جہیز کی لعنت سے کب چھٹکارا ملے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن سے ہی ہمیں ایک جملہ سننے کو ملتا ہے کہ جہیز ایک لعنت ہے۔ لیکن یہ بات صرف باتو ں کی حد تک ہی محدود ہو کے رہ گئی ہے۔ اس کے برعکس لڑکی کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کے جہیز کا سامان تیار کرنا شروع کر دیا جاتا ہے۔ لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اس معاشرے میں جہیز کے ارتقا کو دیکھنا ہے کہ یہ کس طرح سے ہمارے اندر سرایت کر گیا ہے۔

جہیز کا بنیادی تصور ہندو مت کے ساتھ جڑا ہوا ہے، ہندو مذہب میں لڑکی کو وراثت میں حصہ دار نہیں ٹھہرایا جاتا ہے اور اس کی شادی کے وقت اس کا باپ اپنی بیٹی کے لیے کچھ سازوسامان دے کر اپنے فرض سے دستبردار ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس جب ہم دین اسلام کی تاریخ کے اوراق کو الٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں، تو اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام نے جہیز کو ہمیشہ ہی بری نظر سے دیکھا ہے۔ اور اسلام میں تو لڑکیوں کو وراثت میں حصہ دار ٹھہرایا گیا ہے ، باپ کی جائیداد میں سے اس کو حصہ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔

تاریخ اسلام اس بات کی گواہ کہ جب حضرت محمدﷺ  نے اپنی پیاری بیٹی فا طمہ کے نکاح کے لیے حضرت علیؓ کا انتخاب کیا تو آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا ان کے پاس حق مہر موجود ہے؟ حضرت علیؓ نے کہا نہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اور اپنی کوئی چیز بیچ کر مہر کی رقم جمع کرو ، اس لئے کہ یہ حکم الٰہی ہے۔ حضرت علیؓ نے حکم کی تعمیل کی۔

جہیز عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب وہ سامان ہے جو والدین اپنی بیٹی کو رخصتی کے وقت تحفتاً دیتے ہیں۔ نبی کریم ﷺنے اپنی پیاری بیٹی فاطمہ ؓ کے نکاح کے وقت ایک مشک اور ایک چکی تحفے میں دی تھی۔ تحفے کا لین دین محبت، ہمدردی اور مدد کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ لیکن اگر اپنی حیثیت سے بڑھ کر دیا جائے تو دوسروں کے لئے مسائل کا سبب بنتا ہے اور اس سے اختلافات بھی جنم لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نبی ﷺ نے ولیمہ کی تلقین کی ہے ۔ بیٹی کے گھر کھانے کی بھی ممانعت کی گئی ہے۔ لیکن ہمارا معاشرہ گونگا اور بہرہ ہو چکا ہے۔

آج بھی کتنی لڑکیاں جہیز نہ ہونے کی صورت میں اپنے بال سفید کر بیٹھی ہیں۔ والدین مجبور ہیں کہ لمبی چوڑی رقم کا اہتمام کیسے کریں؟ ، کم جہیز کی وجہ سے بہت سی لڑکیوں کی زندگی عذاب ہو جاتی ہے۔ آج کل معاشرہ انسانیت کی جگہ دولت کا پرچار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ہم نے اپنے دین اسلام کی تعلیمات کو بھلا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم برائیوں کی دلدل میں پھنستے چلے جا رہے ہیں۔ ہم بھول گئے کہ اسلام میں جہیز کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔

آج کل ہمارے معاشرے میں جہیز کو نمود و نمائش سمجھا جاتا ہے، اور لوگ اس میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں لگے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ جہیز کی بنیاد پر نکاح جیسے پاک رشتے کو مشکل سے مشکل تر بنا دیا ہے۔ اور بیٹی جیسی رحمت کو بو جھ سمجھا جا نے لگا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس لعنت سے معاشرے کو پاک کیا جائے اور اس کے لیے حکومتی سطح پر سخت اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ اور ایسے قو انین بنانے چاہئیں جو اس جہیز کی رسم کو ختم کر کے معاشرے کو اسلامی اصولوں اور اقدار کے مطابق بنانے میں اہم کردار ادا کرے۔

جہیز مانگ رہے ہو حیا نہیں آتی
اگر تمہیں ہے گوارا تو بھیک بھی مانگو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *