محبت کا خسارہ


چار حرفوں سے بنا لفظ محبت دل کے چار دھاگوں سے بندھا ہوتا ہے ، اس کے ایک بھی حرف پر اثر پڑے تو دل کے تار متاثر ہوتے ہیں۔ آج مجھے اقرار کر لینے دیں کہ میں مبتلائے محبت ہوں اور اس سے میرا دل متاثر ہے۔ میں محبت کی شدت کا اندازہ ہی نہیں کر پائی۔ محبت کرنے والا پاس تھا تو اس کی محبت کا احساس تک نہ ہو سکا۔ وہ زندگی سے چلا گیا تو زیاں کا احساس ہوا۔ وقت ریت کی طرح ہاتھ سے پھسل جائے تو خالی ہاتھ رہ جانے کے دکھ کا اندازہ ہوتا ہے۔

میں محبوب کے ہوتے محبت کی مٹھاس کو چکھنے سے محروم رہی۔ محبت میں مجبوریوں کا زہر گھولتی رہی۔ محبت کو محبوب سے تقسیم کرنے کی بجائے اس پر دوری کی ضربیں لگاتی رہی، گناہ اور ثواب کی جمع تفریق میں لگی رہی۔ محبوب چلا گیا تو پتہ چلا محبت گناہ یا ثواب نہیں ہوتی، محبت تو من کی خوشی ہوتی ہے اور کوئی نصیبوں والا ہوتا ہے، یہ خوشی جس کا مقدر بنتی ہے اور میں نے خوشی کو ماتم میں بدل دیا۔ گناہ اور ثواب کی ڈوریوں کو سلجھاتے ہوئے محبت کو الجھا دیا۔ سود و زیاں کا حساب لگاتے ہوئے میرے حصے میں صرف نقصان ہی آیا۔ میرا نقصان جو اب کبھی نفع میں نہیں بدلے گا۔ یہ عمر بھر کا زیاں ہے، محبت کا نقصان، عمر بھر کا خسارہ ہے اور لوگ محبت کے خسارے کا دکھ بھی منانے نہیں دیتے۔

کسی نے کہا محبت جسم کی ہوس ہے، محبت چسکا ہے، لیکن یہ ماننے کو میرا دل نہیں چاہا کبھی۔ کیسے مان لوں کہ محبت ہوس ہے۔ محبت تو نشہ ہے، محبت زندگی ہے، اور محبوب زندہ رہنے کی وجہ۔ محبت روح ہے، جسم میں داخل ہو جائے تو جسم نئی تال پر محو رقص ہوتا ہے۔ محبت زندگی سے نکل جائے تو جسم لاش بن جاتا ہے، ایسا لاشہ جسے گدھ نوچیں یا کوئی عقیدت مند دفنا دے، جس کے ساتھ کچھ بھی ہو جائے اس لاش کو فرق نہیں پڑتا۔ بھلا بتاؤ تو جس کے ساتھ سانسوں کی ڈور بندھی ہو اس سے بچھڑ کے جیا کیسے جائے، اس کے بغیر سانس کیسے آئے؟

محبت روٹھ جائے تو انسان اس ٹھہرے پانی جیسا ہو جاتا ہے جس میں بدبو پیدا ہو جائے۔ محبت مجھ سے دور جا رہی ہے اور میں دنیا کے ڈر سے اس کے پاس نہیں جا سکتی۔ میرا محبوب مجھ سے روٹھا ہے، میں اسے منا نہیں سکتی۔ دنیا والے کہتے ہیں محبوب کا نام مت لو، محبت کی بات مت کرو۔ کیا ظلم ہے کہ انسان جس سے محبت کرے، اس کو پکار نہ سکے۔ ظالم لوگ کہتے ہیں کہ محبت کا دکھ جھیل لو، مگر محبت نہ جھیلو۔ کرب میں زندگی گزارو۔دکھ کا سہارا لو، خوشی سے منہ موڑ لو، دکھی ہونے کی منادی کرو اور ہمدردیاں سمیٹتے جاؤ۔ لیکن محبت کا نام بھول کے بھی مت لو۔ اپنے دکھ پر محبوب کے نام کی مہر نہ لگاؤ۔ خود پر محبت کا ٹھپہ لگاؤ تو لوگ جینا مشکل کر دیتے ہیں۔ آہ! دوسروں کی خوشی کو غم میں بدلنے کا ہنر خوب جانتے ہیں لوگ۔ اپنے نقصان اور دوسرے کے فائدے پر سب چیختے ہیں۔

یہاں سب اپنی بولی بولتے ہیں۔ سب ڈھونگی ہیں، سب سوانگ رچا کے بیٹھے ہیں۔ سب فریبی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ سب کو بس اپنی اپنی پرستش کی خواہش ہے۔ یہاں ہر کوئی خدا بننے کی کوشش میں لگا ہے۔ ہر کوئی اپنا فتویٰ دیتا ہے، ہر کوئی اپنا حکم جاری کرتا ہے۔ اندھے بہرے لوگوں میں گونگا کیوں نہیں کوئی؟

یہاں آس پوری کرنے کا دلاسا دیا جاتا ہے، اجر کا فریب دے کر سب چھین لیا جاتا ہے۔ جھوٹی آس لگا کر سچی امید توڑ دی جاتی ہے۔ شاید میں ہی غلط ہوں۔ مجھے اپنی آس کے دامن کو اتنا پھیلانا ہی نہیں چاہیے تھا۔ مجھے کسی دوسرے پہ بھروسا کرنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ مجھے ان لوگوں جیسا ہونا چاہیے تھا، جو وقت کو مٹھی میں بند کر لینے کا ہنر جانتے ہیں۔ مجھے خود پہ بھروسا کرنا چاہیے تھا۔ مجھے آس کا کشکول توڑ دینا چاہیے تھا۔ لیکن میں نے تو اس سے امید لگائی تھی، جس پہ یقین تھا کہ وہ میری آس کبھی نہیں توڑے گا، وہ میرا مان بھی تھا اور میرا ایمان بھی۔

لیکن اس نے میرا یقین ہی توڑ دیا۔ میں حیران ہوں اس نے مجھے آس لگائی کیوں، خود پہ یقین کرنے کا کہا کیوں۔ سچ بتاؤں، کوئی کسی کو کچھ نہیں دیتا سوائے جھانسہ دینے کے۔ اپنے اپنے عقیدے کی بات ہے کہ جو ناممکن ہو اسے ہی تو ممکن بناتا ہے وہ۔ میں نے مانگا تھا اس سے، ہاں پوری شدت سے مانگا تھا، سراپا التجا بن کے، انا کو مار کے، اس کے سامنے خود کو گرا کے، یقین کی انتہاؤں پہ جا کے اس سے محبت مانگی تھی، روٹھے محبوب کے لوٹ آنے کی فریادیں کی تھیں، مناجاتیں کی تھیں۔

اشک بہاتے بہاتے میری آنکھیں بنجر ہو گئیں، مانگتے مانگتے میری آواز رندھ گئی، لیکن اسے میری آنکھ سے بہتا پانی نظر آیا نہ میری کسی فریاد نے اس پہ اثر کیا۔ میری آنکھوں سے اتنا پانی بہا کہ وہ پانی اگر کسی پتھر پہ گرتا تو اس میں بھی شگاف پڑ جاتا۔ لیکن اس پہ میری کسی آہ کا اثر نہ ہوا۔ چلو اچھا ہوا صاحب یہ بھرم بھی ٹوٹا۔ یہ تو پتہ چلا یہاں کوئی نہیں سنتا۔ مان ٹوٹ جانے کا دکھ اپنی جگہ لیکن اگر یہ ٹوٹ جائے تو ایک آسانی یہ ہوتی ہے کہ انسان عمر بھر کے انتظار کی اذیت سے نکل آتا ہے۔

میں بھی اذیت سے نکل آئی ہوں۔ یقین کی لکیر ٹوٹ جائے تو پھر انسان کا سفر آسان ہو جاتا ہے، انسان جھوٹے بہلاووں سے آزاد ہوجاتا ہے۔ لوگ ساری زندگی خدا اور اس کے بندوں کے بہلاووں میں رہتے ہیں۔ صرف اسی فکر میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں خدا ناراض نہ ہو جائے، کسی طرح اس کے بندے خوش رہیں۔ کبھی کبھی لگتا ہے یہ دونوں صرف الیوژن ہیں۔ دونوں کچھ نہیں دیتے سوائے آزمائشوں کے۔

خدا صبر کے حکم اور اجر کے بہلاوے کے سوا کچھ نہیں دیتا۔ آس توڑ کر صبر کے اجر کی نوید سناتا ہے، وہ اجر جو شاید پھر کسی کام نہ آئے اور یہ ظالم بے حس دنیا صرف انسان کی بے بسی اور اس کے تڑپنے کا تماشا دیکھتی ہے۔ کبھی کبھی شدت سے دل کرتا ہے کہ خدا کے نام کی زنجیر گلے سے اتار پھینکوں اور دنیا کے نام کا طوق توڑ ڈالوں۔ اس دنیا سے نکل کر کسی نئی دنیا کو دریافت کروں، کسی نئے جہاں میں قدم رکھوں اور پھر دیکھوں کیا ہوتا ہے ۔ رسک تو لوں، قدم تو اٹھاؤں۔ ایک کو راضی کرنے کے چکر میں دوسرے کو گنوایا ہے اور اب یہ عالم ہے کہ دونوں ہی پاس نہیں۔

میں نے محبت میں خسارے کا دکھ جھیلا ہے۔ میں کرب میں مبتلا ہوں۔ میں خود کو بہلاتے بہلاتے تھک چکی ہوں، اب ایک لمبی نیند چاہتی ہوں۔ میں اپنے محبوب کے بغیر جینا نہیں چاہتی، محبت حسب نسب سے نہیں نصیب سے ملتی ہے، جس زندگی میں محبت نہ ہو وہ زندگی موت سے بھی بدتر ہے۔ میں اس روز روز کے مرنے سے نجات چاہتی ہوں۔ ایک ہی جھٹکے میں موت آ جائے تو آسانی رہتی ہے، موت کا حسن بھی قائم رہتا ہے۔ لیکن یوں تڑپ تڑپ کر سسک سسک کر جینا تو موت سے بھی نفرت کی وجہ بن جاتی ہے۔

کیا ہوا میں اپنی مرضی سے جی نہیں سکی، اپنی مرضی سے مر تو سکتی ہوں۔ لیکن مجھے خدشہ ہے کہ میرے محبوب کی طرح موت کو بھی مجھ سے دور نہ کر دیا جائے، وہ نہ ہو موت کو بھی میرے لیے حسرت بنا دیا جائے۔ لیکن کوشش تو کرنا ہو گی، قدم تو اٹھانا ہو گا، رسک تو لینا ہو گا۔ میں من کی خوشی پانا چاہتی ہوں، خود کو مات دے کے محبوب جیتنا چاہتی ہوں۔ اپنی مٹھی میں دبی کوئی چیز اس نے نگلی تھی۔ محبت کا ماتم کرتے کرتے مہ پارہ نے ایک نئے جہاں میں قدم رکھا تھا۔

Facebook Comments HS