گردے: انسانی جسم کے گمنام ہیرو 

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اللہ تعالیٰ نے انسان کے سر سے لے کر پاؤں تک جسم کے ہر عضو کے اندر خاصیت رکھی ہے۔ سائنس دان اور تحقیق کار کائنات کی سب سے اعلیٰ مخلوق انسان کی تخلیق اور اس میں چھپے رازوں کو جاننے کی کوشش میں اب تک لگے ہوئے ہیں۔

سائنس دان جوں جوں انسان کے کسی عضو کی خاصیت کو سمجھتے ہیں تو رب کائنات کی اس عظیم تخلیق پر اش اش کر اٹھتے ہیں۔ انسان کے تمام اعضاء خصوصی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں کیونکہ کسی ایک اعضاء کی کمی انسان کو معذور بنا دیتی ہے۔

انسان کے انہی اعضاء میں سب سے اہم گردے ہیں، گردوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ انسانی جسم کے گمنام ہیرو ہیں جو انسانی جسم میں بہت اہم کام سرانجام دینے کے باوجود کسی خاطر میں نہیں لائے جاتے۔ عام طور پر لوگ اپنے گردوں کی جانب دیگر اعضاء کی طرح توجہ نہیں دیتے، اس کے باوجود گردے آخری دم تک انسانی جسم میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہتے ہیں۔

جب گردے اپنی استطاعت سے بڑھ کر کام کرتے ہیں تو ایک وقت پر وہ بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں تب جا کر انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے جسم کے سب سے اہم عضو گردے کو کس طرح سے نظر انداز کرتا رہا ہے۔ گردوں پر بیماری کا اثر جب تک ظاہر ہوتا ہے تب تک کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے حالانکہ اس سے قبل انسانی جسم میں ہونے والی بعض تبدیلیاں اشارہ بھی دے رہی ہوتی ہیں کہ گردوں میں کچھ گڑ بڑ ہو رہی ہے لیکن اکثریت اپنی بیماری پر تب تک توجہ نہیں دیتی جب تک کے بڑے مسئلے سے دوچار نہ ہو جائے۔

حالیہ رپورٹ کے مطابق گردوں کی بیماری کا مریض کو تب پتہ چلتا ہے جب گردے نوے فیصد تک اپنا کام کرنا چھوڑ چکے ہوتے ہیں ، اسی لئے گردوں کی اہمیت اور اس کی بہتر نگہداشت کے حوالے سے لوگوں میں شعور پیدا کرنے کے لئے ہر سال مارچ کی دوسری جمعرات کو گردوں کو عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا آغاز سن 2006 سے کیا گیا تھا۔ گردوں کے عالمی دن کے موقع پر لوگوں کی توجہ جسم کے اس اہم عضو کی جانب مبذول کرائی جاتی ہے جو لاپروائی اور غلط علاج کی وجہ سے ناکارہ ہو جاتا ہے اور پھر انسان کے زندہ رہنے کی امید کم ہو جاتی ہے۔

سائنسی تحقیق کے مطابق انسان ایک گردے کے ساتھ بھی زندہ رہ سکتا ہے اسی لئے ایک صحت مند انسان اپنا ایک گردہ کسی ایسے مریض کو عطیہ بھی کر سکتا ہے جس کے دونوں گردے ناکارہ ہو چکے ہوں لیکن اس عمل میں صحت مند فرد کو عمل جراحی سے گزرنا پڑتا ہے۔

صحت کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک فرد گردوں کی بیماری میں مبتلا ہے اس لحاظ سے دنیا بھر میں تقریباً 850 ملین افراد گردوں کی بیماری میں مبتلا ہیں جبکہ ہر سال گردوں کے شدید امراض سے دنیا بھر میں 2.4 ملین افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اس مہلک بیماری کی وجہ سے اموات کی تعداد میں اس لئے اضافہ ہوتا جا رہا ہے کہ اب بھی لوگ گردوں کی بیماری کو سیریس نہیں لیتے، یہی وجہ ہے کہ دنیا میں اموات کی پانچویں بڑی وجہ گردوں کی بیماری ہے جس کی بڑی تعداد ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھتی ہے۔

پاکستان میں سالانہ ہر دس لاکھ افراد میں 100 یا 150 افراد گردوں کے مرض میں مبتلا ہیں۔ گردوں میں خرابی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر اور ذیابیطس، موٹاپا گردوں میں خرابی کی بنیادی وجوہات ہیں ، اسی لئے بلڈ پریشر، ذیابیطس اور موٹاپے کو کنٹرول میں رکھ کر گردوں کی بیماری سے بچا جاسکتا ہے۔ گردے اگر خدانخواستہ خراب ہوجائیں تو ڈائیلیسس کرانا پڑتا ہے جو کہ مریض کے لئے ایک تکلیف دہ عمل ہے۔

گردوں کی خرابی میں مبتلا مریض کے لئے علاج کے تین طریقے ہوتے ہیں۔ 1۔ ”ہیمو ڈائیلیسس“  2۔ ”پیری ٹونیل ڈائیلیسس“  3۔ گردے کی تبدیلی۔

ہیمو ڈائیلیسس میں ایک مشین کے ذریعے خون کو صاف کیا جاتا ہے اور نقصان دہ اجزاء، اضافی نمک اور پانی خون سے علیحدہ کیا جاتا ہے۔ ہیمو ڈائیلیسس ہفتے میں تین مرتبہ کیا جاتا ہے اور ہر بار تین سے چار گھنٹے صرف ہوتے ہیں۔ اضافی مادوں کو صاف کرنے کا ایک اور طریقہ پیری ٹونیل ڈائیلیسس ہے۔

ہیمو ڈائیلیسس اور پیری ٹونیل ڈائیلیسس عارضی اور مصنوعی طور پر گردوں کا فعل انجام دیتے ہیں۔ یہ دونوں طریقے بہت مہنگے ہیں، ان کی مدد سے مریض کی صحت بہتر اور زندگی طویل تو ہو سکتی ہے لیکن یہ گردوں کی خرابی کا علاج نہیں ہے۔

ناکارہ گردوں کا تیسرا علاج گردوں کی پیوند کاری یا ٹرانسپلانٹ ہے، یہ علاج بھی بہت مہنگا ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ کوئی دوسرا صحت مند شخص اپنا ایک گردہ مریض کو دینے کے لئے رضا مند ہو۔

پاکستان میں گردہ فروخت کرنے پر مکمل پابندی ہے تاہم مریض کا رشتہ دار (بلڈ ریلیشن) اگر اپنی مرضی سے اپنا ایک گردہ مریض کو عطیہ کرنا چاہے تو اسے قانونی اجازت کے بعد یہ حق دے دیا جاتا ہے۔ گردوں کی بیماری سے بچنے کے لئے جہاں بلڈ پریشر، ذیابیطس اور موٹاپے کو کنٹرول کرنا ضروری ہے ، وہیں صحت مند لائف سٹائل اپنانا بھی ضروری ہے تاکہ اس مہلک لیکن خاموش قاتل مرض سے بچا جا سکے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments