھے مگر پھر بھی سارا شہر بیماری میں مبتلا تھا، صحت مند نہ ہو پاتا تھا۔ کیوں؟ کیونکہ جب کوئی مریض درد کی تکلیف لے کر جاتا تو اسے کہہ دیا جاتا کہ درد روحانیت کی پہلی سیڑھی ہے ، برداشت کرو! اور مریض روحانی بلندی کا تصور کر کے روتا بلکتا واپس آ جاتا چنانچہ سارا شہر ہی گلتا سڑتا جا رہا تھا۔ کوئی بھی یہ نہ کہہ پاتا کہ شفاء نہیں مل سکتی تو یہ ہسپتال کس کے لئے ہیں، یہ اتنے ڈاکٹر کیوں بھرے ہیں، دوائیں اور آلات کیوں رکھے ہیں اگر سارے عوام کو روحانی بلندی پر ہی چڑھنا ہے تو؟

شاید اس لئے کہ روحانی بلندی کا طالب ہر کوئی ہے ، چاہے ساری زندگی میں ایک بھی روزہ نہ رکھا ہو، چار نمازیں نہ پڑھیں ہوں، اسکول اور مدرسے کی شکل کبھی نہ دیکھی ہو، دیکھی ہو تو پسند نہ آئی ہو، علم کی صورت سے دل گھبراتا ہو، پرہیز سے جان جاتی ہو، دھوپ سہی نہ جاتی ہوں، سردی جان کو آتی ہو، مگر روحانی بلندی کا چورن ہر کوئی جی جان سے خریدنا چاہتا ہے۔ کوئی بھی انسان نہیں بننا چاہتا، سب کو صوفی، پیغمبر اور فرشتہ بننا ہے۔

عورتیں گھروں میں جانوروں کی طرح قید ہو کر بچے پیدا کرنے اور مردوں کے دل خوش کرنے کے لوازمات پر لگی ہیں، مرد کا جوتا بیوی کی گردن پر دھرا ہے، جی حضور، جی حضور کرتی بیویاں، جوتے کھاتی رہیں گی اور جی حضوری کرتی رہیں گی کہ طلاق مکروہ ہے۔ بچے بگڑتے جا رہے ہیں، انسانی دماغ گل رہے ہیں، ارتقاء اور شعور، اخلاق اور کردار نسل در نسل یتیم اور مسکین ہو رہا ہے کیونکہ انسان کردار بنانے سے نکل کر صرف رشتے نباہنے میں مصروف عمل ہے جو مشرق و مغرب کے ملن میں کہیں بن نہیں پاتا۔

میاں بیوی کے رجحانات، عادات، سوچ اور دماغ میں صدیوں کا فرق ہے مگر بڑوں کے باندھے رشتے کو بیلوں کی طرح دونوں دھکیلے لئے چلے جا رہے ہیں۔ بچے پریشاں حالی اور خستہ ذہنی کے شکار، ٹوٹی پھوٹی شخصیات، نفسیاتی مریضوں میں ڈھل رہے ہیں، بیوی میاں کی صورت سے بیزار، میاں بیوی سے عاجز مگر مسئلہ یہ ہے کہ طلاق لینے اور دینے سے روحانی بلندی حاصل نہیں ہوتی۔ چنانچہ معاشرے میں ایسی سوچ موقوف ہے۔ وہ جن سے ایک نسل ڈھنگ سے پالی نہیں جا رہی، جن میں ساتھ بیٹھ کر دو انسانوں کی طرح بات کرنی مشکل ہے کیا ان کو بشر کا، بہتر زندگی کا حق اور مسائل کا علاج نہیں چاہیے؟

علاج جو سیدھا سیدھا کہتا ہے دونوں میں نہیں بنتی تو رستے الگ کر لو کہ دو لوگوں کا ساتھ رہنا آخری منزل نہیں، آخری منزل تو دونوں کا ایک ٹیم بن کر اچھی نسل بنانا ہے۔ مگر بیچ میں چونکہ روحانی عظمت آ گئی ہے اس لئے دو انسان لڑھکتے، بلکتے، بک بک جھک جھک کرتے چلے جا رہے ہیں۔ چنانچہ ٹوٹے پھوٹے، بے ترتیب، بد لحاظ رشتے سے نسل کو کردار ملا نہ وقار، شعور نہ اخلاق، ٹوٹے تھکے ہارے والدین سے انہیں صرف بیزاری ہی حاصل ہوئی۔

اسلام نے چار شادیوں کی اجازت دے رکھی ہے ، آپ کے نبی ﷺ نے جس پر آپ کے بیوی بچے قرباں ہیں ایک سے زیادہ شادیاں کیں ،ان کے تمام رفقاء نے کیں، عورت کی عدت پوری ہوتے ہی دوسرا نکاح ہو جاتا تھا، مرد ایک ساتھ یا یکے بعد دیگرے کئی بیویوں کی ذمہ داری اٹھاتا تھا مگر اب یہ ہے کہ مرد کی دوسری شادی بھی معاشرے میں گناہ بن چکی ہے تو عورت کی طلاق بھی گناہ۔ اور اس کے سوا اخلاقی پستی، جھگڑے، فساد، نفرتیں، جنسی بے راہروی، غیر اخلاقی تعلقات سب کے سب حلال۔

دلوں میں کوئی اور ہے بستروں پر ، گھروں میں کوئی اور ہے، بچے چھوڑے نہیں جاتے، رل جائیں گے، کون سنبھالے گا ، کون پالے گا، چنانچہ ایک محبوبہ باہر چھپا رکھی ہے ، ایک اللہ میاں کی گائے گھر پر کیوں بھئی؟ دل اکھڑ گیا ہے، دوسری کی طرف جان لپکتی ہے مگر جناب بشر کو جو حق رب نے دے رکھے ہیں ، ان کو استعمال نہیں کر سکتے۔

اب یہ ہے کہ گولیاں رکھی ہیں، سرجری موجود ہے مگر بشر کے جسم اور روح میں جو زہر پھیل گیا ہے اس کا علاج ممکن نہیں۔ کیونکہ اس شہر کے لوگوں میں بشر ہونے کی روایت نہیں۔ سو سب کو روزے رکھنے ہیں، کوئی جسمانی اشتہاء کا شکار ہو یا روحانی طور پر کمزور ہو سب کو فرشتہ بننا ہے اور ہر حال میں عمر بھر ایک ہی بیوی ، ایک ہی رشتے تک محدود رہنا ہے، چاہے پردے کے پیچھے سو گناہ صرف اس ایک علاج کو اختیار نہ کرنے سے حاصل ہوں۔

برصغیر میں سنا ہے اسلام صوفیاء اور ولی لے کر آئے تھے ، اس لئے عام انسانوں والا دین اس زمیں کا مقدر نہ ہو سکا۔ یہاں انسان انسان ہونا نہ سیکھ سکا ، ہمیشہ انتہا پسندی میں مبتلا رہا۔ اتنا دبا دو اتنا دبا دو کہ گناہوں اور کوتاہیوں کی پستی میں دھنس جائے مگر وہ نعمتیں اور سہولیات جو خدا نے انسان کے لئے اتاری ہیں ، ان کو ہاتھ نہ لگاؤ ۔ چنانچہ اس معاشرے نے وہ تمام تر سہولیات اپنے معاشرے کے لئے مکروہ قرار دے رکھی ہیں جو ان کو شفاء دے سکتی ہیں۔

چنانچہ رحم کریں گے تو اتنا کریں گے کہ لوگ خون پی جائیں، حق مانگنے پر آئیں گے تو آس پاس کے سو پچاس انسانوں کو بھی زندہ نگل جائیں گے۔ روکنے نکلیں گے تو ہر ظلم روا ہو جائے گا اور لڑنے نکلیں گے تو مظلوم کو بھی تہہ تیغ کر دیں گے۔ ماں باپ کی تعظیم ہو گی تو اولاد دولے شاہ کے چوہے بنا دی جائے گی اور بغاوت پر اتریں گے تو والدین کو جوتے مار کر گھر سے نکال دیں گے۔ پھر کہتے ہیں معاشرہ سڑاند بن چکا۔ جہاں پر علاج موجود ہوں ، آلات مہیا ہوں، ڈاکٹر ہوں ، ہسپتال ہوں مگر پھر بھی کسی میں علاج کی جرأت نہ ہو، اس معاشرے میں سڑاند نہ پھوٹے تو کیا پھول بوٹے اگیں گے؟

(جاری ہے۔۔۔)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply