حسین کہانیوں کی خالق حسینہ معین

ایسے کتنے ہی خوبصورت جملے تھے جو وہ اپنے کرداروں توسط سے ہم تک پہنچا دیتی تھیں اور وہ اندر ذہن کے کسی نہاں خانے میں جا کے سوچ میں جذب ہو جاتے تھے۔
حسینہ معین چل بسیں!
کل ان کے انتقال کی خبر ملی تو بہت رنج ہوا۔ حسین کہانیوں اور ڈراموں کا ایک عہد رخصت ہوا۔ ان کے الفاظ نے کہانیوں کی صورت جس طرح تفریحی اور خوبصورت انداز میں ہمارے معاشرے کی سوچ کو مثبت روش پہ ڈالنے کی کوشش کی تھی، اللہ تعالیٰ ان کو اس کا اجر عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔ آمین۔
کچھ مہینے پہلے کی بات ہے ہم ”فریش کو“ پہ ہفتہ وار گروسری اور سبزیوں کی جانچ پڑتال میں مصروف تھے کہ موبائل میں ٹن ٹن ہوئی۔ کبھی کبھی سارے نوٹیفکشن کی گھنٹیاں بند کر کے قسم کھا لو کہ اب اس موئی مشین کو کم از کم گھنٹہ بھر نہیں دیکھیں گے، تب بھی کچھ نہ کچھ بج ہی جاتا ہے ، پھر خود کو چاہے کتنا ہی روکو فون پہ نظر ڈالے بغیر قرار نہیں آتا۔ نام کچھ جانا پہچانا لگا
Haseena moin commented on your post
حسینہ معین؟ ان کہی، تنہائیاں، دھوپ کنارے؟ کچھ نام صرف نام نہیں ہوتے، ان کے ساتھ ان کے کئی حوالے جڑے ہوتے ہیں۔ کمنٹ ایک گروپ پہ بارش پہ لکھی تحریر پہ آیا تھا۔ پہلے تو سوچا کہ کسی نے ان کے نام کی فیک آئی ڈی بنائی ہو گی لیکن اکاؤنٹ چیک کیا تو اصلی لگا، پھر کیسی گروسری کہاں کی سبزیاں ، بس دماغ میں کھد بد ہوتی رہی۔ جن کے ڈرامے دیکھ کے ہم بڑے ہوئے ، ان کی پسندیدگی سند کی سی حیثیت رکھتی ہے۔
ڈرامے بھی کیا شاہکار تھے۔ سب سے اچھی بات تھی لڑکیوں کے باوقار اور مضبوط کردار۔ ان ڈراموں میں عورت رلتی پٹتی نہیں تھی ، نہ ایسی شاطر اور مکار تھی کہ ہمہ وقت گھریلو سازشوں میں مصروف رہے اور نہ معاشرے کی قدروں سے مادر پدر آزاد، بلکہ پڑھی لکھی تھی، خواب دیکھتی تھی، ذمہ داریاں اٹھاتی تھی اور زمانے کے ساتھ قدم ملا کے چلنے کا ہنر بھی جانتی تھی۔ کتنی لڑکیاں ہوں گی جنہوں نے ’دھوپ کنارے‘ کے بعد ڈاکٹر بننے کا سوچا ہو گا (ہر چند کہ سب کی قسمت میں ڈاکٹر احمر نہیں ہوتے ) ، کتنی ہوں گی جو تنہائیاں کی بزنس ویمن سے متاثر ہوئی ہوں گی ۔
خاندان کا تصور جتنا خوبصورت اور رشتوں کی خوشبو میں گندھا ہوا ان کی کہانیوں میں دکھایا جاتا تھا، اب دیکھو تو دل دکھتا ہے۔
ڈراموں کے متعلق شکایت کرو تو کہتے ہیں کہ ہم وہ دکھاتے ہیں جو معاشرے میں ہوتا ہے حالانکہ میڈیا کا کردار ہوتا ہے آگاہی فراہم کرنا، معاشرے کو نیا تأثر دینا، سوچ کو مثبت زاویوں پہ استوار کرنا تو اصولاً دکھانا تو وہ چاہیے جیسا کہ ہونا چاہیے ورنہ نئی سوچ اور انسپریشن کہاں سے آئے گی؟
بدقسمتی سے آج کل ڈراموں کی بھرمار میں گنتی کے کچھ ہوں گے جو سب مل کے دیکھ سکیں یا جن سے کچھ اچھا پیغام مل سکے۔ عجیب سی کہانیاں، عجیب سے کردار، متنازعہ موضوعات اور زبان و لہجہ تو لگتا ہے ہم بھول ہی گئے ہیں۔ جو کچھ دکھایا جاتا ہے وہی سوچ ذہنوں کی تربیت بھی کرتی ہے اور آہستہ آہستہ معاشرہ بھی وہی سب اپنانے لگتے ہیں۔
’ان کہی‘ تو پتہ نہیں کتنی بار دیکھا، ’دھوپ کنارے‘ جب بھی دیکھیں اچھا لگتا ہے۔ ’تنہائیاں‘ بچپن کا فیوریٹ ہے، اس کی دھن اور آخر میں بند ہوتا لکڑی کا بڑا سارا دروازہ اب بھی وہ زمانے جگا دیتا ہے۔
” ان کہی“ کے پیارے سے ماموں ہمیشہ بہت اچھے لگتے تھے، ”دھوپ کنارے“ میں ڈاکٹر احمر کے والد اور ”ان کہی“ میں عبیر کے والد کی باتیں شاید اس وقت سر سے گزر جاتی تھیں پر پھر بھی پتہ نہیں کیوں متاثر کرتی تھیں اور شاید اپنا اثر بھی چھوڑ جاتی تھیں ”تنہائیاں“ کی مضبوط اور اسمارٹ سی آنی سے ہم امپریس ہو جاتے تھے اور بھی ہے شمار کردار اور سین ہیں کہ بات کرنے بیٹھیں تو وقت کم پڑ جائے۔
آئیے آج حسینہ معین صاحبہ کی یاد میں ان کے ڈراموں، کرداروں، جملوں اور کہانیوں کے ساتھ اپنی یادیں دہراتے ہیں۔
کمنٹس میں بتائیے۔ ان کے ڈراموں میں
آپ کا پسندیدہ ڈرامہ کون سا ہے؟
کوئی ایسا کردار جو بہت پسند آیا اور جس نے بہت متاثر کیا؟
کوئی ایسا جملہ جو ذہن میں جذب ہو کے ہمیشہ کے لیے ایک یاد بن گیا؟
اللہ انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے، آمین

