تم چلے آؤ پہاڑوں کی قسم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برف پوش پہاڑوں میں ”یا مظلوم حسینؑ“ کا بینر اٹھائے ایک پاکستانی کوہ پیما پہلی بار منظر عام پر آیا۔ میڈیا نے جب کھوج لگائی تو پتہ چلا کہ موصوف کا نام محمد علی ہے جو سکردو کے ایک گاؤں سدپارہ کا رہائشی اور ایف اے پاس ہے۔ پہاڑوں سے جنون کی حد تک عشق کرتا ہے۔ کوہ پیمائی اس کا مشغلہ ہے۔ سیاچن جنگ کے دوران پاکستان آرمی کے جوان جب سدپارہ گاؤں پہنچے تو ان کو سیاچن پر پہنچانے کے لئے علی سدپارہ نے اپنی خدمات پیش کی تھیں ، بعد ازاں علی سدپارہ کے رشتہ داروں نے علی کو فوج کی ملازمت اختیار کرنے کا کہا تھا مگر اس نے اپنے کوہ پیمائی شوق کی وجہ سے انکار کر دیا تھا۔

محمد علی سدپارہ نے اپنے کیریئر کا آغاز سال 2006 میں قراقرم کی 8000 میٹر بلند مشکل چوٹی گیشرم برم k۔ 4 کو کامیابی سے سر کر کے کیا۔ اور پھر پہاڑوں سے محبت کا یہ سلسلہ بڑھتا ہی چلا گیا محمد علی سدپارہ یکے بعد دیگرے پہاڑوں کی بلندیوں پر جا کر ان سے گلے ملتا رہا۔ گولڈن پیک۔ مزدگ عطا۔ گیشربرم 1۔ بورڈ پیک۔ پومیری۔ ہوسٹے۔ ماکالو۔ مانسلو۔ چار بار نانگاپربت اور بالآخر 2018 میں اپنے بیٹے ساجد علی سدپارہ کے ساتھ کے۔ ٹو کی گردن پہ سوار ہو کے پاکستانی پرچم کے ٹو کے سینے میں گاڑ دیا۔ اس طرح علی سدپارہ نے 8000 میٹرز کی سات چوٹیاں سر کر کے پاکستانی کوہ پیمائی کی منفرد تاریخ رقم کر دی۔

پاکستان ،چائنا اور نیپال ان تین ملکوں میں پھیلے ہوئے پہاڑی سلسلے ہمالیہ اور قراقرم میں دنیا کی پہلی دو بلند ترین چوٹیوں ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو کو سر کرنا کوہ پیماؤں کا خواب ہوتا ہے۔ ماؤنٹ ایورسٹ 8848 میٹر یا 29029 فٹ سطح سمندر سے بلند دنیا کی پہلی بلند ترین چوٹی کے بعد کے ٹو کو 8611 میٹرز یا 28251 فٹ دوسری بلند ترین چوٹی کا اعزاز حاصل ہے۔ قراقرم کا یہ پہاڑی سلسلہ گیشرم برم 1۔ 111۔ 1 V۔ V پر مشتمل ہے۔

قراقرم کا سروے پہلی بار ایک برطانوی سروے ٹیم نے سن 1856 میں کیا تھا۔ ٹیم کے ممبر تھامس منٹگمری نے پہاڑ کو کے ٹو قرار دیا تھا کیونکہ وہ قراقرم کی حدود میں دوسری جانب چوٹی تھی ان چوٹیوں کا اصل نام K۔ 1۔ K۔ 3۔ K۔ 4۔ K۔ 5 رکھا گیا۔ K۔ 2 کو سر کرنے کی پہلی کوشش سال 1902 میں سات ممبرز کی ایک ٹیم نے کی تھی جن میں آسکر ایکنسٹن، وکٹر ویسلے وغیرہ شامل تھے۔ موسم کی شدت، دشوار چڑھائی، جدید ساز و سامان کے فقدان کے باعث یہ ٹیم محض 6525 میٹر تک ہی پہنچ پائی تھی۔ دوسری کوشش سال 1909 میں ڈیوک کی سربراہی میں ہوئی یہ کوشش بھی ناکامی پر منتج ہوئی اور پھر 1938 تک کسی نےکے ٹو کی جانب جانے کی جرأت نہیں کی۔

1954 میں اطالوی قراقرم مہم بالآخر 31 جولائی 1954 کو ابروزی اسپر کے راستے کے ٹو پر چڑھتے ہوئے کامیاب ہو گئی۔ اس مہم کی قیادت ارڈیتو ڈیسیو نے کی تھی۔ دو کوہ پیما جو چوٹی پر پہنچے تھے وہ لینو لاسیڈییلی اور اچیل کمپگنونی تھے۔ اس ٹیم میں ایک پاکستانی رکن، کرنل محمد عطاء اللہ شامل تھے۔ جو 1953 میں امریکی مہم کا حصہ رہے تھے۔ اس مہم کے دوران والٹر بونٹی اور پاکستانی ہنزہ کے پورٹر عامر مہدی بھی تھے یہ دونوں اس مہم کی کامیابی کے لئے اہم ثابت ہوئے کہ انہوں نے آکسیجن سلنڈر 8، 100 میٹر ( 26، 600 فٹ) تک لیسیڈییلی اور کمپگونی کے لئے پہنچائے تھے۔

بلاشبہ کے ٹو ماؤنٹ ایورسٹ سے نسبتاً کم بلندی والا پہاڑ ہے مگر دنیا بھر کے کوہ پیما اسے دنیا کا سب سے مشکل پہاڑ تسلیم کرتے ہیں۔ اس مشکل کی وجہ اس کے دشوار گزار راستے اور انتہائی خراب موسم ہے۔ ماؤنٹ ایورسٹ سے اگر اس کا موازنہ کیا جائے تو ماؤنٹ ایورسٹ کو اب تک تقریباً چار ہزار سے زائد کوہ پیما سر کر چکے ہیں۔ ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے والوں کی اوسط شرح % 68.2 ،اور شرح اموات 6.5 فیصد ہے۔ جبکہ کے ٹو کو سر کرنے والوں کی تعداد محض 367 ہے۔ اموات کی اوسط شرح 29 فیصد ہے۔

اس سال 22 لوگوں کی ٹیم نے موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے کا پلان بنایا۔ اپنے پلان کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر ٹیم نے کے ٹو کی جانب سفر کا آغاز کیا۔ یہ لوگ کیمپ C۔ 1 ’C۔ 2‘ C۔ 3 تک پہنچ گئے۔ مگر C۔ 4 تک چار لوگ ہی پہنچ پائے جن میں محمد علی سدپارہ ان کا بیٹا ساجد علی سدپارہ آئس لینڈ کا مشہور کوہ پیما جان سنوری اور چلی کا کوہ پیما جوآن پیبلو موہر پریٹو شامل تھے۔ C۔ 4 پر ساجد علی سدپارہ کو آکسیجن سلنڈر میں خرابی کے باعث واپس لوٹنا پڑا جبکہ بقیہ تینوں کوہ پیماؤں نے آگے کا سفر شروع کیا۔

وہ کے ٹو کے ڈیتھ زون یعنی باٹل نک تک پہنچ گئے۔ بوٹل نک تک پہنچنے کی مصدقہ اطلاعات جان سنوری کے ٹیوٹر اکاؤنٹ سے موصول ہوئیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق علی سدپارا کے ٹو تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ مگر سنوری اور موہر کی رسی باٹل نک سے آگے بڑھنے کی کوشش کے دوران ٹوٹ گئی۔ انہیں ریسکیو کرنے کے لیے علی کو واپس آنا پڑا۔ اور وہ نیچے کی طرف بڑھے۔ اب باٹل نک کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کے ٹو سے نیچے اترنے والے کوہ پیما زیادہ تر حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔

بوٹل نک میں یہ لوگ اکثر فراسٹ بائٹ ،ہایپوکسیا یا پھر آلٹی چیوڈ سکنس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہائپوکسیا (آکسیجن کی کمی) کے ساتھ، نبض تیز ہو جاتی ہے، خون گاڑھا ہو کر جمنے لگتا ہے اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ زیادہ خراب حالت میں کوہ پیماؤں کے پھیپھڑوں میں پانی بھر جاتا ہے اور وہ ہائی ایلٹچیوڈ سیریبل انیڈما (HACE) کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انھیں خون کے ساتھ یا اس کے بغیر کھانسی آنے لگتی ہے اور ان کا نظام تنفس بری طرح متاثر ہوتا ہے۔

ایسی حالت میں بیشتر کوہ پیماؤں کا دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، ان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، انھیں عجیب ہذیانی خیالات آتے ہیں۔ کیونکہ انسانی جسم صرف اکیس ہزار میٹر بلندی پر رہنے کے قابل ہے۔ اس لیے اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں بھی ایسی ہی کسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہو گا۔ کے ٹو کی تاریخ میں صرف ایک نیپالی کوہ پیما ”پمبا گلچی“ ایک ٹیم کو بچانے کے لیے 90 گھنٹے تک بوٹل نک میں رہا تھا۔

بہرحال ان لاپتہ کو پیماؤں کی تلاش کے لیے پاک آرمی اپنی بہترین کوششیں بروئے کار لائی مگر وہ بارآور ثابت نہ ہو سکیں اور بالآخر سرچ آپریشن بند کرنا پڑا۔ گو کہ حکومتی سطح پر اور علی سدپارہ کی فیملی کی جانب سے ان کی موت کا اعلان کر دیا گیا ہے مگر کیا کیا جائے کہ علی سدپارہ کے فینز کسی صورت بھی اپنے ہیرو کی موت تسلیم کرنے پر تیار نہیں اور وہ کریں بھی کیسے کہ خود ان کے بیٹے ساجد نے قبل ازیں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ”ان کے بابا برفانی پہاڑوں میں پناہ گاہ بنا کر زندہ رہنے کا فن بخوبی جانتے ہیں“ ۔

یہی وجہ ہے کہ محمد علی سدپارہ کو برفانی ٹائیگر بھی کہا جاتا ہے۔ بعض فینز انہیں پہاڑوں کا بیٹا بھی کہتے ہیں تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ باپ اپنے بیٹے کی جان لے لے۔ خود علی نے بھی کہا تھا کہ اگر وہ کبھی گم ہو جائے تو فکر مت کرنا وہ پہاڑوں میں گھر بنا کر رہ لے گا۔ آپ کی نظر سے یقیناً وہ ویڈیو بھی گزری ہوگی جس میں علی سدپارہ ایک کیمپ میں آگ کے الاؤ کے پاس قبائلی انداز میں ایک پشتون دھن والے گانے پر رقص کرتے ہوئے انتہائی مسرور نظر آتے ہیں۔

اس کے ساتھ مہم جوئی کرنے والے اس کے کوہ پیما ملکی و غیر ملکی دوست اسے ایک خوش اخلاق ملنسار اور مزاحیہ ساتھی گردانتے ہیں۔ بلاشبہ علی سدپارہ ہمارا قومی ہیرو ہے اور اس کی اس طرح سے گمشدگی ہمارے لئے باعث تشویش ہے۔ مداحوں کی نظروں کے سامنے علی سدپارہ کا گاتا، جھومتا اور رقص کرتا ہوا چہرہ ابھی تک موجود ہے جو ابھی پہاڑوں سے گنگناتا ہوا لوٹ آئے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply