عورت تشدد سہ کر اور پاؤں پکڑ کر سہاگن رہنے پر تیار نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہا جاتا ہے کہ بہت زیادہ امیر اور بہت زیادہ غریب انسان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ بالکل اسی طرح بہت مجبور انسان بھی کسی ریت رواج مذہب یا اخلاقیات کا پابند نہیں رہتا۔ اس کی مجبوری جب مصیبت بننے لگتی ہے تو پھر وہ کسی بھی قیمت پر اس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تاریخ کے پنوں پر دیکھیں تو مختلف وقتوں میں مختلف تحریکیں چلتی رہیں جن میں بہت سے ازم بھی پیدا ہوئے۔ تاریخ نے اپنے کینوس پر ظلم و ستم کی تصویروں کو آئل کلرز سے ایسے مضبوط نقوش دیے کہ نہ ان کے رنگ پھیکے پڑے اور نہ ہی سماج سے ظلم ختم ہوا۔

پھر زمانے نے کروٹ لی اور لوگ اپنے حقوق کی جنگ لڑنے لگے۔ کہیں کمیونزم کہیں مارکسزم کہیں سوشلزم کہیں فاشزم وغیرہ پیدا ہوئے۔ کسی حد تک سماج سے ظلم و زیادتی بالآخر واٹر کلرز کے پانیوں کی وارفتگی کی طرح اترتا چلا گیا۔ مگر اس سب میں ہوا یہ کہ سب انسان جن میں مرد اور عورتیں بھی شامل تھیں ان کے نقوش گڈ مڈ ہو گئے۔ کسی کی آنکھیں کسی اور کی ناک کے اوپر لگ گئیں۔ کسی کے ہونٹ کسی اور کے دہن پر چسپاں کر دیے گئے۔

کسی کی زبانیں کاٹ دی گئیں اور کسی کے ہونٹ پکے دھاگوں سے سی دیے گئے۔ نفرتوں کی پچکاریاں لوگوں کے من بھگونے لگیں۔ سب خوش شکل بد شکلوں میں ڈھل گئے۔ لیکن وقت تھما نہیں، رکا نہیں بس چلتا ہی گیا۔ سماج کی ایک مکروہ سی شکل دنیا کے سٹیج پر ناٹک کرنے لگی۔ پیٹ کے ایندھن کو بجھانے کے لیے لوگ دوسروں کو ایندھن بنانے لگے۔ غریب کو ہمیشہ محکوم رکھا گیا۔ مفلسوں کے حقوق غصب کیے گئے اور سماج میں صنفی تفریق زور پکڑتی گئی۔

صنف کا تعلق ان سماجی تعلقات سے ہے جو مردوں عورتوں بچوں اور بچیوں کے مابین اخلاق قدروں نے متعین کیے ہیں۔ مرد و عورت دونوں یکساں طور پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بعض معاشروں میں یہ سماجی تعلقات زیادہ مضبوط ہوتے ہیں جہاں زندگی کے ہر شعبے میں بلا تفریق سب کو یکساں مواقع ملتے ہیں۔ جب کہ کچھ معاشروں میں برابری کی سہولتیں مہیا نہیں ہوتیں۔ مارچ وہ خوب صورت مہینہ ہے جس میں بہار ہر باغ کے دروازے پر دستک دیے بنا ہی دھیرے سے اندر آجاتی ہے۔

بہار کا پیار ہر چیز کو نکھار دیتا ہے۔ لیکن اس ظالم موسم میں عورت مارچ بھی ہوتا ہے جس میں عورتیں جب اپنے حقوق کی بات کرتی ہیں تو اکثریت کے دل میں درد سا اٹھنے لگتا ہے۔ پچھلی صدیوں سے لے کر آج تک انسانی زندگی اور اس کے معاملات کو جب توازن اور اعتدال سے محروم کر دیا گیا تو انسان بغیر صنفی تفریق کے اس سے محروم ہو گیا۔ برصغیر میں جب آزادی کی تحریک شروع ہوئی تو عورتوں نے مردوں کے برابر اس جدوجہد میں حصہ لیا۔

جب ملک کی اکانومی سنبھلنے لگی تو وہ پھر پیچھے چلی گئیں بالکل اسی طرح جیسے دوسری جنگ عظیم میں آگے آنے والی عورتیں پیچھے چلی گئیں۔ پہلے تو مشرقی عورتوں کا استحصال خاندانی دائرے کے اندر تک تھا۔ لیکن آج یہ مسئلہ خاندانوں سے نکل کر راستوں اور سڑکوں تک آپہنچا ہے۔ پچھلے پندرہ بیس برسوں میں جہاں عورت کچھ مضبوط ہونے لگی وہیں اس پر مجرمانہ حملوں کا اضافہ بھی ہوا۔ جب معاشرہ بے قانون اور بے نظم و ضبط ہوگا تو ظاہر ہے طوائف الملوکی کی کیفیت ہوگی۔

کیا یہ ضروری ہے کہ عورت ہر وقت استحصال کا ہی شکار ہو تو سماج خوش ہوگا۔ کہیں نہ کہیں، کبھی نہ کبھی استحصال زدہ عورت کو بالآخر کھڑے ہونا اور اپنے لیے جھگڑنا ہے۔ ظاہر ہے ہر عمل کے جواب میں ایک رد عمل ہوتا ہے۔ عورتیں اپنے جائز حقوق جن میں جہیز کے خلاف، جنسی ہراسانی کے خلاف، وراثت کے خلاف اپنی پوری زندگی دے دیتی ہے۔ لیکن ان کے لیے ہر موسم دھواں دھواں ہی رہتا ہے۔ عورتیں آج بھی تہذیب، رکھ رکھاؤ اور رسموں کے نام پر ظلم کا شکار ہوتی ہیں۔

عورت مارچ کے نام پر سوشل میڈیا پر ایک غیر اخلاقی ان دیکھی سی لڑائی مارچ کے شروع ہوتے ہی شروع ہو چکی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ عورت مارچ کے عمل میں رسک بھی ہے اور یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ لڑائی سسٹم کی بجائے مرد کے خلاف شروع ہو جائے۔ اگر ایسا ہو گیا تو ہمارا معاشرہ اور زیادہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا۔ پہلے ہی فرقہ واریت کا خوفناک زہر ہماری رگوں میں اتر کر ہماری نسوں کو نیلا کرتا جا رہا ہے۔ اگر ہم سسٹم کی بات کریں تو یہ واضح ہے کہ ہمارا آئین اگرچہ بہت پرانا نہیں لیکن اس پر عمل درد آمد نہیں ہوتا۔

بہت سی عورتیں تو یہ تک نہیں جانتیں کہ ان کے حقوق ہیں کیا؟ نکاح، شادی، جہیز اور طلاق ایسے مسائل کے بارے میں عورتیں اپنی قانونی پوزیشن سے آگاہ نہیں ہیں۔ فی الحال میں یہ تو نہیں کہہ سکتی کہ یہ سسٹم چونکہ مرد نے بنایا ہے تو عورت کے خلاف ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ عورت نے ابھی اس سسٹم کو سمجھنا شروع بھی نہیں کیا۔ کبھی کبھی تو خیال آتا ہے کہ کاش! عورت کی آزادی کی تحریک مردوں کے ساتھ مل کر بھی چلائی جا سکتی لیکن مرد کبھی ایسا نہیں کریں گے کیونکہ وہ عورت کو ہمیشہ بے بس ہی رکھنا چاہیں گے۔

لیکن مجھے لگتا ہے کہ اب مردوں نے بھی عورت کے مسائل کو سمجھنا شروع کر دیا ہے ورنہ خواتین کے حقوق کے لیے بہت سے ڈرامے اور فلمیں نہ بنتیں۔ ہو سکتا ہے سب مرد اپنی ذاتی زندگیوں میں شاید اتنے آٹیڈیلسٹ نہ ہوں لیکن الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں بہت سے مرد ہی عورت کے حقوق کی آواز اٹھا رہے ہیں۔ آج کل سوشل میڈیا ایک بہت بڑا پلیٹ فارم ہے جہاں طرح طرح کی آوازیں اپنی تان لگا رہی ہیں۔ لیکن عورتوں اور لڑکیوں کو بھی اس بات کا ٹھیک ٹھیک شعور ہونا چاہیے کہ اس کے کہے ہوئے الفاظ کی کتنی اہمیت ہے۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ جسمانی اور ذہنی تشدد ہر صورت میں ایک شدید ظلم ہے۔ اب عورت مار کھا کر پاؤں پکڑ کر سہاگن رہنا نہیں چاہتی۔ اب عورت کو اپنے مذہبی، قانونی اور معاشرتی حقوق سب چاہئیں۔ آج بھی بہت سے پس ماندہ علاقوں میں عورت بہت بحرانی حالت میں ہے۔ اسے مدد کی ضرورت ہے بالکل ویسے جیسے مجھے مدد کی ضرورت ہے یا میری اور بہت سی بہنوں کو مدد کی ضرورت ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ حالات میں امید کی گونج واضح طور پر سنائی دیتی ہے اور یہ گونج صنفی تفریق سے نکل کر پوری انسانی ذات کی نجات کے سوال کی چادر اوڑھ رہی ہے۔

معاشرے کے نئے مسائل میں نوجوانوں کو بلا تفریق شامل کر کے کچھ کیا جاسکتا ہے۔ شہروں کی مڈل کلاس اپنے مڈل کلاس کے مسئلوں سے نکل کر آگے سوچے تو بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ اگر اب بھی عورت اور مرد نے مل کر نہ سوچا تو معاشرہ تھکن کے بوجھ کو سنبھالنے میں خود تھک کر ٹوٹ جائے گا۔ کسی بھی معاشرے کا گھریلو نظام ایک ادارہ ہوتا ہے اور ادارے چلانا کسی ایک کے بس کا کام نہیں۔ عورت کے ساتھ بہر کیف زیادتی ہوئی تو ہے۔ عورت کی تعلیم، رائے اور کام کرنے کی تمام صلاحیتوں کو بری طرح پامال کیا گیا ہے۔

اگر زمیندارانہ پس منظر میں دیکھا جائے اگر فلسفیوں کو دیکھا جائے تو معلوم پڑے گا جسمانی، تمدنی، تہذیبی اور زرعی طور پر مردوں کو برتری حاصل ہوئی اور عورتوں کی تحقیر ہر لفظ سے ٹپکتی ہے۔ قابل فکر بات یہ ہے کہ ہر قسم کے ازم صرف انتہا پسندی کی طرف جاتے ہیں۔ ہر معاملے کو اعتدال سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ جن چیزوں میں قانون کی سطح پر معاشرتی سطح پر اصلاحات کی ضرورت ہے وہاں کام کرنے سے ہی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آئیں گے۔ اگر توازن نہیں ہوگا تو عورت پنڈولم کی طرح ایک طرف اور مرد بالکل دوسری طرف چلے جائیں گے۔ اپنی جڑوں کو خون آلود ہونے سے بچانے کے لیے ہمیں اپنے رستے زخموں کو بھرنا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply