سماج کو سمجھنے کے بنیادی اصول (قسط دوم)۔


پچھلی قسط میں ہم نے ذکر کیا تھا کہ چند بنیادی اصول ہیں سماجی نفسیات (Social Psychology) کے کہ جن کی مدد سے ہم اپنے معاشرتی رویوں کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں اور ان کی پیش گوئی بھی کر سکتے ہیں۔ پہلی قسط میں ہم نے دو بنیادی اصولوں کا ذکر کیا تھا۔ Construction of reality اور Social influence  کہ ہر شخص اپنی حقیقت تعمیر کرتا ہے یا یوں کہ ہر شخص کی اپنی حقیقت ہوتی ہے۔

اسی طرح دوسرا اصول تھا کہ معاشرے میں رہتے ہوئے ہم اپنے اردگرد لوگوں پہ اثر انداز ہوتے ہیں اور اردگرد کے لوگ ہم پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس قسط میں ہم بنیادی تین محرکات کا ذکر کریں گے جو ہمارے معاشرتی رویوں کے پس پردہ کار فرما ہوتے ہیں۔ یعنی ہم جو بھی اعمال سر انجام دیتے ہیں، ان کے پیچھے انہیں محرکات (Motives) کا ہاتھ ہوتا ہے۔

سب سے پہلا محرک ہے Striving for Mastery ۔ اردو میں ہم اسے ”علم حاصل کرنا“ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اپنی ذات کے متعلق علم حاصل کیا جائے، دوسروں کے متعلق معلومات حاصل کی جائیں، اپنے ماحول کو سمجھا جائے تاکہ اس ساری معلومات کو استعمال میں لاتے ہوئے ہم اس دنیا میں کامیاب زندگی گزار سکیں اور اپنے حالات اور واقعات کو قابو کر سکیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ اگر آپ کہیں نوکری کے لیے درخواست دینا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے آپ اس نوکری کے متعلق معلومات حاصل کریں گے۔

آپ کے علم میں یہ ہونا ضروری ہے کہ اس نوکری کے لیے کس قسم کی تعلیم اور قابلیت درکار ہے اور یہ کہ آپ کی ذمہ داریاں کیا ہوں گی۔ پھر جب آپ نوکری کے انٹرویو کے لیے جائیں گے تو عین ممکن ہے آپ کو نوکری مل بھی جائے کیونکہ آپ وہ تمام معلومات رکھتے ہیں جو درکار ہیں۔

اسی کو ہم اگر وسیع النظری سے دیکھ لیں تو اسے Striving for Mastery کہتے ہیں۔ یعنی زندگی کے ہر پہلو میں کوشش کرنا کہ زیادہ سے زیادہ اور درست معلومات حاصل کر سکیں تاکہ حالات کو اور پھر نتائج کو اپنی مرضی کے مطابق قابو کر سکیں۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کو اس بات کا علم ہو، یعنی آپ کے شعور میں یہ بات ہونا ضروری نہیں ہے کہ آپ یہ ساری معلومات اس لیے لے رہے ہیں کہ حالات کو قابو میں رکھ سکیں۔

یہاں لگے ہاتھوں ہم اس بات کا بھی ذکر کرتے چلیں کہ عام طور پہ لوگ یہ کوشش کرتے ہیں کہ ایسی معلومات رکھیں یا ایسے نظریات کو اپنائیں جو بہت سے لوگوں میں مشترکہ ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے نظریات اپنانے سے ہمیں تسلی ملتی ہے کہ یہ نظریات ٹھیک ہی ہوں کہ کیونکہ بہت سے لوگوں نے انہیں اپنا رکھا ہے۔ اب اتنے زیادہ لوگ غلط تو نہیں ہو سکتے۔ آپ نے لوگوں کو اکثر یہ منطق بھی استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہو گا کہ چونکہ یہ بات بہت سے لوگ یوں ہی تسلیم کر تے ہیں لہٰذا یہ بات سو فیصد سچی ہے۔

دوسرا بنیادی محرک ”منسلک ہونا“ ہے ہم انگریزی میں Seeking Connectedness بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہر شخص اپنے اردگرد لوگوں کا ہجوم دیکھنا چاہتا ہے، جو اس کی قدر کریں، اس کی عزت کریں، اسے قبول کریں اور اسے پسند کریں۔ ایک معاشرتی حیوان ہونے کی وجہ سے بہت اہم بات ہے کہ ہم اپنے اردگرد کے لوگوں سے اچھے تعلقات بنا کر رکھیں۔ آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ عام طور پہ افسردہ شاعری میں اسی عمل کی ناکامی کا ذکر ہوتا ہے۔

شاعر یہ پیش کرتا ہے کہ وہ اس بھری دنیا میں اکیلا ہے اس کا کوئی دوست نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح ہم لوگ سمجھ سکتے ہیں۔ لوگ جماعتوں، تنظیموں سے اسی لیے منسلک ہوتے ہیں کہ وہ اس ”منسلک ہونے“ کے مقصد کو پورا کر سکیں اور یہ مثال تو پہلے بھی دی جا چکی ہے کہ آپ دنیا کے کسی کونے میں چلے جائیں، اگر آپ اپنی قومی شناخت کو اہمیت دیتے ہیں تو آپ کسی بھی کھیل میں اپنی قومی ٹیم کو ہی سپورٹ کریں گے۔ اسی طرح اپنی زبان، تہذیب و ثقافت اور روایات کو اہمیت دینے میں بھی یہی محرک کار فرما ہوتا ہے کیونکہ یہ سب کرنے سے ہمیں بار بار احساس ہوتا ہے کہ ہم کسی جماعت سے وابستہ ہیں اور یہ کہ اس جماعت میں ہماری اہمیت اور قدر موجود ہے۔

پچھلے دنوں ہمیں یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ کسی دوسرے شہر جانے کا اتفاق ہوا۔ چونکہ ہنگری میں دنیا کے تمام ممالک سے لوگ سیروسیاحت اور تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں لہٰذا شہر کے درمیان میں ایک لوہے کی بڑی سی پلیٹ پر دنیا کے تمام ممالک کے پرچم چسپاں تھے تاکہ ایک باہمی تعلق کو فروغ ملے۔ ہم وہاں پہنچے تو بڑا دلچسپ واقعہ پیش آیا کسی طالب علم نے یوں ہی سوال داغ دیا کہ اس میں سے خوبصورت پرچم کس ملک کا ہے؟ اب آپ ذرا غور کریں کہ سب سے خوبصورت پرچم کس ملک کا ہے؟ جی بالکل ”ہمارے ملک کا پرچم“ یہی سب سے خوبصورت ہے۔ وہاں موجود سبھی طلبا یہی کہہ رہے تھے۔ اسی کو ہم کہتے ہیں Valuing ”Me“ and ”Mine“ یعنی خود اپنی ذات کو اور ذات سے منسلک چیزوں کو اہمیت دینا اور مثبت نظر سے دیکھنا۔ آپ بتائیے کہ سب سے عمدہ زبان کون سی ہے؟ یقینا

”ہے سارے جہاں میں دھوم، ہماری زبان کی“

اسی طرح ”ہمارا مذہب“ اور پھر ہمارا ”مسلک“ بھی باقی ماندہ مذاہب و مسالک سے اچھا ہے۔ اسی طرح وہ سیاسی جماعت بھی دوسری سیاسی جماعتوں سے زیادہ معتبر ہے جس سے ہم منسلک ہیں۔ تو یہ تھا تیسرا محرک۔

اگلی قسط میں جو کہ اس سلسلے کی آخری قسط بھی ہے۔ میں ہم مزید تین اصولوں کا ذکر کریں گے کہ جن کے تحت ہم اپنے معاشرتی رویوں کو سمجھ سکتے ہیں۔

(جاری ہے۔۔۔ )

Facebook Comments HS