مشرف عالم ذوقی کا ناول ’نالۂ شب گیر‘ کیوں متاثر کن نہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”میں برابری اور آزادی کا قائل ہوں۔ اس لئے برسوں سے ایک ایسی کہانی کی تلاش میں تھا، جہاں اپنے تصور کی عورت کو کردار بنا سکوں۔ اس ناول میں دو کردار ہیں۔ صوفیہ مشتاق احمد ایک خوفزدہ لڑکی کی علامت بن کر سامنے آتی ہے یہاں مجھے ضرورت ایک ایسی عورت کی تھی، جسے صوفیہ مشتاق احمد کے ساتھ مضبوطی کی علامت بنا کر پیش کر سکوں۔ ناہید انصاری کا کردار ایک ایسا ہی کردار ہے کہ جب ناہید کے کردار نے جنم لیا تو میری مشکل آسان ہو گئی۔

نہ وہ نفسیاتی مریضہ ہے نہ پاگل، مگر وہ صدیوں کے کرب اور غلامی سے آزاد ہونا چاہتی ہے۔ کیا یہ آسان ہے! یا صرف ناول اور کہانیوں تک محدود؟ ہم جس معاشرے میں ہیں، وہاں آج بھی عورت کی آزادی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے“ نالۂ شب گیر” صدیوں کی وہ درد بھری موسیقی ہے، جو شب کے بحر ظلمات کا سینہ چیر کر پیدا ہو رہی ہے۔“

یہ الفاظ میرے نہیں بلکہ ناول کے مصنف جناب مشرف ذوقی کے ہیں اور یہیں سے ان کی شعوری کوشش کا سراغ ملتا ہے۔ ہو سکتا ہے جو کردار انہوں نے تخلیق کیے ہیں ، وہ حقیقی زندگی میں موجود ہوں لیکن ان کے کرافٹ نے ان کو تصوراتی بنا دیا ہے۔ ناول بننے کے لیے بھارت کا مشہور جیوتی گینگ ریپ بنیاد بنایا گیا اور پھر دو مرکزی کردار تخلیق کیے اور ان کی نفسیات بھی تخلیق کی گئی ہے۔ اور پھر اس نفسیات کو قاری تک پہنچانے کے لیے کافی تگ و دو اور دوڑ دھوپ بھی کی گئی ہے۔ بعض جگہوں پر یہ کوشش طوالت بھی اختیار کر گئی۔ میں تو اس ناول کا مطالعہ کرتے ہوئے اسی تلاش میں رہا کہ صوفیہ اور ناہید کے معاملات کو جو ”ایلفی“ سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی تھی ، وہ شاید ان کرداروں کی نفسیاتی گرہیں کھولنے کا سبب بنے گی لیکن مجھے اسے تلاش کرنے میں ناکامی ہوئی۔

قرن ہا قرن سے عورت کی مظلومیت کی جو داستانیں ہم سنتے، پڑھتے اور دیکھتے آئے ہیں، یہ ناول ان میں محض ایک اضافہ ہے۔ خیال تھا کہ ناہید کے ہاتھ میں معاملات سدھر جائیں گے لیکن وہ ساری گھٹن، الجھنیں مزید الجھنوں میں تبدیل ہو گئیں۔ ناول پڑھنے سے پہلے جو تبصرے میری نظر سے گزرے ، ان سے تو یوں لگتا تھا کہ نالۂ شب گیر اس صدی کا ایک اہم ناول ثابت ہو گا۔ اس میں کسی نئی عورت کا تصور پیش کیا گیا ہو گا جو مردوں سے کم تر نہیں لیکن ڈھاک کے وہی تین پات۔ جو اماں ملی تو کہاں ملی۔ ہر دو کو ایک کمال یوسف ہی ملا۔ جو نئی سوچ اور فکر و احساس کے در وا ہونے کی توقع تھی وہ بری طرح ناکام ہوئی۔

ناول کی کہانی سات حصوں پر مشتمل ہے۔ مصنف نے کوشش تو کی کہ ہر کہانی کا عنوان معنی خیز اور علامتی ہونے کے ساتھ ساتھ کرداروں کی مختلف کیفیات کو ساتھ لے کر چلے لیکن اس میں گہرائی کی بجائے ایک اتھلا پن اور سطحی سا تأثر ملتا ہے۔ حقوق نسواں اور تحفظ زن کے پس منظر میں جو نفسیات جناب ذوقی نے بننے کی کوشش کی ہے وہ بذات خود الجھ کر رہ گئی ہے۔ ناہید ناز ہو یا صوفیہ مشتاق، اس کی سوچ اور فکر کا دار و مدار پھر مرد ہی ہے۔

ناہید ناز کی بغاوت تو سمجھ میں آتی ہے، انتقام کا جذبہ بھی درست لیکن کمال یوسف سے کیوں؟ اور پھر اسے اس قدر ضدی اور ہٹیلا بنا دیا گیا ہے کہ بغاوت اور انتقام کے جذبے کی بجائے دماغی خلل محسوس ہوتا ہے اور یہ ناہید ناز کو بذات خود ایک ڈریکولا بنا دیتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے؟ کیا یہ تعلق محض انتقام کی خاطر تخلیق کیا گیا ہے اور اگر ایسا ہے تو باغی عورت اور انتقام کی آگ میں جلتی عورت کو باشا کی ماں بنا دینا، کیا ناہید ناز کو جبلت کے ہاتھوں کمزور ظاہر نہیں کرتا۔

ناول میں عورتوں کے مسائل کو ان کی نفسیاتی، سماجی کیفیت کے مطابق پیش کرنے کی شعوری کوشش کے باوجود کہیں کہیں ایسے لگتا ہے کہ صاحب تصنیف خود کردار سے بخوبی واقف نہیں۔ کہانی کا پلاٹ دوہرا ہے۔ ایک کہانی صوفیہ مشتاق احمد کی اور دوسری ناہید ناز کی ہے۔ مصنف کہانی میں کردار کی مانند موجود ہے جو کہانی میں متحرک ہے۔ لیکن جا بہ جا اپنے خیالات کا اظہار بحیثیت مصنف کرتا ہے۔ جس سے کہانی کو روایتی انداز سے ہٹانے کی سعی کی گئی ہے لیکن یہ قاری کے لیے الجھن کا باعث بھی بن جاتی ہے۔ صوفیہ مشتاق کا وحیدہ کی جون میں تبدیل ہو جانا بھی ایک ناقابل فہم بات ہے۔ یہاں ذوقی صاحب کی ناول پر گرفت بہت کمزور لگتی ہے۔

بحر ظلمات، ناول کا یہ حصہ غیر ضروری طور پر طوالت کا شکار ہے۔ اسے مختصر بھی کیا جا سکتا تھا لیکن شاید اس سے ناول کی ضخامت کم ہو جاتی۔ اس کی بجائے اگر ایک حصہ ان اسباب پر مشتمل ہوتا جو پدر سری معاشرے کے ساتھ عورت کی تباہی کا سبب بنے اور پھر موجودہ زمانے کی کموڈیٹی اپروچ تک لایا جاتا تو زیادہ مناسب ہوتا۔

ناول کے تمام کردار، متمول گھرانوں سے ہیں۔ افتادہ بہ خاک گھرانوں میں ایسی خواتین زیادہ تعداد میں ہیں جو زندگی کے تمام جبروں کے علاوہ شوہر یا مرد کا جبر سہتی ہیں۔ مصنف نے ان کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے اور یوں عورت کی آزادی کا یہ جائز فلسفہ محض مڈل کلاس یا اپر مڈل کلاس کا سر درد بن کے سامنے آیا ہے جو کہ نچلے درجے کی تمام خواتین کے ساتھ زیادتی ہے۔

ناول میں جا بجا، غیر ضروری طور پر کتابوں اور مصنفوں کے حوالے بھی دیے گئے ہیں۔ کیا مشرف عالم ذوقی، قاری کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہوں نے اقبال، فرہنگ آصفیہ، سیمون ڈی بوار، دوستوفسکی، ایم جی لیوس، سلویا پاتھ، ایلس ان ونڈر لینڈ، قرۃ العین، ودرنگ ہایئٹس اور ڈائری آف اینے فرینک پڑھ رکھی ہے۔ ان سب کے حوالے بڑے تواتر کے ساتھ ناول میں ملتے ہیں جو اسے ناول کی بجائے تاریخ کی کتاب بنا دیتے ہیں۔

مصنف کا نوٹ اور مصنف کا جوکر ہونے کا اقرار میں نقاد حضرات کے لیے چھوڑتا ہوں کہ میں تو ایک عام سا قاری ہوں۔

اس ناول میں مرد اور عورت کی اپنی اپنی شناخت کے حوالے سے زندگی گزارنے (خاص طور پر رشتہ ازدواج میں بندھنے کے بعد ) کا کانسیپٹ بہت جاندار ہے لیکن صاحب تصنیف کی اپنی ذہنی اپچ نے اسے مجروح کر دیا ہے۔ یہ ناول ”ہر اس لڑکی کے لیے جو باغی ہے اور اپنی شرطوں پر زندہ رہنا جانتی ہے“ شاید کوئی خاص مدد نہ کر پائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply