محبت کاروبار اچھا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی کیا ہے؟ اس کے اسرار سمجھنے کی جتنی کوشش کرتی ہوں، اتنا ہی الجھتی جاتی ہوں۔ جینے کی امنگ میں روز مرتی ہوں۔ کیا ہے یہ زندگی، ہر روز اک نئی موت کا سامنا۔ ہر دن ذات کی نفی، خودی کی تذلیل۔ صرف اس لیے کہ میں ایک عورت ہوں۔ جس کی پیدائش پر آنسو بہائے جاتے ہیں۔ اور دوسروں کے بہائے آنسو ہمیشہ کے لیے اس کے مقدر میں لکھ دیے جاتے ہیں۔ مرد کی خواہش پوری کرنے والی عورت کے بطن سے صرف مرد ہی کی خواہش رکھی جاتی ہے۔

کیا ہی اچھا ہو کہ عورت صرف مرد ہی پیدا کرے تاکہ پھر مرد کی زندگی بھی عورت کی طرح تاریک ہو۔ کسی مرد کی رات کو رنگین بنانے والی عورت کی زندگی کس قدر سیاہ ہوتی ہے، کاش کوئی مرد کبھی سمجھ سکے۔ لیکن مرد یہ سمجھنے سے قاصر ہے۔ کیونکہ اس کو تاریک کرنے والا تو خود مرد ہے۔ مرد کو تو بستر پر صرف عورت چاہیے، وہ محبت سے ملے یا پھر جبر سے۔ حق سے یا فریب سے۔ بستر پر عورت کا آرزو مند مرد کہلاتا ہے، لیکن اگر کوئی عورت اپنے لیے مرد کی تمنا کرلے تو وہ فاحشہ بن جاتی ہے۔

عورت پامال ہو یا پھر ٹھکرا دی جائے، مرد کو اس سے غرض نہیں ہوتی، اس کو صرف جسم تک رسائی چاہیے۔ مرد کی غرض صرف اپنی خواہش کی تکمیل ہے۔ پامالی اور ٹھکرائے جانے کا کرب مرد کا مقدر کبھی نہیں بنتا۔ شاید اس لیے کہ عورت لوٹنا نہیں جانتی۔ وہ بانٹنا جانتی ہے۔ تقسیم کرتی ہے، خود کو لٹا دیتی ہے۔ محبت کے نام پر لٹ جانے کو تیار عورت ہمیشہ اپنے آدم کی تلاش میں رہتی ہے، وہ آدم جو حوا کے لیے زمین پر اتر آئے۔ لیکن عورت یہ بھول جاتی ہے کہ حوا کی محبت آدم کو جنت سے تو نکال لائی تھی، لیکن پھر وہ زمین پہ اتر کر کہیں کھو گیا تھا۔

جنت جیسی لگژری جگہ سے نکلتے ہی آدم کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا۔ آدم دن رات روتا، اپنے لیے معافی مانگتا۔ اس لیے نہیں کہ وہ خدا کی نافرمانی پہ نادم تھا بلکہ شاید اس لیے کہ اس کے ہاتھ سے ساری آسائشات چلی گئیں تھیں۔ اس کے ہاتھ سے جنت چلی گئی تھی۔ اگر وہ جنت ہی میں رہتا تو کبھی آبدیدہ نہ ہوتا۔ جنت سے نکالے جانے کے دکھ نے اس کو غمزدہ کیا تھا۔ آدم تو ہمیشہ سے خواہشات کے پیچھے بھاگ رہا ہے، کبھی حوا کے نام پر تو کبھی حور کے نام پر۔ مرد صرف اپنی خواہش کا پجاری ہے۔ بس عورت ہی ہے جو مرد کی خواہش کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ ہر حوا یہی سمجھتی ہے کہ اس کا آدم دوسروں سے مختلف ہے، اسی لیے تو زیادہ تر محبت کے نام پر فریب کھا جاتی ہے۔

میں حوا بنت حوا، میں محبت کی آرزو مند۔ میں محبت کو ترسی ہوئی ایک عورت، جس کی زندگی میں محبت کہیں نہیں۔ جو محبت کے لیے ترستی رہی اور محبت کے نام پر لوٹ لی گئی۔

بچپن کی محرومیوں میں پل کر محبت کے لیے ترسے میرے وجود نے محبت ہی کی طلب کی تھی۔ میں بچپن سے نکل کر اک نئے جہان میں قدم رکھ رہی تھی۔ غضب یہ ہو ا کہ محبت سے محروم لڑکی کے دل میں محبت ہی کی خواہش نے جنم لے لیا۔ میں عورت کے لیے ممنوعہ شجر محبت کی طرف کھنچتی چلی گئی۔ مان لیجیے عورت خوبصورت ہو نا ہو، انسان ضرور ہوتی ہے۔ اسے محبت کی طلب ہوتی ہے۔ اس کا وجود محبت بھرے لمس کا طلبگار ہوتا ہے۔ مجھے یہ اقرار کر لینے دیں کہ میرے اندر بھی محبت کے جذبات موجود تھے۔

مجھے بھی محبت کی طلب تھی، چاہے جانے کی آرزو کس میں نہیں ہوتی؟ مرد گھاگ شکاری ہے، جو عورت کے چہرے کو دیکھ کر ہی پتہ چلا لیتا ہے کہ اس کو شکار کیسے کرنا ہے۔ گدھ کی طرح نوچ کھانے والے اور محبت کے نام پر لوٹنے والے ایک جیسے ہوتے ہیں، بس ان کا طریقہ جدا ہوتا ہے۔ مجھے محبت کی طلب تھی، شدید خواہش کہ کوئی میرا اپنا ہو۔ جو مجھے چاہے اور میری اسی چاہے جانے کی خواہش نے مجھے وہاں پہنچا دیا، جہاں شرفا کے قدم تو جاتے ہیں۔ لیکن ان گلیوں کے مکینوں کو شرفا کے گھروں میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

بیٹے کی تڑپ رکھنے والے ماں باپ کبھی یہ نہیں سمجھ سکے کہ بیٹی بھی انسان ہوتی ہے۔ اور اگر بیٹیاں پیدا نہ ہوں تو کوئی مرد بھی کبھی جنم نہ لے سکے۔ میرے ماں باپ نے بیٹے کی آرزو میں نو بیٹیاں پیدا تو کر لیں، لیکن ان نو بیٹیوں کے حصے کا رزق اور پیار سب ایک بیٹے کے لیے رکھ لیا۔ ہم بہنیں باپ کا بوجھ بٹانے اور بھائی کی فرمائشیں پوری کرنے کو لوگوں کے گھروں میں کام کرتیں۔ ان گھروں کی مالک عورتیں اپنی زبان سے وار کرتیں اور مرد اپنی نظروں سے۔ ان گھروں کے اکثر مرد گھر والیوں سے نظر بچاکر ہمارے جسموں پر اپنے ہاتھ کا ناجائز استعمال بھی اپنا جائز حق سمجھتے ہیں۔ پانی کا گلاس پکڑتے کبھی ان کے ہاتھ بہکتے ہیں اور کبھی اکیلے دیکھ کر یہ خود پورے کا پورا بہکتے ہیں۔ ایسے شریف مردوں سے ہم ملازمائیں اپنی عزت کس مشکل سے بچاتی ہیں یہ ہم ہی جانتی ہیں۔

وہ شیخ صاحب کا اکلوتا بیٹا دوسرے مردوں جیسا نہیں تھا۔ اس جیسا شریف مرد تو کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔ ہمیشہ نظر جھکا کر بہت احترام سے بات کرتا۔ بیگم صاحبہ گھر میں نہ ہوتیں تب بھی دوسرے مردوں کی طرح کبھی تنہائی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرتا۔ ایسا ہی تو ہونا چاہیے مرد کو، شریف، عورت کو عزت دینے والا۔ ایک دن اس نے کہا، تم مجھے اچھی لگتی ہو، پتہ نہیں کیسے میرے دل کی مالک بن گئی ہو، میری زندگی اب تمھارے بغیر نامکمل ہے، میں اب صرف تمھارا ہوں، کیا تم میری بنو گی؟

میں محبت کی ترسی اندر تک سرشار ہو گئی۔ میں نے نظر اٹھا کر اس کو دیکھا، وہ کون ہے جو صرف میرا ہے۔ اگر وہ میرا ہے تو پھر مجھے بھی تو اس کا ہونا تھا۔ اور میں اس کی ہو گئی۔ اس کی ہر بات مانتی گئی۔ وہ باتیں بھی جو نکاح کے بعد ماننے والی تھیں۔ وہ میرا تھا تو میں کیوں نہ اس کی ہوتی، میں نے اپنا آپ اس کو سونپ دیا۔ پھر ایسے ہی دنوں میں مجھے میرے وجود میں کچھ مختلف محسوس ہونے لگا تھا۔ مجھے پرواہ نہیں تھی کہ دنیا کیا کہے گی۔

میں پریشان بھی نہیں تھی، کیونکہ یہ میرے محبوب کی محبت کی مہر تھی، جو اس نے مجھ پر لگائی تھی، میں تو خود پہ نازاں تھی۔ اس کی خوشی کا سوچ کے نہال تھی۔ اس کی بانہوں میں سمٹے اسے بتایا کہ اس کی محبت کی نشانی میرے وجود میں پل رہی ہے۔ اور یہ سنتے ہی اس نے ایک جھٹکے سے مجھے خود سے الگ کیا تھا۔ میں عزت دار گھر کا مرد ہوں۔ یہ کس کا گند ہے جسے میرے نام لگا رہی ہو۔ میں اس کی بات پہ حیران ہوئی تھی۔ بڑے بڑے خواب دکھاتا، محبت کا دعوی کرتا، جب وہ اپنی غلاظت مجھ میں منتقل کر رہا تھا تب اس کو پتہ نہیں چلا اپنے گند کا؟

میں صرف تمھاری ہوں، میری تو سوچ میں بھی کوئی دوسرا مرد نہیں۔

ہونہہ دوسرا مرد نہیں، اپنے جسم تک غیر مرد کو رسائی دے دی اور اب پارسائی کا دعوی کر رہی ہو، واہ۔ وہ مجھ پہ ہنسا تھا۔

کیا ستم ہے کہ جسم تک رسائی نہ دو تو مرد عورت کی محبت کا یقین نہیں کرتا۔ اپنا آپ اس کو پیش کردو تو پھر وہ عورت کا یقین نہیں کرتا۔ میں شکست خوردہ اس کے قدموں میں پڑی تھی۔ اس پارسا نے اپنے قدم میرے ہاتھوں سے نکال لیے ۔ پہلے محبت کا دعوی مرد کرتا ہے لیکن پھر محبت کی نشانی سنبھالنے کو صرف عورت رہ جاتی ہے۔ کوئی مرد یہ نشانی سنبھالنے کی جرات کبھی نہیں کرتا۔ اکثر پارسا محبت کے نام پر پامال کرتے ہیں۔ اور پھر اگر اپنے ہی پیار کے لمحات امر ہوجائیں تو اس کو پاپ کا نام دے دیتے ہیں۔ ایسے پارساؤں کی اولادیں ہی تو پاپی کہلاتی ہیں۔ جانو کو جانور بننے میں دیر نہیں لگتی یا پھر کسی جانور نے جانو کے نام کا سہارا لے کر اپنی جانوری دکھائی تھی۔ کسی نے شرافت کے لباس میں ہوس کی آگ بجھائی تھی۔ محبت کے نام پر پامال کیا تھا۔

اور میں نے فیصلہ کیا تھا، جب قسمت میں پامالی ہی لکھی ہے تو پھر اسے رو پیٹ کر کیوں قبول کروں۔ محبت کے نام پر کسی ایک نے لوٹا تھا۔ اور اب محبت کے نام پر میں لوگوں کو لوٹوں گی۔ مجھے اب محبت کے نام سے نفرت ہے، لیکن محبت کے نام پر کاروبار اچھا ہے۔ محبت کے نام پر لوٹنے کا کھیل مرد رچاتا ہے اور اکثر لٹ جانے کے بعد اس کھیل کو کاروبار عورت بناتی ہے۔ جسم کا کاروبار کرنے والی عورت کو بد کردار کہا جاتا ہے، لیکن اس کے کردار کو بد بنانے کے لیے مرد ہی درکار ہوتا ہے۔

مجھے کوئی شرمندگی نہیں کہ اب میں محبت کا کاروبار کرتی ہوں۔ محبت کے نام پر کسی عزت دار کی اولاد پیٹ میں رکھ کر کر بے عزت ہوئی تھی، اب اسی غیرت مند کی اولاد اس ذلت کی کمائی سے پرورش پائے گی۔ اور پھر اسی لیبل کو ماتھے پر سجا کر محبت کے نام پر کاروبار کرے گی۔ جو مرد اپنی اولاد کو اپنانے سے انکار کردیں، ان عزت والے مردوں کی اکثر اولادیں پھر یہی ذلت بھرا کاروبار کرتی ہیں۔ اونچے شملہ والوں سے اپنی عزت کی بربادی کا اس سے اچھا انتقام نہیں لیا جاسکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply