شیطان از شفیق الرحمان


”افوہ!“ شیطان نے اچھلتے کودتے ہوئے کہا، ”غضب خدا کا! یہ مجھے گدگدیاں کون کر رہا ہے۔“ اور بے تحاشا چھلانگیں لگانے لگے۔

”اور یہ میرے کان میں چیخیں کون مار رہا ہے؟“ شیطان چلا کر بولے، ”اور یہ پردے کے پیچھے سے اونٹ کیوں جھانک رہا ہے؟“

اور کمرے میں ہلچل مچ گئی۔ شیطان نے مجھے اشارہ کیا اور میں نے چپکے سے بجلی بجھا دی۔ اب جو دھما چوکڑی مچی ہے تو الاماں! سب کے سب کمرے سے باہر نکل آئے اور برآمدے میں کھڑے ہو گئے۔ ذرا سی دیر میں لوگ اپنے اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔ ہم پہلی منزل کے برآمدے میں کھڑے تھے۔ وہ مولانا بھی ساتھ تھے اور نیچے جھانک رہے تھے۔ غالباً انتظار تھا انہیں کسی کا۔ اتنے میں ایک ٹانگہ گزرا، مولینا چلا کر بولے، ”بھئی ٹھہرنا تمہارا ٹانگی خالہ ہے کیا؟“ ادھر ٹانگے والے نے سنا ہی نہیں۔ مجھے بڑی ہنسی آئی، لیکن شیطان نہایت سنجیدگی سے بولے، ”قبلہ! اگر آپ یوں فرماتے تو بہتر تھا۔ کہ تمہاری خالہ ٹانگی ہے کیا؟“

مولانا جھینپ گئے۔ انہوں نے جان بوجھ کر تھوڑا ہی کہا تھا، یونہی منہ سے نکل گیا۔ ویسے وہ ڈرے ہوئے تھے۔ ٹانگے کا انتظار ہوتا رہا۔ شیطان نے مولانا سے پوچھا، ”کیوں صاحب آپ کی بجی میں کیا گھڑا ہے؟“

”بارہ بجنے والے ہیں۔“ وہ بولے۔
”میرے خیال میں اب چلنا چاہیے۔ سڑک پر ٹانگہ ضرور مل جائے گا۔“ اور ہم تینوں نیچے اترنے لگے۔

”قبلہ ان سیڑھیوں کے متعلق بھی ایک پر اسرار قصہ ہے، جسے میں اس اندھیرے میں سنانا نہیں چاہتا۔“ اور مولانا اور بھی آہستہ آہستہ اترنے لگے۔

”اجی آپ تو ہجے کر کر کے اتر رہے ہیں۔ ذرا جلدی کیجیے۔“ شیطان بولے۔
”ویسے ہی ذرا۔ چکنی سیڑھیاں ہیں۔ کہیں۔“ وہ کہنے لگے۔

”جی ہاں! واقعی! سیڑھیاں اترتے چڑھتے وقت ضرور خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ پرسوں ہی کا ذکر ہے کہ میں جلدی جلدی زینے سے اتر رہا تھا۔ یکلخت جو ایک پھسلی سے سیڑھا تو دور تک سیڑھتا ہوا چلا گیا۔“

شیطان کو روپوں کی سخت ضرورت تھی۔ میرے پاس آئے، مہینے کی آخری تاریخیں تھیں۔ میں اپنا جیب خرچ اور سکالرشپ وغیرہ سب ختم کر چکا تھا۔ یہ طے ہوا کہ حکومت آپا ہمیشہ امیر رہتی ہیں، ان سے ادھار لیے جائیں۔ شیطان حکومت آپا کے پاس گئے اور بولے، ”ذرا باغ میں چلیے آپ سے کچھ کہنا ہے۔“ وہ متعجب ضرور ہوئیں۔ باغ میں پہنچے۔ وہاں شیطان نے چٹکی بجائی اور بولے، ”ارے! وہ تو وہیں کمرے میں کہنا تھا۔“ اب پھر کمرے میں پہنچے۔ وہاں جاکر کچھ دیر سوچتے رہے، پھر کہنے لگے، ”میں بھی کیسا خبطی ہوں! در اصل وہ بات صرف چھت پر کہی جا سکتی ہے۔“ میں یہ سارا تماشا دیکھ رہا تھا۔ مختصر سی بحث کے بعد دونوں چھت پر پہنچے۔ وہاں جاکر شیطان نے التجا کی کہ اگر وہ بات دالان میں سنائی گئی تو بہتر رہے گا۔ اور حکومت آپا مچل گئیں۔ خیر! دالان میں پہنچے۔

”اب میں یہاں سے ہرگز نہ ہلوں گی۔“ انہوں نے کہا۔ شیطان نے سرگوشی کی، ”تم ان دنوں بہت اچھی معلوم ہو رہی ہو۔“ اور حکومت آپا فوراً بولیں، ”روپے در اصل میرے پاس بھی نہیں ہیں۔“ شیطان بولے، ”یقین کرو کہ تم بہت ہی اچھی معلوم ہو رہی ہو۔“ وہ بولیں، ”یقین کیجیے کہ میں اس وقت بالکل قرض نہیں دے سکتی۔“

شیطان نے جلدی سے کہا، ”قرض کون مسخرہ مانگتا ہے۔ میں تو صرف یہ کہنا چاہتا تھا کہ تم پرسوں سے بہت حسین لگ رہی ہو۔ فقط پرسوں سے!“

اسی طرح دیر تک الٹی سیدھی ہانکنے کے بعد حکومت آپا کو یقین دلا دیا کہ واقعی یہ سچ کہہ رہے ہیں۔ وہ شرما گئیں اور آہستہ سے بولیں، ”کیا اچھا لگ رہا ہے آخر؟“

”خدا جانے کیا اچھا لگ رہا ہے، لیکن پرسوں سے میری حالت مخدوش ہے۔ محض پرسوں سے!“
”پرسوں کیا بات تھی ایسی؟“ وہ اور بھی شرما گئیں۔

”پرسوں جب تم اپنے کمرے میں بیٹھی بسور رہی تھیں تو بس اس وقت تم مجھے بہت ہی اچھی لگیں۔ میں اسی انتظار میں رہا کہ تم روتی کب ہو، لیکن جب ایک آنسو بھی نہ نکلا تو میری آرزوؤں کا خون ہو گیا۔ کاش کہ تم بھوں بھوں کر کے روتیں۔ خیر اگلی مرتبہ جب کبھی رونے کا پروگرام ہو مجھے ضرور بلانا۔“

اب تک ہمیں پتہ ہی نہ چل سکا کہ رضیہ ہر وقت کس کے متعلق سوچتی رہتی ہے۔ ویسے ہمیں یہ یقین تھا کہ اسے کسی نہ کسی کا خیال ضرور رہتا ہے۔ میری اور شیطان کی یہی بحث رہتی۔ وہ عجیب عجیب حرکتیں مجھ سے کرواتے۔ ایک روز بولے، ”رضیہ کو مونچھیں پسند ہیں، مونچھیں رکھ لو۔“ میں نے رکھ لیں۔ پھر بتایا، ”اسے برابر کی مونچھیں پسند نہیں، ایک طرف کی بڑی ہو دوسری طرف کی چھوٹی ہو۔“ میں نے کچھ روز اپنی ہنسی اڑوائی۔ پھر کہنے لگے۔ اسے مونچھیں پسند ہی نہیں۔ چنانچہ صاف کرا دی گئیں۔

ایک دن مجھے رضیہ کو اس کی کسی سہیلی کے ہاں چھوڑنے جانا تھا۔ شیطان نے مشورہ دیا، ”خوب اچھے سے کپڑے پہن کر جانا، رضیہ کے ساتھ چلو گے۔ شان رہے گی۔“ میں پوچھ بیٹھا کہ رضیہ کو کس قسم کا لباس پسند ہے؟ کہنے لگے، ”تم اسی وقت جاکر سرخ رنگ کی پتلون پہن لو اور سبز رنگ کا کوٹ۔ زرد رنگ کی ٹائی، براؤن جوتے، نیلی قمیص اور فاختئی رنگ کا رومال۔ جاؤ ابھی پہن کر آ جاؤ۔“ اور جب میں اور رضیہ ساتھ ساتھ چل رہے تھے تو جو بھی راستے میں ملتا وہ نہ صرف آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر مجھے گھورتا، بلکہ دیر تک مڑ مڑ کر دیکھتا جاتا۔ آخر رضیہ سے نہ رہا گیا، ”یہ آپ کو سوجھی کیا تھی؟“

”کیا؟“
”یہ لباس کیسا پہن آئے ہیں؟ بالکل ٹیکنی کلر میں رنگے ہوئے ہیں۔“

ایک دن شیطان نے نہایت لا جواب تجویز سوچی کہ ایک ڈراما سٹیج کیا جائے جو میرے نام سے مشہور کیا جائے۔ انتظام سارا شیطان کریں گے۔ تجویز معقول تھی۔ رضیہ پر تھوڑا سا رعب جمایا جا سکتا تھا۔ پورے مہینے بھر کی تیاریوں کے بعد ہم نے ایک رومان انگیز ڈراما تیار کر لیا۔ اب ڈرامے کے نام کا سوال آیا تو شیطان بولے، ”اس کا نام ’بے گناہ اونٹ‘ ٹھیک رہے گا۔“

”لیکن اس کا پلاٹ تو رومانی ہے اور اس میں اونٹ کہیں بھی نہیں آتا۔“

”آج کل لوگ ایسے اچھوتے خیالات پر تو جان چھڑکتے ہیں۔ یہ بہترین نام ہے۔ ویسے اور نام بھی ہیں مثلاً مفلس عاشق۔ یا پریم کا جادو۔ یا!“ اور میں فوراً مان گیا۔

”اچھا! اب اس کا عرف ضرور ہونا چاہیے۔ عرف کے بغیر تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ ابھی میں نے ایک نہایت غم ناک اور درد انگیز رومانی افسانوں کی کتاب پڑھی ہے۔ جس کا نام تھا، ’آنسو اور ستارے‘ عرف ’لاش نے شرارت کی۔‘ اس عرف نے مجھ پر اس قدر اثر کیا کہ میرے آنسو نکل آئے۔

”تو پھر رکھ لو عرف۔ کیا رکھو گے؟“
”میرے خیال میں تو یوں ٹھیک رہے گا، ’بے گناہ اونٹ‘ عرف ’آبیل مجھے مار‘ ۔“
”لیکن اس میں بیل بھی کہیں نہیں آتا۔“
”پھر وہی باتیں کیں تم نے۔“ شیطان نے ڈانٹا، اور میں مان گیا۔

مجھے شہزادہ بنایا گیا۔ شیطان نے اپنا اصلی پارٹ کرنا قبول کر لیا، یعنی وہ شیطان بنے۔ ایک صاحب پریوں کی شہزادی بنائے گئے اور ان کی حجامت اس بری طرح کی گئی کہ چہرہ کھرچ دیا گیا۔ آس پاس کے بیشتر معزز حضرات مدعو کیے گئے۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ ایک یار جنگ بہادر صاحب تشریف لا رہے تھے۔ ان کی آمد باعث فخر تھی۔ کلب میں ایک بہت بڑے ہجوم کے سامنے پردہ اٹھا۔ میں ایک اندھیرے باغ میں کودا۔ وہاں جلدی سے پریوں کی شہزادی پر عاشق ہوا۔ پھر چاند کو طلوع ہونا تھا، اور مجھے ایک درد انگیز تقریر کرنی تھی۔ اب میں عاشق ہو کر چاند کا انتظار کر رہا ہوں۔ ادھر چاند ہے کہ نکلتا ہی نہیں۔ آخر تنگ آ کر میں نے بغیر چاند کے تقریر شروع کردی۔ اتنے میں یکلخت چاند طلوع ہوا اور بڑی تیزی سے آسمان (سٹیج) کو عبور کرتا ہوا دوسری طرف چلا گیا۔ ایک قہقہہ پڑا۔ لیکن میں نے تقریر جاری رکھی۔ اب چپکے سے چاند پھر نکل آیا اور میں نے ایک گھٹنے کے بل جھک کر داہنا ہاتھ بڑھا کر کچھ کہنا شروع کیا ہی تھا کہ جو دیکھتا ہوں تو چاند دوسری طرف پہنچ چکا تھا۔ اب جو اس طرف منہ کرتا ہوں تو چاند ادھر آ گیا۔ غرض کہ میری اور چاند کی خوب آنکھ مچولی ہوئی۔

اسی طرح ایک نہایت خوشنما سین پر یکلخت سارے قمقمے بجھ گئے اور جب دوبارہ جلے تو سارا مزا کرکرا ہو چکا تھا۔ اب جو پردے کی مصیبت شروع ہوئی تو میں جھنجھلا اٹھا۔ جب کہیں اچھا سا سین آیا، دھڑام سے پردہ گر گیا اور لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کردیں۔ خیر بڑی مصیبتوں کے بعد انٹرول ہوا۔ اب شیطان سٹیج پر آ کر فرماتے ہیں، ”خواتین و حضرات! میں ڈرامے کے پروڈیوسر (میرا نام لے کر) کے متواتر اصرار پر ان کی طرف سے جناب ببر یار جنگ بہادر صاحب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ سٹیج پر تشریف لا کر حاضرین کو ایک ٹھمری یا دادرا سنائیں۔ نیز ہماری طبلچی بہت ہشیار ہے۔ خواہ کیسی ہی راگنی وہ چھیڑیں، ساتھ چل نکلے گا۔“ حاضرین دم بخود رہ گئے اور وہ یار جنگ بہادر صاحب مع اپنے کنبے کے فوراً اٹھ کر چلے گئے۔ اتنی فرصت ہی نہ تھی کہ میں شیطان سے کچھ کہتا۔

پردہ اٹھا۔ ذرا سی دیر میں شیطان کا پارٹ شروع ہونا تھا۔ اب جو انہیں ڈھونڈتے ہیں تو وہ غائب ہوچکے تھے۔ بڑی پریشانی ہوئی۔ طے ہوا کہ جلدی سے ایک اور شیطان بنایا جائے۔ سین یوں تھا کہ پریوں کی شہزادی باغ میں ٹہل رہی ہے اور اسے ایک گستاخ قہقہہ سنائی دیتا ہے۔ وہ چونک کر کہتی ہے۔ میں خوب سمجھتی ہوں کہ تو شیطان ہے اور مجھے ڈرانا چاہتا ہے، لیکن میں تجھ سے ہرگز نہیں ڈروں گی۔ یہ کہہ کر وہ ایک گانا گاتی ہے۔ قہقہہ نقلی شیطان سے لگوایا گیا۔ ہیروئن نے اپنے فقرے کہہ دیے۔ یکلخت ایک دھماکا ہوا۔ سٹیج کی چھت سے ایک شعلہ سا تڑپا اور دھم سے کوئی عجیب الخلقت چیز کودی۔ جس کا رنگ سبز تھا۔ آنکھوں کی جگہ دو چنگاریاں دہک رہی تھیں۔ دو چمکیلے سینگ تھے۔ نکیلے کان اوپر کو اٹھے ہوئے تھے۔ نہایت ہیبت ناک شکل تھی۔ ہیروئن نے ایک دل دوز چیخ ماری اور بے ہوش ہو گئی۔ ہم سب حیران رہ گئے۔ اب جو غور سے دیکھتے ہیں تو یہ اصلی شیطان یعنی روفی تھے جو اپنا میک اپ خود کر کے آئے تھے۔

ہیروئن اس قدر ڈری ہوئی تھی کہ اس نے ایک عجیب بے ڈھنگی سر میں غلط گانا شروع کر دیا، ”رس کے بھرے تورے نین۔“ اس کا ترنم بالکل انگریزی موسیقی معلوم ہو رہا تھا۔ شیطان نے نہایت ہیبت ناک آواز میں ہنسنا شروع کر دیا اور بے شمار بچے چلا چلا کر رونے لگے۔ جو بچہ روتا اسے گھر بھیج دیا جاتا۔ اب جو ڈراؤنی ایکٹنگ شیطان نے شروع کی ہے تو حاضرین پر سناٹا طاری ہو گیا۔ ایک ایک کر کے سب خواتین چلی گئیں۔ غرض کہ شیطان نے دل کھول کر دھماچوکڑی مچائی۔ آخر میں تو یہاں تک نوبت پہنچ گئی کہ انہوں نے بلاوجہ خود ساختہ فقرے بولنے شروع کر دیے اور ہر سین میں سٹیج پر آنا شروع کر دیا، خواہ وہ ان کا پارٹ ہو یا نہ ہو۔ پھر وہ سین آیا جس میں شیطان کو جادو کے منتر سے ہلاک کرنا تھا۔ میں نے منتر کئی مرتبہ پڑھا لیکن شیطان ٹس سے مس نہ ہوئے۔

میں نے چپکے سے کہا، ”اب مر بھی جاؤ۔“ پرامپٹر نے بھی کہا، ”مر جائیے روفی صاحب۔“ سٹیج کے پیچھے سے آواز آئی، ”مر جائیے قبلہ۔“ لیکن وہ پھر بھی نہ مرے۔ آخر میں نے غصے سے کہا، ”مرتے ہو یا نہیں؟“ شیطان زور سے بولے، ”نہیں مرتے۔“ اور لوگ ہنسنے لگے۔

”اچھا تو یہ بات ہے؟ اٹھوں پھر؟“ میں سچ مچ اٹھنے لگا تھا۔ پھر خیال آیا کہ شہزادوں کی شان کے شایاں نہیں کہ معمولی سے شیطان پر ہاتھ اٹھائیں۔ چنانچہ میں نے تالی بجائی۔ چند سپاہی آ گئے، ان سے کہا، ”لے جاؤ اس شیطان کو گرفتار کر کے قتل کر دو۔“

”جہنم میں بھیج دو۔“ حاضرین میں سے کسی نے نعرہ لگایا۔
”ہاں قتل کر کے جہنم میں بھیج دو۔“
”نہیں جاتے ہم۔“ شیطان نے اپنے لمبے لمبے نکیلے ناخن دکھاتے ہوئے کہا۔

”اچھا تو پھر۔ لا حول و لا قوۃ!“ میں نے زور سے کہا۔ اور شیطان یکلخت اچھلے اور چھلانگ مار کر نہ جانے کہاں غائب ہو گئے۔

اس کے بعد مجھ پر چاروں طرف سے بوچھاڑ ہوئی۔ سب کچھ میرے ذمے منڈھ دیا گیا۔ شیطان صاف بچ گئے۔ حکومت آپا نے صاف صاف کہہ دیا کہ میں کچھ خبطی سا لڑکا ہوں ورنہ اس قسم کی حرکتیں کبھی نہ کرتا۔ اور یہ بھی کہا کہ ڈرامے کے دوران میں رضیہ کو گھور رہا تھا۔ لیکن رضیہ کے متعلق پتہ نہ چل سکا کہ وہ کس قدر ناراض ہوئی۔ کچھ روز بہت پریشانی رہی۔ پھر حکومت آپا کی سالگرہ پر ایک دعوت ہوئی۔ ان کی سہیلیاں آئیں۔ بزرگوں نے شمولیت سے عمداً پرہیز کیا۔ میں اور شیطان بھی شریک تھے۔ سب کے سب حکومت آپا کی الل ٹپ باتیں سن رہے تھے اور برداشت کر رہے تھے۔ وہ اپنی کار کا ذکر بار بار کر رہی تھیں۔ جج صاحب چاہتے تو اچھی خاصی کار لے سکتے تھے، لیکن نہ جانے انہیں اس فضول سی موٹر سے کیا دلچسپی تھی جو اس پر بری طرح فریفتہ تھے۔ ادھر ان کا سارا کنبہ اسی چیز پر لٹو تھا۔ لیکن ہمیں وہ زہر دکھائی دیتی تھی۔

آخر شیطان نے آہستہ سے کہا، ”دیکھو حکومت آپا اگر اب تم نے اپنی کار کے متعلق ایک لفظ بھی کہا تو!“ لیکن ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ بدستور اپنی کار کے قصیدے پڑھتی رہیں۔ اب شیطان اٹھ کھڑے ہوئے اور سب متوجہ ہو گئے۔ یہ گلا صاف کر کے بولے، ”خواتین و حضرات! آج میں چند الفاظ اس چیز کے متعلق کہنا چاہتا ہوں جسے غلطی سے کار کہا جاتا ہے۔ جو قطعی طور پر ’بے کار‘ ہے۔ اس میں جب تک چند سٹول، کرسیاں اور مونڈھے نہ رکھے جائیں یہ چلتی نہیں (وہ کار بہت ہی لمبی تھی۔ ) اور جب تک بیس پچیس آدمی نہ بیٹھیں، اپنی جگہ سے نہیں ہلتی۔ آپ اسے پٹرول سے ہرگز نہیں چلا سکتے۔ جب تک اس میں مٹی کے تیل، سرسوں کے تیل اور دیگر چیزوں کا ایک خاص مرکب نہ ڈالا جائے یہ نہیں چلے گی۔ آپ اسے پہاڑ پر چڑھائیں تو فوراً چڑھ جائے گی، لیکن نشیب پر رک جائے گی اور ہرگز نیچے نہیں اترے گی۔ لہٰذا کچھ پتہ نہیں کہ یہ چلتی کب ہے اور ٹھہرتی کب ہے۔ اپنی مرضی کی مالک ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5