پاگل پن اور خود کشی کے بارے میں تھومس زاز کے متنازع نظریات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب ’ہم سب‘ پر ماہر نفسیات آر ڈی لینگ کی تخلیقات اور خدمات کے بارے میں میرا کالم چھپا تو محترمی ساجد علی نے ’جن کا میں تہ دل سے احترام کرتا ہوں‘ مشورہ دیا کہ میں متنازع اور باغی ماہر نفسیات THOMAS SZASZکے بارے میں بھی ایک کالم لکھوں۔ چنانچہ اس کالم کا کریڈٹ ساجد علی صاحب کو جاتا ہے۔

تھومس زاز نے عمر بھر نفسیات کی روایت کو اس قدر چیلنج کیا کہ ان پر ANTI  PSYCHIATRY کا الزام لگا۔ زاز کہتے تھے کہ وہ نفسیات کی غیر انسانی روایت کے نقاد ہیں، دشمن نہیں ہیں۔

زاز کا موقف تھا کہ ماہرین نفسیات کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی انسان کو اس کی مرضی کے بغیر کسی پاگل خانے میں داخل کریں اور پھر اس کا علاج کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے ہسپتال ایک جیل بن جاتا ہے اور ڈاکٹر ایک جیلر۔

تھومس زاز نے اپنی بیک وقت مشہور زمانہ اور بدنام زمانہ کتاب THE MYTH OF MENTAL ILLNESSمیں یہ نظریہ پیش کیا کہ پاگل پن کوئی ذہنی بیماری نہیں ہے۔ جب ہمیں کسی انسان کی عادات و سکنات اچھی نہیں لگتیں تو ریاست ماہرین نفسیات کے ذریعے اسے پاگل قرار دیتی ہے اور اسے جیل بھیجنے کی بجائے ہسپتال میں داخل کر دیتی ہے۔

تھومس زاز 1920 میں ہنگری کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ اٹھارہ برس کی عمر میں امریکہ تشریف لے آئے جہاں انہوں سن سناٹی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور 1944 میں ڈاکٹری کا امتحان پاس کیا۔ زاز نے ڈاکٹر بننے کے بعد تحلیل نفسی کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا اور ایک ماہر نفسیات بن گئے۔
کچھ عرصہ بعد زاز نیویارک چلے آئے جہاں وہ نفسیات کے پروفیسر بن گئے۔

زاز کی شخصیت 1961 میں اس وقت متنازعہ ہوئی جب انہوں نے امریکی ریاست کے قوانین کو چیلنج کرنا شروع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی انسان کو اس کی مرضی کے بغیر کسی نفسیاتی ہسپتال میں داخل کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

زاز نے ذہنی بیماری اور پاگل پن کے تصورات کو چیلنج کیا اور کہا کہ پاگل پن ایک حقیقت نہیں ایک استعارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ ہم ذہنی مرض کو لیبارٹری میں کسی ایکسرے یا خون یا پیشاب کے ٹیسٹ سے ثابت نہیں کر سکتے ، اس لیے وہ حقیقی بیماری نہیں ہے۔

زاز نے کہا کہ مختلف معاشروں میں غیر روایتی زندگی گزارنے والے لوگوں کے بارے میں مختلف قسم کے تعصبات پائے جاتے ہیں اور ذہنی بیماری کا تصور بھی انہی تعصبات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح روایتی لوگ اپنے دلوں میں عورتوں ، کالوں اور یہودیوں کے بارے میں متعصب جذبات رکھتے ہیں اسی طرح وہ ذہنی مریضوں کو بھی عزت اور احترام کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔

زاز کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص قانون شکنی کرتا ہے تو اسے پولیس کے حوالے کیا جاتا ہے ، اسے عدالت میں پیش کیا جاتا ہے اور اگر اس کا جرم ثابت ہو جائے تو اسے جیل بھیجا جاتا ہے لیکن ذہنی مریض ایک ایسا عجیب و غریب مجرم ہے جس کا جرم ثابت کیے بغیر اسے نفسیاتی ہسپتال کے جیل خانے میں غیر معینہ مدت تک قید کر دیا جاتا ہے۔

چونکہ زاز ماہرین نفسیات کو جیلر کہتے تھے اس لیے وہ زاز کے بہت خلاف تھے۔

زاز کہتے تھے کہ ایک جسمانی ڈاکٹر جانتا ہے کہ وہ دل ،گردہ، آنتیں ،لبلبہ اور جگر جیسے جسم کے مختلف اعضاء کی بیماریوں کی لیبارٹری کے ٹیسٹوں سے کیسے تشخیص کرتا ہے اور مرنے کے بعد آٹوپسی (AUTOPSY)سے ثابت کرتا ہے کہ وہ مریض دل یا جگر یا گردے کی بیماری سے مرا ہے۔ لیکن یہ ذہنی بیماری کیسی بیماری ہے جسے مرنے کے بعد دماغ کے کسی ٹیسٹ سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

زاز کا کہنا تھا کہ جس طرح ایک جدید سیکولر ریاست میں مذہب اور سیاست کو علیحدہ کیا گیا ہے ، اسی طرح ہمیں جدید ریاست میں بھی قانون اور نفسیات کو علیحدہ رکھنا چاہیے۔ باقی سب ڈاکٹر مریض کی مرضی کے بغیر نہ انہیں دوا دیتے ہیں اور نہ ہی ان کا آپریشن کرتے ہیں ۔ ماہرین نفسیات وہ واحد ڈاکٹر ہیں جو مریضوں کو پاگل قرار دے کر پہلے پاگل خانے میں داخل کرتے ہیں اور پھر ان کی مرضی کے بغیر انہیں دوائیں بھی دیتے ہیں اور ان کا بجلی کے جھٹکوں (SHOCK TRE) اے ٹی ایم ENTسے علاج بھی کرتے ہیں۔

زاز نے تاریخ کی عدالت میں نفسیات کے شعبے کو چیلنج کیا کہ پچھلی دو صدیوں میں کمیونسٹ اور کیپیٹلسٹ ریاستوں نے حکومت اور روایت سے بغاوت کرنے والے لوگوں کو پاگل قرار دے کر پاگل خانوں میں بند کر دیا۔ انہوں نے ڈاکٹروں اور نرسوں کو ترغیب دی کہ وہ حکومت کے اس ایجنڈے سے بغاوت کریں اور اپنے مریضوں کے حقوق کی پاسبانی کریں۔

زاز اپنی مرضی سے خود کشی کرنے کے بھی حق میں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح ماں باپ اپنی مرضی سے فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ ایک بچہ پیدا کریں گے ، اسی طرح اگر ایک شخص اپنی زندگی سے تنگ آ چکا ہے تو یہ اس کا انسانی حق ہے کہ وہ اس جہان فانی سے کوچ کر جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خود کشی کو گناہ اور جرم سمجھنے والے انسانی حقوق کا احترام نہیں کرتے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زاز انسانی حقوق کے اداروں میں خوش نام اور نفسیات کے اداروں میں بدنام ہوتے گئے۔

ایک متنازعہ اور باغی شخصیت ہونے کے باوجود زاز کو اپنی زندگی میں بہت شہرت ملی اور انہیں بیس سے زیادہ انعامات اور ایوارڈز سے نوازا گیا۔ وہ دھیرے دھیرے نفسیات کی روایت اور ریاست کے حزب اختلاف کے لیڈر بن گئے۔

زاز 2012 میں بہت بیمار اور شدید جسمانی اور ذہنی درد کا شکار ہو گئے۔ انہوں نے 92 برس کی عمر میں 8 ستمبر 2012 کو اپنی جان خود لے لی۔ انہوں نے اپنے اس موقف پر عمل کیا کہ خود کشی کرنا انسان کے بنیادی حقوق میں شامل ہے۔

زاز اس جہان فانی سے کوچ کر گئے لیکن ان کے خیالات اور نظریات کی گونج قانون اور نفسیات کی درسگاہوں میں اب بھی سنائی دیتی ہے اور ان پر نفسیات اور انسانی حقوق کے سیمیناروں اور کانفرنسوں میں زور شور سے بحث ہوتی ہے۔

زاز کی موت کے بعد ان کے نظریات پر ماہرین نفسیات نظرثانی کر رہے ہیں۔

بعض ماہرین ان کا حد سے زیادہ احترام کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے ذہنی مریضوں کے انسانی حقوق کے بارے میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں اور بعض کا خیال ہے کہ انہوں نے بہت سے سادہ لوح نفسیات کے طالب علموں کو گمراہ کیا کیونکہ وہ بیسویں صدی کے آغاز کی پیداوار تھے جب کہ نفسیات کی سائنس نے ابھی اتنی ترقی نہیں کی تھی۔

پچھلی چند دہائیوں میں طب سائنس اور نفسیات نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ اب ہم  دماغ اور ذہن اور نفسیاتی مسائل اور ذہنی بیماریوں کے رشتے کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں ’، ہم ان کی بہتر تشخیص بھی کر سکتے ہیں اور بہتر علاج بھی۔

چونکہ میں زاز کے چند نظریات سے اتفاق کرتا ہوں اور بعض سے اختلاف، اس لیے میں ان پر کالم لکھنے سے کترا رہا تھا لیکن چونکہ اپنے دانشور دوست ساجد علی کو انکار نہ کر سکتا تھا ، اس لیے ان کے کہنے پر یہ بھاری پتھر بھی اٹھا لیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 412 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply