میرا جسم میری مرضی” پر اعتراض کیا ہے؟ "
عورت مارچ پر اعتراضات ختم نہیں ہو رہے ہیں۔ عورت کی شخصی آزادی کو بے حیائی اور بدچلنی قرار دیگر شعور کا گلا دبانے کی کوشش بڑی شدومد سے جاری ہے۔ بڑا معصوم سوال کیا جاتا ہے کہ حقوق کس سے مانگے جا رہے ہیں۔ عورت اور مرد کا تقابل کیا جاتا ہے۔ میاں بیوی، بہن بھائی، ماں باپ سمیت دیگر رشتوں کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ مذہبی حوالے دیے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اسلام نے چودہ سو سال پہلے عورتوں کو حقوق دے دیے تھے۔
میرا جسم میری مرضی کے طنطنے نے آگ تو بھڑکا رکھی ہے۔ بالخصوص مذہبی طبقات اور ان کے مقلدین کسی صورت عورت کو اپنے جسم پر اختیار کی بات کرنے کی بھی اجازت دینے کو تیار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم جبری شادیاں کریں عورت خاموش رہے۔ ریپ کا ظلم خاموشی سے سہ جائے یا خود کشی کر لے۔ ونی کر دی جائے، سوارا کر دی جائے لیکن وہ خاموش رہے اور پاؤں کی جوتی بن کر رہے۔
افسوس ناک امر ہے کہ میرا جسم میری مرضی کے نعرے کی مخالفت کرنے والے فخریہ انداز میں عورتوں کو کھلم کھلا غلیظ گالیاں بکتے ہیں اور گھروں سے لے کر راہوں، چوراہوں، بس اڈوں، انتظار گاہوں، بسوں، ویگنوں، ریل گاڑیوں کے اندر، دفاتر، فیکٹروں، ملوں، کارخانوں میں الغرض ہر اس جگہ یہاں عورت ہو وہاں انہیں ہر ہر طریقے سے ہراس کیا جاتا ہے۔ عورت کو انسان سمجھنے یا کہنے کی بجائے مال، پرزہ، پٹولہ، ٹیکسی، چیز اور ہر ایسا لفظ کہا جاتا ہے جس سے عورت کی توہین ہو اور عورت کی عزت نفس مجروح ہو۔
یہ لوگ اچھی طرح اپنے کرتوتوں سے واقف ہیں۔ فیس بک کے گروپس اور صفحات عورتوں کے خلاف مغلظات سے بھرے پڑے ہیں۔ فحش گوئی، فحش تصاویر سے ان کے ذہن اور صفحات اٹے پڑے ہیں۔ انہیں صرف اعتراض ہے تو عورت کے بولنے پر ہے۔
سیاسی، سماجی اور مذہبی بداخلاقی میں صرف مرد حضرات ہی ملوث نہیں ہیں بلکہ برقعہ پوش عورتیں بھی پوری طرح شریک ہیں۔ فیس بک، ٹویٹر اور یوٹیوب پر اخلاقیات، حیا اور شرم کے درس دیتی خواتین میں انسانی اخلاقیات کی جھلک تک دکھائی نہیں دیتی۔ تصوراتی اور خیالی معاشرے تعمیر کر رہی ہوتی ہیں۔ جس طرح زید حامد نے تصوراتی میدان جنگ سجا رکھا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے۔ لوگ عورت کے جائز مطالبات کے اتنے مخالف کیوں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جرأت تحقیق سے عاری ہیں۔ درست خیالی کا فقدان ہے۔ اس کی ذمہ دار اور قصور وار سیاسی جماعتیں اور سیاسی قیادت ہے۔ جن کے نزدیک سیاست محض اقتدار کا کھیل ہے۔ عوام کی رہنمائی اور تعلیم و تربیت اور سمت متعین کرنا ان کے سیاسی مقاصد میں نہیں ہے بلکہ سماجی ماحول کو گندا کرنے میں سیاسی قیادت کا اہم کردار ہے۔ جنہوں نے الزامات، کرپشن، ہارس ٹریڈنگ، گالم گلوچ کی روایات کو رواج دیا ہے۔
مذہبی جماعتوں اور منبر پر بیٹھنے والوں کا کردار سیاسی قیادت سے بھی زیادہ گھناؤنا ہے۔ جن کی ذمہ داری ہی اخلاقیات کی تعمیر ہے وہ اخلاقیات سے عاری خطبات دے رہے ہیں۔ حقیقی قیادت کے بغیر قوموں کی اخلاقیات اور مزاج ایسے ہی ہوتے ہیں۔ جرأت تحقیق کفر ہوتا ہے اور درست خیالی بدعت ہوتی ہے۔
عورت مارچ کے تسلسل سے عوام کو عورت کے حقوق، مشکلات اور مسائل کا ادراک ہو گا اور عورت میں بھی طاقت اور حوصلہ پیدا ہو گا۔ میرا جسم میری مرضی کا نعرہ عورت کو ہر قسم کے خوف اور جبر سے آزاد کر سکتا ہے۔ مسلسل جدوجہد فتح کی نوید ہوتی ہے۔ گزشتہ عورت مارچ سے کئی جکڑ بندیوں پر کاری ضرب لگی ہے۔ خاموشی ٹوٹ رہی ہے۔ تقدس اور شرم و حیا کے نام پر بنائے گئے جعلی بندھن بھی ٹوٹ جائیں گے اور عورت کا حقیقی تقدس بحال ہو گا۔


