عائشہ کی خودکشی سے ہم کچھ سیکھیں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جہیز ایک ایسی لعنت ہے جس نے نہ جانے اب تک کتنی ہی حوا کی بیٹیوں کو موت کی آغوش میں سلا دیا ہے۔ یہ ایک ایسا ناسور ہے جو رفتہ رفتہ ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ اس لعنت کی وجہ سے نہ جانے کتنی ہی ایسی بیٹیاں ہے جو اپنے گھروں میں بیٹھی ہیں۔

حال ہی میں ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کے علاقے احمد آباد کی 23 سالہ عائشہ نامی لڑکی کی خودکشی سے پہلے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی دیکھی گئی۔ ظلم سے دل برداشتہ اور غم میں ڈوبی عائشہ کی آواز بتا رہی تھی کہ وہ واقعی حالات سے تنگ آ چکی ہے ، اس کی اپنے والدین سے ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں اس کا اپنے والدین کے لئے محبت اور پیار کا عنصر بھی تھا مگر عائشہ کا درد اور دکھ شاید والدین کی محبت پر حاوی ہو چکا تھا۔

عائشہ شادی کے بندھن میں بندھنے کے بعد اپنے سسرال میں جہیز کی کمی کے طعنے سہتی آ رہی تھی ، وہ اپنے والدین کے گھر سے نکل کر ایک پرائے گھر میں دلہن بن کر پہنچی تو اپنے خاوند سے محبت کر بیٹھی مگر اس کے خاوند سے لے کر اس کے ساس سسر نے جہیز میں کمی کے طعنوں سے اس کا جینا محال کر دیا تھا۔ اس کی اذیت کا یہ عالم تھا کہ اس نے ویڈیو بناتے ہوئے کہا کہ خدا سے دعا ہے کہ دوبارہ کبھی انسانوں کی شکل نہ دیکھوں۔ ان الفاظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس کرب سے گزر رہی تھی۔

عائشہ کے اندر ایک طرف تو والدین کی محبت تھی تو دوسری جانب خاوند سے بے پناہ محبت ۔ یہی وہ جذبہ تھا جو اسے روزانہ ملنے والی اذیت سے بچا لیتا تھا ، رشتوں کے بندھن میں الجھی ہوئی عائشہ کے اندر طوفان تب برپا ہوا جب اس کے خاوند نے اسے ذلیل و خوار کرتے ہوئے دھکے دے کر میکے بھیج دیا،  عائشہ ٹوٹ چکی تھی۔ والدین کی کوششیں بھی جب رنگ نہ لائیں تو اسے اندازہ ہو گیا کہ اس کا جیون ساتھی اب اس کے پاس دوبارہ نہیں آئے گا ۔

اپنے والدین سے فون پر آخری بار بات کرتے ہوئے عائشہ نے اپنے والد سے اس کا اظہار بھی کیا کہ ”وہ اب میری زندگی میں دوبارہ نہیں آئے گا اس نے مجھے کہا ہے کہ خودکشی کرنے جا رہی ہو تو ثبوت کے طور پر ویڈیو بنا کر سینڈ کر دینا“ پاپا میں نے ویڈیو ریکارڈ کر کے اسے بھیج دی ہے اور اب میں سابرمتی ندی کی لہروں کی نذر ہو رہی ہوں۔ باپ نے کہا، عائشہ ہم نے تمہارا نام نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیوی اور امت کی ماں کے نام پر عائشہ رکھا ہے ، کتنا مبارک نام ہے تیرا ، اس نام کی لاج رکھ لے ۔ عائشہ نے کہا مبارک تقدیر لے کر نہیں آئی ہوں ۔ باپ نے دھمکی دی کہ تو ایسا کرے گی تو میں بھی گھر پہ سب کو مار کر خودکشی کر لوں گا۔ عائشہ اب ڈر گئی تھی اور باپ کے کہنے پر واپس گھر آنے کے لیے راضی ہو چکی تھی مگر اس کا درد اب سب چیزوں سے اٹھ چکا تھا۔

عارف کے گھر شادی کے بعد دو ماہ گزارنے والی عائشہ ٹوٹ چکی تھی ۔ والدین کے ساتھ آخری ٹیلی فونک گفتگو کے بعد اس نے ندی میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی، بھارتی ریاست گجرات پولیس نے اس کے خاوند عارف کو گرفتار تو کر لیا ہے مگر افسوس قانون تب حرکت میں آیا جب ایک لڑکی اس دنیا سے جا چکی تھی۔

عائشہ کی کہانی ہم سب کی کہانی ہے ، یہ کہانی ہندوستان اور پاکستان کے زیادہ تر گھروں کی کہانی ہے ، یہ ایسی خطرناک کہانی ہے کہ جس سے اب تک ماضی اور حال دونوں میں کئی کہانیاں جنم لے چکی ہیں۔

عائشہ کی کہانی ہر گھر تک پہنچی مگر ایسی کئی عائشہ ہیں جن کی تکلیف اور دکھ کو ہمیں سمجھنا ہو گا ، گھروں میں بہو بیٹیوں کو ایسا ماحول دینا ہو گا جس سے اس قسم کی کہانیاں جنم نہ لیں ، معاشرے میں سدھار لانا ہو گا ، ہمارا کون سا ایسا گھر ہے جہاں بیٹی نہ ہو بہن نہ ہو ، اس لئے جہیز کی مانگ سے لے کر بہو بیٹیوں کے ساتھ سسرال میں استحصالی رویوں کو بند کرنا ہو گا۔ ہمارے معاشروں کے اندر سے اس گندی ریتی رواج کو یقیناً اب ختم کر دینا ہو گا جس سے ایک لڑکی خودکشی جیسا قدم اٹھا لے والدین کو اپنے بچوں میں جہیز جیسی لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تعلیم اور درس کو عام کرنا چاہیے ، عدالتوں کے ناخن لیتے ہوئے جو معاملات رپورٹ ہو چکے ہوں ،ان پر پوری قانونی کارروائی کرتے ہوئے گھروں کو ٹوٹنے اور ان میں انصاف کرنے جیسے پہلوؤں پر کام کرنا چاہیے۔ خود کشی یقیناً ہمارے مذہب میں حرام ہے مگر اس حرام کام کی روک تھام ہو سکتی ہے ، اگر معاشرہ چاہے تو کوئی اور عائشہ یوں موت کو گلے سے نہیں لگائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply