EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

سلووینین ادیبہ للی پوٹ پارا کی کہانی: سرپرائز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر آفتاب احمد کولمبیا یونیورسٹی نیویارک میں اردو اور ہندی کے سئنیر لیکچرر ہیں۔ انہوں نے کمال شفقت سے ‘ہم سب’ کے لئے سلووینین مصنفہ للی پوٹ پارا کے افسانچہ ”سرپرائز’ کا ترجمہ عنایت کیا ہے۔

للی پوٹ پارا کی تخلیق کردہ یہ کہانی سلووینین زبان کی ایک مشہور کہانی ہے۔ للی پوٹ پارا سلووینین ادب کی ایک معروف، انعام یافتہ مصنفہ اور مترجمہ ہیں۔ موجودہ ترجمہ کرسٹینہ ریئرڈن کے انگریزی ترجمے کا ترجمہ ہے، جو ‘ورلڈ لٹریچر ٹوڈے’ میں شائع ہوا تھا۔ یہ ایک دل کو چھو لینے والی کہانی ہے۔ ایک غریب باپ کا اپنی بیٹی کی سالگرہ پر دیا ہوا تحفہ کیسے بیٹی کے دل پر بوجھ بن جاتا ہے، اس کہانی میں اس بچی کی ذہنی کیفیت کی بے حد لطیف، حساس اور دل گداز مصوّری ہے۔ یہ کہانی ان کہانیوں کے زُمرے میں آئے گی جو قاری کے دل میں ٹیس بن کر ٹھہر جاتی ہیں۔

***               ***

اپارٹمنٹ میں کئی دنوں سے خاموشی ہے۔ بھائی اور بہن دونوں چپ چاپ کھیلتے رہتے ہیں، اور ان کی ماں اور ڈیڈی آپس میں بات نہیں کرتے۔ خاموشی گھنی اور بوجھل ہے۔ کبھی کبھی جب دونوں بھائی بہن اپنے والدین کے پاس آ کر کوئی سوال کرتے ہیں، جن کا جواب دونوں ایک ساتھ دیتے ہیں، تو یہ خاموشی ایک گونج بن جاتی ہے۔

پھر ایک دن ماں کام سے جلدی گھر واپس آتی ہے۔ بھائی اس وقت گھر میں نہیں ہے اور ڈیڈی کام کر رہے ہیں۔ لڑکی اپنے کھلونوں کے ساتھ ایک کھیل میں مصروف ہے، جس میں وہ خود سے بات کرتی ہے۔ وہ ان سے سوال پوچھتی ہے اور پھر خود ہی آواز بدل کر جواب دیتی ہے۔

” الینکا، ذرا کچن میں آنا!” ماں بلاتی ہے۔

الینکا اپنے کھلونوں سے معذرت کرتی ہے۔ پھر آواز بدل کر کہتی ہے، ” ابھی آتی ہوں۔”

ماں کہتی ہے، ” الینکا، میں تمھیں کچھ بتانے جا رہی ہوں۔”

ماں کے چہرے پر وہی کھنچاؤ ہے جس سے الینکا کو ڈر لگتا ہے۔ اسے نہیں معلوم کہ اس تاثر کا کیا مطلب ہے، لیکن لگتا ہے کہ جیسے یہ کسی غلط چہرے پر کھنچ گیا ہو۔

” جانتی ہو، ڈیڈی نے تمھارے لئے برتھ ڈے سرپرائز لیا ہے۔”

الینکا جلد ہی گیارہ سال کی ہو جائے گی۔ وہ دن دور نہیں جب وہ سیانی ہوجائے گی اور ایک چھوٹی سی پیاری بچی نہیں رہ جائے گی۔

”ڈیڈی نے تمھارے لئے سائیکل خریدی ہے،” ماں کہتی ہے۔ ” پونی سائیکل۔”

Lilli Potpara

الینکا کچھ نہیں کہتی، لیکن اسے نہ جانے کیوں اپنی دل بھنچتا ہوا سا محسوس ہوتا ہے، اور بلاوجہ غصہ بھی آتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ وہ بہت دنوں سے ایک پونی سائیکل چاہتی رہی ہے تاکہ وہ سلوا اور کیٹرینہ کے ساتھ ”امریکہ” جا سکے۔ امریکہ ایک چھوٹی سی سڑک کا نام ہے جو اسے اپنے گھر سے کافی دور لگتی ہے، کیونکہ اس کے پاس سائیکل نہیں ہے۔ سلوا اور کیٹرینہ جب اسے بتاتی ہیں کہ امریکہ کیسی سڑک ہے، اور اس کی ڈھلان کیسی ہے، اور نیچے پہنچ کر کتنے زور سے بریک لگانی پڑتی ہے، تو الینکا کا جی چاہتا ہے کہ وہ کوئی اور بات کریں۔

”سنو الینکا،” ماں چہرے کے اسی کھنچاؤ کے ساتھ کہتی ہے، جو لگتا ہے کسی غلط چہرے پر ہو۔

”تم کو خوش نظر آنا ہے، کیونکہ ڈیڈی نے اس سائیکل کے لئے بہت محنت کی ہے۔ اسے خریدنے کے لئے انھیں قرض بھی لینا پڑا۔”

” جی ماں،” الینکا یہ کہہ کر کھڑکی کے نیچے رکھے اپنے کھلونوں کے پاس چلی جاتی ہے۔

”مجھے ایک سائیکل سرپرائز ملی ہے۔” وہ انھیں بتاتی ہے اور کھلونے اُچھلنے لگتے ہیں۔

پھر اُس کی سال گرہ آتی ہے۔ اس دن صبح میں الینکا کے پیٹ میں اینٹھن ہوتی ہے، لیکن پھر بھی وہ اسکول جاتی ہے۔ کلاس کے دوران اسے کئی بار خیال آیا کہ نہ جانے سائیکل کا رنگ کیسا ہے۔ لال ؟ یا نیلا؟ پونی سائکلیں نیلی یا لال ہوتی ہیں۔ صرف سلوا کی پونی گلابی ہے کیونکہ اس کے ڈیڈی نے اسے گلابی رنگ میں پینٹ کیا ہے۔

لنچ کے بعد ڈیڈی گھر آتے ہیں۔ الینکا کو عجیب محسوس ہوتا ہے۔ اس کو لگتا ہے کہ جیسے اس کے چہرے پر بھی ماں کے چہرے جیسا کھنچاؤ پیدا ہوگیا ہو۔ جیسے اس کے پاس اس کا اپنا چہرہ نہ ہو۔ ڈیڈی اسے نیچے تہہ خانے میں جانے کو کہتے ہیں۔ الینکا تہہ خانے میں جاتی ہے۔ وہاں سائیکل رکھی ہے۔ ہلکی نیلی۔

الینکا سائیکل کو دیکھتی ہے اور پھر کنکھیوں سے اپنے ڈیڈی کو۔ اسے معلوم ہے کہ اسے خوش ہونا چاہئے، لیکن اس کے پیٹ کی اینٹھن بڑھ جاتی ہے۔ وہ سائیکل کو چھوتی ہے، سائیکل تو بلکل ٹھیک ہے ـــــ لیکن اس کا لوہے کا جسم برف جیسا ٹھنڈا محسوس ہوتا ہے۔

” تھینک یو ڈیڈی،” وہ کہتی ہے اور جلدی سے اوپر جاکر اپنے کھلونوں کو بتانا چاہتی ہے کہ اُسے ایک سرپرائز ملا ہے۔

” اسے چلانے باہر نہیں جاؤ گی کیا؟” ڈیڈی پوچھتے ہیں۔ الینکا کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کرے۔ ” جی، جاؤں گی۔ تھوڑی دیر میں۔”

تہہ خانہ تنگ اور تاریک ہے۔ ڈیڈی بہت بڑے ہیں اور الینکا چھوٹی۔ اسے اپنے سر میں ”قرض” کا لفظ سنائی پڑتا ہے۔ وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں پاتی۔ اپنی نئی پونی کے پاس اور ڈیڈی کے پیچھے کھڑی، الینکا کا جی چاہتا ہے کہ ڈیڈی وہاں سے چلے جائیں، تاکہ سلوا اور کیٹرینہ وہاں آئیں اور وہ ان کے ساتھ امریکہ نکل جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر آفتاب احمد سینیئر لیکچرر کولمبیا یونیورسٹی کی دیگر تحریریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے