عورت مارچ: خاتون رپورٹر نے میرا انٹرویو کیوں نہیں چلایا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے دو، تین برس سے جب خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ہمارے ہاں عورت مارچ منعقد ہونا شروع ہوا ہے تو ہر دفعہ اس کو غلط ثابت کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ ایسا سامنے لایا جاتا ہے جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جیسا کہ پہلے مارچ میں موجود پلے کارڈز پر درج نعروں کو فوٹو شاپ کی مدد سے اپنی مرضی کے مطلب دیے گئے۔ مارچ کا انعقاد کرنے والوں کو غیر ملکی ایجنٹ قرار دیا گیا۔

اس دفعہ کے مارچ پر بھی ایسی کئی چیزیں دیکھنے کو ملیں ، جیسا کہ اسلام آباد میں ہونے والے عورت مارچ میں جب وومن ڈیموکریٹک فرنٹ کی طرف سے اپنے مطالبات پیش کرنے کے لئے اپنا جھنڈا لہرایا گیا تو اس کو فرانس کا جھنڈا کہہ کر اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ جس کے بعد ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کی طرف سے وضاحت بھی دی گئی۔

اسی طرح ایک بینر جو کہ ایک چھوٹی بچی کی جنسی ہراسانی سے متعلق تھا، اسے غلط طور پر اسلامی تاریخ سے ملا دیا گیا اور یہ تأثر دینے کی کوشش کی گئی کہ جیسے کوئی توہین مذہب کر دی گئی ہے۔ ایسے ہی ایک ویڈیو میں الفاظ اور آواز کا ہیرپھیر کر کے اسے بھی توہین مذہب کا رنگ دینے کی ایک شرم ناک کوشش کی گئی۔ اور اب اسلام آباد میں عورت مارچ کے منتظمین کے خلاف ایک جھوٹی ایف آئی آر بھی درج کروا دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ مذہبی تنظمیوں اور گروہوں کی طرف سے عورت مارچ کے منتظمین کو دھمکیاں دیے جانے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

اس پر عورت مارچ کے منتظمین نے وزیراعظم عمران خان صاحب کو ایک خط بھی لکھا ہے۔ جس میں ان سے اس ساری صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ان کے خلاف جھوٹا پروپیگینڈا کرنے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہی نہیں عورت مارچ کے موقع پر میڈیا رپورٹرز کے حلیے میں کچھ لوگوں نے وہاں جا کر نہ صرف خواتین کو ہراساں کیا بلکہ انتہائی فضول قسم کے سوالات بھی کیے۔ ایسا ہی کچھ میرے ساتھ لاہور میں منعقد ہونے والے عورت مارچ میں بھی ہوا۔ وہاں پر ایک یوٹیوب چینل کی خاتون رپورٹر نے مجھے انٹرویو دینے کے لئے کہا۔ اور بجائے خواتین سے متعلق کسی سنجیدہ مسئلہ پر بات کرنے کے وہی سوالات کیے جو وہاں پر موجود کچھ رپورٹرز کرتے ہوئے نظر آرہے تھے۔

مثلاً انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ ”ابورشن رائٹس“ کے بارے میں اپنی رائے دوں، یا ”ہم جنس پرستی“ کو میں کیسا سمجھتا ہوں؟ جب میں نے ان سے یہ کہا کہ آپ کو یہاں کون سے پلے کارڈز پر یہ سب باتیں لکھی ہوئی نظر آ رہی ہیں؟ اس سوال کا جواب دینے کی بجائے انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ کے اس طرح سے ایک دن پلے کارڈز اٹھا کر یہاں کچھ نعرے لگا کر عورتوں کے مسائل حل ہو جائیں گے؟ میں نے جواب دیا کہ بالکل ایسا نہیں ہو گا کہ ایسے ایک دن یہاں سڑک پر آ جانے سے خواتین کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ کیونکہ ہمارے سماج میں عورتوں کے مسائل اتنے پیچیدہ ہیں کہ ان کو حل کرنے کے لئے بہت وقت درکار ہو گا۔

یہ ایک لمبی اور کٹھن جدوجہد ہے اور یہ عورت مارچز تو درحقیقت ایک ذریعہ ہیں جن کی مدد سے اس پدر شاہی سوچ رکھنے والے سماج میں کچھ شعور بیدار کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ پدر شاہی سوچ کی جڑیں اتنی مضبوط ہو چکی ہیں کہ مردوں کے ساتھ عورتوں کی کثیر تعداد بھی یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہے کہ ان کے کوئی مسائل بھی ہیں۔ اس لیے عورت مارچ کے ذریعے ”مردوں کو ہی نہیں بلکہ عورتوں کو بھی سمجھانا ہے کہ یہ عورت کا زمانہ ہے“ ۔ پھر ”عورت مارچ“ کے منعقد ہونے سے ہمارے سماج میں خواتین کے مسائل کے حوالے سے ایک مباحثہ کا آغاز ہوا ہے جو ہمارے سماج کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔

اس پر ان محترمہ نے جھلا کر میرے ہاتھ میں پکڑے پلے کارڈ جس پر ”عورت کی مرضی کو عزت دو“ لکھا ہوا تھا، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا کہ عورت کی مرضی کو عزت دینے کا مطلب ”میرا جسم میری مرضی“ ہی ہے ناں تو آپ وہ ہی لکھ لیتے۔ میں نے مسکراتے ہوئے ان محترمہ کو جواب دیا کہ بالکل جسم کی مرضی بھی اس میں شامل ہے کہ عورت کو ویسے ہی یہ آزادی ہونی چاہیے کہ وہ اپنے جسم پر اپنی مرضی کا لباس پہن سکے۔ جیسے ایک مرد کو یہ آزادی حاصل ہے۔ پھر عورت کے جسم کو اس کی مرضی کے بغیر چھوا نہ جا سکے، اس کو ریپ نہ کیا جائے۔ اور شادی کے بعد بھی جنسی تعلق قائم کرنے کے دوران اس کی رضا مندی کا احترام کیا جائے۔جب وہ ”نو“ کہہ دے تو اس کا مطلب ”نو“ ہی لیا جائے۔ اور اگر پھر بھی مرد کی طرف سے زبردستی کی جائے تو اسے میریٹل ریپ سمجھا جائے۔

لیکن جسم کے ساتھ عورت کے پاس ایک روح بھی ہے تو اس کو اپنی زندگی کے سارے فیصلے اس کی مرضی سے کرنے کا حق بھی ہونا چاہیے، وہ فیصلہ پڑھائی کا ہو، نوکری کا ہو یا پھر اپنا جیون ساتھی چننے کا۔ اور اگر اسے کوئی مرد اپنے جیون ساتھی کے طور پر پسند آ جائے تو بجائے اس کی مرضی کو عزت دیتے ہوئے وہاں اس کی شادی کی جائے۔ اس کو بد چلن قرار دے کر خاندان کی عزت خاک میں ملانے کا الزام اس کے سر نہ تھوپا جائے۔ صرف اسے ہی خاندان کی عزت کا رکھوالا نہ سمجھا جائے۔

اور اگر وہ اپنے خاندان کی مرضی کے خلاف جا کر کسی کو اپنا جیون ساتھی چن لے تو اس کو غیرت کے نام پر قتل نہ کر دیا جائے یا پھر اگر وہ ایک مرد کی بجائے کسی دوسرے کو اپنے لیے پسند کرے تو محض اس وجہ سے اس کے چہرے پر تیزاب پھینک کر اسے زندگی بھر کے لئے اذیت سے نہ دوچار کر دیا جائے۔ اس پر ان محترمہ کا صبر جواب دے گیا اور انہوں نے انٹرویو ختم کر دیا۔

بعد میں جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے انٹرویو تو کر لیا ہے، کیا آپ اسے اپنے چینل پر چلائیں گی بھی؟ اس پر جس بددلی سے انہوں نے ہاں کہا، مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ انٹرویو تو نہیں چلے گا، کیونکہ ان کو جس طرح کے جوابات چاہیے تھے وہ شاید ان کو ملے نہیں۔

انہوں نے وہی کیا۔ اپنے پیج پر صرف وہی انٹرویوز شیئر کیے جن میں کچھ خواتین و حضرات نے غصہ میں آ کر کچھ ایسی باتیں کر دیں تھیں جو شاید وہ کروانا چاہ رہے تھے۔ جن کو خوب مرچ مسالہ لگا کر اپنے چینل پر پیش کیا گیا۔ یہی نہیں عورت مارچ سے متعلق ہر پوسٹ سے صاف عیاں تھا کہ وہ اس کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ اور انہوں نے یہ سلسلہ اب تک جاری رکھا ہوا ہے۔ اس ساری روداد سنانے کا مقصد محض اتنا ہے کہ جو لوگ اب بھی عورت مارچ کی کامیابی پر سوال اٹھاتے ہیں۔

ان کے لئے عرض ہے کہ عورت مارچ کی کامیابی اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ جب کوئی دلیل موجود نہیں ہے تو اس کے مخالفین نے اس کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی طرح سے آئندہ کے لئے اسے روکا جا سکے۔ اس لیے عورت مارچ کا منعقد ہونا بہت ضروری ہے تاکہ اس کے ذریعے ناصرف خواتین کے حقوق اور مسائل کے حوالے سے مزید شعور اجاگر کیا جا سکے بلکہ اس کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کو بھی بے نقاب کیا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *