عمیرہ احمد کا ناول ’ایمان، امید اور محبت‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


امان، امید اور محبت ” کو ہم علامتی (Symbolic) ناول کہہ سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے اس میں اپنے کرداروں کے ناموں ( ایمان اور امید ) کو علامتی طور پر پیش کیا ہے۔ اس ناول کے ذریعے مصنفہ نے ہمیں یہ پیغام دیا ہے کہ اگر انسان اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہے تو خدا سے اس کی امید کبھی ختم نہیں ہوتی اور طویل آزمائشوں کے بعد بالآخر انسان پر اچھا وقت ضرور آتا ہے۔ وہ اپنی مشکلات پر قابو پا لیتا ہے۔ مصنفہ کے بقول انہوں نے ہمیں زندگی کے رنگ اس زاویے سے دکھانے کی کوشش کی ہے جہاں سے وہ خود دیکھتی ہیں۔

اب کہانی کی جانب بڑھتے ہیں۔ میجر عالم ایک رات بڑی خاموشی سے دنیا کو خیر باد کہہ گئے۔ ان کے ایک دوست کے بیٹے جہاں زیب کے ساتھ امید کی نسبت بچپن سے ہی طے کر دی گئی تھی، دونوں بہت خوش تھے۔ دونوں گھرانوں کے تعلقات بھی آپس میں بہت گہرے تھے۔

باپ کی وفات کے بعد امید کو تعلیم کو خیرباد کہنا پڑا۔ بی اے کرنے کے بعد اس نے کمپیوٹر کے کچھ کورسز کیے اور ایک فرم میں بطورکمپیوٹر آپریٹر کام کرنے لگی۔ وہ لاہور شفٹ ہو کر ایک ہوسٹل میں رہنے لگی تھی۔ جہانزیب بیرون ملک سے تعلیم مکمل کر کے وطن واپس آ گیا اور اکثر امید سے ملنے لگا۔ امید کو یہ بات بہت کھٹکی کہ جہانزیب کافی حد تک آزاد خیال ہو چکا تھا اور امید کو ہوسٹل سے باہر ملنے کے لئے ضد کرنے لگا تھا مگر امید اس کے لئے تیار نہ تھی۔

وہ مذہبی خیالات کی مالک لڑکی تھی اور ان حدود کو جانتی تھی جو مذہب شادی سے پہلے جوان مرد اور عورت پر لگاتا ہے۔ امید کی اس ہچکچاہٹ کو دیکھتے ہوئے جہانزیب شادی کی تاریخ طے کر دیتا ہے۔ لیکن شادی سے کچھ دن پہلے وہ پھر اچانک آ جاتا ہے اور امید کو اپنے ساتھ باہر لے جانے کی ضد کرتا ہے۔ امید کے انکار پر وہ غصے میں آ کر شادی سے انکار کر دیتا ہے۔ امید کے لئے یہ بہت صدمے کی بات تھی، وہ جہانزیب سے بہت محبت کرتی تھی مگر اللہ کے احکامات سے بھی ڈرتی تھی۔

با لآخر اس نے اللہ کے احکامات کی خاطر محبت قربان کر دی۔ اس نے اپنے آپ کو فرائض کی انجام دہی میں زیادہ مصروف کر لیا۔ اگلے چند سالوں میں اس کی چھوٹی بہن کی شادی ہو گئی اور دونوں بھائی تعلیم مکمل کر کے ملازمت کرنے لگے۔ امید کی فرم بند ہونے لگی تو اس نے ایک فاسٹ فوڈ چین میں نئی جاب کر لی۔ ایک دن وہاں اس نے جہانزیب کو کسی لڑکی کے ساتھ دیکھا مگر وہ اس کے سامنے نہ آئی۔ وہیں پر امید کی ملاقات ایک غیر ملکی سے ہوئی جو بڑی شستہ اردو بولتا تھا، وہ امید کو پسند کرنے لگا اور شادی کی پیشکش کر دی مگر امید گھبرا گئی اور ملازمت چھوڑ کر اپنے گھر راولپنڈی واپس آ گئی۔

گھر آ کر بھی اس کی ذہنی پریشانی ختم نہ ہوئی۔ ایک دن اس کی والدہ کے پاس چند خواتین اسی غیر ملکی شخص جس کا نام ڈینیئل ایڈگر تھا، اور جو اب مسلمان ہو کر اپنا نام ایمان علی رکھ چکا تھا، کا رشتہ لے کر آئیں۔ وہ لوگ کئی مرتبہ آئے مگر امید ہر مرتبہ انکار کرتی رہی، وہ کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر تھی۔ ایک دن اس کے بھائی کے ہمراہ ایک مشہور سکالر ڈاکٹر خورشید ان کے گھر آئے۔ امید کی ملاقات ان سے ہوئی تو انہوں نے کہا کہ آج ان کو ایک ایسی لڑکی سے ملنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے کہ جس کی خاطر کوئی اپنا مذہب تبدیل کر کے ایمان قبول کر لے۔

امید بڑی تلخی سے بولی کہ وہ کسی نام نہاد مسلمان سے ہر گز شادی نہیں کرے گی۔ ڈاکٹر خورشید بولے کہ کیا ہم سب بھی نام نہاد مسلمان نہیں ہیں؟ جن کے اعمال و افعال اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ جو ساری زندگی صرف اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہیں کہ انہیں مسلمان گھرانے میں پیدا کر دیا گیا۔ ورنہ اگر دین کے لئے قربانی دینے کا وقت آئے تو ایسے مسلمانوں کی تعداد بہت کم رہ جاتی ہے۔ ایمان نے جواب دیا کہ میں نے تو اپنے دین اور ایمان کی خاطر سر پر تانی ہوئی چھتری کو چھوڑ کر دھوپ میں پیدل چلنا قبول کیا ہے۔

ڈاکٹر خورشید بولے، ”اللہ خود پر کسی کا کوئی احسان نہیں رکھتا، اگر آپ نے اس کی رضا کے لئے کوئی چیز چھوڑی ہے تو وہ آپ کو اس سے بہتر چیز سے نوازے گا۔ دین کے لئے کیا گیا کوئی سودا خسارے کا سودا نہیں ہوتا، اور دنیا میں ہر چیز کا متبادل ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب مزید فرماتے ہیں کہ اللہ انسان کی تقدیر اپنی مرضی سے بناتا ہے، اسے کیا ملنا ہے اور کیا نہیں ملنا، اس کا فیصلہ بھی وہ خود کرتا ہے۔ اللہ کے لئے کیے جانے والے عمل پر فخر کی بجائے آپ کو پچھتاوا ہو رہا ہے اور یہ پچھتاوا شر سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے جو انسان کے نیک اعمال کو تباہ کر دیتا ہے۔

اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے کیے گئے اعمال پر شکر اور فخر کرنا چاہیے کیونکہ اس نے آپ کو آزمایا اور آپ نے ثابت قدمی اور استقامت دکھائی۔ ہمارے دین کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں کوئی چھوت چھات نہیں، نئے اور پرانے مسلم کا بھی تصور نہیں ہے۔ ہمیں بھی انصار مدینہ کی طرح نئے آنے والوں کوگلے سے لگانا چاہیے۔ امید نے ایمان علی کی محبت کو پرکھنے کے لئے ایک شرط رکھ دی کہ وہ ایک سال بعد شادی کرے گی اور اس دوران ایمان علی اسلامی تعلیمات پر کاربند رہے گا، دونوں ایک دوسرے سے ملیں گے اور نہ کوئی رابطہ رکھیں گے۔ ایمان علی نے شرط تسلیم کر لی۔ امید کا خیال تھا کہ وقت کے ساتھ وہ سب کچھ بھول جائے گا مگر ایک سال پورا ہونے کے بعد ایمان نے کارڈ بھیج کر امید کو اس کا وعدہ یاد دلایا تو وہ راضی ہو گئی اور یوں دونوں کا نکاح سادگی سے ہو گیا۔

ایمان علی (جس کا پرانا نام م ڈینیئل ایڈگر تھا) کے والدین جرمنی میں رہتے تھے، وہ امید کو ان سے ملوانے جرمنی لے گیا۔ وہاں وقت اچھا گزرا مگر ایک واقعے کی وجہ سے وہ ایمان علی سے بدگمانی کا شکار ہو گئی۔ دراصل امید کے ذہن میں جہانزیب اب بھی کہیں نہ کہیں موجود تھا اور اس کی شخصیت دو حصوں میں بٹ چکی تھی۔ جرمنی میں قیام کے دوران ایک دن وہ دونوں کسی شاپنگ مال میں گئے۔ ایمان علی کسی کام کا کہہ کر کچھ دیر کے لئے باہر نکلا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا اور کافی دیر تک واپس نہ آیا تو امید گھبرا گئی۔

وہ شاپنگ مال سے باہر نکل گئی اور کافی مشکل میں پھنس گئی۔ اسے لگا کہ ایمان علی جان بوجھ کر اسے وہاں اکیلا چھوڑ کر بھاگ گیا تھا۔ لیکن درحقیقت ایسا نہیں تھا، ایمان علی نے بالآخر اس کو ڈھونڈ لیا اور اس کو ساری حقیقت بھی بتائی لیکن امید کا دل اس کی طرف سے صاف نہ ہوا۔ پاکستان واپس پہنچ کر امید کو معلوم ہوا کہ وہ ماں بننے والی ہے تو اس کے اندر خوشگوار تبدیلی آ گئی۔ ایمان علی اس کا بہت خیال رکھ رہا تھا اور بچے کے لئے بہت سی خریداری بھی کر رہا تھا۔

اسی دوران ایمان علی کو آفس کے کسی کام سے دوبارہ جرمنی جانا پڑا، وہاں جا کر ایک ہفتہ تک وہ باقاعدگی سے فون پر رابطے میں رہا، پھر یہ رابطہ منقطع ہو گیا۔ کافی دن گزر جانے کے بعد امید نے پریشانی کے عالم میں آفس والوں سے رابطہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں پر ایمان علی کی بجائے اس کا نام ڈینیئل ایڈگر ہی تھا اور وہ استعفٰی دے کر جا چکا ہے۔ اسے یہ بھی بتا گیا کہ سفر میں اس کے ہمراہ ایک غیرمسلم لڑکی بھی تھی۔

جب امید نے اس کے والدین کے گھر پر رابطہ کرنے کی کوشش کی کی تو وہ بھی نہ ہو سکا۔ وہ ایک مرتبہ پھر بدگمانیوں اور غلط فہمیوں کا شکار ہو گئی۔ اسی دوران اس کا بھائی ملنے آیا، امید کو پریشان اور اکیلا دیکھ کر وہ اسے اپنے ساتھ راولپنڈی لے گیا۔ امید کو ایمان علی سے نفرت ہونے لگی اور وہ اللہ سے دل ہی دل میں شکوہ کرنے لگی کہ اس نے کیوں ایک یہودی اور دھوکہ باز شخص کو اپنی زندگی میں شامل کر دیا تھا۔

پھر ایک دن ایمان علی اچانک لوٹ آیا۔ اور امید کو منا کر گھر لے آیا۔ وہ بار بار امید سے معافی مانگتا رہا، مگر امید نے اسے دل سے معاف نہ کیا اور بے رخی کا رویہ اپنائے رکھا۔ امید کے دل میں بد گمانی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ اس نے ایمان علی کو ختم کرنے کا ارادہ کر لیا۔ اس نے ایمان علی کا ریوالور دراز سے نکال کر سٹڈی میں کتابوں کے پیچھے چھپا دیا تاکہ جب ایمان وہاں مطالعہ کر رہا ہو تو چپکے سے جا کر اس کا کام تمام کر دے۔

ایک دن ایمان علی کو ریوالور کی ضرورت پڑی اور دراز میں نہ پا کر اس نے امید سے پوچھا مگر اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ وہ پریشانی کے عالم میں سٹڈی میں چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد امید نے جا کر دیکھا کہ ایمان علی نماز پڑھ رہا تھا اور ریوالور کسی طرح سے وہ ڈھونڈ چکا تھا جو کہ میز پر رکھا ہوا تھا۔ امید نے غصے کی حالت میں ریوالور اٹھا کر ایمان علی پر تان لیا۔ نماز ختم ہونے کے بعد پچھلے دنوں میں ہونے والے واقعات کے بارے میں دونوں کے درمیان مکالمہ ہوا۔

اس دوران امید نے ایمان علی کو زخمی کر دیا ، اس کے ماتھے سے خون بہنے لگا۔ امید نے کہا کہ وہ ایمان کو اور اپنے آپ کو ختم کر دینا چاہتی ہے۔ تب ایمان نے وضاحت کی کہ اس نے مصلحت کے تحت امید کو پیشانی سے بچانے کے لئے جھوٹ بولا تھا۔ وہ پہلے جرمنی گیا، پھر ایک جنازے میں شرکت کے لئے امریکہ گیا۔ اپنے ماں باپ کو نیا گھر خرید کر دیا، وہ لوگ پرانا گھر بیچ کر نئے گھر میں شفٹ ہو گئے۔ ایمان کے اپنی کمپنی والوں کے ساتھ کچھ اختلافات تھے۔

وہ ایک یہودی کمپنی میں ایک بڑے عہدے پر کام کر رہا تھا اور مصلحتاً وہاں پرانا نام ہی ظاہر کیا ہوا تھا۔ ایمان علی نے مزید بتایا کہ اس نے اپنے ڈاکیومنٹس نئے مسلم نام سے اپلائی کر رکھے ہیں اور پرانی یہودی کمپنی میں استعفٰی دے کر نئی ملٹی نیشنل مسلم کمپنی میں ملازمت حاصل کرنے کے لئے انٹرویو دینے لئے اسے جرمنی اور امریکہ جانا پڑا۔ یہ صرف ایک اتفاق تھا کہ اسی فلائٹ میں میرے ہمراہ ایک غیر مسلم لڑکی بھی سفر کر رہی تھی جسے تم نے میری گرل فرینڈ سمجھ لیا۔

پھر امریکہ میں قیام کے دوران سڑک پر پیدل چلتے ہوئے دو لوگوں نے مجھ پر حملہ کیا اور میرا والٹ چھین لیا جس میں میرا شناختی کارڈ بھی تھا، میرے سر پر چوٹ لگی اور میں بے ہوش ہو گیا۔ ہسپتال والے میرا شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو میرے بارے میں اطلاع نہ دے سکے۔ تم اس دوران پنڈی جا چکی تھی ، وہاں کا نمبر بھی والٹ میں تھا جو کہ کھو چکا تھا۔ میں نے اپنے والدین کو مسلمان ہونے کے بارے میں بتایا، وہ مجھ سے بہت ناراض ہو گئے اور انہیں اپنی شکل دوبارہ کبھی نہ دکھانے کا کہہ دیا۔

میں بہت تکلیف میں تھا مگر میں نے سوچا کہ حضرت محمدﷺ کو بھی تو سارے رشتہ داروں نے اسلام کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا مگر بعد میں سب کچھ مل گیا تھا۔ میں پچھلے ڈیڑھ ماہ سے بہت آزمائشوں سے گزر رہا ہوں۔ اسلام انسان کو ایسی آزمائشوں سے گزارتا ہے جن کے بعد یا تو وہ کندن بن جاتا ہے یا پھر راکھ کا ڈھیر۔ مجھے فخر ہے کہ میں راکھ کا ڈھیر نہیں بنا بلکہ ابھی تک ثابت قدم ہوں۔ میری پروموشن ہونے والی تھی اور میں کمپنی کا ریجنل ہیڈ بننے والا تھا مگر میں نے اسلام کو چن لیا اور استعفٰی دے دیا۔ مجھے کوئی پچھتاوا نہیں۔ میں سوچتا تھا کہ کیا ہوا جو تمہیں مجھ سے محبت نہیں، لیکن ہو تو سکتی ہے۔ میری محبت، روجہ، ایثار اور قربانی تمہارا دل جیت لیں گی۔ مگر تم نے ہمیشہ جہانزیب کو میرے اور اپنے درمیان رکھا۔ اس شخص نے تمہارے اندر بے یقینی کا بیج رکھا جسے تم نے سینچ سینچ کر تن آور درخت بنا ڈالا۔

اگر تمہیں میرے مسلمان ہونے پر ابھی بھی یقین نہیں ہے تو تمہیں مجھ سے الگ ہو جانا چاہیے۔ میں بھاگ کر کہیں نہیں جاؤں گا۔ میں بس تمہیں خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔ میرا ہونے والا بچہ اگر تم اپنے پاس رکھنا چاہو تو رکھ سکتی ہو اور اگر تم دوسری شادی کرنا چاہو اور بچہ نہ رکھنا چاہو تو میں اسے واپس لے آؤں گا۔ امید کی آنکھوں سے غلط فہمیوں کے سارے پردے اٹھ چکے تھے اور وہ شرمندہ ہو رہی تھی۔ ایمان کا خون بہتا جا رہا تھا۔

اس نے امید سے کہا کہ مجھے محبت کے وجود پر یقین نہیں تھا شاید اسی لئے مجھے محبت ہو گئی، اور اس محبت نے مجھے یقین اور ایمان دیا۔ جبکہ تم نے محبت کے وجود پر یقین کیا مگر اس محبت نے تمہارا یقین اور ایمان تم سے چھین لیا۔ امید ایک دم اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آ گئی تھی۔ اس نے سوچا کہ میں تو کیا کوئی بھی ایمان علی کے ایمان کو کسی کسوٹی پر پرکھنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ اللہ نے ایسے شخص کو میرا مقدر بنایا اور میں آنکھیں بند کر کے دلدل میں اس شخص کے ہاتھ کو تلاش کرتی رہی جو مجھے دلدل کے اندر کھینچ لینا چاہتا تھا۔

امید نے ایمان کو مجسم حالت میں دیکھا۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ خوش قسمت تھا کیونکہ وہ ”منتخب شدہ“ لوگوں میں سے تھا۔ اور اسے فخر ہونے لگا کہ یہ منتخب شدہ شخص اب اس کے مقدر میں تھا۔ وہ بے اختیار آگے بڑھ کر نرم ہاتھوں سے اس کا زخم صاف کرنے لگی۔ ایمان علی کو سکون ملنے لگا لیکن امید کی آنکھوں سے شرمندگی کے آنسو نکل کر ایمان کے چہرے پر گرنے لگے۔

ایک مرتبہ ڈاکٹر خورشید نے ایمان علی سے کہا تھا کہ ہمارا ہر عمل، دوستی، دشمنی، محبت، نفرت اپنے لئے نہیں بلکہ سب اللہ کے لئے ہونا چاہیے۔ ایمان علی نے سوچا کہ اگر میں امید کی ساری خطائیں معاف کر دوں اور ایک مرتبہ پھر اسے یقین اور ایمان کی زمین پر پاؤں جمانے کا موقع دوں تو یہ معافی ہم دونوں کی آزمائش کو ختم کر سکتی ہے۔ امید سوچ رہی تھی کہ ایمان کے شیشے پر کتنی ہی گرد کی تہیں کیوں نہ پڑی ہوں، انہیں صاف کرنے کے لئے صرف ہاتھ پھیرنا پڑتا ہے اور یہ ہاتھ اس محبت کا ہوتا ہے جو ایمان کے ساتھ ہوتی ہے۔

مصنفہ نے محبت، ایمان اور یقین کا آپس میں تعلق بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ محبت چاہے بندوں سے ہو یا اللہ سے، ایمان لانے اور یقین کامل سے ہی بارآور ہوتی ہے۔ لیکن ناول کے اختتام پر قاری یہ سوچتا ہے کہ ایمان علی نے امید کو وضاحتیں دینے میں اتنی زیادہ دیر کیوں کر دی؟ اگر وقت پر وضاحت کی جاتی تو اتنی بد گمانیاں پیدا ہی نہ ہوتیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply