8 جنوری 1953ء کی طلبا تحریک کا ایک نا قابل فراموش کردار: ڈاکٹر محمد سرور

1960ء کی دہائی میں جب ہم پرائمری سے سیکنڈری اسکول میں پہنچے تو ہمارے ذہن میں دو باتیں پتھر پر لکیر کی طرح نقش ہو چکی تھیں۔ ایک تو یہ کہ یہ جو مارشل لا ہے اس سے نفرت کرنی چاہیے اور دوسرے یہ کہ طلبا تحریک سے محبت کرنی چاہیے۔ ان دونوں باتوں کا منظر یا پس منظر کیا تھا، اس کے بارے میں اس وقت تک ہمیں کچھ نہیں معلوم تھا۔ یہ باتیں بس ادھر ادھر سے کانوں

Read more

ٹورنٹو میں دلیپ صاحب کے ساتھ ایک انٹرویو کی کہانی

سنہ 1985 میں، گرمیوں کے موسم میں، ایک دن چندر شیکھر کا فون آیا کہ آج اسٹوڈیو میں دلیپ کمار اور سائرہ بانو کو میں نے انٹرویو کے لئے بلایا ہے، تو تم بھی آ جاؤ اور دلیپ کمار سے اردو میں انٹرویو کر لو۔ میں نے دل میں سوچا دلیپ کمار تو بہت بڑے اداکار ہیں اور اپنے پاکستانی پس منظر کی وجہ سے ان کے بارے میں اس وقت تک میری معلومات بھی بہت واجبی سی تھیں۔ کیوں کہ 1965 کی جنگ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ہر قسم کے ثقافتی اور ادبی رابطے ختم ہو گئے تھے۔

Read more

اردو کے برطانوی اسکالر ڈیوڈمیتھوز کی موت ، ایک درخشندہ باب کا اختتام

ہمارے یہاں مستشرقین کے بارے میں ہمیشہ سے ایک کشش سی رہی ہے۔ جس قدر انہیں ہمارے بارے میں جاننے کی جستجو ہوتی ہے ، اس سے کہیں زیادہ ہمیں ان غیر زبان کے لوگوں کے بارے میں جاننے کی خواہش ہوتی ہے۔ پروفیسر ڈیوڈ میتھوز کی شخصیت بھی ایسی ہی تھی۔

آج سے تقریباً نصف صدی پہلے کی بات ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے مشہور و معروف ڈاؤننگ کالج کے باہر ایک نوجوان انگریز طالب علم نے اپنی سگریٹ سلگائی اور انگلستان کی مسلسل اور تھکا دینے والی بارش سے بچنے کے لیے خود کو ذرا سا سائبان کے نیچے کر لیا۔ اسی اثنا میں ایک اور طالب علم، جو اپنی شکل اور وضع قطع سے جنوبی ایشیا کا رہنے والا معلوم ہوتا تھا، اس کے نزدیک آ کر کھڑا ہو گیا۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب دو سگریٹ پینے والے کھلی فضاء میں سگریٹ کے کش لگاتے ہیں تو بل کھاتے ہوئے دھوئیں کے درمیان نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔

انہوں نے اپنے اسی دوست سے برصغیر کی زبانوں کے بارے میں کچھ ابتدائی معلومات حاصل کیں اور انٹرویو دینے چلے گئے۔ وہاں ان کے موضوع پر سوالات کے بعد انٹرویو لینے والی پروفیسر نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کسی جنوبی ایشیائی زبان سے بھی واقف ہیں تو ڈیوڈ نے ایک رباعی جو انہوں نے اپنے پاکستانی دوست سے سیکھی تھی، اسے مکمل اعتماد کے ساتھ پڑھ کر سنا دی۔ خاتون نے کہا آپ کو تو بہت اچھی اردو آتی ہے۔

ڈیوڈ کی قسمت نے ان کا ساتھ دیا چونکہ وہاں اور کوئی ان سے بہتر امیدوار موجود نہ تھا لہٰذا ان کی ڈگریوں اور بنیادی قابلیت کی بناء پر لندن یونیورسٹی کے شعبۂ لسانیات میں ان کا تقرر ہو گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ڈیوڈ نے جو رباعی اپنے انٹرویو کے دوران سنائی تھی اس کا دور دور تک اردو زبان سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ وہ رباعی عمر خیام کی تھی۔

Read more

فیض کی ڈیڑھ نظمیں جنہیں ضیا الحق کے دور میں ان کے کلیات سے نکال دیا گیا

پاکستان میں کسی بھی آمریت کا زمانہ ہو ہر دور میں آزادی ِ اظہار پر پابندیوں کی ایک سیارہ تاریخ رقم ہوتی رہی ہے۔ فیض صاحب کی ایک نظم جو 1967 میں جنرل ایوب خان کے دور میں لکھی گئی اور جنرل یحیٰ خان کے دور میں 1970 میں ان کے مجموعے ”سر ِ وادی ِ سینا“ میں شائع ہوئی مگر جنرل ضیا الحق کے زمانے میں 1984 میں ان کے کلیات ”نسخہ ہائے وفا“ کی جب اشاعت ہوئی تو

Read more

احمد فراز: آخری مشاعرہ، آخری ملاقات

فراز صاحب سے میری پہلی ملاقات 1975 میں اس وقت ہوئی تھی جب وہ یوم مئی کے مشاعرے میں اسلام آباد سے کراچی آئے تھے۔ اُن دنوں کراچی میں ترقی پسند ساتھیوں کی دعوت پر وہ ہرسال اس مشاعرے میں شرکت کے لیے آتے تھے۔ ایر پورٹ پر ان کا استقبال کرنے والوں میں اپنے دوست مجاہد بریلوی کے ساتھ ساتھ میں نے بھی زبردستی اپنا نام شامل کروالیا تھا کہ کم از کم ان کو قریب سے دیکھنے کا

Read more