کیا نئے طورطریقوں کی قبولیت کا وقت آ گیا ہے؟


لاہور یونیورسٹی میں اظہار محبت اور شادی کا پیغام دینے والے واقعے پر بہت کہا سنا، لکھا، اور پڑھا جا چکا ہے۔ ’ہم سب‘ پر دونوں طرح کا موقف سامنے آیا۔ ایک حمایت میں تھا کہ اگر دو لڑکا لڑکی اپنی رضامندی سے ایک دوسرے کو محبت اور شادی کا پیغام دیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ لوگوں کو اپنی قدامت پرستانہ سوچ بدلنا چاہیے کہ اسے نوجوان نسل پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرا موقف مخالفت میں تھا کہ تعلیمی ادارے کا تقدس پامال ہوا۔ اگر اس جوڑے کی تقلید میں دیگر طلباء و طالبات نے بھی یہی طریقہ اپنا لیا تو تعلیمی ادارے، محبت گاہوں میں بدل جائیں گے اور بچے بچیاں سر عام رومانس کرتے نظر آئیں گے، اس لئے ایسی باتوں کی بیخ کنی ہونی چاہیے۔

کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر بات شادی کا پیغام دینے اور گلدستہ پیش کرنے تک محدود رہتی تو اس محبت کرنے والے جوڑے کو یونیورسٹی سے برخواست نہ کیا جاتا۔ یہ رائے بلکہ مسئلہ بھی سامنے آیا کہ ایسے ہی واقعات کو بنیاد بنا کر والدین، بچیوں کی تعلیم کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ درست ہے اور ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ قدامت پسند خاندانوں میں ایسی باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ بالخصوص اس طبقے میں جو لڑکیوں کی تعلیم کا مخالف ہے، ایسے واقعات کو بنیاد بنا کر بآسانی لڑکیوں کو یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے یہ پہلو مکمل نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

دوسری طرف، بچیوں کے تحفظ اور عزت و آبرو کی بات کی جائے تو اور کئی ایسے معاملات ہیں جہاں بچیاں خود کو غیر محفوظ خیال کرتی ہیں مثلاً لاہور میں نہر کنارے واقع یونیورسٹی کیمپس میں اسلام کے نام پر قائم ہونے والی جمیعت کی غنڈہ گردی، تشدد، اور جنسی ہراسیت؛ تعلیمی اداروں میں اسلحہ، منشیات، شراب، اور ہیروئن کی دستیابی؛ مرد اساتذہ کا طالبات کو جنسی ہراساں اور بلیک میل کرنا؛ تعلیمی اداروں میں سیاست اور سیاسی پشت پناہی و بدمعاشی؛ دہشت گردوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں بچیوں کے سکولوں میں بم دھماکے ؛ بچیوں کی تعلیم عام کرنے کی بات کرنے پر ملالہ یوسف زئی پر دہشت گردوں کا قاتلانہ حملہ؛ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر کلاس رومز میں یا ادارے سے باہر کسی جگہ چوری چھپے ملاقاتیں اور بوس و کنار؛ اور طالبا ت بالخصوص کم عمر بچیوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات تو بکثرت ہیں۔

لاہور کے ادارے لمز میں تقریباً بارہ سال پہلے چند لڑکیوں کی خودکشی کی خبر سامنے آئی تھی جو اپنے کلاس فیلوز کی جنسی ہوس کا نشانہ بنیں۔ لاہور کالج یونیورسٹی میں بھی کینٹین مالک نے ایک طالبہ کو تنہا پا کر دکان کا شٹر اندر سے بند کر دیا اور اس کے ساتھ منہ کالا کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ پنجاب یونیورسٹی کی بھی ایک طالبہ، استاد کی ہوس کا نشانہ بنی اور ایک طالبہ پر ہاسٹل میں رات کو واش روم جانے پر چوکیدار نے جنسی حملہ کیا۔ مذکورہ واقعات کے ذمہ داروں اور مجرمان کو شاید ہی سزا ہوئی ہو۔

ان تمام حالات و واقعات کے باوجود اگر لڑکیاں یونیورسٹی اور کالجز میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں تو کیا محض ایک جوڑے کے کیمپس کی حدود میں سر عام گلے ملنے سے ان پر تعلیم کے دروازے بند ہو جائیں گے؟ ہاں البتہ یہ ضرور ممکن ہے کہ پسماندہ علاقوں کے لوگ اپنی بیٹیوں بہنوں پر اعتبار نہ کرتے ہوئے مذکورہ واقعے کا بہانہ بنا کر انہیں مخلوط تعلیمی اداروں میں داخلے سے منع کر دیں۔ ایسی صورت حال کا شکار ہونے والی کوئی لڑکی جس اذیت سے گزرے گی، اس کا اندازہ لگانا حساس لوگوں کے لئے مشکل نہیں۔

ایک اور نہایت اہم سوال یہ ہے کہ خدشات صرف بیٹیوں بہنوں کے معاملے میں کیوں ہوتے ہیں؟ کیا لڑکے دوران تعلیم کوئی غلط اثر نہیں لیتے؟ بوائز کالجز اور ہاسٹلز میں اور ان کے باہر سگریٹ نوشی، شراب، اور منشیات سے لے کر لڑکیوں کو جنسی ہراساں کرنے، بدکاری، اور غنڈہ گردی و بدمعاشی تک کیا نہیں ہوتا؟ کئی چیزوں تک موبائل نے رسائی ممکن بنا دی ہے۔ کبھی لڑکوں کو شہر اور حتیٰ کہ ملک سے باہر بھیجنے میں والدین کو ایسے خدشات لاحق ہوئے ہیں؟

کبھی کسی ماں یا باپ نے سوچا ہے، ہائے میرا بیٹا کالج یونیورسٹی جا کر بدمعاشی، بے حیائی، بری صحبت میں مبتلا ہو جائے گا، یہ لڑکیوں کی عزت پر بری نظر رکھے گا، یہ خاندان کی عزت کو داغدار کر دے گا، یہ سگریٹ یا شراب نوشی شروع کر دے گا، یہ کسی جرائم پیشہ گینگ کا حصہ بن جائے گا وغیرہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے جاہل معاشرے میں خاندان اور مرد کی عزت کا تمام بوجھ لڑکی اور عورت کے نازک کندھوں پر لاد دیا گیا ہے۔ لڑکی یا عورت جب گھر سے تعلیم یا ملازمت کے لئے باہر نکلے تو خاندان کی عزت کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

چونکہ ہم ایک مشرقی معاشرے کے باشندے ہیں اس لئے مرد و عورت کے معاملات میں مشرقیت کو ہی مقدم رکھتے ہیں۔ یہ بجا ہے کہ مشرقیت کا اپنا ایک حسن ہے لیکن اس کا مطلب قدامت پرستی ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ ایسے معاملات میں بڑوں اور والدین کو چاہیے کہ بچوں کو میانہ روی کی تربیت دی جائے۔ گھر کا ماحول اور مخلوط میل جول کی آزادی یا پابندی ہماری ذہن سازی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے اس لئے گھر کی تعلیم و تربیت نہایت اہم ہے۔

سو یہ بڑوں اور والدین کی ذمہ داری ہے کہ جنس مخالف سے راہ و رسم کے مناسب طریقے بچے بچیوں کو سکھائیں۔ جذبات اور محبت پر تو پابندی نہیں لگائی جا سکتی لیکن اگر والدین اور تعلیمی ادارے دونوں اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں تو جذباتی، معاشرتی، اور خاندان کی عزت و ناموس سے متعلقہ معاملات کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔

معاشرتی معاملات میں فیصلہ افراد معاشرہ کو ہی کرنا ہے۔ اگر بدلتے ہوئے وقت اور حالات کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے میانہ روی سے کام لیا جائے تو کئی مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکتا ہے۔ پابندی اور مکمل آزادی دونوں ہی نقصان کا باعث ہوتی ہیں، دونوں ہی کا کوئی نہ کوئی منفی نتیجہ ضرور برآمد ہوتا ہے۔ تو کیوں نہ پابندی اور آزادی، حمایت اور مخالفت کی اس کشمکش میں کوئی درمیانی راہ نکالی جائے؟ نہ محبت اور جذبات کے اظہار پر کوئی قدغن لگائی جائے اور نہ یہ اظہار کسی بچی اور بچے کو بھی تعلیم سے محروم کرنے کا سبب بنے۔

Facebook Comments HS