ماؤ، بہنو، بیٹیو، اپنے آپ سے محبت کیجیے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عائشہ تمہاری موہنی سی صورت دل میں کھب سی گئی ہے۔

میٹھی آواز، تیزی سے پلکیں جھپکاتی، آنسو چھپانے کی کوشش، باپ کو دلاسا دیتی، تقدیر سے گلہ کرتی، دوستوں اور والدین کی محبت پہ ناز کرتی، اپنی ادھوری یک طرفہ محبت کا فسانہ سناتی، اللہ سے مل کر سوال پوچھنے کا عندیہ دیتی، ندی میں کودنے سے چند لمحے پہلے کی عائشہ!

وڈیو ہے یا پدرسری نظام کے منہ پہ ایک زور دار طمانچہ اور ایک ایسا آئینہ جو معاشرے کو اس کی کریہہ بدصورتی پہ پڑا نقاب اتار کے دکھا رہا ہے۔

یقین مانیے، وڈیو دیکھتے ہوئے ہر لمحے ایسا لگا کہ اب کسی بھی وقت دل دھڑکنا بھول جائے گا!

اس جواں عمری میں موت سے ہمکنار ہونے کی اتنی شدید خواہش!

عائشہ! تم نے ماں باپ سے پیار کیا، بہن بھائیوں سے محبت کی، شوہر کو چاہا، اور بے تحاشا چاہا!

تمہارا یہ پیار اچھا لگا، تمہاری محبت دل کے تار چھیڑ گئی۔ تمہاری سادہ اور بے لوث محبت جس نے تم سے خراج تمہاری زندگی کی صورت میں لے لیا۔

وڈیو دیکھ کے سب نے تمہارے شوہر اور سسرال کو برا بھلا کہا۔ تمہاری معصوم صورت پہ کھیلتی دلفریب مسکراہٹ دیکھ کے ہمیں بھی قلق تو ہوا لیکن ساتھ میں ہم تم سے ایک گلہ بھی کرنا چاہتے ہیں۔

لڑکی، تم نے اپنے آپ سے محبت کیوں نہیں کی؟ اپنی ہستی کو کیوں نہیں چاہا؟ باقی سب لوگوں سے محبت کرتے ہوئے اور ان کا خیال رکھتے ہوئے تم اپنی ذات کہاں رکھ کے بھول گئیں؟

اکیسویں صدی میں جنم لینے والی لڑکی، تمہیں سمجھنا چاہئے تھا کہ ہر کسی کو سب سے پہلے خود سے محبت اور اپنی عزت کرنی آنی چاہیئے۔ جو فرد وقار اور اعتماد سے اپنا سربلند نہیں کرے گا، اپنی عزت خود نہیں کرے گا، اسے زندگی میں آنے والے کوئی اور کیسے چاہ سکتا ہے؟ کیسے عزت دے سکتا ہے؟

تم ایک ایسے رشتے میں بندھی تھیں جہاں سردمہری اور خودغرضی تمہاری وفاؤں کا صلہ اور جواب تھا۔ درد اور پیاس کے اس صحرا سے نکلنے کے لئے راستہ تو تھا مگر تمہیں پدرسری روایات بدنامی کے خوف سے ڈراتی تھیں۔

لیکن سوچا جائے تو اس میں تمہارا کیا قصور، تم تو ایک بیماری کا شکار تھیں۔ خود ترسی اور خود کو قابل نفرین سمجھے جانے کی بیماری جس میں پدرسری معاشرے کی نوے فیصد خواتین مبتلا ہوتی ہیں یا کر دی جاتی ہیں اور یہ سب بدقسمت جان ہی نہیں پاتیں کہ وہ کس آسیب کا شکار ہیں۔

تم self love deficient disorder کا شکار بنیں!

سیلف لو ڈیفیشنٹ ڈس آرڈر انسانی ذہن کی وہ پیچیدگی ہے جس کے مختلف ادوار اور زاویے سمجھنے کے لئے ایک تکون کا سہارا لیا جاتا ہے۔

یہ ڈس آرڈر عموماً بچپن میں شروع ہوتا ہے جب والدین اولاد کے لئے اپنی محبت وشفقت کو مشروط بناتے ہوئے انہیں زندگی اپنی مرضی کے مطابق گزارنے پہ مجبور کرتے ہیں۔ ان کی خواہشات، پسند ناپسند، کیرئیر، شادی غرض کہ زندگی کے ہر موڑ پہ محبت کی چھتری کی آڑ لے کر رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ پابندیاں، جانچ پڑتال، تنقید، سرزنش اور طعن وتشنیع کو محبت اور خیال رکھنے کا دوسرا نام سمجھا جاتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ اس کا شکار زیادہ تر لڑکیاں بنتی ہیں کیونکہ ان کے ساتھ ان چاہی اولاد کا لاحقہ ہونے کی وجہ سے اس طرزعمل میں کئی فیصد اضافہ ہوجاتا ہے۔ پدرسری نظام کی اقدار اور روایات اپنا کھیل کھیلتے ہوئے بچے کے دماغ میں ایسے بیج بو دیتی ہیں جہاں ان کی ذات کی ہر خوشی اردگرد والوں کی رضامندی اور خوشنودی پہ انحصار کرتی ہے۔ اس دور کو “تعلق کی اذیت “کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

“اچھا بچہ وہ ہے جو ماں باپ کا ہر کہنا مانے۔ اچھی بچی وہ ہے جو سوال وجواب نہ کرے۔ اچھا بچہ وہ ہے جو والدین کی پسند کے مضامین پڑھے اور ہمیشہ درجہ اول میں پاس ہو۔اچھی بچی وہ ہے جو والدین کی خوشی کے لئے اپنی پسند قربان کرتے ہوئے ان کی مرضی سے شادی کرے۔ ایسا بچپن جو “کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نگاہ” کی تصویر ہو”

بہت سے افراد کا یہ دور شادی کے بعد شروع ہوتا ہے جہاں وہ اس ذہنی و جسمانی اذیت کو جھیلتے ہوئے شوہر اور سسرال کی خواہشات، ترجیحات اور ضروریات کا بوجھ اٹھاتے ہیں جو ان پر یہ وزن لادنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔

“ ہمارے گھر کی بہو باہر نہیں جا سکتی۔ میری بیوی ایسا لباس نہیں پہن سکتی۔ بہو کا فرض ہے کہ ساس سسر کے سامنے سر جھکائے۔ بیوی کا فرض ہے کہ شوہر کی ہر جائز وناجائز بات یا حرکت برداشت کرے”

ان اذیت ناک واقعات سے نبرد آزما مسخ شدہ فرد کا یہ دور شرمندگی، بے چارگی اور بے یقینی کا ہوتا ہے۔ ایک ایسی کیفیت جب ان کا اعتماد اپنے آپ سے اٹھ جاتا ہے۔ یقین، خوشی اور اعتماد تب حاصل ہوتا ہے جب وہ اپنے نظریات اور خواہشات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوسروں کی مدد کرتا رہے۔ احتجاج کی یا تو ہمت نہ کرےاور اگر احتجاج کچل دیا جائے تو کچھ بھی نہ کر سکے۔ اس صورت حال کو “زہریلا اطمینان” کہتے ہیں۔

دوسروں سے ایسی بے لوث محبت جس میں اس فرد کی موجودگی کہیں دکھائی نہ دیتی ہو، ایک ایسی تنہائی کو جنم دیتی ہے، جس کی ہر پرت میں دکھ اور اذیت گندھا ہوتا ہے۔

یہ ذہنی تنہائی محبت کرنے والے کو یقین دلاتی ہے کہ جواباً اس کی ذات چاہے جانے کے قابل نہیں چاہے وہ آسمان سے تارے بھی توڑ لائے۔ اس کی ہستی اور اس کی احتیاجات دوسروں کے لئے اہم نہیں، اس کا وجود ان دیکھا اور ان چاہا ہے۔ یہ درجہ “سلگتی تنہائی” کہلاتا ہے۔

اپنی ہستی کو ہمیشہ یوں غیر اہم دیکھا جانا رگوں میں درد پھیلاتا اور ذات کو کرچیوں میں تقسیم کرتا ہے۔ اس درد کی شدت اپنے آپ کو کمزور اور کمتر سمجھتے فرد کو مجبور کر دیتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح اس زہریلے تعلق کو قائم رکھے، کیونکہ وہ تو اپنی ذات میں کچھ بھی نہیں۔

چاہے جانے اور بے تحاشا چاہے جانے کی خواہش ایک ایسا روگ بن جاتی ہے جس سے یہ فرد کبھی باہر ہی نہیں نکل پاتا۔ نہ ذہنی تنہائی کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے، نہ محبت کیے جانے کی خواہش ٹوٹتی ہے اور نہ ہی وہ اس حصار کو توڑ پاتا ہے جس میں اس کے پر کاٹ کر اسے قیدی بنا دیا گیا ہے۔ اس دور کو “اندھے انحصار کی لت” کہا جاتا ہے۔

پدرسری نظام کی قیدی خواتین کی زندگی انہی ادوار میں گھومتی نظر آتی ہے۔ اپنے آپ کو مصنوعی دلاسے، جھوٹا اطمینان، اور ایک دن اس رشتے میں اپنے آپ کو منوائے جانے کا عزم! جو کسی کا عائشہ کی طرح بھری جوانی میں ٹوٹ جاتا ہے اور کسی کا زندگی کی آخری سیڑھی پہ پہنچتے ہوئے۔

سیلف لو ڈیفیشنٹ ڈس آرڈر، پدرسری نظام کا عورت کے لئے ایک ایسا تحفہ ہے جس کی زد میں عائشہ نے تو وڈیو بنا کر اپنی کتھا ہم تک پہنچا دی مگر نہ جانے کتنی عائشہ ایسی ہیں جو روز جیتی اور روز مرتی ہیں۔

میری ہم نفسو، اپنے آپ سے محبت کرنا سیکھو! تمہارا اپنے آپ پر حق ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply