سوشل میڈیا پر اُبھرتے نفرت کے جذبات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل صاحب سے ملاقات کا موقعہ ہی نہیں ملا۔ اپنی متحرک شخصیت کی وجہ سے تاہم ٹی وی سکرینوں پر چھائے رہتے ہیں۔ اندازِ گفتگوانتہائی جارحانہ ہے ۔اکثر ’’تمہیں کہو کہ یہ…‘‘ والا مصرعہ یاد دلادیتا ہے۔یہ سب کہنے کے باوجود اعتراف کرنے کو مجبور ہوں کہ پیر کے دن لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس نے مجھے مزید گھبرادیا ہے۔

’’مزید‘‘ کا لفظ میں نے اس کی وجہ سے استعمال کیا ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کے پُرجوش حامیوں کے درمیان ایک دوسرے کو دلیل سے نہیں بلکہ ’’گھسن مکی‘‘ سے خاموش کروانے کی نئی لہر اس مہینے کی چھ تاریخ کو اسلام آباد میں پارلیمان ہائوس کے باہر شدت سے اُبھرتی ہوئی نظر آئی تھی۔وزیر اعظم صاحب نے اس روزقومی اسمبلی سے اعتماد کا ازسرنوووٹ لینا تھا۔

اپوزیشن جماعتوں نے مذکورہ اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ اپنے بائیکاٹ کا جواز فراہم کرنے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت مسلم لیگ (نون) کے چند رہ نماپارلیمان کے مرکزی دروازے کے باہر ٹی وی چینلوں کو براہِ راست نشریات کی سہولت فراہم کرنے والے احاطے میں تشریف لائے۔

تحریک انصاف کے چند کارکنوں نے مگر انہیں ’’گھیرے‘‘ میں لے لیا۔صحافیوں سے گفتگو کے دوران مسلم لیگی رہ نمائوں پر آوازیں کستے رہے۔ اپنا موقف بیان کرنے کے بعد یہ رہنما پارلیمانی لاجزمیں واپس جانے لگے تو احسن اقبال پر جوتا اچھالا گیا۔مریم اورنگزیب کو دھکے دئیے گئے۔مصدق ملک اور شا ہد خاقان عباسی اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہوئے سلوک سے تلملاگئے ’’حساب برابر‘‘ کرنے کی کوشش کی اور میرا دل گھبرا گیا۔

اس واقعہ کی بابت لکھتے ہوئے عراق،افغانستان اور شام جیسے ممالک کے حوالے دینے کو مجبور ہوگیا تھا۔حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کی قیادت نے مگر اس واقعے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔مجھے گماں ہے کہ 6 مارچ 2021 کے روز ہوئے واقعہ کو سنجیدگی سے لیا جاتا تو شاید لاہور میں شہباز گل صاحب کے ساتھ پیر کے دن نظر آنے والا سلوک نہ ہوتا۔

سیاسی قیادتوں کی جانب سے اسلام آباد والے واقعہ کی بابت برتی بے اعتنائی کے برعکس لاہور ہائی کورٹ کے ان عزت مآب جج صاحب نے جن کے روبرو گل صاحب نے پیش ہونا تھا عدالتی احاطے میں ہوئی بدتہذیبی کے بارے میں شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔گل صاحب پر انڈے اور سیاہی اچھالنے والوں کے خلاف پولیس اور انتظامیہ کو متحرک کیا۔قانونی بندوبست مگر اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم ہوئے معاشرے میں اُبلتے غصے کا حتمی ازالہ فراہم نہیں کرسکتا۔۔ معاشروں ہی کو بحیثیت مجموعی کچھ ’’Red Lines‘‘بہت سوچ بچار کے بعد طے کرنا ہوتی ہیں۔

شہباز گل صاحب ایک ذہین Spin Doctor ہیں۔اپنے ساتھ ہوئی بدسلوکی کے بعد انہوں نے کیمروں کے روبرو دھواں دھار خطاب کیا۔اصرار کرتے رہے کہ وہ اینٹ کا پتھر سے جواب دینے والی جارحیت اختیارنہیں کرنا چاہتے۔اپنے سیاسی مخالفین کو دلیل کے ذریعے سجھانے بجھانے کا رویہ اپنانے کو ترجیح دیں گے۔کاش ان کا طولانی خطاب اس سادہ اور مختصر پیغام کے فروغ تک ہی محدود رہتا۔

کوئی پیغام تشکیل دینے کے لئے گل صاحب جیسے ماہر ابلاغ کو مجھ جیسے عام اور اپنے پیشے میں ہر حوالے سے ناکام رپورٹر کے مشوروں کی ضرورت نہیں۔ بہتر ہوتا کہ ’’درگزر‘‘ والے کلیدی پیغام کو اجاگر کرنے سے قبل وہ اس طولانی تمہید سے اجتناب برتتے جن کے ذریعے انہوں نے مسلم لیگ (نون) کے مبینہ ’’گلوبٹوں‘‘ کو یاد دلانے کی کوشش کی کہ وہ جاٹوں کے ایک جی دار گھرانے کے نمائندہ بھی ہیں۔اپنی ذات پر ہوئے حملے کو گویا انہوں نے ایک سیاسی کارکن ہی نہیں ’’جٹ قبیلہ‘‘ کے خلاف ہوا جارحانہ اقدام بناکر پیش کیا۔ ’’صفدر کی بڈھی‘‘ کو طعنے دئیے۔ شاہد خاقان عباسی کا نام لئے بغیر ’’پہاڑوں کے باسی‘‘ کے لتے بھی لیتے رہے۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد نام نہاد ’’سماجی رابطے‘‘ کے جو ذرائع موبائل فونز کے ذریعے عام شہریوں کی بے تحاشہ تعداد کو میسر ہوئے ہیں وہ لوگوں کے دلوں میں موجود تعصبات کو مزید بھڑکاتے ہیں۔ گل صاحب نے جو خطاب فرمایا وہ تحریک انصاف کے پُرجوش حامیوں نے نہایت مان سے سوشل میڈیا پر وائرل کردیا۔ یہ کالم لکھنے سے قبل منگل کی صبح اپنا ٹویٹر اکائونٹ دیکھا تو وہاں مسلم لیگ (نون) کے حامیوں کی جانب سے چلایا ایک Trend بہت رش لے رہا تھا۔اس کا عنوان بھی دل دہلا دینے والا تھا۔

سوشل میڈیا نفرت کے جو جذبات بھڑکاتا ہے اس کی بابت 2011 سے اس کالم میں مسلسل پریشانی کا اظہار کرتا رہتا ہوں۔برطانیہ میں اس نے Brexit کے نام پر ہوئی تقسیم متعارف کروائی تھی۔دُنیا کی سب سے طاقتور جمہوریت کہلاتے امریکہ میں اس کی بدولت 2021کے آغاز میں ٹرمپ کے جنونی حامیوں کا گروہ اس ملک کی پارلیمان میں در آیا تھا۔سیاسی تقسیم کو بھلاتے ہوئے امریکہ کے بیشتر صحافی اور محقق اس دن کے بعد سے بوکھلائے ہوئے ہیں۔

وہ معاشرہ جو خود کو ’’اظہار رائے‘‘ کی حتمی علامت قرار دیتا رہا ہے اب نہایت درد مندی سے فریاد کررہا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ’’رائے کا اظہار‘‘چندحدود وقیود کے تحت لانے کا بندوبست ڈھونڈا جائے۔ ایسے بندوبست کے دریافت ہونے تک کئی جید ماہرین نفسیات لوگوں کو نہایت فکر مندی سے مشورہ دے رہے ہیں کہ فیس بک اور ٹویٹر جیسے پلیٹ فارموں سے اجتناب کی عادت اپنائی جائے۔کئی افراد ان کے مشورے کے بعد اپنے ذہن کو نارمل یا صحت مند بنانے اور Detox کرنے کے لئے اپنے سوشل میڈیا اکائونٹس بند نہ بھی کریں تو ان سے ’’طویل رخصت‘‘ پر چلتے جاتے ہیں۔

اندھی نفرت وعقید ت کو بھڑکانے کی واحد ذمہ داری تاہم جب محض سوشل میڈیا کے کاندھوں پر ڈالی جاتی ہے تو تاریخ کا عام طالب علم ہوتے ہوئے میں قیام پاکستان کے دوران ہوئے واقعات پر غور کرنے کو مجبور ہوجاتا ہوں۔ان دنوں تو اخبارات کے قاری بھی بہت کم تھے۔بزرگوں سے سنے واقعات اور منٹو کی لکھی کہانیوں کی بدولت وحشت وبربریت کے بے تحاشہ ہولناک پہلو مگر اکثر ذہن میں گردش کرنا شروع ہوجاتے ہیں جو 1947کے دوران ہمارے خطے میں نمودار ہوئے تھے۔برطانیہ کی غلامی میں کئی دہائیوں تک جکڑا انڈیا ایک وسیع وعریض ملک تھا۔’’آزادی‘‘ کے بعد مگر جو بٹوارہ ہوا اس کے دوران پنجاب ہی وہ واحد خطہ تھا جہاں وحشت وبربریت انتہائوں کو چھوتی نظر آئی تھی۔

تحقیق کی ہمیں عادت نہیں۔ہمارے مفکروں اور محققوں نے ہمت دکھائی ہوتی تو شاید پنجابیوں کی نفسیات کے پرتشدد پہلو دریافت کرنے میں آسانی ہوتی۔عبداللہ ملک صاحب ہمارے ایک بہت ہی سینئر صحافی تھے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ انہوں نے غالباََ 1970کی دہائی میں ایک کتاب لکھی تھی جس میں پنجاب کی پرتشددتحاریک کا تفصیلی ذکر ہوا تھا۔

ملک صاحب مگر ماہر نفسیات وسماجیات نہیں تھے۔بنیادی طورپر ایک صحافی کی طرح واقعات کو محض وسیع تر تناظر میں بیان کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی تحقیق مگر یہ سمجھانے میں کامیاب ہوئی کہ انگریز کے مسلط کردہ Steel Frame کے باوجود برطانوی عہد کے پنجاب میں آریہ سماج اور اکالی دل جیسی مذہبی حوالوں سے انتہا پسند تنظیموں نے جنم لیا تھا۔مجلس احرار اور خاکسار تحریک جیسی تنظیمیں ان کے ردعمل میں نمودار ہوئیں۔

ان تمام تحاریک نے مکالمے کے بجائے تشدد یا کم از کم جارحانہ زبان کے استعمال کے ذریعے ہمارے ہاں نفرت وعقیدت پر مبنی تقسیم کو شدید تر بنایا۔ کئی برسوں سے مذکورہ تنظیموں نے جس رویے کو فروغ دیا 1947کے دوران ہوئے واقعات کا سبب ہوا۔

ہمارے سیاسی منظر نامے پر 2011 سے غالباََ ویسے ہی جارحانہ رویے ایک بار پھر حاوی ہونا شروع ہوگئے۔ ہم مگر ان کا بروقت ادراک کرنے سے قاصر رہے۔تدارک کی بابت سوچ بچار ادراک کے بعد ہی ممکن ہوسکتی ہے۔بہتر یہی ہے کہ بروقت تسلیم کرلیا جائے کہ ہمارے ہاں سیاسی تفریق تیزی سے گروہی جنگ کی صورت اختیار کررہی ہے۔اسے ہر صورت قابو میں لانے کی کوشش کرنا ہوگی اور اس ضمن میں پیش قدمی کا فریضہ بنیادی طورپر سیاسی قیادتوں ہی کو نبھانا ہوگا۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *