سینیٹ: صادق سنجرانی چیئرمین، مرزا محمد آفریدی ڈپٹی چیئرمین منتخب
صادق سنجرانی نے اپنے مدِ مقابل حزبِ اختلاف کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی جب کہ مرزا محمد آفریدی نے عبد الغفور حیدری کو شکست دی۔
چیئرمین کے انتخاب کے لیے پریذائیڈنگ افسر سید مظفر حسین شاہ کی زیرِ صدارت سینیٹ اجلاس کے دوران جمعے کو ووٹنگ کا عمل ہوا جس میں 98 ارکان نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
پریذائیڈنگ افسر نے اعلان کیا کہ صادق سنجرانی نے 48 اور یوسف رضا گیلانی نے 42 ووٹ حاصل کیے جب کہ آٹھ ووٹ مسترد ہوئے۔
سینیٹر محمد صادق سنجرانی چئرمین سینیٹ منتخب ۔
— ꜱᴇɴᴀᴛᴇ ᴏꜰ ᴘᴀᴋɪꜱᴛᴀɴ 🇵🇰 (@SenatePakistan) March 12, 2021
فاروق ایچ نائیک نے ووٹوں کو مسترد کیے جانے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ جس مہر کی بات کی جا رہی ہے وہ خانے کے اندر ہی لگی ہے۔ تاہم پریذائیڈنگ افسر نے فاروق ایچ نائیک کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے صادق سنجرانی کی کامیابی کا اعلان کیا۔
بعد ازاں نو منتخب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی صدارت میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے ووٹنگ ہوئی۔
اس انتخاب میں حکومتی اتحاد کے امیدوار مرزا محمد آفریدی 54 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ جب کہ حزبِ اختلاف کے امیدوار مولانا عبد الغفور حیدری کو 44 ووٹ ملے۔
سینیٹر مرزا محمد آفریدی ڈپٹی چئرمین سینیٹ منتخب۔
— ꜱᴇɴᴀᴛᴇ ᴏꜰ ᴘᴀᴋɪꜱᴛᴀɴ 🇵🇰 (@SenatePakistan) March 12, 2021
جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے ووٹ نہیں ڈالا جب کہ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اسحاق ڈار نے اب تک حلف نہیں اٹھایا اور وہ بیرونِ ملک موجود ہیں جس کی وجہ سے ان کا ووٹ نہیں تھا۔
شکست کے بعد حکومتی امیدوار اور سابق وزیرِ اعظم سینیٹر یوسف رضا گیلانی سے جب سوال کیا گیا کہ آپ تو کہہ رہے تھے کہ مقتدر حلقے غیر جانب دار ہیں تو آپ کو شکست کیسے ہو گئی؟ تو ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کا اس سے کیا تعلق ہے۔ جس کو ریٹرننگ افسر بنایا گیا تھا وہ حکومتی اتحاد میں شامل جماعت کا رکن ہے۔
ڈپٹی چیئرمین کی نشست پر شکست پر انہوں نے مزید کہا کہ جب چیئرمین کی نشست پر شکست ہو جائے تو ارکان دلبرداشتہ ہوں گے۔
پولنگ بوتھ سے خفیہ کیمرے برآمد
پاکستان کے آئین کے مطابق چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔ لیکن ایوان میں اس وقت دلچسپ صورتِ حال سامنے آئی جب اپوزیشن کے ارکان نے پولنگ بوتھ اور ہال میں خفیہ کیمروں کی موجودگی کا انکشاف کیا۔
سینیٹ کے نئے منتخب ہونے والے 48 ارکان کی حلف برداری سے قبل مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مصدق ملک اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اسمبلی ہال میں موجود پولنگ بوتھ میں لگے مبینہ کیمروں پر احتجاج کرتے ہوئے بوتھ کو توڑ دیا۔
حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ایک دوسرے پر سینیٹ ہال میں کیمرے لگانے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
https://twitter.com/DrMusadikMalik/status/1370235911255031808
انہوں نے کہا کہ "ہم تہہ تک جائیں گے کہ یہ کیمرے کس نے لگائے اور اپوزیشن کو بے نقاب کر کے رہیں گے۔”
حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ جس نے کیمرے تلاش کیے اسی نے ہی لگائے ہیں۔ اُن کے بقول جب تک اوپن اور الیکٹرونک ووٹنگ نہیں ہو گی یہ لوگ (اپوزیشن) یہی حرکتیں کرتے رہیں گے۔
وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے مصطفیٰ نواز کھوکھر کی کیمروں سے متعلق ٹوئٹر پر شیئر کردہ تصویر پر اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ تصویر میں نظر آنے والا کیمرہ ممکنہ طور پر سی سی ٹی وی کیمرہ ہے۔ لیکن سیکرٹری سینیٹ کو اس دعوے کی تحقیقات کرنی چاہیے۔
Appears more like a CCTV cable,spy cameras are far more sophisticated Seceratay Senate should look into this claim https://t.co/JFmynURhtB
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) March 12, 2021
‘آئین میں خفیہ ووٹ کا ذکر ہے خفیہ کیمروں کا نہیں’
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے سینیٹ ہال میں کیمروں کے برآمد ہونے کے معاملے پر حکمراں جماعت اور اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
مریم نواز نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ "آر ٹی ایس اور ڈسکہ دھند کے بعد سینیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے آخری جنگ ہار چکے ہیں۔ سپریم کورٹ سے منہ کی کھائی، آئینی ترمیم میں ناکام رہے، صدارتی آرڈیننس ردی کا ٹکڑا بن گیا تو خفیہ کیمروں والے مستری لے آئے۔ آئین میں خفیہ ووٹ کا ذکر ہے خفیہ کیمروں کا نہیں!”
آر ٹی ایس اور ڈسکہ دھند کے بعد سینیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے آخری جنگ ہار چکے۔ سپریم کورٹ سے منہ کی کھائی، آئینی ترمیم میں ناکام رہے،صدارتی آرڈینینس ردی کا ٹکڑا بن گیا تو خفیہ کیمروں والے مستری لے آئے۔ آئین میں خفیہ ووٹ کا ذکر ہے خفیہ کیمروں کا نہیں! ووٹ چورو شرم کرو اور کرسی چھوڑو!
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) March 12, 2021
انہوں نے کہا کہ آج عوام پوچھ رہے ہیں کہ سینیٹ کے الیکشن میں کیمرے کس نے لگائے۔ پارلیمنٹ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فلم عوام کے سامنے رکھی جائے جس کے بعد عیاں ہو جائے گا کہ کیمرے کس نے لگائے۔
پارلیمنٹ میں لگے کیمروں کی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست
حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن نے پارلیمںٹ ہاؤس میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست کی ہے۔
لیگی رہنما احسن اقبال نے اپنے ایک ٹوئٹ میں درخواست کی کاپی شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے کیمروں کی گزشتہ 24 گھنٹوں کی فوٹیج کو محفوظ بنایا جائے تاکہ خفیہ کیمرے لگانے والے ملزمان کا پتا لگایا جا سکے۔
Application given to Secretary National Assembly to secure a copy of CCTV footage of Parliament House for last 24 hours to find out culprits behind installation of spy cameras in Senate Hall and to ensure security of data. pic.twitter.com/mqcwsHH3I2
— Ahsan Iqbal (@betterpakistan) March 12, 2021
کیمروں کے معاملے پر کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان
پریزائیڈنگ افسر سید مظفر شاہ نے پولنگ بوتھ سے کیمرے برآمد ہونے کے معاملے کی تحقیقات کے لیے چھ رکنی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔
اُن کے بقول خفیہ کیمروں کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی ہاؤس کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے تین تین سینیٹرز شامل ہوں گے۔
سینیٹ میں پارٹی پوزیشن
تین مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات میں حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے مجموعی طور پر 18 نئی نشستیں حاصل کی تھیں جب کہ پہلے سے سینیٹ میں موجود آٹھ نشستوں کے ساتھ پی ٹی آئی 26 نشستوں کے ساتھ ایوان بالا کی سب سے بڑی جماعت ہے۔
حکومتی اتحادی جماعتیں بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کی 12 نشستیں ہو گئی ہیں جب کہ متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹ میں تین، مسلم لیگ (ق) اور گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈی اے) کی سینیٹ میں ایک ایک نشست ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کو چار آزاد سینیٹرز کی حمایت بھی حاصل ہے۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی 20 نشستوں کے ساتھ ایوانِ بالا کی دوسری بڑی جماعت کے طور پر برقرار ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی سینیٹ میں 18 نشستیں ہو گئی ہیں اور وہ سینیٹ میں پہلے سے تیسرے نمبر پر چلی گئی ہے۔
جمعیت علمائے اسلام نے تین نشستیں حاصل کی ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کی سینیٹ میں دو، دو نشستیں ہیں۔
اپوزیشن اتحاد کو دو آزاد ارکان کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اس طرح سینیٹ انتخاب 2021 کے بعد اپوزیشن اتحاد کے ارکان کی تعداد 52 ہو گئی ہے اور اسے حکومتی اتحاد پر چھ ارکان کی برتری حاصل ہے۔


