ہندوستان کی عائشہ کے نام ایک خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


الوداع عائشہ عارف خان، تم تو سابرمتی ندی کی لہروں پر پنکھ پھیلائے، جلدی میں اپنے خدا کے پاس چلی گئی مگر اس دھرتی کی کتنی ہی عائشائیں اب بھی ستم کے سائے میں خدا سے امید لگائے بیٹھی ہیں۔ جب تم خدا سے ملو تو اسے ان سب کی کہانیاں بھی یاد دلانا۔ تمہیں لگتا تھا کہ تمہارا روگ بڑا ہے، تو تم اپنی جان سے گزر گئی۔ مگر یہاں تو ہر گلی ہر نگر ہم ظلم کی ایسی داستانیں تحریر کرتے ہیں کہ جینے کی تمنا اور فنا ہونے کی خواہش دونوں ہی مردہ پڑ جاتی ہیں۔

خدا سے کہنا کہ جس صنف کی مٹی کو اس نے ایثار، محبت اور تکریم کی چاشنی سے گوندھا تھا اسے ہم نے پاؤں کی دھول بنا ڈالا ہے۔ اسے بتانا جس ماں کے پیروں تلے جنت تھی وہ اپنے ہی جوان بیٹے کے پیروں کی ٹھوکروں میں پڑی ہے۔ اور وہ دو بچوں کی ماں کا جس کا خاوند اس پر چاقو لے کر چڑھ دوڑا، اور پھر اس زخموں سے چور جان کو تڑپنے کلپنے کے لیے ایک کمرے میں بند کر دیا، اس کا قصہ بھی سنا دینا۔ جب وہاں پہنچو، تو ایک معصوم سی تتلی تلاش کرنا، زینب نام تھا اس کا۔

پتا نہیں اس کی کہانی سرحد کے اس پار پہنچی ہو گی یا نہیں۔ اس سے پوچھنا، دکھ کیا ہوتا ہے؟ سات سال کی بچی تھی جب کسی درندے نے اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر مار ڈالا۔ جانے کیسے سہی ہو گی اس نے اتنی تکلیف۔ اور وہ کراچی میں پانچ سال کی مروہ، جو گھر سے بسکٹ لینے نکلی تھی، اس کی لاش ملی تیسرے دن کوڑے کے ڈھیر سے۔ زینب کے نام پر بنا زینب الرٹ بل تو مروہ کو نہ بچا پایا شاید اب دونوں شہزادیاں وہاں اچھے حال میں ہوں۔

عائشہ، تمہاری وہ آخری خواہش، آخری دعا کہ یا خدا! اب کبھی انسانوں کی شکل نہ دکھانا، ہم سب کے لیے ایک تازیانہ ہے۔ مگر وہ اپنے بیٹے کی لاتوں اور گھونسوں کی زد میں بلکتی ماں تو شاید پورے دل سے یہ بد دعا بھی نہ کر پائی ہو گی۔ شاید زینب اور مروہ بھی خدا کے حضور پہنچ کر یہی گڑگڑائی ہوں کہ اے جن و انس کے مالک، بس دوبارہ کبھی انسانوں کی شکل نہ دکھانا۔

جب تم ستارہ بن کر چمکو تو سرحد کے دونوں جانب ہر اس آنگن میں جھانکنا جہاں کھنکتی چوڑیوں اور جلترنگ قہقہوں کو جبر کے کوڑے سے خاموش کروایا جاتا ہے۔ شاید تمہیں وہ اکلوتی لاڈلی بھی دکھے جسے اس کے باپ نے پڑھایا لکھایا اور دنیا کا سامنا کرنے کے قابل بنایا، پھر اس نے اپنی قابلیت کے صلے میں طلاق کا تمغہ پایا۔ کیوں کہ اس نے دبے رہنے سے انکار کر دیا تھا۔ اور وہ جو ہر رات اپنے خاوند سے پٹنے کے بعد ، صبح اسے دفتر بھیج کر اپنے زخموں پر ٹکور کرتی ہے اور پھر اپنے کام میں مصروف، کہ اس درد کو پالنے سے زیادہ اسے اپنے بچوں کو پالنے کی فکر ہے۔

وہ بھی تمہاری طرح اس دنیا سے شاکی ہیں۔ مگر میری دعا ہے کہ تمہارے جانے سے ہم مرنے کی بجائے جینے کا قرینہ سیکھیں۔ تم نے ہی تو کہا تھا کہ محبت دو طرفہ ہونی چاہیے۔ ایسے ہی رشتہ، تعلق اور انہیں قائم رکھنے کا حوصلہ بھی دوطرفہ ہی ہونا چاہیے۔ کیا نکاح اور کیسا رشتہ جو قائم رہنے کے واسطے دس لاکھ کا تاوان مانگ رہا تھا۔ ویسے بھی خیرات مانگنے والوں کی جھولی میں سکے ڈالے جاتے ہیں، بیٹی کا ہاتھ نہیں۔ مگر جب تک ہم اپنی بجائے سماج کی خاطر جیتے رہیں گے کچھ نہیں بدلے گا۔

شاید تمہاری روح پرواز کے دوران یہاں ایک دور برف پوش دیس کے اوپر سے بھی گزری ہو۔ کیا تم نے دیکھا تھا کہ کیسے ہم نے مغرب کے معاشرے کو برائی کی جڑ اور عورت کو حیائی کا مینار قرار دے ڈالا؟ کیوں کہ ہم ڈرتے ہیں کہ جو حقوق عورت کو وہاں حاصل ہیں ، ان کا مطالبہ اگر ہماری عورت کر بیٹھی تو ہمارے صدیوں سے پھیلائے خوف سے پردہ اٹھ جائے گا۔ کیا انہیں کوئی یہ بھی بتاتا ہے کہ یہاں اگر کوئی خاوند اپنی بیوی سے پیسے کا مطالبہ تو کیا چھوڑنا بھی چاہے تو آدھی جائیداد سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ اور عورت کی ایک اتنی ہی شکایت کہ کسی مرد نے اس پر ہاتھ دراز کیا، ایک لمبے عرصے تک اس کا بندوبست کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔

ہمارے یہاں تو کہیں کوئی عورت اپنے لئے نعرہ لگا لے تو منڈی سج جاتی ہے اور تماشا شروع۔ الزامات کی بوچھاڑ میں ’دو ٹکے کی عورتیں‘ اپنے حق کی آواز اٹھانے پر ہی ملزم قرار پاتی ہیں۔ اور ہم سب ان کی آواز بندی کر کے اپنے فرض کی ادائیگی سے فارغ۔ چند سال ہوئے ہم نے عورت کو گھر سے نکلنے کی آزادی دے کر دفتر تک تو پہنچا دیا ہے مگر ساتھ ہی دفتر کو اس عورت کی ایک نئی امتحان گاہ بنا ڈالا۔ چند گھنٹوں کی نوکری جہاں سے ملے ، پیسے بھی ہمارے گھر اور ہمارے بچوں کی بہبود کے لیے خرچ ہو جاتے ہیں ۔ اس کی خاطر اسے کتنے الزام کتنے طعنے برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ تم سب وہاں اوپر، مل کر کوئی عورت مارچ نہ کر ڈالنا کہ آسمان کا خدا تو شاید اس ادا پر مسکرا دے مگر زمین کے خدا تمہیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔

مجھے امید ہے عائشہ! کہ خدا تمہیں معاف کر چکا ہو گا۔ مجھے امید ہے کہ وہاں ہر طرف اجالا ہو گا کہ یہاں شامیں ہی نہیں بلکہ دن بھی سرمئی رنگ کے ہیں۔ بہت سی سیاہی میں سے کہیں کہیں چھلکتی سفیدی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply