کیا پاکستانی فوجی سربراہ انڈیا سے تعلقات میں ’نکسن چائنا سینڈروم‘ کا شکار ہیں؟

عمر فاروق - دفاعی تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


مشرف، واجپائی

Getty Images

تاریخی طور پر ایسا کیوں ہے کہ پاکستان کے تمام ہی فوجی حکمران انڈیا کے ساتھ سفارتی تعلقات ٹھیک کرنے کی خواہش و کوشش میں سویلین حکمرانوں سے ہمیشہ سبقت لے جاتے رہے ہیں لیکن اس جستجو پر انھیں کبھی کسی منفی عوامی رائے یا ردِعمل کا سامنا نہیں کرنا پڑا؟

انڈیا کو مشترکہ دفاعی معاہدے کی پیشکش ہو، سفارتی تعلقات چلانے ہوں یا انڈیا کے ساتھ مرحلہ وار مذاکرات کا عمل شروع کرنا ہو، ماضی کی روایات بتاتی ہیں کہ پاکستانی فوجی حکمرانوں نے کسی بھی اقدام کے ضمن میں رائے عامہ یا ریاستی مشینری کے معمولی تامل یا جوابی ردعمل کی زیادہ پرواہ نہیں کی۔

ایوب خان ہوں، جنرل ضیا یا پھر جنرل پرویز مشرف، سب ہی جوابی عوامی ردعمل کو بھڑکائے بغیر ہی انڈیا کے ساتھ اعلیٰ ترین سطح پر سفارتی امور نمٹانے میں شریک رہے ہیں۔

ایوب خان کے مشترکہ دفاعی معاہدے کی پیشکش کے بعد جنرل ضیا انڈیا ‘براس ٹیکس’ فوجی مشقوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی فوجی کشیدگی ختم کرنے کی غرض سے کرکٹ ڈپلومیسی (یعنی کرکٹ کے سفارتکاری کے مقاصد حاصل کرنا) کے اعلیٰ ترین معاملے کے ساتھ سامنے آئے۔

جنرل مشرف ایک قدم اور آگے چلے گئے۔ مشرف واجپائی مشترکہ بیان کی تحریر کچھ یوں ہے کہ ‘صدر (پرویز) مشرف نے وزیراعظم واجپائی کو یقین دہانی کرائی کہ وہ پاکستانی کنٹرول میں کسی بھی علاقے کو کسی بھی طور پر دہشت گردوں کی مدد کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔’

یہ بھی پڑھیے

انڈیا اور پاکستان کے مستحکم تعلقات خطے میں ترقی کی چابی: جنرل باجوہ

اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس: انڈیا سے کپاس اور دھاگہ درآمد کرنے کی اجازت دے دی گئی

جنرل باجوہ کے ’اپنے گھر کو ٹھیک‘ کرنے کے بیان پر نواز شریف کا ذکر کیوں

سعودی عرب ’انڈیا پاکستان تناؤ کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے‘

پاکستانی فوجی حکمران ہر بار اپنے ادوار میں انڈیا کو امن کی پیشکش کرنے میں کیوں کامیاب ہوتے ہیں اور اس پر کوئی سیاسی ردعمل کیوں نہیں ہوتا؟ سیاسی ماہرین اس معمے کو ‘نکسن چائنا سینڈروم’ سے تشبیہ دیتے ہیں۔

یہ اصطلاح امریکی سیاسی اور سفارتی حلقوں میں نکسن کے تعارف کے طور پر استعمال ہوتی ہے جو کٹر کمیونسٹ مخالف کے طور پر مقبول تھے اور چین کو بطور کمیونسٹ طاقت، حد میں رکھنے کی کوشش میں رہتے۔

نکس اورچینی وزیرِ اعظم ژاؤ این لائی

Getty Images

نکسن چائنا سینڈروم کیا ہے اور اس کا پاکستانی رہنماوں پر کیسے اطلاق ہوتا ہے؟

سنہ 1950 اور 1960 ایک ایسا دور تھا جس میں کمیونسٹ مخالف اور امریکی معاشرے میں کمیونسٹوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے جذبات میں اضافہ ہوا۔

اس ضمن میں رچرڈ نکسن کمیونسٹ مخالف مہم چلانے والے ایک سٹار اور ہیرو بن کر ابھرے۔ بعد ازاں جب وہ صدر بن گئے تو وہ کمیونسٹ چین سے دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی حد تک چلے گئے اور آخر کار بیجنگ کا دورہ بھی کیا، اس طرح امریکی سیاست کا یہ محاورہ بن گیا کہ ‘نکسن چین گئے’ یا ‘نکسن چائنا سینڈروم’ جو یہ ظاہر کرتا تھا کہ نکسن جیسا کٹر کمیونسٹ مخالف ہی چین جا سکتا ہے اور حقیقی سیاسی وجوہات یا منطق پر اتحاد بنا سکتا ہے۔

امریکی معاشرے میں نکسن کو اتنا شدید کمیونسٹ مخالف سمجھا جاتا تھا کہ کسی کمیونسٹ طاقت کے ساتھ دوستی کے اقدام کو ان کی سیاسی چال سمجھ کر اس پر کوئی بھی اعتراض نہیں کرتا تھا اورعموماً یہی خیال کیا جاتا کہ اس کے پیچھے بھی یقیناً کوئی سیاسی منطق ہو گی۔

ضیا کے بعد پاکستان میں صرف ایک ہی سیاستدان کو یہ استحقاق ملا کہ وہ ‘نکسن چائنا سینڈروم’ کے ثمرات سے مستفید ہو سکے، یہ سابق وزیراعظم نوازشریف تھے۔ ان کے ‘نکسن چین گئے’ لمحات کا آغاز 1997 کے ابتدائی مہینوں سے شروع ہوا جب وہ انتخابی مہم پر تھے۔ ان کا یہ دعویٰ تھا کہ اس بار اقتدار میں آنے کے بعد وہ پہلا کام انڈیا سے تعلقات کو ٹھیک کرنے کا کریں گے۔

نوازشریف کو قومی اسمبلی (ایوان زیریں) میں دوتہائی اکثریت مل گئی اور مذہبی دایاں بازو سکڑ کر نہ ہونے کے برابر رہ گیا، یہ دائیں بازو کی وہ مذہبی جماعتیں تھیں جنھوں نے انڈیا سے دوستی کی پیشکش کی مخالفت کی تھی۔

اقتدار میں آنے کے دو سال کے اندر اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کی شروع کردہ ‘بیک چینل’ سفارت کاری کے ثمرات آنا شروع ہو گئے اور اس وقت کے انڈین وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی فروری 1999 میں تاریخی بس دورے پر لاہور آئے۔

لاہور سربراہی اجلاس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان ‘سٹرکچرڈ’ بات چیت بحال ہوگئی۔ اس سفارتی پیش رفت کو تباہ کرنے کے لئے دائیں بازو کی مذہبی جماعتیں ایک بار پھرباہر نکل آئیں اور مبصرین کے بقول فوج نے اس موقع کو خراب کرنے کی پوری پوری کوشش کی۔

تاہم کوئی حربہ کارگر ثابت نہ ہو سکا اور نوازشریف کی مقبولیت میں بظاہر کوئی کمی نہ آ سکی۔ وزارتِ عظمیٰ کے تیسرے دور میں انھیں ایک ایسے شخص کے طورپر پیش کیا جانے لگا جو پاکستان میں انڈین مفادات کے لیے کام کر رہا ہے۔

ایوب خان اور نہرو 1960

Getty Images

ایوب خان کے دور میں انڈیا کے ساتھ تعلقات ٹھیک کرنے کی کوششیں

پاکستانی فوجی حکمرانوں کو ایسے الزامات اور القابات سے ہمیشہ استثنیٰ حاصل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ہمیشہ بڑی آسانی اور سہولت کے ساتھ وسیع اور لچک دار اہداف کے ساتھ اعلیٰ ترین سفارتی سطح پر اقدامات اٹھائے۔

پاکستان کے پہلے کمانڈران چیف اور فوجی حکمران جنرل ایوب خان کی تربیت برطانونی فوجی روایت کی مطابق ہوئی تھی اور وہ برصغیر کے دفاع کے بارے میں اپنے برطانوی پیش رووں والے سٹرٹیجک تصورات رکھتے تھے۔

تقسیم برصغیر کے وقت برطانوی جنرل سٹاف کا خیال تھا کہ برصغیر کے دفاع اور سٹرٹیجک لحاظ سے برطانوی انڈین آرمی کا بٹوارا قطعی دانش مندی نہیں کیونکہ اس مقصد کے لیے پاکستان اور انڈیا دونوں کی مشترکہ کوشش درکار ہو گی۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تقسیم کے بعد بھی جنرل ایوب خان اسی تصور کے زیر اثر رہے کیونکہ مئی 1959 میں ایوب خان نے ‘انڈیا اور پاکستان کے درمیان برصغیر کے مشترکہ دفاع کا ڈھیلا ڈھالا انتظام’ قائم کرنے کی تجویز دی تھی۔

نہرو نے فوری ردعمل میں پاکستانی اقدام کو مشترکہ سکیورٹی معاہدوں کے لیے اپنی حکومت کی ناپسندیدگی کے باعث اورناقابل عمل قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ ایوب خان کی پیشکش کے چند ہی دن بعد چار مئی 1959 کو انڈین پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے انڈین رہنما نے کہا تھا کہ ‘ہم کسی بھی قیمت پر کسی اور ملک کے ساتھ فوجی اتحاد کرنے کی تجویز نہیں دیتے۔’

ایوب خان

Getty Images

بعدازاں جب انڈین آرمی کو سنہ 1962 میں چین کے ہاتھوں ‘شرمناک شکست’ کا سامنا کرنا پڑا تو ان دنوں وزیراعظم نہرو سے ملاقات کرنے والے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ‘انھوں نے جنوبی ایشیا میں کمیونسٹ یا چین کے خطرے سے نمٹنے کے لیے پاکستان اور انڈیا کو مل کر وسائل بروئے کار لانے کی منطق کا اعتراف کیا۔’

انڈیا کے شمال میں چینی فوج کی پیش قدمی کے بعد انڈیا اور نہرو بہت زیادہ دباؤ میں تھے۔ امریکی پاکستانی فوجی حکومت کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ‘چینی خطرے کے پیش نظر انڈیا کا سقوط پاکستان کے مفاد میں نہیں ہو گا۔’ تاہم ایوب خان انتہائی ناخوش اور ناراض تھے کہ ان کے مغربی اتحادی یعنی برطانیہ اور امریکہ دونوں چین کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے لیے انڈیا کو مسلح کر رہے تھے اور اس کی استعداد بڑھا رہے تھے۔

پاکستانی دارالحکومت نے چین کے فوجی خطرے کے نتیجے میں انڈیا میں ہونے والے واقعات کو انڈین چنگل سے کشمیر چھیننے کے موقع کے طور پر دیکھا۔ تاہم ایوب خان اس طرف نہ گئے اور اس کے برعکس امریکہ اور انڈیا کے مشورے کو مان کر تنازعہ کشمیر پر انڈیا سے مذاکرات شروع کردیے۔

پاکستانی اور انڈین وزرا خارجہ کے درمیان مذاکرات کے چار ادوار کے نتیجے میں تنازعہ کشمیر کے حل پر دونوں ممالک قریب نہ آ سکے، امریکی سفارت کاروں نے واشنگٹن کو مطلع کیا کہ (جیسا کہ پال میکگار کی تصنیف کردہ کتاب ‘جنوبی ایشیا میں سرد جنگ’ میں حوالہ دیاگیا ہے) ایوب خان ملک کے اندر سیاسی گروہوں کے دباؤ میں آتے جا رہے ہیں جو کشمیر پر انڈیا سے مذاکرات کو بے فائدہ سمجھتے ہیں۔ لیکن ایوب خان نے اس داخلی طوفان کا سامنا کرتے ہوئے انڈیا کو چینی فوج سے لاحق سنگین خطرے کے مقابلے میں ریلیف فراہم کیا۔

میکگار کے مطابق امریکی انتظامیہ کے لئے مشکل یہ تھی کہ انڈیا کے شمال میں چینی فوجی مداخلت کے پیش نظر انڈیا کو اسلحہ کی فراہمی کے فیصلے کے بعد امریکہ اپنے فوجی اتحادی پاکستان کو خوش کرنا چاہتا تھا۔

ایوب خان چاہتے تھے کہ امریکی اس فوجی امداد کو بطور حربہ استعمال کرتے ہوئے نئی دہلی کو قائل کریں کہ وہ کشمیر پر پاکستان کے ساتھ معاملہ طے کرنے پر آمادہ ہو۔ امریکہ نے یہ کام نہ کیا حالانکہ ایوب خان انڈیا سے بات چیت جاری رکھے رہے۔

ضیا الحق

Getty Images

جنرل ضیاالحق اور کرکٹ ڈپلومیسی

سنہ 1986 کی آخری سہہ ماہی میں انڈین فوج نے ‘براس ٹیکس’ کے نام سے برصغیر کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈویژن۔کور سطح کی فوجی مشقوں کا آغاز کیا۔ پاکستان نے انڈین اقدام کو اس خطرے کے طور پر لیا کہ یہ فوجی مشقیں پاکستان کے سیاسی طور پر افراتفری کا شکار صوبہ سندھ پر بڑے حملے میں بدل سکتی ہیں کیونکہ ان کا رُخ پاکستانی سرحد کی طرف تھا۔

پاکستان کا جوہری پروگرام ابھی ابتدائی مراحل میں تھا اور پاکستان اپنی جوہری صلاحیت کے حصول اور اعلان سے کم ازکم 12 سال کے فاصلے پر تھا۔ اس وقت براس ٹیکس کو پاکستان کی بقا و سلامتی کے سٹرٹیجک خطرے کے طور پر دیکھا گیا۔

پاکستانی اور انڈین فوج ایک دوسرے کے سامنے صف آرا تھیں، راجستھان اور پنجاب کی بین الاقوسامی سرحد پر دونوں فوجیں آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ایک دوسرے کے سامنے تھیں۔ سرحد کے دونوں جانب بری افواج کی حملہ کرنے کے انداز میں تعیناتی جاری تھی، فضائیہ پہلے ہی ‘ہائی الرٹ’ کی حالت پر تھیں، آرمڈ ڈویژن سرحد کے قریب آ چکے تھے۔

اس بحران کو عام طور پر(اسی نام سے ہونے والی انڈین فوجی مشقوں کے نام سے) براس ٹیکس بحران سے موسوم کیا جاتا ہے جس پر محققین میں بہت ساری عالمانہ بحث ہوئی ہے لیکن اس امر پر شاید ہی کوئی اختلاف ہو کہ انڈیا کی فوجی مشقوں کا درجہ اور پاکستانی وجود کی بقا و سالمیت کو لاحق خطرے نے ہی پاکستانی سکیورٹی منصوبہ سازوں کو عجلت میں جوہری آپشن کی تیاری کے لیے سنجیدگی سے کام کرنے پر مجبور کیا۔

اسلام آباد اور نئی دہلی دونوں طرف افراتفری مچی ہوئی تھی کیونکہ بظاہر جنگ سر پرکھڑی دکھائی دے رہی تھی۔ دونوں طرف کے دارالحکومتوں میں جنگی جنون تھا۔

ضیا الحق

Getty Images

پاکستان میں انڈیا مخالف جذبات انتہاؤں پر پہنچے ہوئے تھے، اس کے باوجود جنرل ضیا معمول سے ہٹ کر چار فروری 1987 کو انڈیا کے شہر جے پور انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والا کرکٹ میچ دیکھنے چلے گئے اور انڈین وزیراعظم راجیو گاندھی سے فوجی کشیدگی کم کرنے کے لیے ملاقات کی۔

ضیا اور راجیو دونوں فوجی کشیدگی کے خاتمے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات کے سمجھوتے پر متفق ہو گئے۔ فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ جے پور میں ‘راجیو۔ضیا’ سمٹ کا تعلق کشیدگی کے حل سے نہیں بلکہ یہ اشارہ دینے کے لئے تھا کہ بحران گزر گیا ہے تاہم پاکستانی فوجی سربراہ کی طرف سے فوجی کشیدگی کے ختم ہوجانے کے اظہار کے طورپر یہ ایک نہایت غیرمعمولی چال تھی حالانکہ اس وقت پاکستانی معاشرہ انڈیا مخالف جذبات میں جکڑا ہوا تھا۔

اپوزیشن گروہوں کی جانب سے اس قدم پر تنقید کا طوفان اٹھا لیکن ضیا اس طوفان سے بچ نکلے۔

فوجی کشیدگی ختم کرنے کے لئے ضیا نے معمول سے ہٹ کر قدم کیوں اٹھایا؟

یہ جواب تلاش کرنا کوئی زیادہ مشکل نہیں: پاکستان ابھی جوہری قوت نہیں بنا تھا اور اس وقت مشرقی سرحد پر نہایت مضبوط اور بڑی فوجی قوت سے خطرے کا سامنا تھا۔

ایسی صورتحال میں دانائی کا تقاضا تھا کہ تمام سفارتی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے انڈین قیادت سے مفاہمت کے لیے ایک اضافی قدم اٹھایا جاتا اور سفر کیا جاتا۔

مشرف اور اہلیہ

Getty Images

جنرل پرویز مشرف نے کیسے ‘نکسن چائنا سینڈروم’ کو اپنے دور میں استعمال کیا؟

12 اکتوبر 1999 کی رات جب جنرل مشرف نے پاکستان کے فوجی سربراہ کے طور پر مارشل لا لگایا تو پاکستانیوں کے ذہنوں اور علاقائی دارالحکومتوں میں ان کا ‘امیج’ اس فوجی مہم جو کے طور پر تازہ تھا جس نے انڈیا سے کارگل پہاڑیاں چھیننے کی کوشش کی تھی تاہم انھوں نے ‘یوٹرن’ لیتے ہوئے جولائی سنہ 2001 میں وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی سے ملاقات کے لیے انڈیا کے شہر آگرہ میں سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔

یہ وہ وقت تھا جب پاکستان دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں صف اول کی ریاست بن چکا تھا۔ مشرف نے ملک کے اندر اصلاحات کا آغاز کیا تاکہ پاکستانی معاشرے میں عسکریت پسند گروہوں کی نشوونما رک جائے۔

انھوں نے پاکستان کی مسلح افواج کو انتہا پسندانہ اثرات سے پاک کرنے کی کوشش کی اور پاکستان کے مرکزی حصے اور قبائلی علاقوں میں مقامی عسکریت پسند گروہوں کا تعاقب شروع کر دیا۔

نئی دہلی میں انڈین پارلیمان کی عمارت پر پاکستان سے منسلک عسکریت پسند گروہ کے حملے کے نتیجے میں انڈیا کے ساتھ فوجی کشیدگی ایک نئی انتہا پر پہنچ گئے۔

مشرف

Getty Images

مشرف نے ایک بار پھر ‘نکسن چائنا سینڈروم’ کو استعمال کرتے ہوئے 12 دہشت گرد گروہوں کو کالعدم قرار دے دیا اور ان کے خلاف فوجی کارروائی شروع کر دی۔ کسی نے ان پر انڈین ایجنٹ ہونے کا الزام نہیں لگایا۔

ان کا سب سے دلیرانہ سفارتی قدم آج بھی 2004 میں اسلام آباد میں وزیراعظم واجپائی کے ساتھ سربراہی ملاقات کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جب انھوں نے ایک مشترکہ اعلامیہ میں انڈین وزیراعظم کے ساتھ یہ اتفاق کیا کہ وہ عسکریت پسند گروہوں کو انڈین سرزمین پر دہشت گرد حملوں کے لیے پاکستانی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

پاکستان میں اپوزیشن گروہوں نے اس مشترکہ بیان کی تشریح کی کہ یہ تسلیم کرنا اس اعتراف کے مترادف ہے کہ عسکریت پسند گروہ انڈیا پر حملے کے لیے پاکستانی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔ اپوزیشن گروہوں نے بیان کے اس پہلو پر خوب تنقید کی لیکن مشرف اس طوفان سے بچ نکلے۔

انڈیا کو امن کی پیشکش کر کے مشرف پاکستان کے سیاسی نظام میں موجود انتہائی قدامت پسند دائیں بازو (الٹرا رائٹ) کے لیے جگہ کم کرنا چاہتے تھے۔ وہ ‘الٹرا رائٹ’ جو پاکستانی معاشرے میں عسکریت پسند گروہوں کے بیانیہ سے پھلا پھولا اور اس سے متفق تھا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ سنہ 2004 میں واجپائی سے ملاقات کرنے سے کچھ پہلے جنرل مشرف راولپنڈی شہر میں خود پر ہونے والے جان لیوا خود کش حملے میں زندہ بچ نکلے تھے۔ لہٰذا مشرف کی انڈیا کے ساتھ تعلقات کو ٹھیک کرنے کی پالیسیز اور عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائیاں ساتھ ساتھ چلیں۔

جنرل باجوہ

Getty Images

جنرل باجوہ کی انڈیا کو امن کی پیشکش

پاکستان آرمی کے موجودہ چیف آف سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گذشتہ ماہ اسلام آباد میں اسلام آباد سکیورٹی ڈائیلاگ سے خطاب کیا جو انڈیا سے تعلقات کے حوالے سے ہر لحاظ سے ایک پالیسی بیان کہا جا سکتا ہے۔

جہاں تک عوامی تصور کا تعلق ہے تو وزیراعظم عمران خان اور ان کی وزارت خارجہ اس میں کہیں دکھائی نہیں دے رہے۔ فوجی حکام نے جنگ بندی کا معاہدہ کیا اور چیف آف آرمی سٹاف نے پاکستانی حکومت کی طرف سے انڈین پالیسی بیان کی۔

اسلام آباد سکیورٹی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے جنرل باجوہ نے کہا کہ ‘مشرقی اور مغربی ایشیا کے درمیان رابطوں کو یقینی بناتے ہوئے انڈیا پاکستان مستحکم تعلقات جنوبی و وسطی ایشیا کے غیر استعمال شدہ وسائل کو کھولنے کی چابی ہے۔

‘یہ وسائل ہمیشہ سے تنازعات اور جوہری صلاحیت کے حامل ہمسایوں کے درمیان مسائل کی وجہ سے یرغمال بنے رہے ہیں۔ تنازعہ کشمیر بلاشبہ اس مسئلے کا سر ہے۔ یہ سمجھنا اہم ہے کہ پرامن ذرائع سے تنازعہ کشمیر کا حل کیے بغیر برصغیر میں مفاہمت ومصالحت سیاسی انگیزش پر مبنی جھگڑے سے ہمیشہ متاثر ہوتی رہے گی تاہم ہم محسوس کرتے ہیں کہ وقت آ گیا ہے کہ ماضی دفن کر کے آگے بڑھا جائے۔’

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ جنرل باجوہ نے انڈیا کو امن کی پیشکش کی ہو۔ اپریل 2018 میں پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) کاکول میں فوجی طالب علموں کے فارغ التحصیل ہونے کی پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ‘یہ ہماری مخلصانہ سوچ ہے کہ بنیادی مسئلہ کشمیر سمیت پاکستان انڈیا تنازعات کے پرامن حل کا راستہ جامع اور بامعنی مذاکرات سے ہو کر گزرتا ہے۔’

جنرل باجوہ

Getty Images

جنرل باجوہ کی تقریر اگرچہ محض یک طرفہ پیغام کی مثال نہیں تھا، اس میں پاکستانی سفارت کاری کے مقبول عام تمام اجزا شامل تھے جس کا مقصد دنیا اور پاکستانیوں کو یہ باور کرانا تھا کہ پاکستانی ریاست امن میں یقین رکھتی ہے۔

‘اس کے ساتھ ہی ساتھ پاکستان انڈیا کے ساتھ اپنے برابری کے مقام کا دعویدار ہونے پر بھی مصر ہے۔’

انھوں نے امن مذاکرات ‘خودمختار برابری، عزت و وقار کے ساتھ’ کی بات کی اور یہ بھی کہا کہ جامع مذاکراتی عمل کے لیے کشمیر ایک پیشگی شرط ہے۔

اسی طرح اپنی تازہ تقریر میں جنرل باجوہ نے ایک بار پھر پاک انڈیا امن عمل کی بحالی کے لئے انڈیا کی طرف سے کشمیر میں سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

جنرل باجوہ نے انڈیا کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا بھرپور پالیسی بیان کیوں دیا؟

اگر پاکستان کی داخلی سیاسی صورتحال کوئی اشارہ یا عندیہ ہو سکتی ہے تو آرمی چیف اقتدار کا نمایاں ترین مرکز ہے اور آرمی واحد ادارہ ہے جو دنیا کو دیے جانے والے موجودہ پالیسی بیان کے پیچھے کھڑا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستانی ملٹری اسٹیبلشمنٹ، طالبان اور افغان حکومت کے درمیان افغانستان میں امن عمل کو سپانسر کر رہی ہے۔ پاکستان آرمی نے دل سے علاقائی رابطے جوڑنے کے بہت بڑے منصوبے کو قبول کیا ہے جو پاکستان میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ایسی صورتحال میں یہ انتہائی پرلے درجے کا تضاد ہو گا کہ انڈیا کے ساتھ فوجی مخاصمت کے تعلقات جاری رہیں جبکہ اس کے ساتھ ہی ساتھ ایسے جدت پسندانہ مقاصد و اہداف کا تحفظ اور پرچار بھی جاری رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19476 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp