EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی تاریخ اور بھٹو صاحب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ بھی عجیب بات ہے پاکستان پیپلز پارٹی کو کالعدم پاکستان سوشلسٹ پارٹی کے سابقہ ممبران نے قائم کیا۔ واضح ہو کہ اس سوشلسٹ پارٹی پر خود قائد ملت نواب زادہ لیاقت علی خان ؒ نے وزیر اعظم کی حیثیت سے پابندی عائد کی تھی۔ 1960 میں صدر ایوب کے مغرب اور امریکہ کی جانب جھکاؤ کی پالیسیوں کی مخالفت اور سوشل ازم کی حمایت میں مغربی پاکستان میں شدت آنے لگی۔ حریف بھارت کے ساتھ معاہدہ ء تاشقند کے فوراً بعد تو یہ دو چند ہو گئی۔

یہ وہ پس منظر ہے جب 30 نومبر 1967 کو لاہور میں بائیں بازو کے دانشور وں اور سوشلسٹوں کی ایک مجلس، ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں سابقہ وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ہوئی۔ یوں ایک سیاسی پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی عمل میں لائی گئی۔ مورخوں اور اس مجلس کے شرکاء کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو، ڈاکٹر مبشر حسن اور جے اے رحیم اس پارٹی کے بانیان میں سے ہیں۔ باہمی مشاورت سے ذوالفقار علی بھٹو کو پارٹی کا پہلا چیرمین بنایا گیا۔ اس کا منشو ر ’اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست، سوشلزم ہماری معیشت اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں‘ رکھاگیا۔ یہ مشرقی پاکستان کے کمیونسٹ، جے اے رحیم نے لکھا اور سب سے پہلے 9 دسمبر 1967 کو شائع ہوا۔

ادھر بائیں بازو والوں کے لئے ایک دوسر ا پر کشش نعرہ بھی دیا گیا: ’زمین بے زمینوں کی‘ ۔ پارٹی نے نہ صرف جاگیرداری نظام کے خاتمے کا وعدہ کیا بلکہ بے زمین ہاریوں اور کسانوں کو ان جاگیروں میں سے دینے کی بات بھی کی۔ ملازم پیشہ اورمزدور جوق در جوق پیپلز پارٹی کی جانب آنے لگے۔ اکثریت کی سوچ تھی کہ یہی وہ واحد پارٹی ہے جو ملک سے سرمایہ دارانہ نظام نکالنے میں مخلص ہے۔ ملک کی کئی اقلیتوں کو بھی پارٹی کا منشور دل کو لگا اور وہ بھی اس میں شامل ہو گئیں۔

لوگوں کو جمع کرنے کے لئے ’روٹی، کپڑا اور مکان‘ پیپلز پارٹی کا ایک ملک گیر نعرہ بن گیا۔ پارٹی کو اپنے خیالات کے پرچار کے لئے ”نصرت“ ، ”فتح“ او ر روزنامہ ”مساوات“ میسر تھے۔ بہت جلد مغربی پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی عوام کے پسے ہوئے طبقے، ہاریوں، مزدوروں اور طلباء میں اہمیت حاصل کر گئی۔ پارٹی لیڈران اور خود بھٹو صاحب نے صدر ایوب کے خلاف غصہ اور مخالفت کی مہم شروع کر دی جو ترک موالات، نافرمانی اور لاقانونیت میں تبدیل ہو گئی اور صدر ایوب کو پاکستان پیپلز پارٹی سے بات کرنے پر مجبور کر دیا۔ ان مسلسل لڑائی جھگڑوں نے 1969 میں صدر ایوب کو بالآخر صدارت سے استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔ اس پر اس وقت کے آرمی چیف جنرل یحییٰ خان نے مارشل لاء کا نفاذ کر کے دو سال میں انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا۔ اس تمام عرصہ میں پیپلز پارٹی کے خوش کن نعرے اپنا کام کرتے رہے۔

1970 کے پارلیمانی انتخابات میں پیپلز پارٹی، مغربی پاکستان میں پورے زور سے میدان میں اتری۔ یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ جب اس پارٹی نے مشرقی پاکستان میں ایسی کوئی منظم انتخابی مہم نہیں چلائی نہ وہ وہاں کبھی فعال ہی ہوئی تو پھر پارٹی لیڈر چلا چلا کر اپنے آپ کو قومی لیڈر کیسے کہہ سکتے ہیں؟ بہر حال دائیں بازو کی سیاسی و دینی پارٹیوں کو پیپلز پارٹی نے انتخاب میں شکست دے دی۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے میدان مار لیا۔

اس طرح قومی سطح پرپیپلز پارٹی کو ایک فیصلہ کن شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنی انتخابی مہم میں پیپلز پارٹی کے فلسفی، کمیونسٹ دانشور جیسے ملک معراج، جے اے رحیم، معراج محمد خان، ڈاکٹر مبشر حسن اور خود بھٹو صاحب نے مختلف سیاسی مسائل پر برہمی، خفگی اور غضب کے انداز میں خطابات کیے ۔ صورت حال اس وقت عروج پر پہنچی جب 1970 کے انتخابی نتائج میں عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان کی قومی اسمبلی کی 300 نشستوں میں سے 160 نشستیں حاصل کر لیں ؛ جب کہ پیپلز پارٹی، مغربی پاکستان کی قومی اسمبلی کی 138 نشستوں میں سے صرف 81 نشستیں حاصل کر سکی۔

یہاں پر پیپلز پارٹی کی تمام جمہوریت پسندی اورعوام دوستی اور روشن خیالی کی قلعی کھلتی ہے۔ پارٹی کے چیرمین ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے عوامی لیگ کے لیڈر، جن کی جماعت کو پاکستانی آئین کے تحت وفاق میں حکومت بنانے کا پورا پورا حق حاصل تھا ان کو ملک کے وزیر اعظم ماننے سے انکار کر دیا۔ ذرا بھٹو صاحب کی ’جمہوریت پسندی‘ دیکھئے کہ کھلے عام کہا کہ اگر قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں پارٹی سے کوئی شریک ہوا تو اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔

یہ وہ شخص کہہ رہا ہے جو ایس ایم لاء کالج، کراچی میں قانون پڑھاتا رہا جہاں اسے اعزای ڈاکٹریٹ کی سند بھی دی گئی۔ اسی پر بس نہیں بلکہ بھٹو صاحب نے مشرقی اور مغربی پاکستان میں بیک وقت دو وزرائے اعظم کی نہایت مضحکہ خیز تجویز پیش کی۔ مشرقی پاکستان میں اس پر شدید تنقید ہوئی۔ خانہ جنگی کو بھانپتے ہوئے بھٹو صاحب نے اپنے سب سے زیادہ بھروسے کے ساتھی، ڈاکٹر مبشر حسن کو ڈھاکہ بھیجا جس پر شیخ مجیب الرحمان ذوالفقار علی بھٹو سے ملنے پر تیار ہو گئے۔

مجیب بھٹوملاقات میں طے ہو گیا کہ مجیب الرحمان وزیر اعظم اور بھٹو صاحب صدر ہوں گے۔ جب یہ طے ہو گیا تو اس پر عمل کرنا کون سا مشکل تھا؟ حالات کچھ ایسے اشارے دیتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اقتدار میں کسی اور کو شریک کرنے کی شروع سے ہی قائل نہیں تھی۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کے باہمی تعلقات پہلے ہی کون سے اچھے تھے؟ حسین شہید سہر وردی اور شیر بنگال مولوی فضل حق کیوں ’جگتو فرنٹ‘ بنانے پر مجبور ہوئے تھے؟ جب مشرقی پاکستان میں فرنٹ کی حکومت بنی چند ماہ بعد ہی گورنر اسکندر مرزا کے ہاتھوں اس کو گھر بھیج دیا گیا۔

کیا یہ جمہوریت تھی؟ واضح ہو کہ شیخ مجیب الرحمان اول مسلم لیگی تھے۔ جب مشرقی پاکستان کی جائز شکایتیں کراچی نے نہیں سنیں تو حسین شہید سہروردی نے مسلم لیگ کو خدا حافظ کہا اور عوامی لیگ بنائی۔ ان کے تمام ہم خیال بھی عوامی لیگ میں شامل ہو گئے۔ شیخ مجیب الرحمان بھی سہروردی صاحب کی لیگ میں آ کربہت فعال ہو گئے۔ حسین شہید سہروردی صاحب عوامی لیگ کے پلیٹ فارم سے ہی ملک کے وزیر اعظم بنائے گئے تھے۔

اب حیلے بہانوں سے جب حق دار کا حق اسے نہیں دیا جائے تو وہ کیاخوش ہوتا پھرے گا؟ نہیں! ۔ بلکہ جلد اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا۔ 1955 سے مشرقی پاکستان کے سیاسی درجہ حرارت کو مجیب الرحمان نے نہ صرف خود دیکھا بلکہ وہ اس کا حصہ رہے۔ انہوں نے مولوی فضل حق کی حکومت کو گورنر راج کی بھینٹ چڑھتے دیکھا، اپنی پارٹی کے لیڈر حسین شہید سہروردی کے بطور وزیر اعظم ملک کی بہتری کے بھرپور اقدامات کرتے دیکھا۔ ایسے زخم خوردہ شخص کے ساتھ یہ نازیبا سلوک صرف وقت حاصل کرنے کے سوا بھلا اور کیا ہو سکتا ہے؟

اندر خانہ اسلام آباد میں کوئی کھچڑی پک رہی تھی۔ جو کچھ بھی ہو رہا تھا اس میں ایک طرح یا دوسری طرح پاکستان پیپلز پارٹی کا ملوث ہونا بعید از قیاس نہیں۔ جلد ہی مشرقی پاکستان میں آرمی ایکشن شروع کر دیا گیا۔ بھٹو صاحب اور پیپلز پارٹی نے صدر یحییٰ پر تنقید کی کہ انہوں نے صورت حال سے صحیح طور پر نہیں نپٹا۔ اس پر بھٹو صاحب، پیپلز پارٹی کے لیڈران اور مجیب الرحمان کو اڈیالہ جیل میں قید کر دیا۔

ا سٹیبلشمنٹ ( ملک کی مقتدرہ بادشاہ ساز) نے صدر یحییٰ کو صدارت سے مستعفی ہونے پر مجبور کیا اور نہایت جلد بازی میں بھٹو صاحب کو کرسی صدارت پر بٹھا دیا۔ یوں ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سوشلسٹ اقتدار میں آئے۔ ایک غلط فہمی لوگوں میں عام ہے کہ صدر ایوب نے بھٹو صاحب کو وزارت دے کر سیاست میں آنے کا موقع دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے کہیں پہلے صدر اسکندر مرزا کی کابینہ کے ممبر کی حیثیت سے ذوالفقار علی بھٹو سیاست میں داخل ہو چکے تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے والد ریاست جوناگڑھ میں دیوان کے عہدے پر فائزتھے۔ ذوالفقار علی بھٹو اس وقت نوجوان تھے۔ انہوں نے ریاستی درباروں کی سیاسی اونچ نیچ، جوڑ توڑ، اس کو دباؤ اس کو گراؤ کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا۔ و ہاں انگریز کو اپنا الو سیدھا کرتے اور ان کی سیاسی چال بازیوں کو بھی دیکھا۔ اس وقت کے خواص کے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد سمندر پار سے اعلیٰ تعلیم لے کر بھٹو صاحب نے 1951 میں صدر اسکندر مرزا کی دوسری ایرانی النسل بیوی کی سہیلی، نصرت اصفہانی سے شادی کر لی۔

یہ ان کی دوسری شادی تھی۔ بیگم اسکندر مرزا کے کہنے سے 1958 میں صدر اسکندر مرزا نے بھٹو صاحب کو وزیر تجارت بنا دیا۔ بعد میں آنے والے صدر ایوب نے نہ صرف ا ن کو برقرار رکھا بلکہ 1960 میں ترقی دے کر پانی اورتوانائی، مواصلات اور صنعت کا وزیر بنا دیا۔ کم عمری اور اضافی تجربے کے نہ ہونے پر بھی جلد ہی بھٹو صاحب نے صدر ایوب کا اعتماد حاصل کیا، اس طرح کہیں کم وقت میں اثر و رسوخ اور طاقت حاصل کر لی۔ بھارت کے ساتھ دریائے سندھ کے پانی کے 1960 کے معاہدے میں صدر ایوب کی معاونت کی۔

قسمت نے یاوری کی اور مختلف وزارتوں سے ہوتے ہوئے 1963 میں ان کو خارجہ امور کا وزیر بنایا گیا۔ یہاں سے بھٹو صاحب کے اندر کا سوشلسٹ واضح ہوا۔ اس وقت عوامی جمہوریہ چین اور تائیوان کاجھگڑا کہ اصل چین کون ہے جب کہ دنیا کے تقریباً سبھی ممالک نے اصل چین تائیوان کو تسلیم کر لیا تھا، اس وقت بھٹو صاحب نے کھل کر عوامی جمہوریہ چین کی حمایت کی اورصدر ایوب کو بھی قائل کر لیاحالاں کہ سوویت روس اور اس کے طفیلئے، نظریاتی اختلافات کی بنیاد پر عوامی جمہوریہ چین سے ناتا توڑ چکے تھے صرف البانیہ اور پاکستان تھے جو عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ کھڑے تھے۔

اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو مقبوضہ کشمیر کو آزاد کروانے کے لئے آپریشن جبرالٹر کے محرک تھے جن کے مشورے سے یہ شروع کیا گیا اور اس کا اختتام ناکامی کی صورت میں ہوا۔ طرفہ تماشا یہ کہ پھر اس ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈال دیا۔ اس سلسلے میں مارچ اور اگست 1965 میں رن کچھ سے شروع ہونے والی جھڑپوں کا، صدر ایوب اور بھٹو صاحب کی توقع کے برعکس رد عمل آ گیاجوبھارت نے لاہور، سیالکوٹ کی سرحد پر جوابی حملہ کی صورت میں دیا۔

اس طرح 1965 کی جنگ شروع ہو گئی۔ بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شا ستری اور صدر ایوب کے تاشقند میں ہونے والے ا من معاہدے کی کوششوں میں بھٹو صاحب بھی شامل تھے۔ آنجہانی شاستری اور صدر ایوب میں جنگی قیدیوں کا باہمی تبادلہ اور جنگ سے پہلے والی سرحدوں پر دونوں افواج کے واپس چلے جانے کا فیصلہ ہوا۔ اس معاہدہ (تاشقند) کی پاکستانی عوام میں بہت مخالفت ہوئی اور ایوبی حکومت کے لئے انتہائی سیاسی مسائل کھڑے ہو گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اس معاہدے پر تنقید شروع کردی جو ان کے اور صدر ایوب کے درمیان دراڑ بن گئی۔ حالات اور سیاسی فضا دیکھتے ہوئے انہوں نے جون 1966 میں وزارت خارجہ سے استعفیٰ دے دیا۔ اور کمر کس کر صدر ایوب کی بھر پور مخالفت میں سرگرم ہو گئے۔

کتنی عجیب بات ہے۔ آپ کی موجودگی میں ایک معاہدہ طے پا رہا ہو۔ ا ور آپ اس معاہدے سے مطمئن نہیں تو ا سی وقت اس بات کا اظہار کیوں نہیں کیا؟ حالات اور بعد کے واقعات کچھ اور ہی اشارہ دیتے ہیں کہ یہ سب کچھ ایک طے شدہ حکمت عملی اورنپی تلی چالیں تھیں جو صدر ایوب کی حکومت کو کمزور کرنے اور عوام کی حمایت حاصل کرنے کا منصوبہ تھا۔

صدر اسکندر مرزا پر جب برا وقت آیا اور جبرا جلاوطن کیا جا رہا تھا، اس وقت بھٹو صاحب نے ان سے کنارہ کر لیا۔ یہی کہانی صدر ایوب خان کے ساتھ دہرائی گئی۔ وہ ایوب خان۔ جن کو بھٹو صاحب ڈیڈی کہا کرتے تھے۔ جنہوں نے بھٹو صاحب کے کسی سیاسی پارٹی کے پلیٹ فارم سے کوئی انتخاب جیتنے اور وابستگی کے نہ ہونے پر کبھی اعتراض نہیں کیا اور ان کے مشوروں کو خاصی اہمیت دی۔ محض اپنی صوابدیدگی پر نہ صرف پچھلے صدر ( اسکندر مرزا) کی کابینہ کے ممبر کی حیثیت کو برقرار رکھا بلکہ مزید اہم وزارتیں دیں اور بالآخر وزیر خارجہ بنایا۔

انہی ’ڈیڈی‘ کے لئے پاکستان کی سڑکوں پر ناقابل اشاعت نعرے لگوائے گئے۔ اپنے وزارت عظمیٰ کے دوران صدر ایوب کے انتقال 19 اپریل، 1974 کے بعد ان کے جنازے میں شرکت بھی نہیں کی۔ جبکہ ایک دوسری مثال محمد خان جونیجو صاحب کی ہے۔ صدر ضیاء الحق نے ان کو وزارت عظمیٰ سے برطرف کر دیا تھا لیکن 1988 میں طیارہ کے حادثہ میں ہلاک ہو جانے پر صدر ضیاء الحق کی نماز جنازہ میں محمد خان جونیجو نے شرکت کی تھی۔

حقیقت تو یہ ہے کہ رن کچھ اور آپریشن جبرالٹر پر صدر ایوب کو قائل کر کے عمل کرانا بھٹو صاحب کے اقتدار میں آنے کی پہلی سیڑھی تھی۔ تاریخ شاہد ہے کہ اقتدار کے شاطر کھلاڑیوں کے ایسے کھیل میں نتائج اپنی مرضی کے آئیں تو وارے نیارے اور برعکس آنے پر بھی بازی مات نہیں ہوا کرتی۔

’ ادھر ہم ادھر تم‘ یہ کسی مقبول یا آنے ولی کسی فلم کا نام نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کا مشہور زمانہ نعرہ تھا جو مشرقی پاکستان کے شیخ مجیب الرحمان کے لئے وضع کیا گیا تھا جو آگے چل کر بنگلہ دیش کے قیام کا موجب بنا۔ دوسرے الفاظ میں آپ اور آپ کی پاکستان پیپلز پارٹی نے طے کر لیا تھا کہ آئینی اور قانونی طور پر مشرقی پاکستان کے شیخ مجیب کو ملک کا وزیر اعظم نہیں بننے دینا۔ کیسی عجیب بات ہے کہ آپ نے مشرقی پاکستان میں اپنی پارٹی کی سرے سے کوئی سرگرمی ہی نہیں دکھائی نہ موجودگی ہی ثابت کی اور اپنی پارٹی کا نام ’پاکستان پیپلز پارٹی‘ کہلوایا۔

بہتر ہوتا کہ اس کا نام صرف ’پیپلز پارٹی‘ رکھا جاتا۔ پاکستان کا لفظ اس وقت قطعاً مناسب نہیں تھا۔ بحر حال اقتدار میں آتے ہی نئی لیبر پالیسی کا اعلان کیا گیا اور ایٹمی منصوبے کے پروگرام پر سرگرمی دکھائی۔ 1973 کے آئین کے بننے اور تمام سیاسی پارٹیوں کا اس سے متفق ہونا بلا شبہ بھٹو صاحب کے کھاتے میں جاتا ہے۔ البتہ ان کی کئی ایک پالیسیوں سے عوام اور سیاسی پارٹیاں بھٹو صاحب اور پیپلز پارٹی کی مخالف ہو گئیں۔

بھٹو صاحب سے متعلق ان کے رفقاء کاروں نے کئی ایک انٹرویو اور لکھی گئی کتابوں میں ایک بات تسلسل سے کہی کہ ذوالفقار علی بھٹو اٹھتے بیٹھتے سوشلزم، اسلامی سوشلزم، جمہوری سوشلزم کی بات بے شک کرتے تھے لیکن۔ عملاً ایک عجیب ہی نظام نظر آتا تھا۔ جیسے مختلف چیزوں کا مرکب۔ پیپلز پارٹی جمہوری سوشلزم کی حامی تھی، کھل کر نیم لادینی نیم اسلامی ہونے کا پرچار کرتی تھی۔ جاگیرداری ختم کرنے کا اعلان بس تقریر کی حد تک ہی رہا۔

آخر وقت تک وعدہ ایفا نہ ہو سکا۔ جمہوری سوشلسٹ نظریات کے باوجود پیپلز پارٹی کبھی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ نہیں چل سکی۔ کمیونسٹ پارٹی نے اس بات پر بارہا پیپلز پارٹی کے مفاد پرست ہونے کا الزام بھی لگایا۔ 1973 سے 1975 کے عرصے میں پیپلز پارٹی کے انقلابی کمیونسٹ معراج خالد اور خالد سید کو پارٹی ہی سے نکال دیا گیا تاکہ سندھ اور پنجاب کے طاقتور جاگیرداروں کی سیاسی حمایت حاصل ہو سکے۔ اس اقدام سے پارٹی کے بائیں جانب جھکاؤ کا تاثر اور عنصر جاتا رہا۔ قصہ مختصر یہ کہ 1977 کے پارلیمانی انتخابات میں پیپلز پارٹی کے منشور سے ’سوشلزم‘ کا لفظ ہی غائب کر دیا گیا۔

انتخابی نتائج کو پاکستان قومی اتحاد ( پی این اے ) نے دھاندلی کے الزامات لگا کر مسترد کر دیا۔ قومی اتحاد سے بات چیت کی گئی جو ناکام رہی اور پیپلز پارٹی کے خلاف سول نا فرمانی کی تحریک چل پڑی۔ بعینہٖ یہی کام ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی نئی پیپلز پارٹی نے صدر ایوب کے خلاف کیا تھا۔ لیکن اب کی مرتبہ بے چینی اور نا فرمانی کی شدت زیادہ تھی۔ پہلے پیپلز پارٹی یہ ماننے پر تیار نہیں تھی کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے۔

پھر بعد میں یہ مان لیا گیا کہ چند حلقوں میں ہوئی ہے ؛ بہر حال پیپلز پارٹی نے تسلیم کر لیا کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ اب سوال یہ تھا کہ پھر کیا کیا جائے؟ اس پر قومی اتحاد اور پیپلز پارٹی کی بات چیت کے کئی دور چلے۔ قریب تھا کہ کسی سمجھوتے پر پہنچ جا تے لیکن وہی ہوا جو 1958 میں اس وقت کی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ہوا۔ وہ باہمی سمجھوتے پر پہنچنے ہی والے تھے۔ کہ۔ اسکندر مرزا نے مارشل لاء نافذ کر دیا۔ یہاں بھی وہی کہانی دھرائی گئی اور چیف آف دی آرمی اسٹاف جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگا دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے