میری امی کی جگ بیتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن میں ایک بار جب امی سنار کے ہاں کسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اپنی کسی چوڑی کی قربانی دینے گئیں تو میں بھی ان کے ساتھ تھی بلکہ گھر میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے میں اکثر ان کے ساتھ ہی ہوتی تھی۔ جب سنار نے خریدنے بعد چوڑی کو ہلکے سے موڑا تو پتہ نہیں کیوں مجھے بالکل اچھا نہیں لگا لیکن کبھی مجبوری تو کبھی ضرورت اور کبھی کبھی ہماری چھوٹی بڑی خوشیوں کو پورا کرنے کے لیے ایسی قربانیاں ان کی زندگی کا حصہ تھیں۔

ایک بار ایسی ہی کسی ضرورت کو پورا کرنے کے طفیل ہمیں فشنگ گیم کا تحفہ بھی ملا جو گویا اس زمانے میں ایک لگژری کھلونا اور ایک خواب کی مانند تھا۔ اسے واقعتاً ہم نے سال ہا سال برتا بلکہ بڑے ہونے تک وہ ہمارے پاس رہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سونے اور زیورات سے کبھی دلی لگاؤ یا رغبت محسوس نہیں ہوئی اور اس کی اہمیت بڑے ہونے کے بعد بھی ہمیشہ بس فشنگ گیم جتنی یا اس سے کچھ کم ہی رہی۔

اسی طرح ایک بار بچپن میں ہماری خوشی کے لیے غالباً روزہ کشائی کا اہتمام کیا گیا لیکن مہمانوں کو بلاوا دیتے وقت یہ ضرور کہا جاتا کہ ”اتنی ضد کر رہی تھی، نماز پڑھ کے دعائیں مانگی جا رہی تھیں تو سوچا کر دیتے ہیں“ جب دو سے تین بار یہ سننے کو ملا تو ہمیں غصہ آ گیا کہ آخر یہ سب سے کہنے کی کیا ضرورت ہے۔ امی نے جواب دیا مصلحتاً کہنا پڑتا ہے ورنہ سب کی باتیں سننی پڑتی ہیں۔ یہاں میرا اور ان کا ہمیشہ اختلاف یا لڑائی رہی، جتنی چڑ مجھے لوگوں کے خوف سے رہی اتنی ہی یہ فکر لاشعوری طور پہ میرے اندر منتقل ہو کر میرا احاطہ کرتی گئی اور مجھے خود سے اور اس فکر اور خوف سے آگے بڑھنے کے لیے بہت سارے مقامات پر لڑنا پڑا۔

سنا ہے اچھے وقتوں میں جب ابا حیات تھے تو انہیں مختلف ساز بجانے کا شوق تھا، امی کی آواز اچھی تھی۔ وہ کبھی موڈ میں آ کے ستار بجاتے تھے اور امی گایا کرتی تھیں مگر جب سے ہم نے ہوش سنبھالا تو ماں کے روپ میں اپنے پاس ایک فکر مند، پریشان، گھبرائی ہوئی لیکن بہت سے محازوں پہ اپنے بچوں کی خوشیوں کے لیے مضبوطی سے ڈٹی شخصیت کو پایا، وہ کہتی ہیں میں نے کسی مرغی کی طرح اپنے پروں میں پانچوں بچوں کو چھپا کے انہیں پالا ہے اور شاید ٹھیک ہی کہتی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں بیوہ ہو جانا کسی عذاب سے کم نہیں۔ آپ کو اپنے خرچہ پر اچھا پہنے، کھانے اور خوش ہونے کے لیے بھی لوگوں کو Justifications دینا پڑتی ہیں، اب کچھ بدلاؤ آ رہا ہے جو کہ خوش آئند ہے لیکن آج سے چالیس برس پہلے کی دنیا خاصی مختلف تھی۔ ایسے میں زندگی کے مسلسل اتار چڑھاؤ سے ہمارے عجیب سے مشرقی معاشرے میں ایک عام گھریلو عورت کا لوگوں اور حالات سے نبرد آزما ہونا بڑا مشکل تھا۔

مجھے منی بسوں کے سفر سے سخت الجھن ہوتی تھی کبھی بس کے بجائے رکشے کی فرمائش کرتی تو امی اس کا موازنہ کسی کھانے کی چیز سے کر دیتں کہ ارے اتنے میں تو ایک بڑا مکھن آ جائے گا میں چڑ جاتی اب مکھن پہ بیٹھ کے تو جانے سے رہے۔

سب سے مصیبت گھڑیاں مجھے وہ لگا کرتی تھیں جب بچپن میں مجبوراً پیلے رنگ کی چھوٹی والی این 1 یا جی 11 کی بس میں ڈرائیور کے ساتھ آگے بیٹھنا پڑ جاتا، میری دعا ہوتی کے بس اب آگے یہ کسی اور خاتون کو بٹھانے کے لیے ویگن نہ روکے اور ہمارا اسٹاپ آ جائے کیونکہ ڈرائیور کی خواہش ہوتی کہ دو کی جگہ چار بیٹھ جائیں اور سواریاں اس کے گیر تک پہنچ جائیں اس بات پہ ہمیشہ تکرار ہو جاتی۔ اب کبھی میں رات گئے اپنی گاڑی خود چلاتی کینیڈا کی کبھی سنسان کبھی آباد سڑکوں پہ نکلتی ہوں تو منی بسوں کے سارے سفر اور اس میں ان نظروں اور آلودہ ذہنوں سے خود کو سمیٹتی بچاتی خواتین یاد آجاتی ہیں۔ عجیب لگتا ہے کہ ہمارے ہاں اکیسویں صدی میں بھی خواتین کو کیسے کیسے مسائل درپیش ہیں۔

امی نے ابا کے بعد بڑی ہمت کر کے ڈرائیونگ سیکھی، ایک گاڑی بھی لے لی لیکن پھر بیچ دی۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے ان سے شکایت کی کے کاش آپ تھوڑی اور ہمت کر لیتیں، گاڑی نہ بیچتیں تو اتنے سال ہم بسوں کے دھکوں سے بچ جاتے۔ انہوں نے کہا اس وقت اتنی عقل کہاں تھی۔ اور ٹھیک بھی ہے آج بھی گاڑی لے کے خواتین سڑک پہ نکل جائیں تو کئی گاڑیاں یونہی قریب آ جاتی ہیں، کنڈیکٹروں کا بس نہیں چلتا کہ وہ کھڑکی میں جھول جائیں اور موٹر سائیکل والے آنکھیں پھاڑ کر جھانکنا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور تو اور راہگیر بھی جھانک کے ثواب دارین حاصل کرنا نہیں بھولتے اور پھر کہا جاتا ہے عورت اچھی ڈرائیور نہیں ہوتی تو صاحب کبھی عورت بن کے سڑک پہ نکلیں تو پتہ چلے۔

یہ تو آج کی بات ہے ، برسوں پہلے جب فقط اکا دکا ایلیٹ کلاس کی خواتین ڈرائیو کرتی نظر آتی تھی تو ایک متوسط طبقے کی عام سی خاتون کے لیے پیچھے سے شاید کسی تھپکی دینے، حوصلہ بلند کرنے اور کسی ہمت بڑھانے والے کا ہونا بہت ضروری تھا جو کہ موجود نہیں تھا۔

سفر گزر گیا، لیکن اس کی صعوبتوں میں وہ خود کہیں کھو گئیں۔ ہم سے نکلتیں تو چھوٹے بھائی بہنوں کا غم لگا رہتا۔ ان کی شادی کے وقت چھوٹی بہنیں تین اور دو سال کی تھیں۔ امی کی شادی سب سے پہلے ہوئی تو ماں باپ کا وقت اور سپورٹ ان کو اور ان کے بچوں کو بہن بھائیوں کی توجہ کے ساتھ بھرپور ملی۔ اس کو امی نے ہمیشہ قرض جانا حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ماں باپ کی محبت کا قرض آپ کو اگر کسی کو لوٹانا ہوتا ہے تو وہ آپ کی اپنی اولاد ہوتی ہے۔ نانا بہت پہلے گزر گئے اور نانی کے بعد وہ باقی بہن بھائیوں کی سپورٹ بن گئیں یوں مسئلے مسائل اور پیر کا چکر کبھی ختم نہ ہوا۔

اس کے بعد ایک دور عجیب مذہبی رجحان کا بھی آیا جس کی بدولت باقی ماندہ مشغلے اور شوق بھی اندر کہیں جا دبے اور وقت گزر گیا۔ ہم سب پڑھ لکھ لیے۔ اپنے اپنے کیریئر میں ترقی کرتے، شادیوں اور بچوں کے ساتھ اپنا خاندان ترتیب دیتے زندگی میں اپنی جگہ اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ امی کی ذمہ داریاں ختم ہو گئیں۔

2015 میں جب وہ میرے پاس کینیڈا آئیں تو انہوں ے جگ بیتی کا فیسبک پیج بنانے کی فرمائش کی، یوں ہم دونوں نے کچھ وقت ساتھ لکھتے پڑھتے گزارا۔ ہم کئی باتوں کو لکھتے ہوئے بے ساختہ ہنسے، کئی لوگوں کی یادوں کی خوشبو کو ٹٹولا اور میں نے پہلی بار ان کی ذات کے کئی پہلوؤں کو جانا۔ مجھے پتہ چلا کہ خود ساختہ بزرگی کے خول میں لپٹی خاتون کے اندر کبھی ایک زندگی سے بھرپور شوقین مزاج لڑکی بھی پائی جاتی تھی جو کہ اپنا آپ منوانا چاہتی تھی اور زندگی کو بالکل میری طرح کھل کے جینا چاہتی تھی۔

”جگ بیتی“ پھر ان کا خواب ان کا جنوں بن گئی اور مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد آج یہ کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے۔

میں نے امی سے جو سبق سیکھے ان میں شکر گزاری سر فہرست ہے۔ کتابوں اور لکھنے پڑھنے کا شوق بھی ان کا اور ابا کی طرف سے تحفہ اور ورثہ ہے۔ اپنے اصل پہ فخر کرنا، بناوٹ اور تصنع سے بچنا، مثبت سوچنا، ایمانداری اور سوشل ورک اور بہت کچھ مجھے بتائے بغیر اور میرے چاہے بنا میرے اندر منتقل ہو گیا۔

مجھے خوشی ہے کہ جگ بیتی مکمل ہوئی۔ یہ ہماری نسلوں کے لیے ان کا ایک ورثہ ہے۔ امید ہے ان کی زندگی کے اس عکس اور ان کے اطراف بسنے اور ان کی زندگی کے سفر کا حصہ بن کے گزر جانے والوں کی ان کہانیوں سے ہر کسی کو کچھ نہ کچھ سیکھنے کا موقع ضرور ملے گا۔

مجھے خوشی ہے کہ وہ اب اپنے لیے جیتی ہیں۔ کینسر جیسی موذی بیماری سے ڈٹ کے دو دو ہاتھ کر چکی ہیں اور اب کچھ سالوں بعد دوبارہ ہمت اور حوصلے سے مسکراتے ہوئے اس کو شکست دینے کے لیے تیار ہیں۔ ان کی ہمت کو داد نہ دینا زیادتی ہو گی۔

ہماری امی کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں
اللہ تعالیٰ انہیں صحت اور سلامتی والی زندگی عطا فرمائے، آمین۔

ایک درخواست

”جگ بیتی“ ادیب آن لائن کی ایپ پہ پڑھنے کے لیے فری موجود ہے۔ ایک کتاب کو لکھنے، ترتیب دینے، اس کی تزئین و آرائش پر بے انتہا محنت صرف ہوتی ہے، کیونکہ کتاب کے شائع ہو جانے تک اس سے کوئی مالی فائدہ منسلک نہیں ،اس لیے میری درخواست ہے کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ کتاب زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔

کتاب کے لیے ایپ کا لنک یہ ہے:

https://qrco.de/adeebonline

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply