مصر میں محمد علی پاشا کا صنعتی انقلاب کیوں ناکام ہوا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فرانسیسی فاتح نپولین بوناپارٹ کی جنگی مہمات میں سے ایک نسبتاً غیر اہم مہم مصر کی مہم تھی۔ مصر پر حملے کی یہ کارروائی نپولین اور فرانس کے لیے تو خاطر خواہ نتائج پیدا نہ کر سکی اور نہ ہی یورپ پر بالادستی کے لیے بچھی بساط پر اس کا کوئی خاص اثر پڑا، مگر شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کی سیاست پر اس کے گہرے اثرات پڑے۔ اسکندریہ اور پھر جنگ اہرام میں نپولین کی آسان اور یک طرفہ فتح نے عثمانی ترک اور مصر میں چھ سو سال سے اقتدار کے مزے لوٹنے والے مملوکوں کی عسکری کمزوریوں کا پول سب پر کھول دیا۔

سال خوردہ ہتھیاروں اور ساز و سامان سے لیس اور تنظیم سے عاری یہ فوج نپولین کے آگے ذرا نہ ٹھہر سکی۔ اگرچہ عثمانی گورنر اور اس کے مملوک اتحادیوں نے جنوب میں پسپا ہو کر گوریلا جنگ جاری رکھی مگر دو برس سے زیادہ جاری رہنے والی اس جنگ میں فرانس کا پلڑا ہی بھاری رہا اور مغرب کی ٹیکنالوجی اور عسکری برتری کا سکہ پورے عالم عرب پر بیٹھ گیا۔

بعد ازاں انگریزوں کی مداخلت کے باعث نپولین کو مصر چھوڑنا پڑا۔ فرانسیسی افواج کے اچانک انخلا کے بعد مصر میں طاقت کا خلا پیدا ہو گیا۔ برطانیہ اس وقت ہندوستان کی سونے کی چڑیا کو قابو کرنے کے چکر میں تھا، مصر پر پوری طرح توجہ دینا اس کے لیے ممکن نہ تھا۔ اس صورتحال میں عثمانیوں کو موقع مل گیا کہ اپنے کھوئے ہوئے صوبے کو ایک بار پھر خلافت کے زیر انتظام لے آئیں۔

استنبول میں خلیفہ سلیم سوم نے بدقت تمام ایک فوج جمع کر کے مصر روانہ کی تاکہ وہاں عثمانی اقتدار بحال کر سکے۔ اس فوج کا بڑا حصہ البانوی نژاد مشنریوں پر مشتمل تھا۔ مصر میں ان دنوں ایک عجیب کھچڑی پک رہی تھی۔ ایک طرف ترک گورنر اور مملوک سرداروں کے درمیان اقتدار کی کھینچا تانی جاری تھی اور دوسری طرف علماء بھی اس کھیل میں اپنا حصہ بقدر جثہ طلب کر رہے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ برطانیہ اور فرانس بھی تھے جو مصر سے نکلنے کے باوجود مسلسل دخل اندازی کر رہے تھے اور کسی نہ کسی فریق کی موقع اور محل کے حساب سے مدد کرتے رہتے تھے۔

ان نووارد البانوی افسروں میں ایک بلند ہمت اور موقع شناس نوجوان محمد علی بھی تھا۔

مصر میں محمد علی نے خود کو جلد ہی مقامی حالات کے مطابق ڈھال لیا اور بڑی تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتا گیا، اس دوران جہاں اس نے استنبول میں عثمانی بیوروکریسی اور فوجی قیادت کا اعتماد حاصل کر لیا وہیں مصر کے مقامی گروہ مملوک اور علماء سے بھی بنا کر رکھی۔ اسی سازباز کا نتیجہ تھا کہ 1808 میں مملوک سرداروں اور علماء نے خلیفہ سے احمد پاشا کی جگہ محمد علی کو مصر کا ولی مقرر کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ اس وقت تک سلطان سلیم کو محمد علی کے بلند ارادوں بھنک پڑ چکی تھی اور مصر میں کسی طاقتور ولی کی موجودگی کے مضمرات بھی عیاں ہو رہے تھے۔ مگر وہ تو خود اپنی عسکری اصلاحات کی وجہ سے مزاحمت کا سامنا کر رہا تھا، ادھر محمد علی کے حامیوں نے گورنر کو معزول کرنے کی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ چاروناچار محمد علی کو ولی بنانے کا اعلان ہو گیا تاہم جب تک یہ حکم نامہ قاہرہ پہنچا محمد علی عملاً مصر کا حاکم بن چکا تھا۔

OLYMPUS DIGITAL CAMERA

آذربائیجان سے لے کر بلغاریہ تک پھیلی عظیم الشان اسلامی سلطنت میں ایک نو مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والے نوجوان کے لیے یہ کوئی معمولی کامیابی نہ تھی۔ مگر محمد علی کے عزائم تو کچھ اور تھے۔ اس کی دُور رس نگاہوں نے بھانپ لیا تھا کہ خلافت اب قریب المرگ ہے اور اس کے خاتمے کے ساتھ ہی وادی نیل سے لے کر دوآبہ دجلہ و فرات تک کے علاقے میں طاقت کا ایسا خلاء پیدا ہونے والا ہے جو کسی بھی طالع آزما کو یہ پورا خطہ اپنے زیرنگیں لانے کا سنہری موقع فراہم کرے گا۔

وہ خود کو اس وسیع و عریض خطے کا حاکم بنانے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ مگر محمد علی خوابوں سے زیادہ عملی دنیا کا آدمی تھا۔ مصر میں انگریز اور فرانسیسی افواج کے ساتھ عسکری اور سفارتی معاملہ بندی کے دوران اس نے دو انتہائی قیمتی مشاہدے کر لیے تھے جن پر اس نے اپنی اگلے پچاس سال کی حکمت عملی کی بنیاد رکھی۔ اول یہ کہ اس خواب کی تکمیل کے لیے ایک مضبوط اور ناقابل شکست فوج کا ہونا ضروری ہے۔ انگریز اور فرانسیسی افواج سے لڑائی کے بعد اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ عسکری بالادستی کا حصول فوج کی جدید خطوط پہ تنظیم نو کے بغیر ناممکن ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ محمد علی اسلامی دنیا کا پہلا حکمران نہ تھا جس نے فوج کو یورپی خطوط پہ جدید بنانے کی اہمیت کو سمجھا۔ اس سے پہلے میسور کا ٹیپو سلطان اور عثمانی خلیفہ سلیم سوئم بھی عسکری اصلاحات کی کوششیں کر چکے تھے مگر ان کی کاوشیں سخت مزاحمت کے ہاتھوں ناکام ہو گئیں۔ محمد علی کی خوش بختی یہ رہی کہ اول الذکر دونوں شخصیات کے برخلاف اسے حکومت روایتی موروثی تخت نشینی کے اصول کے تحت نہ ملی تھی، بلکہ اسے اقتدار کی کٹھن راہ پر قدم بہ قدم بڑھنا پڑا تھا جس کے دوران اس نے بہت سے متوقع مخالفین کو پہلے ہی راستے سے ہٹا دیا تھا (جیسے مملوک سرداروں کے خلاف 1811 سے 1815 تک جاری آپریشن، جس نے ان کی قوت ہمیشہ کے لیے ختم کر دی)

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *