شہرِ تمنا کے آٹھویں دروازے کے دربان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں جب پیدا ہوا تھا تو مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ میں اپنے بدن میں رہتا ہوں اور اس شہر کے کئی دروازے ہیں۔

مجھے اپنے بدن کے پہلے دروازے کا اس وقت پتہ چلا جب میری اماں نے بڑی محبت سے مجھے گلے لگایا اور اپنے پستان سے مجھے دودھ پلایا۔ پھر مجھے میری اماں نے بتایا کہ اسے منہ کہتے ہیں۔ یہ شہر کا پہلا دروازہ تھا۔

جب میں ذرا بڑا ہوا تو مجھے میری اماں نے رات کو سونے سے پہلے لوری سنائی۔ میں ان کی سریلی آواز سے بہت محظوظ ہوا۔ ان کی لوری میں کتنی اپنائیت تھی۔ پھر مجھے پتہ چلا کہ میرے بدن کے شہر کے دو اور دروازے ہیں جنہیں لوگ کان کہتے ہیں۔

جب میں ذرا اور بڑا ہوا تو مجھے میرے ابو سیر کے لیے لے جاتے اور مجھے گولیاں ٹوفیاں اور آئس کریم لے کے دیتے۔ جب میرے ابو مجھے شفقت سے گلے لگاتے تو مجھے ان کی خوشبو آتی جو مجھے بہت بھاتی۔ میرے ابو نے مجھے بتایا کہ وہ خوشبو میرے دو نتھنوں سے میرے جسم میں داخل ہوتی ہے۔ اس طرح میرا اپنے جسم کے شہر کے دو اور دروازوں سے تعارف ہوا۔

جب میں کچھ اور بڑا ہوا تو میرے ابو نے مجھے سمجھایا کہ مجھے پیشاب اور پاخانے کے لیے غسل خانے جانا چاہیے اور صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔ اس طرح مجھے اپنے جسم کے دو اور دروازوں سے آگاہی ہوئی۔

مجھے دھیرے دھیرے اندازہ ہوا کہ میرے جسم کے شہر کے سات دروازے ہیں۔ کچھ دروازوں سے شہر میں کچھ چیزیں اندر آتی ہیں اور کچھ دروازوں سے شہر کی کچھ چیزیں باہر جاتی ہیں۔

جب میں جوان ہوا تو میں ایک مہ جبیں کی زلف کا اسیر ہو گیا۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ ایک مقناطیس ہو اور میں اس کی طرف کھنچا چلا گیا۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس کے من میں بھی میرے قریب آنے کی اتنی ہی خواہش تھی جتنی میرے من میں تھی۔

ایک شام جب ہم بغلگیر ہوئے تو اس نے مجھے بتایا کہ اس کے بدن کے شہر میں ایک آٹھواں دروازہ بھی ہے جس سے اسے ہر ماہ حیض آتا ہے۔ اس نے کہا کہ اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو میں تمہیں ایک بچے کا تحفہ دے سکتی ہوں۔

یہ بات سن کر پہلے میں حیران ہوا پھر پریشان ہوا۔ میں نے سوچا بچے کے تحفے کے بدلے میں ، میں اسے کیا تحفے دے سکتا ہوں۔ چنانچہ میں نے اسے شاعری کے ، موسیقی کے، رقص کے ، پینٹنگز کے، ناولوں کے اور فلموں کے تحفے دیے۔

پھر میں اپنی محبوبہ کے رشک و حسد میں گرفتار ہو گیا۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ ایک ایسی دیوی ہو جو خدا کی طرح انسان تخلیق کر سکتی ہے۔ اس کے عظیم تحفے کے آگے میرے سب تحفے حقیر ہیں کمتر ہیں بے جان ہیں۔

اور اس کا عظیم تحفہ اس کے عورت کے بدن کے شہر کے آٹھویں دروازے کی کرامت تھی جو مجھ میں مرد ہونے کے ناتے ناپید تھا۔

اگر بیسویں صدی کا ماہر نفسیات سگمنڈ فرائڈ زندہ ہوتا تو میں اس کی خدمت میں دست بستہ عرض کرتا کہ کہیں آپ سے بھول تو نہیں ہو گئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ عورت PENIS ENVY کی وجہ سے احساس کمتری کا شکار ہو جاتی ہے۔ کہیں اصل حقیقت یہ تو نہیں کہ جب مرد VAGINA ENVY کا شکار ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے احساس کمتری کو کم کرنے کے لیے عورت کی جنسی زندگی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے بدن کے شہر کے آٹھویں دروازے کے دربان بن جاتے ہیں۔

میں سگمنڈ فرائڈ سے مؤدبانہ عرض کرتا کہ اپنے تجربے ، مشاہدے، مطالعے اور تجزیے سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ صرف وہ مرد اور عورتیں ایک دوسرے سے رشک و حسد نہیں کرتے جو صنفی تضاد سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کے دوست بن جاتے ہیں اور پھر اپنی انسان دوستی پر فخر کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 412 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply