انسانی حقوق اور جیلوں میں پڑی کہانیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان یوں تو لاتعداد مسائل میں گھرا ہے لیکن بعض مسائل اتنے سنگین ہیں کہ سوچنے بیٹھیں تو دل ڈوبنے لگتا ہے۔ افسوس اور دکھ کا مقام یہ بھی ہے کہ من حیث القوم ہمیں ان مسائل کی سنگینی کا احساس بھی نہیں۔ ہمارے ذرائع ابلاغ نے بھی انہیں نظر انداز کر رکھا ہے اور یہ قومی سطح پر بحث مباحثے کا موضوع بھی نہیں۔ ان سنگین مسائل میں سے ایک ہے، جرم ثابت ہوئے بغیر کسی شخص کو آزادی سے محروم کر دینا اور اس کے بنیادی حقوق کو سلب کر لینا۔

خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓ کے عہد خلافت کا ایک مشہور واقعہ ہے، حضرت عمر بن عاصؓ، مصر کے گورنر تھے۔ مصر سے آیا ایک شخص، مدینہ منورہ پہنچا اور حضرت عمر فاروقؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے فریاد کی کہ اے امیر المومنین، میں نے مصر کے حاکم کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کیا۔ میں جیت گیا تو حاکم وقت کے بیٹے نے مجھے کوڑے مارے اور کہا کہ ”میرا تعلق اشرافیہ سے ہے اور بڑے خاندان کا بیٹا ہوں“ ۔ امیر المومنین نے خط لکھ کر گورنر مصر حضرت عمر بن عاصؓ کو بیٹے کے ساتھ مدینہ منورہ طلب کر لیا۔

گورنر مصر فوراً پہنچے اور دربار خلافت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے پوچھا، مصری کدھر ہے؟ حاضر ہو۔ انہوں نے اسے حکم دیا کہ یہ کوڑا پکڑو اور گورنر کے بیٹے کو مارو۔ مصری نے کوڑے لگانے شروع کیے تو حضرت عمر فاروقؓ کہنے لگے۔ اس بڑے خاندان کے بیٹے کو اور مارو۔ سزا دی جا چکی تو امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ نے گورنر مصر حضرت عمر بن عاصؓ کو مخاطب کرتے ہوئے ایک ایسا عظیم جملہ کہا جو آج تک عظمت انسانی کے حوالے سے ایک سنہری اصول کا درجہ رکھتا ہے۔ آپ نے فرمایا

”تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنانا شروع کر دیا ہے جب کہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا“ ۔ حضرت عمر فاروقؓ کا یہ عظیم قول نہ صرف اہل اسلام، بلکہ ساری دنیا میں حقوق انسانی کے حوالے سے ایک اصول کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ آج کی دنیا اپنے آپ کو مہذب اور ترقی یافتہ سمجھتی ہے۔ تہذیب و تمدن یا سائنس میں یہ ترقی بہت اہم ہے لیکن کیا ہم بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے بھی مہذب اور ترقی یافتہ ہو گئے ہیں؟ یہ ایک بہت بڑا موضوع ہے جس پر میں فی الحال بات نہیں کرنا چاہتی۔

حقیقت یہ ہے کہ مغرب بھلے اپنے شہریوں کے حقوق کے حوالے سے حساس ہے لیکن دوسروں کے معاملے میں اس کی حساسیت ختم ہو جاتی ہے۔ اپنے آپ کو قدیم جمہوریت قرار دینے والا امریکہ، اپنے شہریوں کی آزادی کے حوالے سے بہت سخت ضابطے رکھتا ہے۔ کسی کو بلاوجہ گرفتار کرنا اور آزادی سے محروم کرنا وہاں آسان نہیں لیکن دوسری طرف اسی امریکہ نے گوانتا نامو اور ابو غریب جیسے عقوبت خانے بھی بنائے جہاں انسانوں کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ امریکہ ہی کے ایک جیل میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی پڑی ہیں اور کسی کے دل میں اس مظلوم خاتون کے بارے میں ہمدردی کی کوئی رمق نہیں پائی جاتی۔

آج میرا موضوع، خود میرا وطن پاکستان ہے جہاں انسانی حقوق کی پامالی کوئی معنی ہی نہیں رکھتی۔ ہمارا آئین بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں بہت حساس ہے۔ کئی آرٹیکلز ان حقوق کی ضمانت دیتے ہیں۔ پارلیمانی نظام اور اسلامی شقوں کے ساتھ ساتھ بنیادی حقوق کو بھی بنیادی آئینی ڈھانچے کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ ہماری عدالتوں نے بھی ان حقوق کے تحفظ اور احترام کے بارے میں تاریخ ساز فیصلے کیے ہیں۔ یہاں تک کہ مارشل لاء کے زمانے میں بھی عدلیہ نے بنیادی حقوق معطل کرنے کی اجازت نہیں دی۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود کیا واقعی ہمارے ہاں بنیادی شہری حقوق کا احترام کیا جاتا ہے؟

یہ ایک بڑا تلخ سوال ہے۔ آزادی نقل و حمل، آزادی رائے، آزادی اجتماع وغیرہ کو تو جانے دیجیے یہاں کسی شخص کو کسی بھی بہانے آزادی سے محروم کر کے جیل میں ڈال دینا کوئی حیرت کی بات نہیں۔ اس کے لئے کسی وارنٹ گرفتاری کی بھی ضرورت نہیں۔ کوئی با ضابطہ ایف آئی آر کی بھی درکار نہیں۔ وہ بعد میں حسب ضرورت تیار ہوتی رہے گی۔ ایسی سینکڑوں نہیں ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔ ہمارے جیل خانے ایسے قیدیوں سے بھرے پڑے ہیں جو نا کردہ گناہ کی سزا بھگت رہے ہیں۔

تصور کیجئے کہ ایک شخص کو کسی بھی جرم میں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ابھی تک وہ مجرم نہیں، محض ملزم ہے۔ مہینوں پولیس اس کا چالان عدالت میں پیش نہیں کرتی۔ پھر جب عدالتی کارروائی شروع ہوتی ہے تو مہینوں بلکہ برسوں چلتی رہتی ہے۔ ہر پیشی پر ایسے ملزموں کو جیل کی کوٹھریوں سے نکال کر، بھیڑ بکریوں کی طرح ”پریزن وین“ میں ڈالا جاتا اور عدالت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ وہاں جا کرمعلوم ہوتا ہے کہ آج جج صاحب کی طبیعت ناساز ہے۔ سو عدالت نہیں لگے گی۔ یا خبر آتی ہے کہ وکلاء نے ہڑتال کر رکھی ہے۔ یا پتہ چلتا ہے کہ ایک فریق کا وکیل کسی وجہ سے حاضر نہیں ہوا اس لئے ایک دو ماہ بعد کی تاریخ پڑ گئی۔ ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے ملزموں کو ایک بار پھر ہانکتے ہوئے گاڑی میں ڈال کر جیل پہنچا دیا جاتا ہے۔

یہاں آئین موجود ہے۔ آئین کے اندر بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں بڑی خوبصورت شقیں موجود ہیں۔ ایک نظام قانون بھی ہے۔ ایک نظام عدل بھی ہے۔ بڑا جان دار میڈیا بھی ہے۔ انسانی حقوق کے تحفظ کی دعویدار تنظیمیں بھی موجود ہیں۔ وکلاء کی بڑی بڑی تنظیمیں بھی ہیں جو اپنے حقوق کے بارے میں بڑی متحرک رہتی ہیں۔ اس سب کے باوجود کیا کسی کو معلوم ہے کہ ہماری جیلوں میں کتنے ایسے قیدی پڑے ہیں؟ کیا کوئی جانتا ہے کہ انہیں جیل میں پڑے کتنا عرصہ گزر چکا ہے؟

کیا کسی کو معلوم ہے کہ ان کی اپیلیں کب سے کس عدالت میں پڑی ہیں؟ کیا کسی نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اب تک وہ وکیلوں کو کتنی فیس دے چکے ہیں؟ کیا کوئی ایسی سرکاری یا نیم سرکاری یا غیر سرکاری تنظیم موجود ہے جس نے طویل مدت سے جیلوں میں پڑے قیدیوں کے خاندانوں سے رابطہ کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہو کہ ان پر کیا گزر رہی ہے؟ ان کی گزر اوقات کیسے ہو رہی ہے؟ وہ مقدمے کے اخراجات کیسے اٹھا رہے ہیں؟

سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ ایسے قیدیوں کو انصاف کے عمل سے گزرتے سال ہا سال گزر جاتے ہیں اور جب ایک دن سپریم کورٹ حتمی فیصلہ دیتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ شخص مکمل طور پر بے گناہ تھا۔ اس سے کوئی جرم سرزد نہیں ہوا۔ لہٰذا اسے رہا کر دیا جائے۔ وہ رہا تو ہو جاتا ہے لیکن دس، بارہ، یا پندرہ سال کی قید نہ صرف اس کی ذاتی زندگی، بلکہ اس کے پورے خاندان کی زندگی کا حلیہ بگاڑ چکی ہوتی ہے۔ ہمارا آئین اس ضمن میں خاموش ہے کہ ایسے شخص کو ملنے والی ناحق سزا کے ذمہ داروں کا تعین کس طرح کیا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا کیوں کر دی جائے۔

آئین ہی کیا، ہم سب خاموش ہیں اور یہ ظلم اب ہمیں ظلم لگتا ہی نہیں۔ معمول کی کارروائی لگتی ہے۔ کاش کوئی اس طرف بھی توجہ دے اور جاننے کی کوشش کرے کہ ایسے قیدی کیا کیا کہانیاں لئے بیٹھے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ نئی بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply