سویٹزرلینڈ کی ایلزبتھ کا ایک پاکستانی مرد کے نام خط
ایلزبتھ اور میں چھ سال کے قریب ساتھ رہے۔ اس نے پشتو سیکھی تھی اور مسلمان ہو گئی تھی، لیکن اس سے بڑھ کر اس کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ انسان دوست تھی، ایک سیال دل کی مالک، جو اکثر اس کی ہلکی نیلی آنکھوں سے بہہ نکلنے کو بیتاب ہوتا تھا۔ سوئٹزرلینڈ کے باشندے جمع تفریق کے ماہر سمجھے جاتے ہیں لیکن ایلزبتھ کو جمع کرنے کی بجائے تقسیم کرنا زیادہ اچھا لگتا تھا، وہ ایک شاندار انسان، خوبصورت عورت اور بہترین دوست تھی۔ برسوں پہلے یوم نسواں پر بھیجا ہوا اس کا ایک خط آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں۔
”مجھے پتہ ہے، مرد ابھی آزاد نہیں ہوا خصوصاً آپ جیسا مرد، جو “خاندانی” ہو، جو “اپنی ذاتی زندگی” کے بارے میں سوچنے کا بھی روادار نہ ہو۔
مرد آزاد ہوں گے یا نہیں، لیکن عورت آزاد ہوگی تو زندگی کی، محبت کی، تعلق کی، رشتوں کی خوشیاں سچی ہوں گی۔ وہ اپنی مرضی سے تیرے گلے میں بانہیں ڈالے گی، تو محبت کا امرت دھارا، روئیں روئیں سے تجھے اپنے وجود میں اترتا ہوا محسوس ہوگا۔ وہ اپنی مرضی سے تجھے چھوڑ ے گی، تو نہ تجھے بے وفائی کا زخم لگے گا نہ دھوکہ ملنے کا درد ہوگا، وہ تیرے پاس واپس آئے گی تو تجھے احساس ہوگا کہ ساری دنیا کے سارے مرد چھوڑ کر تیرے پاس آئی ہے تو تم میں کوئی تو بات ہے۔ تم اس کے ساتھ ساتھ اس کی پسند سے بھی پیار کرنے لگو گے۔ وہ آزاد ہو گی تو تیری پیٹھ پیچھے کسی اور کی بانہوں میں سکون نہیں ڈھونڈے گی، تجھے زہر دے کر مارے گی نہ کسی اور کے ساتھ مل کر تیری لاش غائب کرے گی، وہ آزاد ہوگی تو کسی اور کے ساتھ نہیں بھاگے گی۔
وہ آزاد ہوگی تو تیری شاعری، بے وفائی، ہرجائی پن، ہجر، فراق جیسے الفاظ سے خالی ہو جائے گی، تیرے بنائے ہوئے مجسموں میں حسن، وارفتگی، انبساط اور آسودگی کے رنگ نظر آنے لگیں گے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ عورت آزاد ہو۔
آپ کو پتہ ہے آزادی دینے اور دلانے والا آزادی حاصل کرنے والے کا ہیرو ہوتا ہے۔ کیا آپ عورت کا ہیرو بننا چاہتے ہو؟ ہیرو بننا تو ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے اور تجھے تو ہیرو بننے کی شدید خواہش ہے۔ یہ جب آپ کسی عورت کی حمایت میں دفتر، بس اڈا اور بازار میں بولنے لگتے ہو، یہ ہیرو بننے کی خواہش نہیں تو کیا ہے؟ جب کبھی کوئی نا آسودہ کسی خاتون کو سرراہ چھیڑ لیتا ہے اور تم اس کے ساتھ الجھ پڑتے ہو تو یہ ہیرو بننے کی خواہش نہیں تو کیا ہے؟ جب سڑک کے کنارے کسی پریشان حال خاتون کو پنکچر گاڑی کے ساتھ کھڑی دیکھتے ہو اور اسے مدد کی پیشکش کرتے ہوئے ٹائر تبدیل کرنے لگ جاتے ہو تو یہ ہیرو بننے کی خواہش کے علاوہ کیا ہے؟
اگر تم ہیرو ہو تو یاد رکھنا، ہر ہیرو محبت کرتا ہے اور ولن نفرت اور زبردستی۔ مرضی آپ کی ہے، کہانی آپ کی ہے، کردار آپ کا ہے، ہیرو بننا چاہتے ہو یا ولن۔
آزادی چھیننے والا کبھی کسی غلام کا ہیرو نہیں بن سکتا، آزادی چھیننے والا غاصب اور ظالم کہلایا جاتا ہے، اس کے ساتھ بنایا گیا ہر رشتہ جھوٹ، فریب، دھوکہ، مجبوری، اور چاپلوسی پر مبنی ہوتا ہے۔ وہ، جس کو دھوکا، بے وفائی یا نمک حرامی سمجھتا ہے، وہ دھوکہ دہی نمک حرامی یا بے وفائی نہیں ہوتی، بلکہ اس کے ظلم اور جبر سے آزادی کی کوشش کا اظہار ہوتی ہے۔ ہر غلام کو غلامی سے آزاد ہونے کا حق ہوتا ہے اور غلام کا ہیرو اسے غلامی سے نجات دلانے والا ہوتا ہے۔
لیکن دوسروں کو آزادی دلانے کے لئے اپنی آزادی کا پہلے احساس ہونا چاہیے۔ کیا آپ کو احساس ہے کہ آپ آزاد ہو؟ اگر آپ کو اپنی آزادی کا احساس ہے، تو پھر اس آزادی کو استعمال کر کے اسے بھی آزاد کر دے، اسے بھی جینے کی، آزادی سے رہنے کی، اپنے فیصلے کرنے کی، اس کے فیصلوں کا احترام کرنے اور ان فیصلوں کو حقیقت کا روپ دینے میں ساتھ دینے کی آزادی دے۔ اسے بھی تعلیم دل ادے، اسے بھی جائیداد میں اس کا حصہ دے، اس کی مرضی کا جیون ساتھی منتخب کرنے کا حق دے، اور اس کی مرضی نہ ہو تو اسے کسی کے ساتھ رہنے پر مجبور نہ کریں، ایک دفعہ کی زندگی ہے، آپ نے بھی جانا ہے، اسے بھی جانا ہے، آپ اس کے اعمال کے لئے جوابدہ نہیں، اس نے خود اپنا حساب دینا ہے۔ اگر آپ کو یقین ہے کہ اللہ رحمن اور رحیم ہے تو وہ اس کے لئے بھی ہے، بس آپ رحم کریں۔
آپ اپنی مرضی، اپنی عزت، اپنی ضد، اپنی انا، اپنی جائیداد، اپنی جہالت کی خاطر اسے ماریں نا، اس کا ساتھ دیں۔ باپ بیٹا شوہر اور بھائی بننے کی بجائے اس کا ہیرو بنیں، پھر زندگی کا لطف دیکھیں۔
لیکن تم ڈرتے ہو کہ تمہارے بنائے ہوئے قوانین، ضوابط اور رسم و رواج کی رسی کھل جائے گی، تو وہ تجھے چھوڑ دے گی اور تم اکیلے رہ جاؤ گے، اور اگر وہ ساتھ رہے گی بھی تو اپنے شرائط اور اپنی مرضی سے رہے گی۔ تم ڈرتے ہو کہ وہ تمہیں چیلنج کرے گی، تیری منطق کو وہ رد کرے گی اور پوچھے گی کہ جب تم محبت کرتے ہو تو ہیرو ہوتے ہو لیکن وہ محبت کرتی ہے تو ولن بن کر قتل کیسے ہو جاتی ہے؟
اور ہاں تم عورت کے جسم سے بھی ڈرتے ہو، اس لئے جب وہ کہتی ہے میرا جسم میری مرضی، تو تم کانپ کر اول فول بکنے لگتے ہو، اس پر تھوکنا چاہتے ہو یا اس پر تیزاب پھینک دیتے ہو۔
عورت کا جسم ہے ہی ایسا، کہ مرد کبھی اسے برقعہ پہنا کر چھپاتا ہے اور کبھی خود چادر میں منہ لپیٹ کر اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ نہیں سکتا۔ جب تم محض اس کے جسم کا سامنا نہیں کر سکتا تو اس کو علم اور ہنر دلا کر آزادی دی تو پھر کیا کرو گے؟ پھر تم نے عورت کے وجود کو پورا دیکھا کہاں ہے؟ تمہیں تو اس کے وجود کے بس وہی حصے نظر آتے ہیں جو تمہارے جیسے نہیں ہیں۔ تم نے کبھی سوچا ہے کہ عورت ایک مکمل انسان ہے، جس کے جسم کے اندر ایک دھڑکتا ہوا خواہشات بھرا دل ہوتا ہے، دماغ ہوتا ہے، جو سوچتا ہے، چاہتا ہے، سمجھتا ہے، لیکن تم اس کے آدھے جسم سے نظر ہٹاؤ گے تو پوری عورت نظر آئے گی۔
لیکن جب زندگی کے کھیل کے قوانین اور شرائط تم بناتے ہو، جب ہر قانون اسے ہرانے اور اپنے مفادات کے لیے بناتے ہو، جب میدان بھی تمہارا ہو، تماشائی بھی تمہارے ساتھ ہوں، امپائر بھی تمہارا حامی ہو تو پھر زندگی اسی طرح بے رنگ، یک طرفہ اور بد ذائقہ ہو گی، زندگی کشاکش بھرا میدان ہو گی، بے اعتمادی اور بے اطمینانی بھرا، اور یہ سب نہ بھی ہو تو محبت نہیں ہو گی اور محبت آکسیجن کی طرح زندگی کے لئے اہم ہے۔ محبت اور مجبوری میں میم کے سوا 9کوئی مشابہت نہیں۔

