بھارتی فوج کے کالے کرتوت

کچھ عرصہ قبل ہم سب کی نظر سے بھارتی استانی کا ایک کلپ گزارا جس میں ان کا کہنا تھا کہ میں بچوں کو بھارتی سینا میں نہ جانے کی ترغیب دیتی ہوں کیونکہ بھارت کی سرکار اپنی فوج کی تربیت کے لئے کوئی بھی اقدام نہیں کر رہی ہے، ان کے مطابق کارگل کی جنگ میں اسلحہ تو دور کی بات یونیفارم تک پورا نہیں تھا، انہوں نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کا بیٹا بھی اس جنگ کا حصہ تھا جس کے پاس لڑنے کے لئے بندوق تو دور کی بات، پاؤں میں پہنے کے لئے بوٹ تک نہ تھے، ننگے پاؤں پہاڑوں پر چڑھ کر بہت سے بھارتی فوجی تو زخمی پاؤں کے سبب جنگ لڑ نے سے قاصر تھے پھر باقی کی کمی ناقص کھانے نے پوری کر دی تھی، کارگل وار کے حوالے سے بھارتی سابق جنرل بخشی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیں گردن سے دبوچ لیا تھا۔ بھارتی بٹالین کے جوان واش روم جانے تک سے گھبراتے تھے، یہ حال ہے اس فوج کا جو پاکستان فوج سے دفاعی بجٹ اور اعدادی اعتبار سے کہیں زیادہ ہے۔

کیا آپ جانتے بھارت کا دفاعی بجٹ کتنا ہے؟

’دفاعی اخراجات‘ پر کثیر رقم صرف کرنے والا بھارت دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن گیا، بھارت کا دفاعی بجٹ 77 کھرب 85 ارب روپے ہے، اس کے برعکس پاکستان کا دفاعی بجٹ 12 کھرب 90 ارب روپے ہے، یاد رہے کورونا وبا کے نکتہ عروج کے دنوں میں ملک و قوم کی فلاح بہبود کی خاطر پاک فوج نے اپنی تنخواہ قومی خزانے میں جمع کرائی تھی اور دفاعی بجٹ میں اضافے کے حوالے سے بھی گریز کیا تھا، تاہم بھارتی سینا نے وبا کے دنوں میں اپنے بجٹ میں چھ گنا اضافہ کرایا۔

بھارتی فوج کی بدعنوانیاں

بھارتی فوج کرپٹ ترین ہے، راشن اسکینڈل، کولکتہ سکینڈل اور پھر سابق وزیر دفاع جارج فرنانڈس کی طرف سے اسرائیل سے دفاعی نظام ”براک“ کی خریداری میں کمیشن کے حوالے سے ایف آئی آر کا اندراج بڑے اہم واقعات ہیں۔

بھارتی کی فلمی فوج کی اداکاریوں کے کیا کہنے، بھارتی فوج کے ایک کمانڈنگ افسر نے سیاچن میں ایک جعلی چیک پوسٹ کو تباہ کر کے اسے نہ صرف پاکستانی پوسٹ ثابت کرنے کی کوشش کی لیکن وہ خود بے نقاب ہو گئے۔ بھارت کی وزارت دفاع نے ایک بھارتی جرنیل کو کورٹ مارشل میں دی گئی سزا کا اعلان کیا۔ میجر جنرل گراقبال سنگھ کے خلاف شراب کے چار ٹرک چوری کرنے کا الزام تھا۔ یہ ٹیکس فری شراب فرنٹ لائن سولجرز کے لئے مخصوص تھی۔ جرم ثابت ہونے پر جنرل ملتانی کے رینک اتروا کر اسے تین سالوں کے لئے جیل بھیج دیا گیا۔ اس جرم میں جنرل ملتانی کے ساتھ 16 افسرز بھی ملوث پائے گئے۔

اسکینڈلز کے حوالے سے ہٹ دھرمی دکھانے میں سابق وزیر دفاع جارج فرنانڈس کا کوئی جواب نہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کارگل کی جنگ سے مالی فائدہ اٹھانے والوں میں سرفہرست جارج فرنانڈس ہے جس نے کارگل کی جنگ میں ہلاک ہونے والے بھارتی فوجیوں کے لئے درآمد کیے جانے والے اسٹیل کے تابوتوں تک سے کمیشن کمایا۔

بھارتی سینا کے مزید تیرہ سینیئر افسر بھی کرپشن میں پکڑے گئے جن میں 8 کا تعلق ہندوستانی آرمی اور 5 کا انڈین نیوی سے تھا۔ اس مجرم ٹیم میں بھارتی آرمی سپلائی کور کا ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل سریندر ساہنی بھی شامل تھا۔ اس کے ساتھ چار میجر جنرل تھے۔ انکوائری کے دوران پتہ چلا کہ 4 بریگیڈئیر بھی ملوث تھے۔ ان افسران نے فوج کے لئے راشن کی خرید میں کرپشن کی۔

گویا بھارتی فوج عام سپاہی سے لے کر جنرل تک کرپشن کی دلدل میں ڈوبی ہوئی ہے۔

بھوکی بھارتی فوجیوں کے ویڈیو پیغامات، انٹرنیٹ پر وائرل

بھارتی فوجیوں نے ویڈیو پیغام میں اپنی فوج کے کرتوت بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں فوج میں افسران کی بیویوں کے نوکر کے طور پر لیا جاتا ہے۔ ہم جوانوں کو اپنے ہی افسران سے خطرہ ہے۔ بھارتی فوج میں افسران کی بیگمات کا حکم مانا جاتا ہے جبکہ ہماری بیویوں کو فیملی ویلفیئر سینٹر میں ڈانس کرنے کا کہا جاتا ہے جہاں افسران کی بیگمات ان پر ہنستی ہیں۔

بھارتی فوج میں بدترین کرپشن ہے اور جوانوں کے کھانے اور پہننے کے لیے کپڑوں تک میں کرپشن کی جا رہی ہے۔ فوج میں افسران ہم سے غلاموں کی طرح برتاؤ کرتے ہیں، ایک اور بھارتی فوجی نے جوانوں کو کھانے والی پتلی ترین دال اور جلی ہوئی روٹیاں دکھا کر کہا کیا ہم یہ کھا کر ملک کا دفاع کریں گے۔

جنرل بخشی کے بعد ایک اور بھارتی جنرل کا کارگل جنگ میں ناکامی کا اعتراف

بھارتی خبررساں ادارے پی ٹی آئی کی خبر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مہندر پوری نے جنوری 2019 میں بھارتی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ کارگل میں بھارتی فوج ناکام ثابت ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ 1999 ء میں پاک فوج نے کارگل میں وسیع علاقے میں پیش قدمی کی تھی جس کا مقصد کشمیر کے مسئلہ کو عالمی طور پر اجاگر کرنا اور سری نگر سے لیہ جانے والی سڑک بلاک کرنا تھا تاکہ سیاچن کا زمینی رابطہ منقطع کیا جا سکے۔ بھارت، پاکستان کو جواب دینے میں ناکام ثابت ہوا۔

خیال رہے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مہندر پوری نے کارگل جنگ میں بھارت کے آٹھویں ماؤنٹن ڈویژن کی کمان کی تھی، انہوں نے بھارت کی ناکامی کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا۔

بھارتی فوج میں سکھوں کے ساتھ ناروا سلوک معمول بن چکا ہے، سکھ فوجیوں پر اس حد تک ذہنی تشدد کیا جاتا ہے کہ وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، اکثر اہل سکھوں کو ترقی سے محروم کرنے کے علاوہ انہیں توہین اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے، فوج میں بھرتی کیے گئے سکھ جوانوں کی بھی کوئی عزت نہیں ہے، نہ ہی ان کی جان کی پروا کی جاتی ہے بلکہ جنگ کے دنوں میں اور ایل او سی پر ہندو فوجیوں کے آگے سکھ سپاہیوں کو کھڑا کیا جاتا ہے تاکہ پہلی گولی سکھ جوان کے سینے کو چھلنی کرے۔

اسی ناروا سلوک کے سبب بھارتی فوج کے 13 ہزار سے زائد سکھ فوجیوں نے استعفیٰ دے کر سکھوں کے الگ وطن کی تحریک خالصتان تحریک میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

بھارتی فوج کی سفاکیت، حیوانیت اور بربریت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، ان کی حیوانیت کا مظاہرہ مقبوضہ کشمیر تو ہے ہی مگر یہ اپنی بھارتی خواتین کو بھی جنسی تسکین کا نشانہ بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہیں۔

2004 میں بھارتی ریاست منی پور کے دارالحکومت امپھال میں واقع آسام رائفلز کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے سینکڑوں خواتین نے بھارتی فوج کے خلاف احتجاج کیا، جس میں وہ برہنہ حالت میں تھیں، انہوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، ان پر تحریر تھا کہ ”بھارتی فوج کے درندہ صفت افسرو! اگر تمہیں انسانیت کا ذرا سا بھی لحاظ نہیں تو آؤ اور ہمارے برہنہ جسموں سے بھی اپنی حیوانیت کی پیاس بجھاؤ“ ۔

سینکڑوں برہنہ خواتین زور زور سے
Rape Us Indian Army Officers Rape Us, Indian Officers take FLESH
کے نعرے لگاتے ہوئے آہ و زاری کر رہی تھیں اور بھارتی فوج کے ظلم کے خلاف دیوانہ وار چلا رہی تھیں۔ یہ احتجاج منی پور کے قصبے بامون لیکھائی سے تعلق رکھنے والی 32 سالہ خاتون منورما کی بھارتی فوجیوں کی جانب سے اجتماعی آبرو ریزی کے بعد کیا گیا تھا اور اس گھناؤنے عمل کے دوران اس کی موت واقع ہوجانے کے بعد اس کی لاش کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا تھا۔ پوسٹ مارٹم کے دوران اس کے مردہ جسم سے 16 گولیاں نکالی گئیں۔

اس وحشیانہ حرکت کے نتیجے میں منی پور کے طول وعرض میں ایک آگ سی بھڑک اٹھی تھی اور بھارت کے صف اول کے صحافیوں، بشمول پرفل بدوائی، کلدیپ نیئر اور وجے گوئل نے اس مظاہرے کو بھارت کی تاریخ میں ہی نہیں، دنیا بھر کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا واحد المیہ قرار دیا تھا۔ جب بھارتی فوج کے ننگے جرائم کے خلاف مظلوم خواتین مکمل برہنہ حالت میں بے کسی اور مظلومیت کی عجیب سی تصویر بنی آہ و زاری کر رہی تھیں، اس سانحہ کی سنگینی کا یہ عالم تھا کہ بھارتی فوج کی ایسٹرن کمان کے جنرل افسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل جے آر مکرجی نے نہ صرف عوام سے معافی مانگی، بلکہ تسلیم بھی کیا کہ ہندوستانی فوج کے 66 افسر اور جوان صرف منی پور سے ایسے گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کر چکے ہیں۔

بھارتی فوج کی خواتین بھی مرد افسران کی ہوس کے نشانے پر

جون 2006 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے اودھ پور میں تعینات انڈین آرمی کی ASC 5071 بٹالین کی نوجوان خاتون افسر لیفٹیننٹ سشمیتا چکروتی کی آبروریزی کے سبب خودکشی کی خبر سامنے آئی، اس خاتون افسر کا جنسی استحصال دشمن کے کسی سپاہی نے نہیں بلکہ اس کے اپنے سینیئر آرمی افسر ز نے ہی کیا اور حد تو یہ ہے کہ اس گھناؤنے جرم کا مرتکب ہونے کے بعد بجائے شرمندگی محسوس کرنے کے ہندوستانی افواج کے اس وقت کے نائب سربراہ وائس چیف آف انڈین آرمی لیفٹیننٹ جنرل ایس پیتھمبرہن نے علانیہ کہا کہ بھارتی خواتین کو اگر اپنی عزت اتنی ہی عزیز ہے تو انہیں انڈین آرمی میں شمولیت سے گریز کرنا چاہیے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم

پاکستان کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق فارم سے آزادانہ تحقیقاتی کمشن تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تین دہائیوں سے ایک لاکھ سے زائد معصوم کشمیریوں کو قابض بھارتی فوج نے شہید کر چکی ہے۔ 23 ہزار سے زائد کشمیری خواتین بیوہ بنا دی گئی ہیں۔ خواتین کی بے حرمتی کے گیارہ ہزار سے زائد واقعات ہوئے ہیں۔ ایک لاکھ آٹھ ہزار بچے یتیم ہوئے ہیں اور ایک لاکھ نو ہزار سے زائد گھر مسمار و نذرآتش کیے گئے ہیں۔ وادی میں ایسی خواتین کی بڑی تعداد موجود ہے جن کے نوبیاہتا شوہروں کو بھارتی افواج نے لاپتا کر دیا اور تاحال ان کا علم نہیں ہے۔

مقبوضہ وادی میں ہزاروں افراد کے شہید ہونے کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ نابینا اور معذور ہوئے ہیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ نومبر 2018 میں شوپیاں کے علاقے میں بیس ماہ کی معصوم حبا کو پیلٹ گن کا نشانہ بنایا گیا۔ جس کے باعث ننھی حبا اپنی دائیں آنکھ کا نور کھو چکی ہے۔ کٹھوعہ کی آٹھ سالہ معصوم آصفہ بانو کو اغواء کر کے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ واضح رہے یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے، مقبوضہ وادی بھارتی فوج کی سفاکی سے ہراساں اور سہمی ہوئی ہے۔

5 اگست 2019 کؤ بھارت نے قابض وادی کے حق کو مزید غصب کرتے ہوئے آرٹیکل 370 اور 35 اے کا خاتمہ کر کے مقبوضہ وادی کے معصوم مکینوں پر مزید ستم ڈھایا۔

پاکستان کی جانب سے بھرپور سفارتی محاذ پر ہنگامی اجلاس نے بھارت کو سفارتی محاذ پر شکست دی ہے، پاکستان نے ظالم کا چہرہ بے نقاب کر کے بتایا کہ ہندوستان نے کس طرح مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے اور کس طرح بھارتی فوج کے تشدد اور سفاکی نے عوام کا جینا دو بھر کر دیا ہے۔

بھارتی فوج میں سیکس ورکرز کی بھرتیاں

ستمبر 2009 میں یہ انکشاف ہوا کہ بھارتی بارڈر پر اپنے فرائض انجام دیتی 178 خاتون فوجیوں میں سے 63 خواتین اہلکار سنگین جنسی طبی مسائل کا شکار ہیں۔ 2009 میں ہی خاتون افسر پونم کپور کو صرف اس لئے ملازمت سے برطرف کر دیا گیا کہ اس نے فوجی عدالت میں اپنے ساتھی فوجی اہلکاروں کے خلاف جنسی تشدد اور زیادتی کا مقدمہ دائر کیا تھا، لیکن اس مقدمہ کو جان بوجھ کر بوگس قرار دے دیا گیا اور ان فوجی اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جبکہ خاتون فوجی افسر کو بھاری جرمانہ بھی ادا کرنا پڑا۔

دسمبر 2017 میں یہ مسئلہ مزید سنگین صورتحال اختیار کر گیا جب خاتون سپاہیوں کی جانب سے مزید شکایات سامنے آئیں، جس میں بار بار قے آنا اور سر درد شامل تھا۔ لہٰذا خواتین سپاہیوں کو سرینگر میں واقع بادام باغ چھاؤنی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان خواتین سپاہیوں کے مختلف ٹیسٹ کیے گئے، جس میں انکشاف ہوا کہ زیادہ ترخواتین فوجی اہلکار حاملہ ہیں اور اکثر غیر محفوظ جنسی تعلق کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار ہیں۔

اس صورتحال کے واضح ہونے کے بعد بھارت کی وزارت داخلہ نے خواتین کے حقوق کی پاسداری کرنے کے بجائے کنڈوم بنانے کی مشینیں بنانے اور انہیں سرحدی علاقوں میں بٹالین ہیڈکوارٹر میں نصب کرنے کی منصوبہ بندی مرتب کی۔ اس شرمناک اقدام کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں تعینات مرد فوجیوں کو جنسی خواہشات کی تکمیل کے مراحل میں آسانی فراہم کرنا اور خواتین فوجی اہلکاروں کو حاملہ ہونے سے بچانا تھا۔ بھارت کی سرکاری نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق سرحدی دور دراز علاقوں میں 1000 سے زائد کنڈوم مشینیں خرید کر نصب کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جہاں ہر ماہ فوجیوں میں کنڈوم مفت تقسیم کیے جاتے ہیں۔

سرجیکل اسٹرائیک کی بھڑکیں مارنے والے بھارتی فوج میں ہم جنسی پرستی کا شکار

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی فوج جس نے پہلے پاکستانی علاقے میں سرجیکل اسٹرائیک کا دعویٰ کر کے دنیا بھر میں اپنا مذاق بنوایا، اسی بھارتی فوج میں 2019 میں ہم جنسی پرستی کا انکشاف بھی ہو چکا ہے۔ بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل بپن راوت اپنی فوج میں ہم جنس پرستی کے خلاف تھے جس کے باعث وہ شدید تنقد کی زد میں رہے۔

بھارتی فوج میں خودکشی کے رجحان میں اضافہ

بھارت کی جانب سے جاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سن 2019 میں بھارت میں ہر تین دن میں ایک فوجی جوان نے خود کشی کی جبکہ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے دوران 1100 سے زائد بھارتی فوجی اہلکاروں نے یہ انتہائی قدم اٹھا کر اپنی جان لی ہے۔ ان میں بھارتی بری فوج کے 895 جوان جبکہ بھارتی فضائیہ کے 185 اوربھارتی بحریہ کے 32 جوان شامل تھے۔ اس طرح تینوں افواج میں خودکشی کے سب سے زیادہ واقعات بھارتی آرمی میں ہو رہے ہیں۔ بھارتی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق دشمنوں کے ہاتھوں موت کے مقابلے میں خودکشی کرنے والے بھارتی فوجیوں کی تعداد زیادہ ہے۔

سن 2019 میں بھارتی بحریہ، فضائیہ اور بری فوج میں خودکشی کے مجموعی طور پر 95 کیسز ہوئے۔ بحریہ میں دو، فضائیہ میں بیس اور بری فوج میں خودکشی کے 73 کیسز درج کیے گئے۔

بھارتی فوج کے تھنک ٹینک کی خودکشی کے حوالے سے رپورٹ

بھارتی فوج کے تھنک ٹینک یونائٹیڈ سروس انسٹی ٹیوشن آف انڈیا (یو ایس آئی) نے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ جس میں کہا گیا تھا کہ بھارتی آرمی کے نصف سے زائد اہلکار انتہائی شدید دباؤ میں ہیں اور مسلح افواج میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا یہ ہی سبب ہے۔ تاہم تھنک ٹینک نے بعد میں اپنی یہ رپورٹ حذف کر دی۔

بھارتی میڈیا کی فوجی اہلکاروں کی خود کشی کے حوالے سے رپورٹ

بھارتی میڈیا کے مطابق یو ایس آئی کے سینیئر ریسرچ فیلو کرنل اے کے مور کی تیار کردہ اس رپورٹ کی اشاعت نے بھارت کے دفاعی حلقے میں طوفان برپا کر دیا تھا۔ کرنل مور نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا ”بھارتی آرمی کے اہلکاروں کہ انسداد دہشت گردی، انسداد انتہا پسندی کے ماحول میں طویل عرصے تک رہنے کی وجہ بھی ان میں دباؤ پیدا کرنے کے عناصر میں سے ایک ہے“ ۔ جبکہ آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے نے مبینہ طور پر یہ کہتے ہوئے اس رپورٹ کو مسترد کر دیا تھا کہ یہ صرف 400 جوانوں کے کیسز پر مبنی ہے۔ بھارتی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ 400 افراد کے نمونے کی بنیاد پر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ دباؤ ہے یا نہیں ہے۔ دباؤ ہو سکتا ہے، مجھ پر بھی دباؤ رہتا ہے، دباؤ کوئی بری چیز نہیں ہے، اس کے نتیجے میں کام بہتر ہو سکتا ہے۔ ”

پاکستان کے حالات کی ابتری کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جس کا اعتراف بھارت کی موجودہ سرکار اور سابق فوجی افسران معتدد بار کر چکے ہیں۔

مارچ 2016 کو پاکستان کی گرفت میں آنے والا بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر کل بھوشن یادیو اس بات کا ٹھوس اور واضح ثبوت ہے کہ بھارت کی فوج اور ریاست دہشت گردانہ اقدامات میں ملوث رہی ہے۔

گھس کر مارنے والوں کی حقیقت

ستائیس فروری 2019 کا دن بھارت کے ماتھے کا سیاہ داغ ہے جب اس کے سپوتوں نے اسے رسوا کرنے کی کوئی کسر نہ چھوڑی تھی، 18 سال کا تجربہ رکھنے والا بھارتی ونگ کمانڈر ابھی نندن کے جنگی طیارے سمیت بھارت کے ایک اور حربی کرافٹ کی تباہی دنیا کے سامنے ہے۔

اللہ کے کرم سے ابھی نندن کو پکڑ کر اور چائے پی کر خوب خاطر مدارات کے بعد رخصت کرنے سے پاکستان جنگی ہی نہیں اخلاقی میدان میں بھی سرخرو ہوا ہے جبکہ بھارت کے فلمی ڈائیلاگ کی قلعی کھل کر سامنے آ گئی ہے، آج بھارت چین کے سامنے بھی 1960 کی طرح ناک رگڑ رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words