ناصر کاظمی کا مثالی معاشرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(آج ناصر کاظمی کی برسی ہے)

ناصر جس معاشرے کا حصہ تھے اس کے مسائل، اس کی ترقی اور اس کی بدلتی ہوئی اقدار میں ان کی دلچسپی آخری سانس تک قائم رہی۔ میں ایک جگہ بیان کر چکا ہوں کہ اپنی زندگی کی آخری شام، طبیعت کی بے انتہا خرابی کے باوجود، وہ یہ جاننے کے لیے بے تاب تھے کہ صدر مملکت ذوالفقار علی بھٹو اس شام زرعی اصلاحات میں کن اقدامات کا اعلان کرنے والے تھے۔ اس سے چند روز قبل ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ ”میرا خیال ہے جو غزلیں میں نے کہی ہیں، اپنی دانست میں یہ سوچ کر کہیں کہ وہ زمانے کے تقاضوں کو پورا کریں اور اس میں میرے عصر کی روح ہو۔“ (1)

منیر احمد شیخ نے لکھا ہے: ”ناصر کاظمی کی شاعری میں اس کا عہد سانس لیتا دکھائی دیتا ہے۔ ہجرت سے لے کر سیاسی تموج تک ہر سانحے اور واقعے کی لہریں اس کی شاعری میں موجود ہیں۔“ نمونے کے طور پر ناصر کے متعدد اشعار نقل کرنے کے بعد وہ کہتے ہیں: ”غرض کہ سینکڑوں اشعار اس مضمون کے ہیں، کن کن کا ذکر کیا جائے۔ سیاسی حالات کا مطالعہ وہ باطن کی آنکھ سے چپکے چپکے کرتا رہتا اور ان حالات سے پیدا ہونے والی فضا کا تاثر اپنے اشعار میں سموتا کہ اس کے اظہار کا میدان بھی یہی تھا۔“ (2)

ناصر کا یہ جملہ کہ بانسری کو کس آئیڈیالوجی نے جنم دیا تھا بہت عرصہ موضوع گفتگو رہا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا ناصر نے واقعی ادب میں آئیڈیالوجی کی مخالفت کی تھی اور اگر کی تھی تو اس کی نوعیت کیا تھی؟ مذکورہ بالا ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے جو لفظ لکھا Commitment سمجھ کر لکھا اور پاکستان کی پچیس سالہ تاریخ ان کے کلام میں دھڑکتی ہوئی نظر آئے گی۔ اسی انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ ”شاعری صرف مصرعے لکھنے کا نام نہیں۔ شاعری تو ایک نقطہ نظر ہے زندگی کو دیکھنے کا، چیزوں کو دیکھنے کا، ان کو ایک خاص موزوں طریقے سے بیان کرنے کا۔“

ناصر لکھتے ہیں کہ ”شاعر کی شاعری اور اس کے نظریات کی ملاقات کسی مقام پر تو ہونی چاہیے۔ شاعر اپنے نظریات کو مسلسل تجربات، مشاہدات اور مطالعے کے بعد مرتب کرتا ہے اور شاعری میں انہیں ذائقہ بنا دیتا ہے۔ شاعر کا مطالعہ اور اس کے نظریات خام لوہے کی طرح ہوتے ہیں جو شعر میں دم شمشیر بن کر اپنے جوہر دکھاتا ہے۔“ (3) انہوں نے شاعری کو اس لیے اپنایا کہ انہوں نے زندگی بسر کرنے کے کچھ اصول وضع کیے، ان اصولوں کو جسم دینے کے لیے یہی راستہ بہتر سمجھا۔ (4) تخلیق اور تعمیر کے لیے بغاوت، توڑ پھوڑ اور تخریبی قوتوں سے جنگ کا جذبہ ناصر کے مضامین، مکالموں اور شاعری میں جا بجا نظر آتا ہے۔ کبھی کبھی تو ایسے مقامات بھی آتے ہیں جب وہ زندگی کو سنوارنے کے لیے اپنے افکار کے اظہار کو کافی نہیں سمجھتے اور عملی طور پر کچھ کرنے کے لیے بے تاب نظر آتے ہیں :

یہ بھی آرائش ہستی کا تقاضا تھا کہ ہم
حلقہ فکر سے میدان عمل میں آئے

”برگ نے“ میں ناصر ”مصروف خدا“ سے اپنی دنیا کو دیکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں جس میں اتنی خلقت کے ہوتے ہوئے بھی شہروں میں سناٹا ہے اور جھونپڑی والوں کی تقدیر بجھا بجھا سا ایک دیا ہے۔ ”دیوان“ میں وہ لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر بدل سکو تو باغبان کو بدل دو ورنہ یہ باغ سایہ سرو سمن کو ترسے گا۔ وہ دل کی بات سنانے کے لیے سر مقتل بھی صدا دیتے ہیں۔ چنانچہ نتیجہ تو یہی نکلتا ہے کہ ناصر کے کچھ اصول اور نظریات تھے جن کے ساتھ ان کی Commitment بھی تھی۔ جہاں تک ”آئیڈیالوجی اور بانسری“ والے فقرے یا اس طرح کی کسی اور بات کا تعلق ہے تو میرے خیال میں اس کا پس منظر یہ تھا کہ آئیڈیالوجی کا لفظ بالعموم سیاسی اور معاشی، بالخصوص مارکسی نظریات کے حوالے سے سمجھا اور استعمال کیا جاتا تھا/ ہے۔ ڈکشنریوں کے مطابق آئیڈیالوجی سے مراد کسی گروہ، طبقے یا فرد سے وابستہ خیالات و عقائد کا نظام یا انداز فکر بھی ہے۔

1969 میں حلقہ ارباب ذوق کے خطبہ صدارت (5) میں ناصر نے حلقے اور ترقی پسند تحریک کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ان سے ان کے آئیڈیالوجی سے متعلق نقطہ نظر کو سمجھنے میں بہت مدد ملتی ہے۔ ناصر ادب کا دائرہ کار محدود کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ ان کے نزدیک اگر ادب کو کسی ضابطے کا پابند کر دیا جائے تو تخلیق اور ایجاد کے امکانات کم اور بعض اوقات بالکل ختم ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے ایک جگہ کہا تھا کہ وہ فطرت کے نمائندے ہیں اور جو کچھ دیکھتے، سنتے اور محسوس کرتے ہیں ماضی، حال اور مستقبل کی قید سے باہر نکل کر بیان کرتے ہیں۔ (6) انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ”شاعر جو ہے وہ ساری انسانیت کے بارے میں سوچتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ جب اوروں کا بھلا ہوگا تو اس کا اپنا بھلا خود بخود ہوگا۔“ ”دیوان“ میں ایک شعر بھی اس مضمون کا ہے :

ہے یہی عین وفا دل نہ کسی کا دکھا
اپنے بھلے کے لیے سب کا بھلا چاہیے

اور یہی ناصر کے آئیڈیل معاشرے کا بنیادی تصور ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں لوگ دوسروں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ بھلائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں، محض کار ثواب کے طور پر نہیں بلکہ اس ادراک کے نتیجے میں کہ لوگوں کا بھلا ہونے سے معاشرہ بہتر ہو جاتا ہے جس کا فیض اس فرد کو بھی پہنچتا ہے جس نے دوسروں کا بے غرض بھلا کیا ہوتا ہے۔ معاشرہ پانی کے کنویں کی طرح ہوتا ہے جس کو صاف اور محفوظ رکھنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے کیونکہ وہ خود بھی اس سے پانی حاصل کرتا ہے۔ اس کے برعکس برائی کرنے والوں کو یہ شعور نہیں ہوتا کہ ان کے برے کاموں کا شکار بالآخر خود انہیں اور ان کے خاندان کو بھی ہونا پڑے گا۔ ہمیں ناصر کے آئیڈیل معاشرے کی ایک اہم خصوصیت ان کے مذکورہ بالا ٹی وی انٹرویو میں بھی ملتی ہے جہاں وہ اس چھوٹے سے شہر کو یاد کرتے ہیں جس میں وہ ہجرت سے پہلے رہتے تھے۔ وہاں ”سب لوگ، امیر، غریب بڑے سکھ اور امن سے رہتے تھے اور جو بظاہر غریب ننھے منے لوگ تھے، ان کی عزت بھی اتنی ہی تھی جتنی کہ بڑے لوگوں کی بلکہ شاید ان سے بھی زیادہ۔“

ناصر کے مذکورہ بالا خطبہ صدارت میں عزم اور امید کی وہ جھلک نظر نہیں آتی جو ان کے کلام اور گفتگو میں، پچاس کی دہائی میں دکھائی دیتی تھی۔ اس کے برعکس ان کا لہجہ تلخ ہے اور وہ عام لوگوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کے بتدریج بڑھتے ہوئے رجحان اور اس کے نتیجے میں وسائل کے چند ہاتھوں میں مرتکز ہو جانے کے خلاف احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ قیام پاکستان کے وقت ایک بے سروسامانی کا عالم تھا لیکن اس وقت اصل چیز ساز و سامان نہیں تھی بلکہ آزاد ہو جانے کا احساس تھا۔ اس احساس سے کچھ خواب وابستہ تھے جو قوم کی آنکھوں میں بھی تھے اور ادیب کی آنکھوں میں بھی۔ مگر زمانہ بدلتا گیا۔ بہت سوں نے اپنے خوابوں کی تعبیر الاٹمنٹوں میں، اونچے عہدوں میں دیکھ لی۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ خوابوں کا یہ چشمہ خشک ہوتا گیا۔ ناصر شکوہ کناں ہیں کہ ”اوپر والے“ چند لوگ ملک سے متعلق کسی بھی فیصلے میں عام لوگوں کو شریک نہیں کرتے۔ اہل وسائل نے وسائل اپنے قبضے میں کر لیے اور مسائل ہمارے کھاتے میں ڈال دیے۔ چنانچہ معاشرے میں ”مسائل اور وسائل کی جنگ“ چھڑ چکی ہے۔

’دیوان‘ کی غزلوں میں یہ تلخی نمایاں طور پر محسوس کی جا سکتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس معاشرے کا تصور بھی واضح ہوتا گیا ہے جسے وہ اپنے خوابوں کی جنت کہتے ہیں۔ ناصر کے اشعار، مضامین اور مکالمے دیکھ کر دھیان سوشلسٹ، کمیونسٹ اور مغرب کی جمہوری فلاحی ریاستوں کی طرف جاتا ہے لیکن اقبال کی طرح ناصر کے لیے بھی تحریک کا سب سے بڑا منبع قرآن حکیم تھا۔ وہ اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ جس نے قرآن نہیں پڑھا، وہ حکمت، عبرت، حیرت کی منازل سے محروم رہا اور وہ ہرگز ہرگز اچھا شاعر نہیں ہو سکتا۔ (7) ان کے آخری انٹرویو میں جب ان سے کوئی غزل سنانے کی فرمائش کی گئی تو انہوں نے اپنی کسی مقبول عام یا تازہ غزل کی بجائے ”غور سے سن“ ردیف والی غزل کا انتخاب کیا اور کہا کہ ”یہ غزل، اس میں تھوڑی سی خطابت ہے مگر یہ ہے کہ بعض وجوہ سے مجھے پسند ہے کہ طلوع و غروب کے مناظر ہیں، حیرت و عبرت کہ دنیا میں کیا ہوتا ہے، کس طرح چیزیں ڈوبتی ابھرتی ہیں، کس طرح صبح شامیں ہوتی ہیں اور کچھ قرآن کریم پڑھنے والوں کے لیے۔“ (8) ایک اور جگہ ناصر نے لکھا ہے کہ وہ قرآن کو ادب سمجھ کر پڑھتے تھے۔ (9)

اپنی نظم ”اے ارض وطن“ میں ناصر پاکستان کو اپنے اور اپنے آبا کے خوابوں کی ایسی جنت کے طور پر دیکھتے ہیں جو ان کی کشتی کا ساحل، ان کی کھیتی کا حاصل، مزدوروں کی محنت، مجبوروں کی طاقت، گیتوں کا سندر بن، ماہی گیروں کی جنت، جزیروں کی ٹھنڈی رات، اندھیری راتوں کا چاند، برساتوں کا جگنو، غربت کا سرمایہ اور ہمت کا پرچم ہو۔

”برگ نے“ اور ”دیوان“ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ ناصر کا آئیڈیل معاشرہ وہ ہے جہاں عدل ہو اور ہوائے ظلم کا گزر نہ ہو، جہاں راستے سنسان اور بے چراغ نہ ہوں، لوگ رات کو بھی گھروں میں اور گھر سے باہر اپنے آپ کو محفوظ سمجھیں، گھروں کی دیواروں سے اداسی نہ ٹپکتی ہو، جھونپڑی والوں کی تقدیر بجھا بجھا سا دیا نہ ہو بلکہ کؤی اتنا غریب نہ ہو کہ اس کے خواب کڑوے ہوں، چند گھرانوں نے مل جل کر اکثریت کا حق نہ چھینا ہو، باہر کی مٹی کے بدلے گھر کا سونا نہ بیچا جاتا ہو، میر کارواں کارواں سے دور نہ ہو، نکہت اہل ہنر رائیگاں نہ جاتی ہو، شہر سہمے ہوئے ہونے کی بجائے چہکتے بولتے ہوں، جاہلوں کی بجائے اہل علم کی کھیتی پھلتی پھولتی ہو، جنہیں سلیقہ شعور ہو انہیں بے زری نہ بچھا دے اور جو سینہ ¿ خاک پر گراں ہوں وہ معتبر نہ بن بیٹھیں، محلات شاہی نہ ہوں، ناز کجکلاہی مٹ چکا ہو، خاک نشیں سر اٹھا کے چلتے ہوں، حسن انتظام ہو، انصاف کا دن اور اہل وفا کا دور ہو۔ اس معاشرے کے مثالی افراد روشنی دکھانے، دوستی نبھانے، عمارتیں بنانے اور زمین کا بوجھ اٹھانے والے ہوں۔

٭٭٭ ٭٭٭
حوالہ جات:

1 ناصر کاظمی (1976ء) ”ٹی وی انٹرویو“ ، مشمولہ ہجر کی رات کا ستارہ۔ مرتبہ احمد مشتاق۔ نیا ادارہ، لاہور
2 منیر احمد شیخ (1976ء) ”چراغوں کا دھواں“ ، مشمولہ ہجر کی رات کا ستارہ۔
3 ناصر کاظمی (1982ء) ”شہری فرہاد“ مشمولہ خشک چشمے کے کنارے، مکتبۂ خیال، لاہور۔
4 ناصر کاظمی (1982ء) ”میں کیوں لکھتا ہوں“ مشمولہ خشک چشمے کے کنارے۔
5 ناصر کاظمی (1982ء) ”خطبہ صدارت، حلقہ ارباب ذوق“ ، مشمولہ خشک چشمے کے کنارے۔
6 ناصر کاظمی (1995ء) ”ناصر کاظمی کی ڈائری“ ، مکتبۂ خیال، لاہور، صفحہ 65۔
7 ناصر کاظمی (1995ء) ”ناصر کاظمی کی ڈائری“ صفحہ 125۔
8 ناصر کاظمی (1976ء) ”ٹی وی انٹرویو“ مشمولہ ہجر کی رات کا ستارہ۔
9 ناصر کاظمی (1990ء) ”میرا ہم عصر“ ، مشمولہ خشک چشمے کے کنارے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply