کرپٹ نگری کا صادق اور امین دیوتا (مکمل کالم)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قائد اعظم محمد علی جناح تاریخ ساز کرداروں کے ہجوم میں ایک دیوقامت مدبر قرار پائے۔ اہل سیاست گوشت پوست کے انسان ہوتے ہیں۔ برسوں معاشرے کے تاروپود سمجھنے کی ریاضت کرتے ہیں، مردم شناسی کے متلون پانیوں میں غواصی کرتے ہیں۔ قانون اور دستور کی باریکیاں سمجھتے ہیں، تاریخ میں غوطہ زن ہوتے ہیں، معیشت کے زیروبم پر آنکھ رکھتے ہیں، ذاتی زندگی کو دبیز پردوں میں اوجھل رکھنا ہوتا ہے، کہیں ایسا خارا شگاف نعرہ کہ دشمن تو کیا، دوست بھی دبدھا میں پڑ جائیں اور کہیں بظاہر سادہ بیان میں ایسی معنی خیز سرگوشی کہ بات آدھی مگر اثر دونا۔ گاہے اپنے ہی ساتھیوں سے پتے چھپائے جاتے ہیں اور گاہے حریفوں سے معانقہ کرنا پڑتا ہے، جو کچھ بھی بن نہ پڑا فیض کٹ کے یاروں سے، تو رہزنوں سے دعا و سلام ہوتی رہی۔ کہیں دستور کی کسی غیر معروف شق کی مدد سے بازی پلٹی جاتی ہے تو کہیں رولز آف بزنس کی بغلی سے غنیم کو چت کیا جاتا ہے۔

یہ ان معاشروں کا ذکر ہے جہاں دستوری روایت مستحکم ہوتی ہے، انتخابی عمل شفاف ہوتا ہے، آئینی ادارے اپنی حدود میں کام کرتے ہیں، ریاستی اداروں کو سیاسی عمل میں مداخلت کی مجال نہیں اور سیاسی رہنما کسی محکمے سے گٹھ جوڑ کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا۔ عوام ٹیکس دیتے ہیں تو پائی پائی کا حساب بھی مانگتے ہیں، عدالت سے پالا پڑ جائے تو کسی رو رعایت کی امید نہیں ہوتی۔ اخبار نویس کو کسی بے ضابطگی کی بھنک پڑ جائے تو جانو بدھیا ہی بیٹھ گئی۔ یہ جو اولین سطر میں بابائے قوم کا ذکر کیا کرتا ہوں۔ اس لئے نہیں کہ کسی خود ساختہ نظریاتی ٹرسٹ کے نام پر قوم پرستی کا ٹھیلا لگانا ہے، قیمتی سرکاری زمین پر قبضہ کرنا ہے، درویش دل سے سمجھتا ہے کہ قائد اعظم نے پاکستان کو ایک مہذب قوم بنانے کا خواب دیکھا تھا۔ سیاست مگر لکھے ہوئے سکرپٹ کی تمثیل نہیں۔ اس میں ان دیکھی منجدھاریں ہوتی ہیں، بے پرکھے پتوار ہوتے ہیں، معمولی واقعہ حادثے کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور ایک حادثہ تاریخ کی سمت ہی بدل دیتا ہے۔ جنگل میں ہوئی ہے شام ہم کو / بستی سے چلے تھے منہ سویرے۔

بدقسمتی سے کرہ ارض کے بڑے حصے پر سیاست محض کتاب قانون کے تابع نہیں۔ طاقت، تعصب، دھونس، تفرقے، سازش، جرم، تشدد اور بدعنوانی، غرض سیاست کاہے کو ہے، زورآوری کی مشق ہے۔ سیاسی مخالفین قید و بند، ایذا رسانی، فریب کاری، عدالتی ناانصافی، شماتت ہمسایہ، معاشی ناکہ بندی بلکہ قتل تک کا خطرہ مول لے کر میدان میں اترتے ہیں۔ خوش نما اصطلاحات کے پردے میں بھیانک تماشے رچائے جاتے ہیں، سرکاری منصب کے بل پر عوام کا حق حکمرانی غصب کیا جاتا ہے، ریاست اور حکومت کی درمیانی لکیر مٹا دی جاتی ہے، تقدیس کے پردے میں اہرمن کی پرستش کی جاتی ہے، وطن دوستی کے نام پر عوام دشمنی کا سامان کیا جاتا ہے۔ ہر ’عظیم قائد‘ یورپ کے بینکوں میں لوٹی ہوئی دولت کے انبار چھوڑ جاتا ہے۔ اس میں لاطینی امریکا، افریقا، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی کوئی تخصیص نہیں۔

درویش کو علم کا دعویٰ نہیں۔ کچھ مشاہدات عرض کئے دیتا ہے۔ ناجائز حکومت ناگزیر طور پر چار عناصر سے تشکیل پاتی ہے، ادارہ جاتی انحطاط، مالی بدعنوانی، جنسی اخلاق باختگی اور منظم جرائم پیشہ گروہوں کی سرپرستی۔ علاوہ ازیں ناجائز حکومت کو اپنے تسلسل کے لئے جرم اور استحصال کے بین الاقوامی بندوبست بھی سے گٹھ جوڑ کرنا ہوتا ہے۔ مسلط شدہ حکومتی بندوبست اپنی بنیاد میں قوم کی اجتماعی اور انفرادی توہین کا نام ہے۔ افراد، گروہ اور ادارے اپنی توقیر کھو بیٹھتے ہیں تو قوم میں دیانت، بلند کردار اور جرات اظہار کے اشاریے گر جاتے ہیں۔

آج کی دنیا میں مختلف پیمانوں پر قوموں کی درجہ بندی کی جاتی ہے، کہیں انسانی ترقی کی قدر پیمائی کی جاتی ہے، کہیں عدالتی انصاف جانچا جاتا ہے، کہیں دیکھا جاتا ہے کہ کس ملک کے باشندے زیادہ خوش ہیں، کہیں فی کس آمدنی کے اعتبار سے قوموں کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ کہیں سرمایہ کاروں کے اعتماد کی پیمائش ہوتی ہے۔ کہیں بدعنوانی کا عوامی تاثر پرکھا جاتا ہے ، کہیں جمہوری اداروں پر اعتماد کی جانچ کی جاتی ہے۔ اسی نوعیت کا ایک ادارہ (Index of Public Integrity) اجتماعی دیانت کے اعتبار سے قوموں کی درجہ بندی کرتا ہے۔ اسے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل سے گڈمڈ نہیں کیجئے گا۔ IPI نامی اس ادارے نے چھ اشاریے منتخب کر رکھے ہیں۔ (1) عدلیہ کی آزادی (2) سرکاری اداروں میں عوامی سہولت کا اہتمام (3) تجارتی آزادی (4) بجٹ کی شفافیت (5) انٹرنیٹ تک رسائی (6) میڈیا کی آزادی۔

 2019ء کی رپورٹ میں کل 117 ممالک کی فہرست میں پاکستان 79 نمبر پر ہے۔ پہلے دس ممالک میں ناروے، ڈنمارک، فن لینڈ، ہالینڈ، نیوزی لینڈ، سویٹزرلینڈ، لکسمبرگ، سویڈن اور آسٹریلیا شامل ہیں، برطانیہ اور امریکا مشترکہ طور پر دسویں نمبر پر ہیں۔ ہمارے خطے میں بھارت (71)، نیپال (72) اور سری لنکا (75) پر ہیں۔ الحمدللہ برادر اسلامی ممالک بنگلادیش (92) اور سعودی عرب (95) نے ہماری عزت رکھ لی۔ ملائیشیا (44)، ترکی (59)، روس (69) اور چین (99) درجے پر پائے گئے۔

اجتماعی دیانت کا یہ قصہ اس لئے چھیڑا کہ ہمارے وزیر اعظم اللہ کے فضل سے سند یافتہ صادق اور امین ہیں۔ ابھی سینٹ کے انتخابات میں وزیر اعظم خود ہی اپنی جماعت کے ارکان کا بھائو بتاتے رہے۔ ڈسکہ کے انتخاب میں جزوی دھند نے دیانت کی روشنی ڈھانپ دی۔ علانیہ بکائو ارکان اسمبلی نے وزیر اعظم پر اظہار اعتماد بھی کر دیا۔ وزیراعظم الیکشن کمیشن پر یوں برسے کہ جل تھل ہو گیا۔ مریم نواز گولڑہ شریف کے قصے سنا رہی ہیں تو حیدر گیلانی اتفاقاً اپنے پرانے دوستوں سے ملے۔ یقیناً باہمی دلچسپی کے امور پر بات ہوئی ہو گی۔ کچھ علی الصبح ملاقاتوں کی تو ہوا بھی نہیں لگنے دی جاتی۔ قائد اعظم کی دیانت کی گواہی کرشن گوکھلے اور سروجنی نائیڈو دیتے تھے۔ وزیراعظم کی صداقت کی قسم لیاقت جتوئی اور اسلم ابڑو اٹھاتے ہیں۔ ایسی بلندی، ایسی پستی….

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply