EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

کیا آپ بھیڑیے سے ملنے کی آزادی چاہتی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا آپ بھیڑیے سے ملنے کی آزادی چاہتی ہیں؟
ماہ مارچ کا آغاز ہوتے ہی یہ سطر مختلف پیرائے میں لکھی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ کچھ اپنے تئیں ذہین و فطین لوگ اس کو لطیفے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

” بھیڑ نے آزادی مانگی۔ بھیڑیے سب سے زیادہ خوش ہوئے“

یہ مثال یا جدید دور میں لطیفے کی طرز پر استعمال کی جانے والی سطر تقریباً ہر مذہبی جماعت کی کتابوں میں مختلف طور سے لکھی ہوئی ملے گی۔

جیسے کہ ایمان والے گروہ بنا کر رہیں تو ان پر شیطان حملہ نہیں کرے گا۔
بھیڑ جب اپنے گلے سے بچھڑ جاتی ہے تو اس بھیڑ پر بھیڑیا بہ آسانی حملہ کر دیتا ہے۔

یہ مثال یا کہاوت اس علاقے میں صادق آتی ہے جہاں بکریاں چرانے کا رواج تھا اور بھیڑیے کھلے عام گھومتے تھے اور حملہ بھی کر دیتے تھے۔

اسلام اور ایمان کی روشنی پھیل جانے کے بعد اس علاقے کے مسلمان اتنے مہذب ہو گئے ہیں کہ دنیا بھر سے حجاج کرام وہاں حج کرنے جاتے ہیں تو ان کی مہمان نوازی قابل دید اور انتظامی سہولیات قابل دید ہوتی ہیں، حتیٰ کہ حجاج مقدس سے دور دراز رہنے والے اماراتی بدوؤں نے بھی امارات میں اتنے اچھے قوانین بنا لیے ہیں کہ پوری دنیا سے خواتین وہاں سیاحت اور شاپنگ کے لئے آتی ہیں، ساحل پر سن باتھ لیتی ہیں، لیکن کوئی بھی عرب بھیڑیا ان پر حملہ نہیں کرتا، کیونکہ وہ اسلام کی روشنی میں آ جانے کے بعد خود کو انسان سمجھتے ہیں اور دوسرے انسانوں کو بھی انسان سمجھنے لگے ہیں، جو کہ عین فطری و دینی اخلاق ہے۔

ہمارے یہاں یہ سطر یا کہاوت یوم خواتین پر خواتین کو بتائی جا رہی ہے ، یعنی یہ بتایا جا رہا ہے کہ دیکھو بی بی ہم مسلمان ہونے کے باوجود ابھی تک بھیڑیے ہی ہیں، لہٰذا ہم سے بچ کر رہو، اور اگر تم ہماری بات نہیں مانو گی تو ہم تم پر حملہ کر دیں گے۔

ویسے لگتا یہی ہے کہ حملہ کر سکتے ہیں، کیونکہ سوشل میڈیائی سماجی آئینے نے اچھی طرح یہ باور کروا دیا ہے کہ سماج کے مرد میں ملکیت کا تصور اتنا شدید ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر موجود خواتین پر بھی اپنا استحقاق سمجھتا ہے۔

سوشل میڈیا پر خواتین کی شکایتی انباکس اسکرین شارٹ سے سجی پوسٹس دیکھ کر ہر ذی فہم کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ بھیڑیوں کی ذہنی حالت کیا ہے، فدویہ نے بھی جب سے ویڈیوز لاگز اور لائیو سیشنز کا سلسلہ شروع کیا ہے، انباکس میسجز اور نہ جان نہ پہچان براہ راست ویڈیو کالز کی وجہ سے حد درجہ تنگ ہوئی۔ بھلا ہو ہمارے دوست حسام درانی کا کہ انباکس کو محفوظ بنانے کے لئے رہنمائی کی تو یہ سلسلہ ختم ہوا۔

جب سوشل میڈیا پر موجود خواتین کو چیٹنگ کے لیے، اپنی پسند کے گانے سنوانے کے لئے، اپنے بے تکے اشعار سنانے یا ویڈیوز پر رائے دینے کے لئے دستیاب سمجھا جاتا ہے، تو بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے کہ کام کرنے کی جگہ پر خواتین کو کس کس طرح ہراساں کیا جاتا ہو گا، اور یہ کام کرنے کی جگہ کوئی گھر بھی ہو سکتا ہے، یعنی ماسی سے لے کر آفس ورکر، گلوکارہ، اداکارہ و رقاصہ تک۔ کیونکہ بھیڑیے خود بتا رہے ہیں کہ ہم موجود ہیں۔

ویسے اشرف المخلوقات ہو کر خود کو بھیڑیے سے تشبیہہ دینا بالکل مناسب نہیں ہے۔ کم از کم مجھے خود بھیڑ بکری کہلوانا یا کسی کو بھیڑیا کہنا بالکل پسند نہیں، کیونکہ حیوان زیادہ سمجھدار ہیں اور حیوانات میں نر بہت ہی شائستہ اطوار ہوتے ہیں، نہ ہی وہ راستوں میں آتی جاتی ماداؤں کو گھورتے ہیں، نہ ہی زبردستی کسی مادہ کے ساتھ نتھی ہونا چاہتے ہیں اور نہ ہی ان کے سر پر ہر وقت سیکس سوار رہتا ہے، اگر نیشنل جیوگرافک، اینیمل پلینٹ جیسے چینلز دیکھے جائیں تو چرند و پرند کی دلچسپ و عجیب و غریب عادات کے متعلق آگاہی ہوتی ہے۔

اور بھیڑیوں کے متعلق تو تحقیق ہے کہ بہت ہی خاندانی جانور ہے، خاندان کے ساتھ رہتا ہے اور زندگی ایک ہی مادہ کے ساتھ بتاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب کوئی بلاگر یا کالم نگار مردانہ رویوں پر لکھے تو کہا جاتا ہے کہ مردوں کے خلاف بھڑکایا جا رہا ہے، حالانکہ اکثر کالمز یا بلاگز میں عمومی سماجی رویوں پر بات ہوتی ہے، لیکن اس طرح کی امثال دے کر یا لطائف بنا کر مردوں کے بارے میں کیا سمجھایا جا رہا ہے کہ بس وہ گوشت خور بھیڑیے ہیں اور موقع ملتے ہی حملہ کریں گے۔ گویا درپردہ مان لیا گیا ہے کہ سماج کا مرد مہذب نہیں ہے، اسی لیے وہ ہر وقت چوکیدار کی طرح اپنی خواتین کی حفاظت کرتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے دوسرے بھیڑیے میری طرح تاک میں ہیں۔

تو پھر تو خواتین کا اجتجاج کرنا بنتا ہے کہ مرد بھیڑیوں کے روپ سے انسانی روپ میں آ جائیں، اور ان کو انسانی روپ میں لانے کے لئے ہی مہذب اور پڑھی لکھی خواتین عورت مارچ کرتی ہیں، جس کی سب مخالفت کرتے ہیں، حالانکہ وہ مرد کی مخالفت یا موافقت میں مارچ نہیں کرتیں، خواتین ان قوانین کو معاشرے میں لاگو کروانے کے لئے مارچ کرتی ہیں جو مہذب انسانی سماج کے لئے ضروری ہیں اور ان قوانین کا احترام کرنا ہر فرد پر واجب ہے، لیکن بد قسمتی سے ایک دوسرے کو رد کرنے کی علت اور ہمارے گروہی بیانیے سارے مقاصد سبوتاژ کر دیتے ہیں۔

کچھ افراد مستقل ایسی ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ خواتین کو آزادی دی گئی، تو وہ کنواری مائیں بن گئیں، اوہ اللہ کے بندوں اور بندیو! آپ کو اپنی نسل، اپنی دینی اخلاقیات اور تربیت پر ذرا بھروسا نہیں ہے، یہ کیسے سوچا جا رہا ہے کہ آپ کے سماج کی خواتین صرف سیکس کرنے کی آزادی چاہ رہی ہیں، ایسا بالکل نہیں ہے۔

آزادی تو پدر شاہی کی زنجیروں سے چاہیے۔
آزادی قبائلی رسوم و رواج سے چاہیے۔
آزادی ان فرسودہ سماجی رسوم سے چاہیے جو صرف عورت کو ادا کرنی ہوتی ہیں۔
بیوی کے ہوتے ہوئے داشتہ، کیپ، رکھیل کا لفظ ایجاد کرنے والے بھیڑیوں سے آزادی چاہیے۔
آزادی یکساں تعلیم حاصل کرنے کی چاہیے۔
آزادی رضا سے نکاح کرنے کی چاہیے۔
آزادی سڑک پر محفوظ چلنے کی چاہیے۔
باعزت معاش کی آزادی چاہییے۔
علاج کروانے کی آزادی چاہییے۔
شادی کے بعد اولاد نہ ہونے کے وجہ تلاش کرنے اور زوجین کے ٹیسٹ و علاج کی آزادی چاہیے۔
ورک پلیس ہراسمنٹ کو ختم کرنے کی آزادی چاہیے۔
کم عمری کی شادی روکنے کی آزادی چاہیے۔
شادی کے بعد بچہ جننے کے درست وقت کے تعین کی آزادی چاہیے۔
اور اگر زنابالجر کے نتیجے میں کوئی بدنصیب حاملہ ہو جائے تو اس حرامی بچے سے نجات کی آزادی چاہیے۔

اور اگر کوئی خود کو بھیڑیا سمجھے اور حملہ آور ہو تو اس بھیڑیے سے نمٹنے اور اس کا مقابلہ کرنے کی آزادی چاہیے۔

ہر عورت کو دستیاب سمجھنے والی سوچ سے آزادی چاہیے۔

سماج کی عورت کو اتنا باشعور ہونا چاہیے کہ وہ بھیڑیے اور انسان میں فرق کر سکے۔ اور ضرورت پڑنے پر قانونی مدد لے سکے، اور قانون اس کے ساتھ انصاف کرے، جس طرح مسلمان ریاست متحدہ عرب امارات میں ہوتا ہے۔

بس یہی عورت مارچ کا مقصد ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے