گلے میں جوسر لٹکانے کی خواہش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس طرح ہر فوجی سپاہی کی خواہش ہوتی ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد گاؤں میں اسے صوبیدار صاحب بلایا جائے اسی طرح ہر ہومیوپیتھک معالج کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے ڈاکٹر پکارا جائے۔ اس لئے ہر ہومیو کلینک پر معالج کے اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھا ہوا ہوتا ہے، بلکہ میڈیکل ڈاکٹروں کی ہومیو معالجین کے ساتھ سب سے بڑی لڑائی یہی ہے کہ ہومیو معالج ڈاکٹر نہیں ہوتے، پھر ساتھ ڈاکٹر کیوں لکھتے ہیں۔

پچھلی رات کو سلیم صافی کے ٹی وی شو ’جرگہ‘ میں ایک ہومیو معالج کے گلے میں سٹیتھیسکوپ دیکھ کر یہی احساس ہوا۔ یہ حضرت تو حقیقی ہومیو معالج تھے، اور شاید اٹلی سے آن ائر تھے، میں نے تو ایسے حقیقی ڈاکٹر بھی دیکھے ہیں، جن کی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ ان کو ڈاکٹر سمجھیں۔ جس کی خاطر وہ نماز پڑھنے کے لیے مسجد جاتے ہوئے بھی، سٹیتھیسکوپ گلے میں لٹکا کر جاتے ہیں۔ ایسا کرنا ایک بالکل فطری انسانی کمزوری ہے، ایسا انسان کسی نہ کسی وجہ سے خود کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہے اور اسی برتری کے اظہار کے احساس کمتری میں مبتلا ہوتا ہے۔

یہ بالکل ایسا ہے جیسے آرمی سے ریٹائر کردہ کیپٹن اور میجر، اپنے ناموں کے ساتھ عمر بھر کیپٹن اور میجر (ریٹائرڈ) لکھتے رہتے ہیں۔ اگرچہ آرمی سے ریٹائرڈ کردہ کیپٹن اور میجر، بشرطیکہ ڈسپلنری مسائل کی وجہ سے نہ نکالے گئے ہوں، اپنے پیشے کے نالائق ترین لوگ ہوتے ہیں، جو کسی نہ کسی طریقے سے آرمی افسر تو بن جاتے ہیں لیکن آگے دو قدم چلنے کے قابل نہیں ہوتے۔ آرمی کے اندر یہ لوگ ایسے ہوتے ہیں جس طرح پرائمری سکول کا نالائق ترین سفارشی استاد ہوتا ہے۔ پاکستان ویسے تو بنجر ہے لیکن ریٹائرڈ آرمی افسران کے سلسلے میں کسی نخلستان سے کم نہیں۔ لوگ بھلے ان کو پاکستان کی بدقسمتی سمجھے یہ خود کو اس ملک پر احسان سمجھتے ہیں۔ تبھی تو ریٹائرڈ کیپٹن اور میجر دفاعی ماہرین کی شکل میں بعض نیوز چینلز پر ماہرانہ رائے تک دیتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

خود نمائی پر مبنی یہ احساس کمتری صرف شخصیات تک محدود نہیں، بعض پورے خاندان اس امتیازانہ بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اچھا خاصہ چاچا بھتیجے بھتیجیوں کے لیے انجینئرنگ کرنے کے بعد انجنیئر صاحب ایس ڈی او صاحب اور ایکسین صاحب بن جاتا ہے ورنہ ناراض ہوتا ہے۔ دور رہائش پذیر بھانجے بھانجیاں مہمان بننے سے پہلے نئے عہدے اور خطاب کی مناسبت سے باقاعدہ ماں سے تازہ ترین بریفننگ لیتی ہیں۔ اگرچہ ڈاکٹر انجینئر کے مقابلے میں معاشرے میں آسانی سے اپنی پہچان پیدا کر لیتا ہے۔

بات شروع ہوئی تھی سٹیتھیسکوپ والے ہومیو معالج سے اور پہنچی میجر ریٹائرڈ صاحب اور وہاں سے ایکسین چاچا تک۔ ممکن ہے ریٹائرڈ کیپٹن اور میجر صاحب، آرمی سے ہماری محبت کا غلط فائدہ اٹھا رہا ہو، یا شاید ہمیں ڈرانے کے لئے وہ ایسا لکھتا ہو کیونکہ میجر جو ہوئے۔ یا شاید اس کی ٹوپی میں بس یہی ایک نمایاں پر ہوتا ہے۔

پختونخوا کے دوسرے بڑے شہر میں، کبھی ایک مشہور ڈاکٹر ہوا کرتے تھے، نام میں کیا رکھا ہے۔ ان کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے نے ان کی گدی اور مریض دونوں سنبھال لیے ۔ ممکن ہے ابھی بھی وہ اپنے باپ کے نام والے بورڈ کے نیچے اپنی پریکٹس کرتا ہو۔ ڈاکٹر کا بیٹا خود بھی ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھا۔ اس ڈاکٹر کے ڈاکٹر بیٹے کی دو خواہشات بڑی نمایاں تھیں، مقامی روایتی معاشرے میں آج سے کوئی دس پندرہ سال پہلے، پینٹ پہننا اور سٹیتھیسکوپ گلے میں لٹکا کر بازار میں پھرتے رہنا۔

شاید اسے بھی خود کو ڈاکٹر منوانے کی شدید خواہش تھی۔ ڈاکٹر کی کلینک کے سامنے جوس اور ملک شیک کی دکانیں تھیں۔ ایک دن اسی مرحوم ڈاکٹر کا ڈاکٹر بیٹا سٹیتھیسکوپ گلے میں لٹکائے ملک شیک والی دکان پر آیا، ملک شیک کی دکان کا مالک، ڈاکٹر کا کلاس فیلو تھا، ڈاکٹر نے ملک شیک مانگی تو دکاندار نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ ڈاکٹر ہیں اور میں ملک شیک بیچنے والا، اگر میں آپ کی طرح اپنا جوسر گلے میں لٹکا کر بازار میں پھروں گا تو لوگ مجھے پاگل کہیں گے، لیکن آپ بازار میں سٹیتھیسکوپ پہن کر سمجھتے ہیں کہ لوگ آپ کو ڈاکٹر کہیں گے۔

ڈاکٹر دکاندار کو بے عزت کرتے ہوئے، ملک شیک پیئے بغیر کلینک واپس چلا گیا۔

نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم احتجاجی سیاست اور اتحادی احتجاجوں میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔ وہ روایت پسند شخصیت اور مرنجان مرنج سیاستدان تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ اگر کبھی خود بھی صدر یا وزیراعظم بن گئے تو مختلف سیاست دانوں کی اتحاد بنا کر اپنی حکومت کے خلاف احتجاج کریں گے۔

جس طرح اچھا باؤلر ضروری نہیں کہ اچھا بیٹسمین بھی ہو اسی طرح بعض سیاست دان صرف احتجاجی سیاست ہی کر سکتے ہیں۔ وہ جو تقریریں مطالبے اور وعدے حکومت ملنے سے پہلے کرتے ہیں حکومت ملنے کے بعد بھی وہی کرتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی اپنی اس ’خوبی‘ کا اقرار خود بھی کر لیتے ہیں کہ حکومت کرنا بڑا مشکل ہے بندہ کس کس کی سنے کس کس کو راضی کرے؟ جس کا آسان الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ مخالفت کرنا آسان ہے حکومت کرنا مشکل، با الفاظ دیگر میں حکومت مخالف ہوتا تو اچھا تھا۔

انڈہ دینا مشکل ترین کام ہے ناشتہ کرتے ہوئے انڈے کو اچھا یا برا کہنا آسان کام ہے۔ سینیٹ کے انتخابات جیتنے ہوں یا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے، ثابت ہوا آپ کو اس میں کمال حاصل ہے۔ آپ سیاست کے سارے گر سیکھ چکے ہیں وہ بھی جس کو دوسرے بروئے کار لے آئیں تو بقول آپ کے کرپشن ہے۔ سیاست کے سارے گرو خاک چاٹتے رہیں، ساری طاقتیں آپ کے کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑی ہوں، کوئی مخالف نہ ہو، سارے اخبارات اور ٹی چینلز آپ کے حق میں رطب اللسان ہوں، سارے صابر شاکر، حسن نثار، سمیع ابراہیم، اسد کھرل، ارشاد بھٹی، ہارون الرشید اپکو ڈیگال ثابت کرنے میں جتے ہوں، بھاری بھرکم اشرفی یا لاکھوں فالورز کا سیلیبریٹی طارق جمیل آپ کو خلیفہ عصر کہدے، شہباز گل، فردوس عاشق اعوان، فیاض الحسن چوہان یا علی محمد خان کی تقاریر سن کر آپ خود بھی خود کو وہی سمجھنے لگیں جو وہ آپ کو باور کراتے ہیں۔ جب تک کہ آپ کو حکومت کرنی نہیں آئے گی، جب تک کہ خلق خدا آپ کو اپنی دعاؤں میں شامل کرنا شروع نہ کردے یہ سب محض سامریت ہے جو اپنی تمامتر طلسماتی جولانیوں کے باوجود محض واہمہ ثابت ہو گی۔

مان لیں کہ آپ حقیقی وزیراعظم ہیں، مان لیں کہ لوگ کسی چوہان گل یا عاشق اعوان کی درفنطنی سے متاثر نہیں ہوتے، وہ اپنے بجھتے ہوئے چولھوں اور کم ہوتی ہوئی قوت خرید سے متاثر ہو رہے ہیں۔ آپ کو سیاست دان سمجھ کر ووٹ دیے گئے تھے کوئی منتقم مزاج جلاد سمجھ کر نہیں۔ بدعنوانی کے میدان میں آپ ناکام ہیں بلکہ خود انتخابات کے دوران وہی کچھ کرتے رہیں حکومت چلانے میں بھی آپ خود کو ناکام ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یقین کرلیں، آپ ہی وزیراعظم ہیں آپ ہی ان سب چیزوں کے ذمہ دار ہیں، آپ کو کیوں بشری بیگم کی یاد دہانی کی ضرورت پڑتی ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 53 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani

Leave a Reply