اربنائزیشن اور جشن بہاراں کا فرسودہ تصور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گروہ انس کی تہذیبی و ثقافتی تاریخ میں اقتصادیات کا کلیدی رتبہ رہا ہے، قدیم تہذیبوں کی شناخت میں اس عہد کی معاشی خوش حالی پنہاں ہے۔ ہزاروں برس قدیم تہذیبوں کے ملیا میٹ ہونے میں محض قدرتی تبدیلیاں کارفرما نہیں تھیں بلکہ تہذیبی ترقی میں انسانوں کے گروہ کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سماجی عدم مساوات، سیاسی گروہیت اور ناقص اقتصادی منصوبہ بندی بھی اہم وجوہات میں شامل تھیں۔ اقتصادیات میں آزادانہ منصوبہ بندی اور انحصار پذیری کو کم سے کم سطح پر رکھنا ترقی کی ضمانت قرار پاتا ہے تاہم اس کے لیے لازمی ہے کہ تہذیب کے مرکزے کے باشندے بشمول ریاستی ڈھانچہ کنٹرول کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی صلاحیت رکھتے ہوں اگر یہ صلاحیت بانجھ پن میں تبدیل ہو جائے تو رفتہ رفتہ اس سماج کی پسماندگی و بدحالی مقدر بن جاتی ہے۔

سماج کی ترقی کے لیے پیدائش دولت کے محرکات کو نظر انداز کرنا جرم کے برابر ہے اور پوری قوم کی گردنیں اس جرم کا خمیازہ اٹھاتی ہیں۔ قدرت الہیہ نے کائنات کے نظام کو انسانی ضروریات کے تحت تشکیل دیا ہے اور ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سال بھر اسباب مہیا کیے جاتے ہیں، اگر غفلت و نا اہلی کا دامن پکڑنے کی روش ہو تو پھر یہ اسباب ضائع کر دیے جاتے ہیں۔ کائنات کے عالمی نظام میں قدرتی موسمیاتی تبدیلی کے ذریعے سے انسانوں کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ جذباتیت کی بجائے عقلیت پسندی کا مظاہرہ کر کے اس فطرتی تبدیلی سے فائدے تلاش کریں۔

مذکورہ پیرا بندی کرنے کا بنیادی مقصد، اربن زدہ سماج کے باشندوں کے لئے سماجی ترقی کے پسماندہ و ناقص تصورات سے آگاہ کرنا ہے جو نا عاقبت اندیش بیوروکریٹس اور حکمران طبقات کی جانب سے رائج کیے گئے ہیں۔ ہر سال ماہ فروری کے آغاز سے ہی موسم بہار کا غلبہ ہوتا ہے، اس موسم کی خوشگواری، سہانا پن، دلفریب نظارے، لالہ زاروں اور کوہساروں کی خوبصورتی دیدنی ہوتی ہے، پرندوں کی مستی، سبز و شاداب درختوں کی جھومتی ڈالیاں ایک عجب منظر پیش کرتی ہیں، کشمیر کی وادیوں کے دلکش نظارے بہار زدہ علاقوں میں دل ربا منظر پیش کرتے ہیں، یہ موسم شاعروں کو نئی زندگی بخشتا ہے، نیا ادب تخلیق کرنے کے لیے انسانی ذہن پر مثبت اثرات کا غلبہ ہوتا ہے۔

اربن شہری تو اس موسم کو بس یونہی دیکھنے کے عادی ہیں لیکن قدرت کا فلسفہ کچھ اور ہی ہے، قدرت انسانوں کی بقا چاہتی ہے، نسل انسانی کی بقا کے لئے موسم کی یہ تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ قدرت الہیہ نے زندگی و موت کے تصور کو اس موسم کے ذریعے سے سمجھایا ہے، لیکن غفلت میں ڈوبے حکمران طبقات اس موسم میں نسل انسانی کی بقا کے لیے منصوبہ بندی کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔

لاہور شہر میں تو اس موسم کو محض نہر کنارے تک قید رکھا جاتا ہے، یا پھر ریس کورس پارک، لبرٹی چوک میں برقی قمقموں، مصنوعی روشنی اور رنگ برنگے پھولوں میں ہی مقید کر دیا جاتا ہے۔ اس سے زیادہ ہو تو پھر ایک جز وقتی ثقافتی میلے میں ایک دن کے لیے پگڑیاں، لاچے پہنانے اور ساگ کے ساتھ مکئی کی روٹی کھلانے کا بندوبست کر دیا جاتا ہے، یہ ثقافتی میلے سے زیادہ ثقافت کا جنازہ ہوتا ہے جسے ہر سال دھوم سے نکالا جاتا ہے کیونکہ اب ہماری ثقافت صرف تصویروں یا قصے کہانیوں تک محدود ہے۔

ثقافت سے محبت کا اظہار کرنے والے چند اساتذہ، سیاستدان اور بیوروکریٹس کی اکثریت کے چہروں پر مصنوعیت عیاں ہوتی ہے، شہری باشندے جھلملاتی روشنیوں کے ذریعے سے دوبارہ اندھے کر دیے جاتے ہیں اور جز وقتی تفریح کا یہ سامان قومی غفلت پر دلالت کرتا نظر آتا ہے، غفلت کے پھیلاؤ میں پاکستان کا برقی میڈیا پیش پیش ہوتا ہے، یہ سب کچھ صرف اربن سماج میں وقوع پذیر ہو رہا ہوتا ہے۔ دیہی زندگی اور زرعی سماج کے لیے یہ موسم نئی زندگی ملنے کے مترادف ہوتا ہے جب زمین میں بوئے جانے والے بیجوں کے ذریعے سے نئی زندگیاں پیدا ہوتی ہیں اور بہار کے اس موسم کے توسط سے دھرتی اپنا بخت تقسیم کرتی ہے لیکن ریاستی نا اہلی کا غلبہ ہوتو پھر قومی معیشت کا اپاہج ہونا تقدیر کا فیصلہ ٹھہرتا ہے۔

پاکستان اپنی جغرافیائی ساخت کی بنا پر ایک زرعی سماج ہے اور کم و بیش ملک کے پندرہ کروڑ عوام زراعت سے منسلک ہیں۔ یہ امر کتنا ہی باعث تشویش ہے کہ زرعی سماج میں موسم بہار میں حکومتی و ریاستی پالیسیوں کی ستم ظریفی کا شکار ہونے والی زرعی معیشت پر مباحثوں و مکالموں کی بجائے اس موسم کو صرف تفریح یا رومانویت تصور کیا جائے اور تفریح بھی ایسی جس میں مزید قومی دولت کا ضیاع کیا جائے۔ ہر گزرتے برس کے ساتھ ملک میں زرعی پسماندگی میں اضافہ، زرعی اجناس کی پیداوار میں مسلسل کمی، زمین کی پیداواری صلاحیت فرسودہ اور پیدائش دولت کا زرعی سماج بربادی کے رستے پر ہے۔

زراعت پاکستان کی معیشت کا دوسرا بڑا شعبہ ہے جو جی ڈی پی میں 21 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور ملک کی پینتالیس فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ زرعی معیشت کی ناقص ریاستی پالیسیوں کے سبب پاکستان میں کیش کراپس (نقد آور فصلیں ) یعنی گندم، کپاس، چاول درآمد کیے جا رہے ہیں، پاکستان ماضی میں ان تینوں فصلوں میں خود کفیل تھا لیکن اب ان کی درآمد ریاستی نا اہلی کا نتیجہ ہے۔ پاکستان میں زرعی شعبے کی شرح نمو 5.4 فیصد سے گر کر 3.2 ہو گئی ہے۔

زرعی اجناس کی پیداوار بڑھانے کے لیے ناقص بیجوں کے استعمال کو روکنے، ڈی جنریشن کے حامل بیجوں سے متعلق آگہی دینے اور فی ایکٹر پیداوار بڑھانے کے لیے موسم بہار سے پہلے کیا ریاستی سطح پر اقدامات اٹھائے جاتے ہیں؟ کیا سیاست دانوں کا محاسبہ کرنے والا میڈیا ملک میں پیدا ہونے والے اس سنگین بحران سے نا واقف ہے یا پھر زرعی سماج کو برباد کرنے میں نو دولت سرمایہ داروں کی گود میں بیٹھ کر مزے لوٹ رہا ہے؟

بہار کے موسم کے آغاز پر ہی یہ بحث اٹھانی چاہیے کہ پاکستان میں سات سے آٹھ بڑی فصلوں کی بجائے صرف گندم اور گنے تک حکومت کی سپورٹ پرائس کو محدود کیوں رکھا جاتا ہے؟ پاکستان کے جمہوری ڈھانچے کے تحت تشکیل پانے والی پارلیمان میں براجمان نمائندوں کی معاشی زندگی کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ صرف ان دو فصلوں تک سپورٹ پرائس کیوں محدود رکھی جاتی ہے کیونکہ ان فصلوں کی پیداوار جن صنعتوں تک پہنچتی ہے ان صنعتوں کے نگہبان یہی جمہوری نمائندے ہیں یہی وجہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں اور اندرون سندھ کے زرعی علاقوں کے گرد چینی بنانے کے کارخانوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور کسان کپاس کے بجائے گنے کی کاشت پر منافع زیادہ میسر رہتا ہے۔

عہد رفتہ کی حکومت نے گزشتہ آٹھ مہینوں میں ساڑھے چھ ارب ڈالرز کی غذائی اشیا درآمد کی ہیں۔ جنرل ضیا الحق نے جب نواز شریف کو تھپکی دے کر اقتدار تک پہنچایا تو اتفاق فاؤنڈری نے شوگر فیکٹریوں کے لی مشینیں بنانا شروع کر دیں اور پھر حکومتی پالیسیوں کے تحت اس طاقت ور طبقات کو مراعات دینا شروع کیں اور ساتھ ہی اپنی شوگر فیکٹریاں بھی بنا لیں۔ نوے کی دہائی سے کپاس کو سپورٹ پرائس بند کر دی گئی نتیجہ ہزاروں ایکڑ اراضی پر اب کپاس کی بجائے گنا اگایا جا رہا ہے۔

بہار کا موسم تو ہماری ملکی بقا کی بنیادیں رکھنے کے مترادف ہوتا ہے جب اس موسم میں پھلوں کے نئے پودوں کی کاشت حتیٰ کہ خوردنی آئل کی تیاری کے لیے درکار بیجوں کے درخت اگانے کی افادیت کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اس وقت میں پاکستان کا میڈیا موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے پکوڑوں، سموسوں کی رپورٹنگ کر رہا ہوتا ہے۔ بہار کا موجودہ دورانیہ تو اب اپنے اختتام کو ہے لیکن ہمیں اس برس یہ عہد کرنا ہوگا کہ آئندہ سال بہار کی آمد سے پہلے قومی معیشت کی ترقی کے لیے ناگزیر زرعی عوامل پر گفت و شنید کی جائے اور درس گاہوں کو اس موسم کے اقتصادی امور پر حکومت کے لیے پالیسی دستاویز جاری کرنی چاہیے۔ زرعی معیشت ہونے کے باوجود، زراعت کے شعبے میں پسماندگی اور غذائی اجناس کی درآمدی کی پالیسی جاری رہی تو پھر قدرت الہیہ قومی زوال کو ہی مقدر بنا دے گی اور اس قدر غفلتوں کے ساتھ قوم کے زندہ رہنے کا حق ہم خود کھو بیٹھیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply