زعم مطالعہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذاتی طور پر مجھے ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جو زندگی بھر کوئی کتاب نہیں پڑھتے اور مطالعے وغیرہ سے دور رہتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں پر تو باقاعدہ غصہ آتا ہے جو بے تحاشا پڑھتے ہیں لیکن ذہنی طور پر ویسے کے ویسے ہی رہتے ہیں۔ ایسے حضرات میں آج کل البتہ ایک خوبی ضرور دیکھنے کو ملتی ہے اور وہ ہے مطالعے کا غرور اور گھمنڈ! مطالعے کے یقیناً کئی فائدے ہو سکتے ہیں لیکن فی زمانہ مطالعے کا جو سب سے بڑا فائدہ سامنے آیا ہے وہ یہی ہے کہ اس سے دوسروں پر آسانی سے رعب جمایا جا سکتا ہے۔

ایک زمانے میں مطالعے کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ اس سے شخصیت میں کوئی نکھار وغیرہ پیدا ہوتا ہے یا اس سے ذہن اور کردار سازی ممکن ہوتی ہے۔ شاید اب بھی کہیں کہیں ایسا ہوتا ہو لیکن عمومی طور پر مطالعے کے ضمن میں یہ مقاصد اب پیش نظر کم ہی ہوتے ہیں۔ اب چونکہ مطالعے کے مقاصد بدل گئے ہیں لہذا اس کا طریقہ کار بھی تبدیل ہو گیا ہے۔ اب کسی کتاب کے مطالعے کے لیے اس کا پڑھنا ضروری نہیں بس آپ اسے گوگل کریں اور وہاں آپ کو اس کتاب کی دو چار صفحات کی سمری مل جائے گی۔

آپ یہ سمری ایک دفعہ پڑھ لیں اورکتاب اور مصنف کے نام یاد کر لیں تو آپ نے گویا کتاب پڑھ لی۔ اس حوالے سے ضمناً عرض ہے کہ ہمارے خیال میں بعض کتابوں کی سمریاں اتنی اچھی لکھی ہوتی ہیں کہ یہ اصل کتاب کو بھی پیچھے چھوڑ جاتی ہیں اور ان کو پڑھنے پر شاید رائیٹر خود بھی یہ کہتا ہو کہ کاش میں نے بھی یہی کہا ہوتا۔ مطالعے کے باب میں یہ شارٹ کٹ آج کل کافی عام ہے۔ چنانچہ کتاب کی سمری پڑھنے اور نام وغیرہ یاد کرنے کے بعد یہ احباب ہر جگہ صاحب مطالعہ کہلوائے جانے کی بڑی کامیاب کوشش کرتے رہتے ہیں۔

بزم یاراں ہو یا کوئی اور سنجیدہ محفل ایسے ”بزرجمہر ( مجھے اس لفظ کا مطلب آتا ہے اور نہ ہی درست تلفظ ) اپنے ’بے پناہ مطالعے‘ اور اس کے نتیجے میں حاصل شدہ ’دانشوری‘ کی دھاک بٹھاتے رہتے ہیں۔ اس حوالے سے ان کا طریقہ کار بڑا دلچسپ ہوتا ہے۔ محفل میں بات بھلے کسی موضوع پر ہو رہی ہو یہ بتانے کی کوشش کریں گے کہ انہوں نے اس موضوع پہ بھی خاطر خواہ مطا لعہ کر رکھا ہے۔ مثلاً اگر کسی جگہ بات محلے میں ملنے والی سبزی کے معیار پہ ہو رہی ہو تو یہ بڑی متانت اور سنجیدگی سے فرمائیں گے کہ اس ضمن میں برٹرینڈرسل کا نظریہ بہرطور قابل غور ہے۔

یعنی بندہ ان سے پوچھے کہ بھائی یہاں ذکر آلو مٹر گاجر کی کوالٹی اور قیمت وغیرہ کا ہو رہا ہے ناکہ زندگی میں حصول خوشی کے فلسفے پر۔ اب چونکہ ہمارے ہاں مطالعے کا رجحان عمومی طور پہ کم ہے لہذا محفل میں موجود دس میں سے نو لوگ تو ان کے اس تبصرے سے ویسے ہی متاثر ہو جاتے ہیں اور باقی جو ایک آدھ بچتا ہے وہ بے چارہ کثرت جہالت کے زیر اثر خاموش بیٹھا تلملاتا رہتا ہے۔ چنانچہ جب یہ حضرات سبزی کے معیار کے حوالے سے برٹرینڈ رسل کا نظریہ ارزاں کرتے ہیں تو انہیں کوئی بھی نہیں بتا پاتا کہ بھائی صاحب جملہ آئمہ سبزیات ونباتات اس اصول پر متفق ہیں کہ کسی سبزی کی خاصیت پر اب بھی محلے کا چاچاچ گامن جو روشنی ڈال سکتا ہے وہ شاید برٹرینڈرسل کے والد گرامی کے بس میں بھی نہ ہو۔

لہذا آپ کی بات بے محل ہی نہیں بے وقعت بھی ہے۔ اسی طرح کسی دوسری محفل میں اگر انہی احباب کو بتائیں کہ آج کل اچھے اے سی مکینک اور پلمبر کا ملنا ایک مسئلہ ہے تو یہ“ صاحب مطالعہ ”حضرات بڑا پکا سا منہ بنا کر کہیں گے کہ ٹی ایس ایلٹ اور ٹامس ہارڈی کے ہاں بھی ان مسائل کا تذکرہ بہت ملتا ہے۔ اور یہ بات اس قدر اعتماد سے کہیں گے کہ سننے والا یہ پوچھنے کی ہمت بھی نہیں کر پاتا کہ جناب آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ٹامس ہارڈی کے زمانے میں اے سی وغیرہ موجود تھے۔

ہمارے ہاں مطالعہ کرنے والوں کی ایک قابل ذکر تعداد ان حضرات کی ہے جنہوں نے اوائل عمری میں کہیں کچھ عرصہ عمران سیریز اور اس طرز کے دوسرے جاسوسی لٹریچر کا مطالعہ کیا ہوتا ہے۔ یہ احباب دو چار سال ڈائجسٹ وغیرہ پڑھتے ہیں اور بس پھر اسی بنا پر اپنے آپ کو علامہ دہر سمجھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ڈائجسٹ لٹریچر کی خوبیاں خامیاں اپنی جگہ لیکن اہل ذوق اس حقیقت سے واقف ہیں کہ اس لٹریچرکو ادب عالیہ میں شمار کرنا مشکل ہے۔

ڈائجسٹ لٹریچر کے ایسے شائق حضرات میں عمومی طور پہ دو خامیاں ایسی پائی جاتی ہیں جن سے یہ عمر بھر چھٹکارا نہیں پا سکتے۔ پہلی کہ یہ کنویں کو ہی سمندر سمجھتے ہیں اور اس سے باہر نہیں نکل پاتے۔ یہ لوگ بعد ازاں کچھ بھی پڑھ لیں اس کا موازنہ بہرطور رسالوں میں چھپے اسی ادب سے کریں گے جو انہوں نے لڑکپن میں پڑھ رکھا ہے۔ دوسری یہ کہ ان میں عموماً ادب عالیہ کے لیے وہ بڑی رغبت اوردیچسپی پیدا نہیں ہوپاتی جو ادب کے قاری کا طرہ امتیاز ہوتا ہے اور یہ اکثر تجسس، ایڈونچر اور سطحی رومانس کے اثرات سے باہر نہیں نکل پاتے۔

انگریزی میں ایک کہاوت ہے کہ مجھے کسی کتاب کے مطالعے سے صرف ایک بات ہی روک سکتی ہے اور وہ ہے کسی دوسری کتاب کا مطالعہ۔ لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں۔ یہاں مطالعے سے روکنے کے لیے دوسری نہیں پہلی کتاب ہی کافی ہے۔ مطالعہ وغیرہ ہم لوگوں کے لیے اضافی چیز ہے۔ ہمارے ہاں بے شمار ایسی شخصیات موجود ہیں جو کسی موضوع کی ابجد جانے بغیر اس پہ ماہرانہ انداز سے گھنٹوں بول سکتے ہیں۔ اور پھر مطالعے سے عدم دلچسپی کے حوالے سے آپ کو ہر طبقے سے لوگ مل جائیں گے۔ مثلاً ہمارے ہاں آپ کو ایسے پی ایچ ڈی حضرات بھی مل جائیں گے جنہوں نے عمر بھر صرف اپنے کورس کے علاوہ کسی کتاب کو ہاتھ نہیں لگایا۔ اور ظلم یہ ہے کہ یہ لوگ کامیاب بھی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ زندگی کے طویل سفر کے لیے کتاب سے بہتر کوئی جہاز نہیں ہے۔ لیکن ہمارے ہاں کئی احباب یہ ماننے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ ان کے خیال میں ان کے ہوتے ہوئے جہاز ہونے کا اعزاز کسی کتاب کو نہیں دیا جا سکتا۔ اور ان احباب کا یہ واحد موقف ہے جس کی ہم من و عن تائید کرتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments