پروفیسر فتح محمد ملک کی کتاب: اسلامی روشن خیالی یا اشتراکی ملائیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پروفیسر فتح محمد ملک صاحب کی تصنیف ”انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان میں“ ترقی پسند سیاست اور ادب سے تعلق اور دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ایک خاص کشش رکھتی ہے۔ کتاب میں پروفیسر فتح محمد ملک صاحب نے انجمن ترقی پسند مصنفین کے قیام کا پس منظر اور زوال تک کے نہ صرف واقعات بیان کیے ہیں بلکہ انہوں نے ان اسباب اور وا قعات پر بھی روشنی ڈالی ہے جن کے تناظر میں انجمن کا ہنگامہ برپا اور زوال پذیر ہوا۔ عالمی سطح پر دنیا کی نظریاتی تقسیم نے جس طرح ادب و شاعری پر اثرات ثبت کیے.

پروفیسر صاحب کی کتاب ”انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان میں“ اسی کا پس منظر، حقائق اور انکشافات بیان کرتی ہے۔ کتاب کا محرک پروفیسر صاحب یہ بتاتے ہیں کہ ’’برطانوی ہند اور آزاد ہندوستان میں ترقی پسندادب پر خوب داد تحقیق دی جا چکی ہے۔ مگر اس موضوع پر اب تک جتنا کچھ لکھا گیا ہے اس کا دائرہ کار بڑی حد تک لندن، لکھنؤ اور دیگر ہندوستانی مراکز تک محدود ہے۔

پاکستانی میں ترقی پسند ادب ان کتابوں کا موضوع نہیں ہے۔ اس لیے قدرتی طور پر ان میں پاکستان کے چند ایک سال کے احوال و مقامات کے سرسری سے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے۔ یہی احساس میری اس کتاب کا محرک ہے ”۔

ادب میں رائج نظریات کی روشنی میں خورشید ندیم صاحب نے بجا لکھا ہے کہ پروفیسر فتح محمد ملک ادب کے اس نظریے سے متعلق ہیں جس کے نزدیک اعلیٰ ادب کے لیے لازم ہے وہ اپنے عہد کی تعمیر سے غیر متعلق نہ ہو۔ ادیب اور شاعر کے ہاں تخلیقی عمل کا ظہور ممکن نہیں، اگر واردات ادب بننے سے پہلے اس کے دل پر نہیں گزرتی، محض الفاظ کے دروبست کا نام ادب نہیں۔ ملک صاحب کا تمام نتقیدی کام ان کے اس نظریے کا بیان ہے۔ اس باب میں ان کے ہاں جو تسلسل اور فکری نظم ہے، وہ حیران کن ہے۔

پاکستان میں پنپنے والا ادب بھی اس عالمی فکری محاذ آرائی کے پس منظر میں پروان چڑھا جس نے دنیا کو سرمایہ دارانہ اور اشتراکی تصوارت و نظریات میں تقسیم کیا۔ ایک طرف مغرب نے سرمایہ دارانہ نظام کا علم اٹھایا تو روس اور بعد میں چین نے اشتراکیت کا نعرہ مستانہ بلند کیا۔ یہی تقسیم سیاسی اور ادبی سطح پر پاکستان میں بھی دیکھنے میں آئی بلکہ پاکستان میں تو ان نظریات کی باہمی کشمکش نے کفر اور اسلام کی جنگ کا درجہ پایا۔

اس حوالے سے انتہا پسندی کا یہ عالم تھا کہ مغرب کی دائیں بازو اور بائیں بازو کی سیاسی اصطلاحات کا تعین بھی قرآن و حدیث کے حوالے سے کیا گیا۔ پاکستان میں ان اصطلاحات کو قرآن کے ”دائیں اور بائیں“ ہاتھ سے متعلق کیا جاتا ہے۔ مغربی دنیا میں بائیں بازو کا فکر تبدیلی، حرکت اور مظلوم طبقات کا حامی متصور ہوتا ہے اور یہ بھی کوئی لازم نہیں کہ بائیں بازو کی جماعت کا مارکسزم یا لینن ازم کے ساتھ واقعی کوئی بنیادی یا براہ راست تعلق ہو۔ اس کے برعکس دائیں بازو کو روایت پسندی اور سرمائے کے غلبے کو برداشت کرنے والا فکر قرار دیا جاتا ہے۔

پروفیسر فتح محمد ملک صاحب بتاتے ہیں کہ انجمن ترقی پسند کا قیام اس سوویت ادیبوں کی اس تنظیم کا تسلسل ہے جسے اسٹالن نے 23 اپریل 1932 میں ”سوویت رائٹرز یونین“ کے نام سے قائم کیا تھا۔ ابتداء میں انجمن مختلف الخیال ادیبوں کا متحدہ محاذ تھا۔

انجمن میں مارکسی ادیب بھی تھے اور مولانا حسرت موہانی کے سے مسلمان اور پریم چند کے سے ہندو ادیب بھی تھے جو انسانی مساوات اور معاشی انصاف کے تصورات کو اپنے اپنے روحانی اصول و اقدار کی روشنی میں عام کرنے میں مصروف تھے۔ اس میں سجاد ظہیر، محمود الظفر اور ان کی اہلیہ رشید جہاں بھی سرگرم عمل تھے جو نہرو کے پرسنل اسٹاف میں رہ چکے تھے۔

بیسویں صدی کی تیسری دہائی کے آغاز میں لندن میں جن ادیبوں اور شاعروں نے انجمن کی بنیاد رکھی تھی، ان میں سجاد ظہیر کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر دین محمد تاثیر اور پروفیسر احمد علی بھی سرگرم عمل رہے تھے۔ سجاد ظہیر اپنی دہریت اور متحدہ ہندوستان کے مکمل حامی ہونے کے باوجود بھارت کی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے پاکستان بھیجے گئے۔ جب کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا تو سیکرٹری جنرل کے عہدے کا حق دار سجاد ظہیر کو بنایا گیا، جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ کلکتہ کانگریس میں ہی یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ مشرقی پاکستان کی کمیونسٹ پارٹی بدستور انڈین بنگال کی کمیونسٹ پارٹی کی نگرانی میں کام کرتی رہے گی جب کہ مغربی پاکستان میں کمیونسٹ پارٹی انڈین کمیونسٹ پارٹی سے اپنی الگ شناخت قائم کرنے میں آزاد ہو گی مگر اس کا سیکرٹری جنرل انڈین ہو گا۔

سجاد ظہیر پاکستان میں اپنے قیام کے دوران زیادہ تر روپوش ہی رہے اور اسی روپوشی کے عالم میں کمیونسٹ پارٹی اور انجمن ترقی پسند مصنفین میں سازشوں کا جال بننے میں مصروف رہے۔ ان سازشوں میں سب سے بڑی سازش پاکستان میں منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی وہ پہلی کوشش ہے جسے ”راولپنڈی سازش 1951“ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اسی حوالے سے پاکستان کے سابق سیکرٹری کابینہ حسن ظہیرنے روسی حکومت کی جانب سے وزیراعظم لیاقت علی خان کے دورۂ روس کی مسلسل بدلتی ہوئی تاریخوں کے اصل محرکات اور عوامل پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ لیاقت علی خان کے دورۂ روس کی تاریخوں میں روس کی جانب سے مسلسل ادل بدل کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ روس کی قیادت پاکستان میں فوجی بغاوت کی امید لگائے بیٹھی تھی۔

اکبر خان اور ان کی بیگم کے کمیونسٹوں سے رابطے ہو چکے تھے۔ راولپنڈی سازش کیس کے پروان چڑھنے اور روسیوں کی دعوت سے جان چھڑانے کے زمانے میں اس قدر یکسانیت ہے کہ ان کارروائیوں میں ربط ضبط کا امکان مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اقبال اور ان کی فکر کے حوالے سے انجمن ترقی پسند مصنفین کے رویوں میں واضح فرق رہا ۔ اول اول تو اقبال انجمن کے نشانے پر رہے اور احمد ندیم قاسمی جیسی شخصیت بھی جنھوں نے تصور پاکستان اور تحریک پاکستان کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا تھا، اس تعصب سے خود کو الگ نہ رکھ سکی۔ کمیونزم کے زیراثر انجمن کا سیکرٹری جنرل ہونے کے باوجود قاسمی صاحب کا نقطۂ نظر تھا کہ ہمیں مولانا عبیداللہ سندھی مرحوم کی زبانی حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی سیاسی بصیرت سے فائدہ اٹھانا چاہیے جو کارل مارکس کی پیدائش سے چھپن برس پیشتر وفات پا چکے تھے۔

بلاشبہ پروفیسر ملک صاحب کی یہ کتاب ترقی پسند ادب اور سیاست کی آگاہی کے باب میں ایک قابل قدر اضافہ ہے اور بھرپور استفادہ کی طالب ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply