سائنس دان خواتین، جن کا کام صنفی تعصب کی نذر ہوا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ زیادہ پرانی بات نہیں، 2015ء کا واقعہ ہے۔ جب فزیالوجی کے نوبل پرائیز یافتہ انگریز سائنس دان ٹم ہنٹ نے سیول، ساؤتھ کوریا میں ہونے والی ورلڈ کانفرنس آف سائنس جرنلسٹس کے کنوینشن میں ایک ایسی بات کہی جس پہ کافی شور مچا۔ انہوں نے کہا، ”میں بتاؤں مجھے لڑکیوں سے کیا مسئلہ ہے۔ تین باتیں ہوتی ہیں جب وہ لیب میں ہوتی ہیں۔ آپ ان سے عشق میں مبتلا ہو جاتے ہیں، وہ آپ سے محبت کرنے لگتی ہیں اور جب آپ ان پہ تنقید کرتے ہیں تو وہ رونے لگتی ہیں۔“

ان کے مطابق سائنس دانوں کو صنفی طور پہ غیر مخلوط لیب میں کام کرنا چاہیے۔ اس طرح مرد ”عورتوں کے راستہ میں نہیں ہوں گے۔“ ان کی اس بات پہ سائنس جرنلزم کی ڈائریکٹر کونی سنٹو لوئس نے کہا ”واقعی کیا یہ نوبل پرائز یافتہ سائنس دان سمجھتے ہیں کہ ہم وکٹورین عہد میں رہ رہے ہیں۔“

عورتوں کے ساتھ تمسخرانہ اور تحقیر آمیز رویے کی وجہ سماج میں ان کی دوسرے درجہ کی حیثیت تھی۔ مثلاً مارچ 1860ء میں تھامس ہنری ہکسلے جو ڈارون کے بل ڈاگ کے نام سے مشہور ہیں، نے اپنے ایک دوست کو خط لکھا کہ ”عورتیں ارتقاء کے گڑ یا (ابتداء) اسٹیج میں ہیں۔“ 1660ء میں قائم ہونے والی دی رائل سوسائٹی میں سائنس دان عورتوں کی (ماسواء ملکہ وکٹوریہ) ممبرشپ قانوناً منع تھی۔ حتیٰ کہ 1911ء تک میں بھی میری کیوری کی ممبر شپ کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ حالانکہ اسی سال ان کو کیمسٹری کا دوسرا نوبل پرائز ملا تھا۔ (پہلانوبل انعام 1903ء میں فزکس میں ملا تھا) عورتوں کو اس سوسائٹی کی ممبر شپ کا حق اس کے قائم ہونے کے 285سال بعد 1945ء میں ملا۔ خواتین کو ان کی صلاحیتوں کے باوجود عموماً تدریس، نرسنگ اور سیکرٹری کا ہی کام ملتا۔

ہم لاکھ اکیسویں صدی میں سانس لے رہے ہوں ، یہ تو معاشرتی سوچ اور انسانی رویے ہیں جو سماج کی ثقافتی اور تمدنی ترقی کی چغلی کھاتے ہیں۔ آج اگر ہم سائنسی ترقی میں عورتوں کی ساتھ ہونے والے رویہ پہ بات کریں تو یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ ماضی میں سائنس کے شعبہ میں ذہین اور محنتی سائنس دان خواتین کو جس طرح صنفی امتیاز اور جنسی تفریق کے صحرا عبور کرنا پڑا وہ آسان نہیں تھا۔ ان کے پاؤں میں پڑے چھالے ہی آج کی سائنس دان خواتین کی راہوں کے چراغ بنے۔ ماضی میں ان خواتین کے تحقیقی کام کو یکسر نظرانداز کیا گیا اور سراہنا تو دور کی بات، ان کے تحقیقی کام کو مردوں نے اپنے کھاتے میں ڈال کر صرف تحسین ہی نہیں بلکہ گراں قدر ”نوبل پرائز“ بھی حاصل کر لیا۔ جو 1901ء سے جاری سائنسی کمیونٹی کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔

خواتین سائنس دانوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ اور تفریقی عمل جس میں مرد سائنس دانوں نے عورتوں کے تحقیقی کام کا کریڈٹ خود لے کر انہیں یکسر نظر انداز کیا، اسے میٹیلڈا ایفکٹ (Matilda effect) کا نام دیا گیا ہے۔ میری کیوری (جنہیں دو بار نوبل پرائز ملا) اور چند گنی چنی خواتین کو چھوڑ کے آج بھی لوگ سائنس دان خواتین کا نام سوچتے ہوئے سر کھجانے لگتے ہیں۔ حالانکہ تاریخ ایسی بے شمار شاندار سائنس دان عورتوں کے کارناموں سے بھری ہوئی ہے کہ جن کا اہم تحقیقی کام صنفی امتیاز یا میٹیلڈا ایفکٹ کا شکار ہوا۔ ہم محض چند کا ذکر کریں گے جن کے ساتھ متعصبانہ صنفی برتاؤ رکھا گیا۔

1۔ روزالنڈ فرینکلن:

25 جولائی 1920 میں لندن پیدا ہونے والی برطانوی بائیو فزیسٹ کا کام جینیاتی مادے یعنی ڈی این اے کی کی شناخت اور دریافت میں اہم تھا۔ اس نے فزیکل کیمسٹری میں آکسفورڈ سے پی ایچ ڈی کی اور کنگ کالج لنڈن میں موویز والکنز کے ساتھ ڈی این اے کی ساخت پہ کام کیا۔ وہ مشاق ایکس رے کرسٹوفر گرافر تھی۔ اس کا ڈیٹا ڈی این اے کے ڈبل ہیلیکس یعنی رسی کی طرح دھری اور بل کھائی ہوئی ساخت کی شناخت میں کلیدی تھا۔

روزالنڈ فرینکلن

اس کی ایکس رے کیمرہ سے لی ہوئی تصاویر خاص کر 51 B امیج یا فوٹوگراف خاص کر اہم ہے۔ گو اس نے اپنے کام کو کسی کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی تھی لیکن کیمبرج کے جیمز واٹسن اور فرانسس کرک نے اس کی اجازت کے بغیر اپنے تحقیقی مقالے میں روزالینڈ کو کریڈٹ دیے بغیر اس کی تصاویر استعمال کیں۔ 1962ء میں واٹسن، کرک اور والکنز کو فزیالوجی اور میڈیسن کا نوبل پرائز ڈی این اے کی دریافت پہ ملا۔ تاہم اس وقت تک روزانلڈ 37 سال کی عمر میں 1958ء میں کینسر کا شکار ہو کر مر چکی تھی۔ گو نوبل پرائز انتقال کر جانے والے کو نہیں دیا جاتا تاہم کسی مر جانے والے کے کام کا کریڈٹ اسے ضرور دیا جاتا ہے۔ جو افسوس کہ روزلنڈ کو نہیں دیا گیا۔

2۔ نیٹی ماریا اسٹیونز:

7جولائی 1861ء کو پیدا ہونے والی اہم امریکی ماہر جینیات تھی جس نے اپنی زندگی مادہ اور نر بیٹلز (بر نگے) کے مشاہدے پہ صرف کر دی۔ اس کے ان تجربات کی بناء پہ ہی اس بات کا بھی ثبوت ملا کہ مرد اور عورت کی جنس کا تعین مرد کے اسپرم کے اوپر منحصر ہوتا ہے۔ آج بھی معاشرے میں سائنسی تعلیم کے فقدان کے باعث لڑکی کی پیدائش پہ عورتوں کو طلاقیں دے دی جاتی ہیں۔ لیکن ایک سائنس دان عورت نے سو سال قبل ہی مرد کے تولیدی خلیہ میں ایکس اور وائی کروموسوم کا پتہ کیا تھا اور بتایا کہ جنس کا تعین مرد کرتا ہے نہ کہ عورت۔

نیٹی ماریا اسٹیونز

اس کے کام سے پہلے جنس کے تعین کو ماحولیاتی عوامل سے جوڑا جاتا تھا۔ تاہم عورت ہونے کی بناء پہ اس کے کام کو اہمیت نہ دی گئی لیکن کچھ عرصے بعد ، اسی سال نیٹی کے ڈیپارٹمنٹ کے سابق چئیرمین ایڈمنڈ نے اسی دریافت کو اپنے نام سے پیپر میں شائع کیا۔ اس کے اسی کام کو نیٹی کے شعبہ کے چیئرمین نے آگے بڑھایا اور بتایا کی جنس کا تعین کروموسوم کرتا ہے۔ اسے اس پر 1933ء میں نوبل پرائز ملا جبکہ اس وقت تک نیٹی کا 1912ء میں پچاس سال کی عمر میں کینسر میں انتقال ہو چکا تھا۔ اس کی موت پہ سپاس نامہ میں اسے سائنس دان کے بجائے لیب ٹیکنیشن کہا گیا۔

3۔ ایستھر لیڈربرگ:

18دسمبر 1922ء کو نیویارک میں پیدا ہونے ایستھر کا کام بیکٹریا کی جنیات پہ اہم ترین گردانا جاتا ہے۔ اس نے جنیات میں اسٹنفورڈ سے ڈگری لی اور وہیں اس کی ملاقات جوشوا لیڈر برگ سے ہوئی جس کا نام مائیکرو بیالوجی کی دنیا میں مستند تھا۔ دونوں نے شادی کر لی اور وہ دونوں وسکونسن یونیورسٹی چلے گئے جہاں سے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد ایستھر نے اہم ترین کام کیا یعنی بیکٹریا پہ حملہ آور ہونے والے وائرس لمڈا بیکٹیریو فاج کی دریافت کی۔ اس کے علاوہ بھی اس کے اہم کام ریپلیکا پلیٹنگ اور ایفیکٹر کی شناخت ہیں۔ تاہم اس کے کام کا کریڈٹ 1958 میں اس کے شوہر کو نوبل پرائز کی صورت ملا۔

ایستھر لیڈربرگ

4۔ ایلس اگسٹا بال:

 ایلس دسمبر 1892ء میں سیٹل واشنگٹن میں پیدا ہوئی۔ وہ ایفریقن امریکن تھی۔ امریکہ آج بھی نسلی تعصبات سے نبرد آزما ہے۔ اس وقت کا تو سوچنا بھی محال لگتا ہے۔ تاہم اس نے اپنی راہ کی رکاوٹوں کو عبور کیا اور ہوائی یونیورسٹی سے کیمسٹری میں ایم ایس کرنے والی پہلی ایفرو امریکن کا اعزاز حاصل کیا اور پھر کیمسٹری شعبہ کی پروفیسر شپ اختیار کی۔ بطور کیمیا دان اس نے چاؤل موگرا آئل کا خاص کا مشاہدہ کیا جو کوڑے کے علاج کے لیے اچھا تو تھا مگر خام حالت میں اس کا استعمال مشکل تھا۔

ایلس اگسٹا بال

ایلس نے اس کے اہم سود مند کیمیائی جزء کو خالص حالت میں نکال کر علاج کے لیے ممکن بنایا۔ بدقسمتی سے اس کا صرف چوبیس سال کی عمر میں کسی نامعلوم بیماری میں انتقال ہو گیا۔ اس کے کام کا کریڈٹ آرتھر ڈین، جو یونیورسٹی کے صدر تھے، خود لے لیا۔ تاہم اس کی موت کے نوے سال بعد ہوائی یونیورسٹی نے اس کے کام کا اعتراف کیا اور 29 فروری کو ایلس بال ڈے کا اعلان کیا۔

5۔ میری ایننگ:

مئی 1799ء میں انگلینڈ میں پیدا ہوئی۔ وہ فوسلز ڈھونڈنے کی رسیا تھی جو اس کے گھر کے لیے آمدنی کا ذریعہ بھی تھا۔ اس نے ان فوسلز کی مدد سے تاریخ سے پہلے کے جانوروں کا مشاہدہ کیا۔ اور اس کے کام پہ ہی چارلس ڈارون کے نظریہ ارتقاء کی بنیاد پڑی۔ البتہ ایک عورت کی حیثیت سے اس کو سائنس بطور پیشہ اختیار کرنے کی اجازت ملی اور نہ ہی جیولوجیکل سوسائٹی آف لنڈن نے اسے ممبر کا اہل سمجھا۔ اس نے اپنے ایک خط میں لکھا۔ ”دنیا نے مجھے بہت بے رحمی سے استعمال کیا۔ مجھے ڈر ہے اس کی وجہ سے ہی ہر شخص میرے لیے مشکوک بن گیا۔“ نو مارچ 1847ء میں اس کی وفات کے کئی سال بعد اس کے اہم کارناموں کو مانا گیا۔

میری ایننگ

6۔ چئین شنگ وو:

وو 1912ء میں چین میں پیدا ہوئی۔ اس کا شمار دنیا کے بہترین تجرباتی ماہر طبیعات میں ہوتا تھا۔ اسی وجہ سے کولمبیا یونیورسٹی نے اسے 1944ء میں مین ہٹن پروجیکٹ کے تابکاری سے متعلق پروجیکٹ میں شرکت کے لیے بلایا۔ 1950 کی دہائی میں دو طبیعات کے ماہرین Tsing Dao Lee اور Chen Ning Yang نے وو تک رسائی حاصل کی تاکہ وہ اپنے تجرباتی کام کی مدد سے فزکس کے Parity قانون کو رد کر سکے۔ وو نے تابکار کوبالٹ کو استعمال کرتے ہوئے اس قانون کو جو پچھلے تیس سالوں سے مستعمل تھا، ردکیا لیکن1957ء میں ان سونونگم سائنس دانوں کو تو نوبل انعام ملا مگر چئین شنگ وو کو نہیں۔ اس کا انتقال1997ء میں نیویارک میں ہوا۔

ویسے تو بہت سی اور سائنس دان خواتین کے ناموں اور کارناموں کی تفصیل ہے لیکن اس کو درج کرنا ممکن نہیں۔ عورتوں کی جدوجہد نے اپنے راستوں کے پتھروں کو چنا ہے۔ حق رائے دہی کے لینے کی جدوجہد سے آج تک میں اپنے حقوق کے لیے عورت مارچ کرنے والی خواتین اور مرد کی کاوشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر کسی بھی طبقے کی حق تلفی ہو رہی ہے اس پر آواز اٹھانا اتنا ہی ضروری ہے جتنا سانس لینا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply