عائشہ کا اپنے خدا سے شکوہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شکوہ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جس میں بندہ بے خودی کی سی حالت کا شکار ہو جاتا ہے اور شکوہ کا مخاطب کوئی چھوٹی موٹی ہستی نہیں ہوتی بلکہ یہ شکوہ و شکایت کسی سر چشمہ طاقت ہستی کے حضور کھلے لفظوں میں پیش کیا جاتا ہے ۔

شاعر مشرق نے بھی ایک شکوہ بارگاہ ایزدی میں پیش کیا تھا پھر کچھ زمینی خداؤں کے ہاتھوں مجبور ہو کر جواب شکوہ لکھنا پڑا، کیونکہ شکوہ کی زبان بڑے بڑے سوالات پر مشتمل ہوتی ہے اور یہ اس وقت معرض وجود میں آتی ہے جب انسان کوشش کرتے کرتے تھک جاتا ہے اور بے بسی میں نظم مراتب سے ماوراء ہو کر بے خودی میں کچھ ایسے جملے بول جاتا ہے جو سننے والوں کو توہین آمیز لگتے ہیں۔

گزشتہ دنوں عائشہ بھی ایک شکوہ خدا کی عدالت میں پیش کر کے ایک ندی میں کود گئی اور موت کو بخوشی گلے لگا لیا تاکہ اپنے سوالوں کا جواب براہ راست قادر مطلق سے جان سکے۔ عائشہ کا تعلق گجرات کے ایک شہر احمد آباد سے تھا، خودکشی کی وجہ بظاہر جہیز بتائی جاتی ہے لیکن اس واقعہ کے پیچھے بہت سے سماجی فیکٹر بھی ہیں جن سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا، ایشیائی چلن میں عورت کو ویسے بھی آدھا انسان تصور کیا جاتا ہے اور ناقص العقل سمجھا جانے کی وجہ سے اس کی زندگی کے اکثر فیصلے مردوں کے ہاتھوں طے ہوتے ہیں، ایسے فرد کی زندگی کی حقیقت کیا رخ اختیار کرے گی جو اپنی زندگی کے اہم فیصلے بھی خود نہ لے سکے اور دوسروں کی خیرات میں دی گئی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو۔

بدقسمتی سے ہمارے سماجی بندوبست میں بیٹیوں کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو بیٹوں کو دی جاتی ہے، بیٹوں کے لیے والدین ہزاروں جتن کرتے ہیں تاکہ وہ ایک اہم سماجی منصب تک پہنچ سکیں مگر بیٹیوں کو پرایا دھن سمجھتے ہوئے والدین مسلسل اگنور کرتے رہتے ہیں حتٰی کہ بچیوں کو اپنے حق کی خاطر آواز بلند کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی جبکہ بیٹے اپنے والدین کی پگڑی اچھال کر بھی اپنا حق لینے سے باز نہیں آتے، عائشہ نے خودکشی کرنے سے پہلے ایک ویڈیو اپ لوڈ کی اور سماج کے اوپر پڑے ہوئے منافقت کے نقاب کے چیتھڑے اڑا دیے مگر اس حقیقت کو سماج کے روبرو کرنے کے لیے اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا، اس نے سماج کے سامنے بار بار سسکنے کی بجائے خود کو خود ہی موت کے حوالے کر دیا اور اپنے خدا سے شکوہ شکایت کرتے کرتے ندی میں کود گئی اور خود کو اس امید کے ساتھ لہروں کے سپرد کر دیا کہ شاید یہ لہریں اس کو وہ سکون لوٹا سکیں جو زمینی خداؤں نے اس سے چھین لیا تھا۔

یہ سماج اتنا ظالم کیوں ہے؟ یہ بیٹوں کو تو زندگی میں ہزاروں چوائسز کا آپشن دیتا ہے مگر بیٹیوں کو محض گھر کی عزت ٹھہرا کر اسے کئی بندشوں کا قیدی بنا دیتا ہے، شادی سے پہلے ماں باپ کی عزت کا خیال اور شادی کے بعد خاوند کی عزت کا محافظ بنا دیا جاتا ہے۔ اس عزت و عصمت کے سرکل کی قیدی ہزاروں عائشہ نجانے کب سے اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر اس عزت کلچر کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ بیٹوں کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے ماں باپ دن رات ایک کر دیتے ہیں مگر بیٹیوں کو جہیز پر ٹرخا کر اس کی مرضی معلوم کیے بغیر اگلے گھر روانہ کر دیا جاتا ہے اور آفرین ہے بیٹیوں پر جو سرتسلیم خم کر کے اپنی اگلی زندگی چاہے جیسی بھی ہو صرف ماں باپ کی خاطر سمجھوتہ کر لیتی ہیں، نجانے کتنی بچیاں بے جوڑ رشتوں کی نذر ہو کر ساری عمر سسکتی رہتی ہیں۔

کیا بیٹے سے اس قسم کی توقع رکھی جا سکتی ہے؟ مگر بیٹی اس سے والدین کو کیا لینا دینا۔ بھگتے اپنی قسمت کو۔ یہی کچھ عائشہ کے ساتھ ہوا ، اس کے والدین نے اپنے پرائے دھن کو عارف نامی شخص کو سونپ دیا مگر وہی ہوا جو اکثر ہمارے سماج میں ہوتا رہتا ہے، عائشہ نے تو اپنی محبت اس پر نچھاور کر دی مگر اسے کوئی صلہ نہ ملا ، آپ اس کے ویڈیو پیغام سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کتنے کرب کے ساتھ اپنے دکھوں کا اظہار کر رہی تھی، اسے اپنے زخم معاشرے کو دکھانے کے لیے مناسب الفاظ نہیں مل رہے تھے ، اس نے جاتے جاتے اپنی موت کی ذمہ داری بھی اپنے کھاتے میں ڈال کر معاشرے اور معاشرتی پنڈتوں کو مکت کر دیا ۔ اس کا پیغام کچھ یوں تھا:

” میرا نام عائشہ ہے اور آج جو میں کرنے لگی ہوں وہ بغیر کسی دباؤ کے صرف اپنی مرضی سے کرنے جا رہی ہوں، بس میں کیا کہوں یہ سمجھ لیجیے کہ خدا کی دی ہوئی زندگی بس اتنی سی ہوتی ہے اور مجھے اتنی سی زندگی بھی بہت سکون والی ملی۔ ڈئیر ڈیڈ آپ کب تک اپنوں سے لڑو گے،  خدارا بس کر دیجیے عائشہ لڑائیوں کے لیے نہیں بنی۔ میں تو عارف سے پیار کرتی ہوں ، اسے پریشان تھوڑا کروں گی ، اسے مجھ سے آزادی چاہیے ، میں آج اسے آزادی دیتی ہوں ، اپنی زندگی تو بس یہیں تک تھی۔

میں خوش ہوں کیونکہ میں اللہ سے ملوں گی اور اس سے سوال کروں گی کہ مجھ سے غلطی کہاں ہوئی۔ میں خوش ہوں سکون سے جانا چاہتی ہوں ، خدا سے دعا کرنا چاہتی ہوں کہ اب کبھی دوبارہ انسانوں کی شکل نہ دکھائے۔ ایک چیز ضرور سیکھی ہے کہ محبت دو طرفہ ہونی چاہیے ، ایک طرفہ میں کچھ حاصل نہیں ہوتا، چلو کچھ محبت نکاح کے بعد بھی ادھوری رہتی ہے۔ میرے مرنے کے بعد پلیز زیادہ بکھیڑا مت کرنا، میں ہواؤں کی طرح ہوا میں بہنا چاہتی ہوں اور بہتے رہنا چاہتی ہوں اور مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا۔“

ایک ایک جملہ جھنجھوڑ دینے والا ہے اور ہر جملہ ظلم و جبر کی ہزاروں داستانیں خود میں سموئے ہوئے ہے، ایسا ظلم جو اس نے زندگی کی صرف تئیس بہاروں میں جھیل لیا اور آخر لڑتے لڑتے ہار گئی، نہ صرف ہار گئی بلکہ انسانوں پر سے اس کا اعتماد بھی اٹھ گیا اور دنیا کو الوداع کرتے ہوئے اپنے خدا سے التجا کر گئی کہ اب کبھی مجھے انسانوں کی شکل مت دکھانا۔

عائشہ نے اپنے سوالوں کا جواب پانے کے لیے موت کو گلے لگا کر خدا کے رو برو ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ انسانوں سے مایوس عائشہ اپنے قادر مطلق سے یہ جاننا چاہتی ہے کہ آخر اس کا قصور کیا تھا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply